اہم نوٹ! ان صفحات میں ماہنامہ خواتین کے 46ویں تحریری مقابلے میں موصول ہونے والے 246 مضامین کی تفصیل یہ ہے
|
عنوان |
تعداد |
عنوان |
تعداد |
عنوان |
تعداد |
|
حضور کی عشرۂ مبشرہ سے محبت |
122 |
مصیبت زدہ کو پریشان مت کیجیے |
80 |
بیوہ و مطلقہ اپنا گزارا کیسے کرے؟ |
44 |
مضمون بھیجنے والیوں کے نام
حضور کی عشرۂ مبشرہ سے محبت:
اوکاڑہ:خالد ٹاؤن :بنت مرزا نصیر احمد۔حیدرآباد:لطیف آباد 8:بنت سید جاوید اقبال۔خانیوال:کوہی والا: بنت اللہ نور۔ راولپنڈی:اڈیالہ روڈ :بنت قسیم۔سیالکوٹ: پاکپورہ: بنت نوید حسین،بنت لیاقت علی،بنت شاہد،بنت ذیشان احمد،بنت محمد فاروق،بنت وسیم حسین، بنت عبدالقیوم،بنت عبداللہ،بنت واصم،بنت طاہر محمود،اختِ راحت،ہمشیرہ دانیال،بنت فضل الحق،بنت محمد تحسین،بنت محمد وارث، بنت الیاس،بنت شمس الدین اعوان ،بنت شمشاد علی،بنت محمد منیر،بنت جاوید۔تلواڑہ مغلاں:بنت جاوید سرور،بنت رزاق احمد،بنت طارق، بنت شہباز،بنت محمد انور، بنت محمد عمر،بنت احمد رضا،بنت شمس دین،بنت محمد افضل،بنت محی الدین،بنت طارق،بنت ندیم احمد،بنت جاوید آصف، بنت محمد خلیل تبسم،بنت ندیم، بنت محمد عاصم شہزاد،بنت ایوب،بنت محمد اسلم،بنت سائیں ملنگا،بنت ناصر محمود،بنت محمد اسلام،بنت خالد حسین،بنت توصیف انجم،بنت سخاوت علی، بنت شفیق،بنت مطہر محمود،اخت نعمان علی،بنت وسیم علی،بنت شمس الزماں،بنت منیر احمد،اخت محمد حسان،بنت رضا، بنت شہباز،بنت محمد ارشد، بنت محمد اسلم،بنت محمد محمود،بنت محمد اظہر،بنت غلام مصطفی،بنت رافع بیگ،بنت اظہر،بنت عبد الوحید خان،بنت رفیق۔شفیع کا بھٹہ:ہمشیرہ محمد منیب،بنت عرفان، بنت سعید،بنت رحمت علی،بنت عبدالقادر،بنت جعفر حسین،بنت ذو الفقار انور،بنت آصف اقبال ، بنت محمد جمیل،بنت محمد حبیب، بنت رزاق بٹ ،بنت طارق محمود،بنت اشفاق احمد،بنت امجد۔گلبہار:بنت محمد شہباز،بنت غلام اصغر،ہمشیرہ محمد حنظلہ ،بنت رمضان۔ مظفرپورہ:بنت محمد یاسر،بنت محمد طارق،بنت حافظ محمد شبیر ،بنت اعظم، بنت محمد نواز۔معراج کے:بنت محمد جاوید، بنت نور حسین،بنت محمد منیر،بنت محمد رفیق،بنت الطاف حسین، بنت عبدالستار،بنت محمد عادل،بنت نصیر احمد،بنت محمد ذوالفقار۔میانہ پورہ: بنت الیاس،بنت منور،بنت سہیل،بنت شیرزادہ،بنت محمد جمیل،بنت محمد عمران، بنت قمر شمس ،بنت محمد شیراز،اخت حمزہ عمران،بنت اعظم مبین، بنت عتیق،بنت محمود حسین،بنت عمران۔نندپور:بنت شعبان،بنت محمد رمضان احمد، بنت محمد الیاس،بنت افتخار احمد،بنت ہدایت اللہ،بنت عبد الستار،ہمشیرہ امیر حمزہ۔قصور:اِلٰہ آباد:بنت انور۔کراچی:فیضان رضا:بنت اسماعیل۔ کنگ سہالی: بنت محمد اکمل شکیل۔ عرب: جدہ: بنت اسلم ۔
مصیبت زدہ کو پریشان مت کیجیے :
