نماز پڑھئے اور زکوٰۃ دیجئے
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:نماز پڑھیے اور زکوۃ دیجیے

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

وَ اَقِمْنَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتِیْنَ الزَّكٰوةَ (پ 22،الاحزاب:33)

ترجمہ:اور نماز قائم رکھو اور زکوۃ دو۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تفسیر

یعنی اے  میرے حبیب کی مقدس بیویو!تم نماز قائم رکھو جو کہ بدنی عبادات کی اصل ہے اور اگر تمہارے پاس مال ہو تو اس کی زکوٰۃ دو کہ زکوۃ مالی عبادات میں سب سے زیادہ شرف والی عبادت ہے۔([1])

اس آیتِ مبارکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی عورتوں کو نماز کی تلقین کی گئی ہے۔خیال رہے کہ یہ حکم عام ہے اور تمام عورتوں کے لئے یہی حکم ہے کہ وہ نماز پڑھیں،روزے رکھیں اور اپنے مالوں کی زکوۃ ادا کریں۔([2])اسی طرح تفسیر حسنات میں اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ اس میں عبادتِ بدنی اور عبادتِ مالی کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔([3])

تفسیر ابنِ کثیر  میں ہے کہ عباداتِ بدنیہ میں سب سے بڑی عبادت نماز ہے۔([4])حضرت عبدُ الله بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے نماز پر ہمیشگی اختیار کی تو قیامت کے دن وہ نماز اس کے لئے نور،دلیل اور نجات ہو گی اور جس نے نماز کی محافظت نہ کی تو اس کے لئے نہ نور ہے،نہ دلیل،نہ نجات اور وہ قیامت کے دن قارون،فرعون،ہامان اور اُبی بن خلف کے ساتھ ہو گا۔([5])ایک اور حدیث میں ہے:جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی تو جہنم کے اس دروازے پر اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے جس سے وہ داخل ہو گا۔([6])

اسی طرح زكوٰة کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:تمہارے اسلام کا مکمل ہونا یہ ہے کہ تم اپنے مالوں کی زکوة ادا کرو۔([7])ایک اور روایت میں ہے کہ جب لوگ اپنے اموال کی زکوٰۃ نہیں دیتے تو ان سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے۔اگر زمین پر چوپائے  نہ ہوتے  تو ان پر بارش نہ ہوتی۔([8])نیز ایک روایت میں ہے کہ حضور کی خدمت میں ایک عورت آئی،اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی تھی،جس کے ہاتھ میں سونے کے موٹے موٹے کنگن تھے۔آپ نے اس عورت سے پوچھا:کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟اس عورت نے عرض کی: جی نہیں۔آپ نے فرمایا:کیا تم اس بات سے خوش ہو کہ قیامت کے دن اللہ پاک تمہیں ان کنگنوں کے بدلے آگ کے کنگن پہنا دے؟یہ سنتے ہی اس نیک خاتون نے فوراً وہ کنگن اتار دئیے اور حضور کے آگے رکھتے ہوئے عرض کی:آقا!یہ اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لئے ہیں۔([9])

امام رازی فرماتے ہیں:دین صرف ان باتوں سے رک جانے کا نام نہیں ہے جن سے منع کیا گیا ہے بلکہ دین تو احکام الٰہی کو پورا کرنے کا نام ہے۔نماز کا حکم اس لئے دیا گیا تاکہ انسان یہ ثابت کرے کہ وہ اللہ پاک جیسا جبار اور متکبر بننے کی کوشش نہیں کر رہا بلکہ اس کا عاجز بندہ ہے۔زکوٰۃ کا حکم اس لئے دیا گیا تاکہ انسان کے اندر اللہ پاک کی صفتِ کرم اور رحم پیدا ہو(یعنی وہ دوسروں پر مال خرچ کر کے سخی و رحم دل بنے)۔([10])

علامہ بقاعی نظم الدرر میں لکھتے ہیں:نماز قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ فرض اور نفل نمازیں پابندی سے ادا کرو، کیونکہ یہ بندے اور خالق کے درمیان تعلق کا ذریعہ ہیں اور نماز ہی وہ عبادت ہے جو انسان کو بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔جبکہ زکوٰۃ سے اللہ پاک کی مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنا مراد ہے۔اس حکم میں حضور کی مقدس بیویوں اور مومنہ عورتوں کے لئے ایک بڑی خوشخبری یہ ہے کہ عنقریب انہیں فتوحات دیکھنی نصیب ہوں گی اور دنیا ان پر کشادہ کر دی جائے گی(یعنی ان کے پاس اتنا مال آئے گا کہ وہ زکوۃ دینے کے قابل ہو جائیں گی)۔کیونکہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی،اس وقت مسلمانوں کے حالات کافی تنگی والے تھےزکوٰۃ دینا تو دور کی بات تھی۔اللہ پاک نے ان دو عبادتوں کا خاص طور پر نام اس لئے لیا کیونکہ نماز جسمانی عبادتوں اور زکوٰۃ مالی عبادتوں کی بنیاد ہے۔([11])

