موضوع: قرآنِ کریم میں غور و فکر کرنے کی اہمیت
قرآنِ کریم اللہ پاک کی وہ عظیم نعمت ہے جس کا شکر ادا کرنا ہمارے بس سے باہر ہے۔یہ محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات اور سرچشمۂ ہدایت ہے، جو ہماری گھریلو زندگی سے لے کر معاشرتی کردار تک ہر پہلو میں راہ نمائی فراہم کرتی ہے اور دنیا کے ساتھ آخرت کی کامیابی کا راستہ بھی روشن کرتی ہے۔ اس کی آیات دلوں کو سکون بخشتی ہیں، فکر کو سنوارتی ہیں اور کردار میں پاکیزگی پیدا کرتی ہیں، مگر افسوس کہ ہم میں سے بہت سی خواتین اس کی حقیقی عظمت اور مقصد سے پوری طرح آگاہ نہیں ہو پاتیں۔
بلاشبہ قرآنِ کریم کی تلاوت اجر وثواب اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہے، اور اس کے ہر حرف پر رحمتیں نازل ہوتی ہیں؛ لیکن اکثر ہم اسے صرف ثواب کی نیت سے پڑھ کر آگے بڑھ جاتی ہیں۔تدبر،سمجھ اور عمل کا مرحلہ پیچھے رہ جاتا ہے۔ حالانکہ یہ کتاب اس لئے نازل ہوئی کہ ہم اس کی آیات میں غور کریں، اپنے معاملاتِ زندگی کو اس کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں اور اپنے گھروں کو قرآن کی روشنی سے منور کریں۔ جب قرآن ہماری سوچ، ترجیحات اور روزمرہ فیصلوں کا حصہ بن جائے گا، تب ہی ہم حقیقی ہدایت اور باطنی سکون حاصل کر سکیں گی۔یہی وجہ ہے کہ قرآن خود ہمیں غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہے:
كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹) (پ23،صٓ:29)
ترجمہ: (یہ قرآن)ایک برکت والی کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور وفکر کریں اور عقلمند نصیحت حاصل کریں ۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے:یعنی اے حبیب!ہم نے آپ کی طرف قرآنِ پاک ناز ل کیا ہے جس میں ان لوگوں کے لئے دُنْیَوی اور اُخروی کثیر مَنافع ہیں جو اس پر ایمان لائیں اور انہوں نے اس کے احکامات،حقائق اور اشارات پر عمل کیا۔ہم نے قرآنِ پاک کو اس لئے نازل کیاہے تاکہ(علم رکھنے والے)لوگ اس کی آیتوں کے معانی میں غور و فکر کریں اور ان کی تاویلات جان جائیں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔
قرآنِ پاک کی آیات سے دینی اَحکام نکالنا ہر ایک کا کام نہیں
قرآنِ پاک کی آیات سے نصیحت تو ہر انسان حاصل کر سکتا ہے لیکن اس سے دینی اَحکام نکالنا اور اس کی باریکیوں تک رسائی حاصل کرنا ہر ایک کا کام نہیں بلکہ صرف ان کا کام ہے جو اعلیٰ درجے کی دینی عقل رکھتے ہیں یعنی ماہر علما اور خاص طور پر مجتہدین اس منصب کے اہل ہیں۔لہٰذا عوام کو چاہیے کہ قرآنِ پاک سے دینی مسائل نکالنے کے بجائے علما سے مسائل سیکھیں تاکہ غلطیوں سے بچ سکیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ فقط قرآنِ پاک کی عربی عبارت کو پڑھ لینا نزولِ قرآن کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں بلکہ ا س کی آیات کے معانی اور ان کے مطالب سمجھنے کی کوشش بھی کرنی چاہئے تاکہ اس کی آیتوں میں غور و فکر کرنا،اس میں بیان کی گئی عبرت انگیز باتوں سے نصیحت حاصل کرنا اور اس میں بتائے گئے اَحکامات پر عمل کرنا ممکن ہو ،جبکہ فی زمانہ صورتِ حال یہ ہے کہ قرآنِ پاک سمجھنا اور اس میں غور و فکر کرنا تو بہت دور کی بات ہے یہاں تو قرآنِ پاک گھروں میں ہفتوں بلکہ مہینوں صرف جُزدان اور الماریوں کی زینت نظر آتا ہے اور اس کا خیال آ جانے پر اس سے چمٹی ہوئی گرد صاف کر کے دوبارہ اسی مقام پر رکھ دیا جاتا ہے اور اگر کبھی ا س کی تلاوت کی توفیق نصیب ہو جائے تو اس کے تَلَفُّظ کی ادائیگی کا حال بہت برا ہوتا ہے۔اللہ کریم مسلمانوں کے حالِ زار پر رحم فرمائے اور قرآنِ پاک صحیح طریقے سے پڑھنے،سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔([1]) لہٰذا قرآنِ کریم میں غور و فکر کیا جائے تاکہ اس کے ارشادات پر عمل کر سکیں ۔