خانیوال: کوہی والا:بنت اللہ نور۔سیالکوٹ: پاکپورہ:بنت اظہر،بنت سید رضوان علی،بنت محمد بوٹا ،بنت اصغر علی،بنت محمد ناظم،ہمشیرہ محمد حسیب،بنت محمد شمس الدین،بنت فضل الحق،بنت محبوب احمد،بنت محمد یونس،بنت شفاقت علی،بنت نوید حسین،بنت اصغر،بنت کاشف منیر،بنت حافظ اللہ دتہ،بنت محمد طفیل،بنت محمد نعیم۔تلواڑہ مغلاں:خوشبوئے مدینہ،بنت محمد اعجاز احمد،بنت محمد جمیل،بنت نصیر احمد،بنت عبدالستار،بنت عدنان یوسف،بنت محمد آصف،بنت فیصل مجید،بنت جاوید،اخت عبدالاحد،بنت شبیر احمد،بنت جواد،بنت شیخ مطیع الرحمن،بنت محمد انور، بنت عدنان،بنت لطیف،بنت نذیر۔شفیع کا بھٹہ: بنت ندیم،بنت عثمان علی،بنت عرفان ،بنت محمد شاہد،بنت اصغر علی،بنت انتظار حسین،بنت سید عاشق حسین،بنت صغیر احمد،بنت محمد سلیم،بنت شمس،بنت تنویر اختر،بنت محمد نواز،ہمشیرہ حنظلہ صابر۔گلبہار: بنت محمد شہباز،بنت رشید، ہمشیرہ محمد حنظلہ۔مظفرپورہ:بنت محمد طارق، بنت محمد نواز۔معراج کے: بنت اظہر علی،بنت محمد یونس،بنت محمد رفیق،بنت محمد اشرف۔میانہ پورہ:بنت الیاس، بنت منور،بنت سہیل،بنت قمر شمس،بنت محمد عمران،بنت محمد جمیل،بنت شیرزادہ،بنت عمران،اخت حمزہ عمران،بنت اعظم مبین، بنت محمود حسین، بنت عتیق۔نندپور:بنت افتخار احمد،بنت شعبان،بنت محمد رمضان احمد،بنت محمد الیاس،بنت عبدالستار،بنت ہدایت اللہ۔کراچی:ایف بی ایریا : نسرین ۔ فیضانِ عطار:بنت اسماعیل ۔منڈی بہاء الدین:بنت محمد اسلم۔عرب: بحرین:بنت مقصود ۔
بیوہ ومطلقہ اپنا گزارا کیسے کرے؟خانیوال: کوہی والا:بنت اللہ نور۔سیالکوٹ: پاکپورہ:بنت محمد بوٹا،بنت احمد رضا،بنت کاشف منیر،بنت محمد انور حسین، بنت اصغر علی،بنت مظہر،بنت شمس دین،بنت آفتاب احمد،بنت حافظ اللہ دتہ،بنت اصغر۔تلواڑہ مغلاں:بنت محمد ناصر،بنت جاوید آصف،بنت محمد مختار، بنت شاہد،بنت محمد اکرم،بنت محمد شکور،بنت جنید رضا،بنت طارق۔شفیع کا بھٹہ:بنت عرفان،بنت محمد اکرام،بنت محمد شریف،بنت جعفر حسین۔ گلبہار:بنت محمد شہباز۔مظفرپورہ:بنت محمد طارق۔معراج کے: بنت محمد عارف،بنت لیاقت علی،بنت غفور احمد۔میانہ پورہ: بنت الیاس، بنت منور،بنت قمر شمس،بنت سہیل،بنت محمد عمران،بنت اعظم مبین،بنت عتیق،بنت محمود حسین،بنت عمران ۔نندپور:بنت شعبان،بنت افتخار احمد، بنت محمد رمضان احمد،بنت محمد الیاس،بنت عبدالستار،بنت ہدایت اللہ ۔کراچی ایف بی ایریا:بنت قسیم۔
محترمہ بنتِ محمد بوٹا عطاریہ (فرسٹ پوزیشن)
(طالبہ: درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ)
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو معاشرے کے کمزور طبقات، بالخصوص بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین کے حقوق اور ان کی کفالت کا بہترین نظام فراہم کرتا ہے۔ ایسی خواتین جن کا کوئی سہارا نہ رہے، ان کے لئے شریعتِ مطہرہ نے چند بنیادی اصول بنائے ہیں تاکہ وہ عزت و عافیت کے ساتھ اپنا گزارا کر سکیں، چند اصول درج ذیل ہیں:
والدین اور قریبی رشتہ داروں کی ذمہ داری
اسلامی احکام کے مطابق اگر طلاق یافتہ یا بیوہ عورت کے پاس اپنا مال نہ ہو تو اس کا نفقہ(یعنی گزارا)اس کے باپ پر لازم ہے۔اگر باپ نہ ہو تو دیگر قریبی محرم رشتہ دار(مثلاً: بھائی یا بیٹے) اس کی کفالت کے ذمہ دار ہیں۔