امام ابو منصور ماتریدی فرماتے ہیں:ہو سکتا ہے کہ اللہ پاک نے حضور کی مقدس بیویوں کو اپنے زیورات کی زکوٰۃ دینے کا حکم اس لئے دیا کہ وہ زیورات کے علاوہ ان کے جیسی کسی ایسی چیز (مال و دولت)کی مالک ہی نہ تھیں جس پر زکوٰۃ واجب ہوتی۔کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ پاک نے ان سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ اگر وہ دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہیں گی تو انہیں مال و متاع دے کر اچھے طریقے سے رخصت کر دیا جائے گا۔اگر ان کے پاس ضرورت سے زائد اموال ہوتے تو وہ اسے خرچ کرکے فائدہ اٹھاتیں،اگرچہ حضور کے پاس انہیں دینے کے لئے دنیاوی مال نہ ہوتا اور نہ ہی وہ آپ کے علاوہ کسی اور سے اس کا مطالبہ کرتیں۔پس یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ ان (زیورات کے علاوہ چیزوں مثلاً:مالِ تجارت اور مویشیوں وغیرہ)میں سے کسی بھی چیز کی مالک نہ تھیں،لہٰذا اس آیت کے ظاہر سے زیورات پر زکوٰۃ واجب ہونے کا استدلال کرنا درست ہے۔([12])

اس آیتِ مبارکہ سے یہ نصیحت حاصل ہوئی کہ حضور کی مقدس بیویوں کو نماز،روزے کا حکم دیا گیا ہے تو عام خواتین کو بدرجۂ اَولی نماز کا حکم ہے کہ وہ نماز قائم کریں۔قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم دیا گیا ہے جس سے نماز اور زکوۃ کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔شبِ معراج آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو نماز کا تحفہ عطا کیا گیا۔نماز مومن کی معراج اور ربِّ کریم کے قرب کا ذریعہ ہے۔اگر کوئی یہ کہے کہ میں نماز قائم نہ کروں یا زکوۃ نہ دوں تو میری نسبت  مجھے آخرت میں کامیاب کر دے گی تو یہ محض غلط فہمی ہے۔حضور کی مقدس بیویوں سے بڑھ کر سب سے عظیم نسبت کس کی ہے!جب ان کو نماز اور زکوۃ  کا حکم ہے تو عام عورتوں کو زیادہ تاکیدی حکم ہو گا۔جیسا کہ امام ابو منصور ماتریدی فرماتے ہیں: اللہ پاک نے حضور کی مقدس بیویوں کو نماز قائم کرنے،زکوٰۃ دینے،اللہ پاک اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے کا حکم اس لئے دیا تاکہ وہ اس دھوکےمیں نہ پڑ جائیں کہ حضور کے ساتھ رہنے کی برکت سے انہیں جو مقام ملا ہے اور انہوں نے حضور کی خاطر جو اپنا سب کچھ قربان کردیا وہ ان کے لئے آخرت میں کافی ہو جائے گا اور ان پر ان(عبادات)کے علاوہ مزید کچھ لازم نہیں ہے۔بلکہ اللہ پاک نے(ان احکام کے ذریعے)یہ خبر دی کہ اگرچہ تم نے حضور کے ساتھ رہنے کو چنا اور دنیا اور اس کی زینت کے مقابلے میں حضور کو ترجیح دی، تب بھی یہ اعمال تمہیں ان مذکورہ احکامات(نماز،زکوٰۃ وغیرہ) سے بے نیاز  نہیں کر سکتے۔([13])اللہ پاک امہات المومنین کی عبادات کے صدقے ہم سب کو بھی نماز،روزہ اور زكوة وغیرہ عبادات کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* معلمہ و مفتشہ جامعۃ المدینہ گرلز

فیضانِ ام عطار گلبہار سیالکوٹ



[1]تفسیر  روح البیان،7/171

[2]تفسیر صراط الجنان،8/25

[3]تفسیر حسنات،5/326

[4]تفسیر ابن کثیر،4/106

[5]مسند امام احمد،11/141،حدیث:6576

[6]حلیۃ الاولیاء،7/299،حدیث:10590

[7]ترغیب و ترہیب،1/301،حدیث:12

[8]ابن ماجہ،4/368،حدیث:4019

[9]ابوداود،2/137،حدیث:1563

[10]تفسیر رازی،9/168

[11]تفسیر نظم الدرر،15/345

[12]تفسیر ما تریدی،8/382،381

[13]تفسیر ما تریدی،8/382


Share