ارشادِ باری ہے:
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ- (پ5،النسآء:82)
ترجمہ: تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے:یہاں قرآن کی عظمت کا بیان ہے اور لوگوں کو اس میں غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔چنانچہ فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ قرآنِ حکیم میں غور نہیں کرتے اور اس کے عُلوم اور حکمتوں کو نہیں دیکھتے کہ اس نے اپنی فصاحت سے تمام مخلوق کو اپنے مقابلے سے عاجز کر دیا ہے اور غیبی خبروں سے منافقین کے احوال اور ان کے مکر و فریب کو کھول کر رکھ دیا ہے اور اوّلین و آخرین کی خبریں دی ہیں۔اگر قرآن میں غور کریں تو یقیناً اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ یہ اللہ پاک کا کلام ہے اور اسے لانے والا اللہ کریم کا رسول ہے۔
قرآنِ کریم میں غور و فکر کرنا عبادت ہے لیکن!
اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں غور و فکر کرنا اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:ایک آیت غور و فکر کر کے اور سمجھ کر پڑھنا بغیر غور و فکر اور سمجھ کے پورا قرآن پڑھنے سے بہتر ہے۔ ([2])
قرآن کا ذکر کرنا،اسے پڑھنا،دیکھنا،چھونا سب عبادت ہے۔قرآن میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ قرآن میں وہی غور و فکر معتبر اور صحیح ہے جو صاحب ِ قرآن صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے فرامین اور حضور پُر نور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے صحبت یافتہ صحابہ رضی اللہ عنہم اور ان سے تربیت حاصل کرنے والے تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے علوم کی روشنی میں ہو کیونکہ وہ غور و فکر جو اس ذات کے فرامین کے خلاف ہو جن پر قرآن اترا اور اس غور و فکر کے خلاف ہو جو وحی کے نزول کا مشاہدہ کرنے والے بزرگوں کے غور و فکر کے خلاف ہو، وہ یقینا ًمعتبر نہیں ہو سکتا۔اس لئے دورِ جدید کے ان نت نئے مُحققین سے بچنا ضروری ہے جو چودہ سو سال کے علماء، فُقہاء،محدثین و مفسرین اور ساری اُمت کے فَہم کو غلط قرار دے کر قولاً یا عملاً یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ قرآن اگر سمجھا ہے تو ہم نے ہی سمجھا ہے ، پچھلی ساری امت جاہل ہی گزر گئی ہے۔ یہ لوگ یقینا گمراہ ہیں۔([3])
قرآنِ کریم کتابِ ہدایت بھی ہے اور مکمل زندگی گزارنے کا دستور العمل بھی ہے۔اس کے احکام پر عمل تبھی ممکن ہے جب اس کا ترجمہ اور تفسیر بھی پڑھی جائے۔
اسلامی بہنوں کو بھی چاہیے کہ قرآنِ کریم درست پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ اور تفسیر بھی پڑھیں،اس کے لئے تفسیر خزائن العرفان،تفسیر نور العرفان اور تفسیر صراط الجنان کا روزانہ کچھ نہ کچھ مطالعہ لازمی کریں۔
اسی طرح دعوتِ اسلامی کے شعبہ فیضان آن لائن اکیڈمی کے تحت”معرفۃ القرآن علی کنز العرفان“ کورس بھی کیا جا سکتا ہے۔آئیے!قرآن پڑھیں اور”تعلیماتِ قرآن“کتابوں کا مطالعہ کرنا بھی قرآنِ کریم سمجھنے کے لئے بہت مفید ہے۔
اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ کریم کی تعلیمات سیکھنے،سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* لاہور


Comments