بہارِ شریعت میں ہے:لڑکی جبکہ اس کے پاس مال نہ ہو تو اس کا نفقہ بہرحال باپ پر واجب ہے اگرچہ اس کے اعضا سلامت ہوں۔ ([1])
معاشرے اور حکومت کا کردار
اگر کوئی رشتہ دار بھی موجود نہ ہو تو بیت المال یا صاحبِ حیثیت مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ان کی خبر گیری کریں۔ جیسا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ راتوں کو نکل کر بیوہ عورتوں اور یتیموں کی خبر گیری فرماتے تھے، جو امت کے لئے ایک روشن مثال ہے۔
وراثت اور مہر کا حق
بیوہ کے لئے شوہر کے ترکے میں حصہ مقرر ہے۔ارشادِ باری ہے:
وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ- (پ4، النسآء: 12)
ترجمہ: اور اگر تمہارےاولاد نہ ہو تو تمہارے ترکہ میں سے عورتوں کےلئے چوتھائی حصہ ہے۔جبکہ طلاق یافتہ کے لئے مہر کی ادائیگی لازم ہے۔ ان شرعی حقوق کی وصولی بیوہ اور طلاق یافتہ کو معاشی سہارا فراہم کرتی ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
عزتِ نفس کے ساتھ کسبِ حلال
اگر عورت کے والد بھی نہ ہوں اور نہ رشتہ دار کفالت کریں تو شریعتِ مطہرہ ایسی عورت کو حدودِ شرعیہ (پردہ اور حیا) میں رہتے ہوئے ملازمت کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ایسی خواتین گھر بیٹھے سلائی کڑھائی، کھانا پکانا یا تعلیم و تدریس جیسے امور سرانجام دے کر رزقِ حلال کما سکتی ہیں۔
بیواؤں پر خرچ کرنے کی فضیلت
مشکل حالات میں اللہ پاک پر توکل کرنا مومن کا شعار ہے۔لہٰذا ایسی خواتین کو مایوسی کے بجائے دعا اور ہمت سے کام لینا چاہیے، کیونکہ اللہ پاک ہی اصل رزق دینے والا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے جہاں ایسی بےبس و نادار خواتین کے گزر بسر کے دیگر اسباب مہیا فرمائے وہیں ان بیواؤں اور مسکینوں پر خرچ کرنے والوں کو نہایت عظیم اجر و ثواب کی خوشخبری عطا فرمائی تاکہ عام مسلمان بھی ان بےسہاروں کا سہارا بنیں اور ان کے دکھ درد کو کم کریں۔ چنانچہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیوہ اور مسکین کی کفالت کرنے والا اللہ پاک کی راہ میں جہاد کرنے والے یا شب بیداری کرنے اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔ ([2])
بیوہ اور طلاق یافتہ خواتین کو چاہیے کہ وہ پہلے اپنے شرعی حقوق(مہر و وراثت) حاصل کریں،پھر محرم رشتہ داروں سے کفالت کا مطالبہ کریں یا پھر ضرورت پڑنے پر پردے کے اہتمام کے ساتھ کوئی ہنر اختیار کر کے باعزت زندگی بسر کریں۔
محترمہ بنتِ اصغر علی عطاریہ
(طالبہ: درجۂ رابعہ، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ)
