مصیبت زدہ کو تسلی دیجئے
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع: مصیبت زدہ کو تسلی دیجئے

کسی مصیبت زدہ کو تسلی دینا چاہے وہ کسی کے انتقال کے رنج میں مبتلا ہو یا کسی اور حادثے یا مصیبت سے دوچار ہو؛ بہت بڑی نیکی اور ہمدردی کا کام ہے۔تسلی آمیز کلمات گویا درد کی دوا، زخم کا مرہم،اداس چہرے کے لئے امید کی کرن اور بوجھل دل کے لئے راحت کی ہوا ہیں۔ واقعی!اگر کوئی پریشانی آ جائے، بیماری گلے پڑ جائے یا فوتگی وغیرہ ہو تو ایسے میں اگر کوئی غمگسار تسلی دےتو غم کم ہو جاتا اور دل کو سکون ملتا ہے۔

تسلی دینا رحمتِ الٰہی کا مظہر بلکہ خود عملِ الٰہی ہے کہ رب کریم اپنے محبوب کو کفار کی اذیتوں پر تسلی دیتا اور ان کی دلجوئی فرماتا ہے، جیساکہ سورۃ النحل میں ہے:

وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ(۱۲۷) (پ14، النحل: 127)

ترجمہ: اور صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ اور ان کی سازشوں سے دل تنگ نہ ہو۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اسی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا عمل مبارک یہ تھا کہ آپ خود بھی پیکرِ شفقت و رحمت اور بےکسوں کا سہارا، ٹوٹے دلوں کو جوڑنے والے اور غمزدوں کو تسلی دینے والے ہیں،نیز آپ کی تسلی یقین،رحمت اور قربِ الٰہی کا ایسا سایہ ہوتی جس میں رنجیدہ دلوں کو سکون مل جاتا،جیسا کہ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کو جب غارِ ثور میں فکر لاحق ہوئی تو حضور نے ارشاد فرمایا:

لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ- (پ 10، التوبۃ: 40)

ترجمہ:  غم نہ کرو، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

حضرت جابر اپنے والد کی شہادت کے بعد مغموم تھے تو حضور نے انہیں تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اللہ نے تیرے والد کو زندگی عطا فرماکر اپنی بارگاہ میں بٹھایا اور بلاحائل ان سے کلام فرمایا۔ ([1]) اسی طرح حضور ایک عورت کے قریب سے گزرے جو ایک قبر پر رو رہی تھی، حضور نے اسے تسلی دیتے ہوئے صبر کی تلقین فرمائی۔ ([2])

مصیبت زدہ کو تسلی دینے کے بہت فضائل ہیں۔حدیثِ پاک میں ہے: جو کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کرے اس کے لئے اس مصیبت زدہ جتنا ثواب ہے۔  ([3])

ایک حدیث میں ارشاد فرمایا: جو کسی مصیبت زدہ سے تعزیت کرے تو اللہ پاک اسے جنت کے جوڑوں میں سے دو ایسے جوڑے پہنائے گا جن کی قیمت دنیا بھی نہیں ہو سکتی۔  ([4])

تسلی دینے کے غلط رویے:

اگرچہ مصیبت زدہ سے تعزیت کرنا اور اسے تسلی دینا بہت ثواب کا کام ہے مگر بعض خواتین تسلی دینے کے بجائے مزید پریشان کر دیتی ہیں،مثلاً:کوئی بیوہ ہو جائے تو اس کے سامنے بیوگی کی تکالیف کا ذکر کرنا کہ بڑا مشکل ہوتا ہے گھر کا کفیل چلا جائے تو زندگی میں بڑے دکھ جھیلنے پڑتے ہیں! وغیرہ یہ سب باتیں اس کے دکھ درد کو زیادہ کریں گی۔اسی طرح کسی کا بچہ فوت ہو جائے تو بعض خواتین دلاسا دینے یا صبر کی تلقین کرنے کے بجائے یوں کہتی ہیں کہ نہیں بھئی!اولاد کی فوتگی پر صبر نہیں ہوتا،یہ زخم تو بہت گہرا ہے ساری زندگی نہیں جاتا، اولاد دل کے ساتھ لگی رہتی ہے،سائے کی طرح ساتھ رہتی ہے بہت بڑا غم ہے،بس اللہ پاک تمہیں صبر دے!یعنی صبر کی تلقین کے ساتھ ساتھ اس کو یہ یاددہانی بھی کرائی جاتی ہے کہ یہ غم بھلائے نہیں بھولے گا، یہ دکھ ساری زندگی کلیجے کو چھیلتا رہے گا۔  یونہی کوئی بیماری میں مبتلا ہو اور عیادت کے لئے جائیں تو یوں بھی کہا جاتا ہے کہ فلاں کو بھی یہ بیماری ہوئی تھی بیچاری بس اتنے ہی دن زندہ رہ سکی! اور فلاں کو یہ بیماری ہوئی تھی، کہاں صحیح ہوئی ابھی تک پریشان ہے! یہ مرض تو بڑا ہی خطرناک ہے!بس اللہ پاک تمہیں شفا دے یعنی مصیبت زدہ کو تسلی دینے کے بجائے اس کو مزید خوفزدہ کیا جاتا ہے،اسے حیران کیا جاتا ہے اور اس کے دل کو سکون دینے کے بجائے بے قراری میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔یہ کون سا طریقہ ہے عیادت و تعزیت  اور مصیبت زدہ کو تسلی دینے کا؟یہ تعزیت کرنا نہیں بلکہ زحمت دینا ہے۔

درست انداز:

جب کسی پر مصیبت آجائے تو اسے صبر کی تلقین کے ساتھ ساتھ ثواب کی امید دلانی چاہیے، اس کے لئے ایسی احادیث مبارکہ زبانی یاد کرنا مفید ہوگا جن میں مصیبت زدوں کے لئے ثواب کا ذکر ہے تاکہ ہم اسے بیان کر کے مصیبت زدہ کے دل کو تسلی دے سکیں جیسا کہ ایک روایت میں ہےقیامت کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام اور سکون والے تمنا کریں گے کہ کاش!دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹ دی گئی ہوتیں۔  ([5])

مصیبت زدہ کے پاس پہنچ کر بہت سوچ سمجھ کر اچھی اچھی گفتگو کیجئے کیونکہ وہ پہلے ہی پریشان ہے،اس کی پریشانی کو کم کرنے کے لئے کچھ ایسے الفاظ استعمال کیجئےجس سے اس کو لگے کہ میری پریشانی تو کچھ بھی نہیں، جیسا کہ پریشان حال کو یہ بولنا کہ ہم پر کیا پریشانیاں آتی ہیں!پریشانی تو کربلا والوں پر آئی تھی! آزمائشیں تو انبیائے کرام پر آئی تھیں،وہ ان پر کیسے پورا اترے!خود پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ستائے گئے،آپ کے صحابہ کرام پر زمین تنگ کر دی گئی، ایسی پریشانی کہ گویا سانس لینا دشوار ہو، گھر بار رشتہ دار سب چھوڑ کر ہجرت کرنی پڑی، ہم پر کیا پریشانیاں آئی ہیں!اور پھر اس پر اجر بھی تو کتنا ہے!

ایک صحابیہ کا خوبصورت انداز:

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے فوت ہو گئے تو ان کی بیوی صاحبہ حضرت اُمِّ سُلیم نے کمالِ ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے شوہر کو تسلی دی، چنانچہ جب وہ گھر آئے اور بیٹے کا پوچھا تو آپ نے فرمایا: وہ سکون میں ہے، پھر جب وہ کھانا وغیرہ کھا کر پرسکون ہو گئے تو عرض کی: اگر کوئی ہمیں کچھ دے اور پھر ہم سے واپسی کا مطالبہ کرے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟وہ بولے:بلا چون چراں واپس کر دینا چاہیے، پھر آپ نے عرض کی: اللہ پاک نے ہمیں بیٹا دیا تھا اور اب اس نے واپس لے لیا ہے!  ([6])

معلوم ہوا!تسلی دینے کے ساتھ ساتھ خود بھی تسلی رکھنا ضروری ہے۔عموماً خواتین جلد باز بہت ہوتی ہیں،ادھر غم کی خبر ملی بےقرار ہو کر جو ملا اس کو اطلاع دینی شروع کر دی،یہ جلد بازی حکمت کے خلاف ہے۔ اللہ پاک ہمیں سمجھ عطا فرمائے۔

مصیبت زدہ کے پاس جانے سے پہلے کرنے کے کام:

جب کسی کے پاس تسلی دینے کے لئے جانا ہو تو تعزیت و عیادت کے ثوابات پر نظر رکھیے اور اپنے ثواب کو بڑھانے کے لئے اچھی اچھی نیتیں کر لیجئے،مثلاً:سنت پر عمل کروں گی، مصیبت زدہ کے لئے دعا کروں گی، صبر کے فضائل بتاکر صبر کی تلقین کروں گی، اگر رونا دھونا، واویلا اور نوحہ و دیگر غیرشرعی انداز دیکھا تو نرمی سے سمجھا کر روکنے کی کوشش کروں گی، رنج و غم کا اظہار کروں گی، گفتگو کم کروں گی، مسکرانے سے بچوں گی، مصیبت زدہ کو تسلی دینے کے لئے اچھے لفظوں کا انتخاب کروں گی وغیرہ۔ اس طرح ان شاءاللہ ڈھیروں ڈھیر اجر و ثواب کا خزانہ ہاتھ آنے کی امید ہے۔

اللہ پاک ہمیں خود بھی صبر کرنے اور صبر کی تلقین کرنے کی سعادت نصیب فرمائے، خود بھی تسلی رکھنے اور دوسروں کو بھی تسلی دینے کا حوصلہ اور ظرف عطا فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ذمہ دار شعبہ ماہنامہ خواتین (کراچی سطح)، رکن انٹرنیشنل افیئرز ڈیپارٹمنٹ



[1] ترمذی،5/12،حدیث:3021مفہوماً

[2] بخاری، 1/433، حدیث: 1283 مفہوماً

[3] ترمذی، 2/338، حدیث: 1075

[4] معجم اوسط، 6/429، حدیث: 9292

[5] ترمذی، 4/180، حدیث: 2410

[6] بخاری،1/440،حدیث:1301-مسند امام احمد،20/328،حدیث: 13026 مفہوماً


Share