اسلام ایک کامل اور عادلانہ دین ہے جو زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کی راہ نمائی کرتا ہے۔بیوہ اور طلاق یافتہ عورتیں معاشرے کا ایک حساس طبقہ ہیں، جنہیں عموماً معاشی، سماجی اور نفسیاتی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ اسلام نے نہ صرف ان کے حقوق واضح کیے ہیں بلکہ ان کے باعزت گزارے کے عملی اصول بھی بیان فرمائے ہیں تاکہ وہ کسی پر بوجھ بنے بغیر عزت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
قرآنِ مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ- (پ28،الطلاق:3،2)
ترجمہ: اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لئے نکلنے کا راستہ بنا دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کاگمان بھی نہ ہو۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہ آیت بیوہ اور طلاق یافتہ عورتوں کے لئے خاص تسلی اور امید کی روشن کرن ہے۔
اسلام میں بیوہ عورت کے لئے سب سے پہلے وراثت کا حق مقرر کیا گیا ہے۔ شوہر کے انتقال کے بعد بیوہ کو اس کے شرعی حصے کے مطابق وراثت ملنا ضروری ہے، جو اس کے معاشی سہارے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اسی طرح طلاق یافتہ عورت کے لئے عدت کے دوران نان و نفقہ اور رہائش کی ذمہ داری شوہر پر عائد کی گئی ہے۔قرآنِ مجید میں ہے:
اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ (پ 28، الطلاق: 6)
ترجمہ:عورتوں کو وہاں رکھو جہاں خود رہتے ہو اپنی گنجائش کے مطابق ۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اگر بیوہ یا طلاق یافتہ عورت صاحبِ استطاعت نہ ہو تو اسلام نے زکوٰۃ، صدقات اور بیت المال وغیرہ کے ذریعے اس کے گزارے کا انتظام کیا ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ اور مسکین کی کفالت کرنے والا اللہ پاک کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے۔ ([3])
اسلام عورت کو باعزت طریقے سے محنت اور حلال کمائی کی بھی اجازت دیتا ہے۔ بیوہ یا طلاق یافتہ عورت تعلیم، ہنر، دستکاری،سلائی،تدریس یا کسی مناسب ملازمت کے ذریعے اپنا گزارا کر سکتی ہے، بشرطیکہ پردے اور شرعی حدود کا خیال رکھا جائے۔ام المومنین حضرت خدیجہ ایک کامیاب تاجرہ تھیں، جو اس بات کی روشن مثال ہے کہ عورت جائز ذرائع سے معاشی خود کفالت حاصل کر سکتی ہے۔
معاشرہ اس وقت تک صالح نہیں بن سکتا جب تک وہ بیوہ اور طلاق یافتہ عورت کو بوجھ سمجھنے کے بجائے اس کا سہارا نہ بنے۔حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ راتوں کو بیواؤں کے گھروں تک راشن خود پہنچایا کرتے تھے، جو اسلامی ریاست کی بہترین مثال ہے۔
آخر میں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بیوہ اور طلاق یافتہ عورت کو اسلام میں بے سہارا نہیں چھوڑا گیا۔ وراثت، نان و نفقہ، زکوٰۃ، محنتِ حلال اور معاشرتی تعاون یہ سب ایسے ذرائع ہیں جن کے ذریعے وہ عزت، وقار اور اعتماد کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہے۔ اسلامی معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان عورتوں کی مدد کرے اور انہیں باعزت مقام دے، کیونکہ یہی اسلام کی اصل روح ہے۔
Comments