63 نیک اعمال(نیک عمل نمبر 40)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


(نیک عمل نمبر 40)

اسلام ایک ایسا دین ہے جو ذہن،روح اور جسم کی صفائی کے ساتھ ساتھ پاکیزگی کو پسند کرتا اور اس کا درس دیتا ہے۔ پاکیزہ جسم اور روح نہ صرف دل کو خالص رکھتےہیں بلکہ یہ ہماری صحت کے بھی ضامن ہیں۔اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ(۲۲۲) (پ2،البقرۃ:222)

ترجمہ: بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب صاف ستھرے رہنے والوں کو پسند فرماتاہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

حدیثِ پاک میں فرمایا گیا کہ بے شک اسلام صاف ستھرا دین ہے،تو تم بھی پاکیزگی حاصل کرو کیونکہ جنت میں وہی داخل ہو گا جو ظاہر و باطن میں صاف ستھرا ہو گا۔([1])

حضرت علامہ عبدُ الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ علیہ صاف ستھرا رہنے کی وضاحت میں فرماتے ہیں:ہر وہ چیز جس سے انسان نفرت وحقارت محسوس کریں اس سے بچا جائے خصوصاً صاحبِ اقتدار اور علمائے کرام کو(ایسا کرنا لازم ہے)۔([2])

صفائی ستھرائی کی اسی اہمیت کے پیشِ نظر امیرِ اہلِ سنت دامت  برکاتہم العالیہ نے ہمیں نیک اعمال کے رسالے میں سوال نمبر 40 یہ عطا فرمایا ہے کہ کیا آج آپ نے صفائی ستھرائی اور سلیقہ مندی کا خیال رکھا؟(صفائی ستھرائی:یعنی بدن و لباس گھر اور بچوں کو صاف رکھنا وغیرہ۔سلیقہ:یعنی وقت کی پابندی،گھر اور اپنی یا کسی اور کی گاڑی میں بیٹھتے وقت بلا ضرورت زور سے دروازہ بند کرنا،اپنے گھر،تعلیم گاہ یا کسی کے ہاں کی جو چیز اجازت ہونے کی صورت میں اٹھائی پھر اسی جگہ رکھنا وغیرہ)

اس سوال کے دو حصے ہیں:

(1)صفائی ستھرائی(بدن و لباس گھر اور بچوں کو صاف رکھنا وغیرہ):

ہمارے دینِ اسلام میں صفائی ستھرائی کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ہمارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم خود بھی ہمیشہ پاک و صاف رہتے اور دوسروں کو بھی اسی کی ترغیب دلایا کرتے، چنانچہ ایک روایت میں آپ کا فرمان ہے:بے شک اللہ پاک ہے، پاکی کو پسند فرماتا ہے،ستھرا ہے،ستھرا پن پسند فرماتا ہے۔ لہٰذا تم اپنے صحن صاف رکھو اور یہود سے مشابہت نہ کرو۔([3])

حکیمُ الاُمت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ پاک بندے کی ظاہری باطنی پاکی پسند فرماتا ہے بندے کو چاہیے کہ ہر طرح پاک رہے جسم،نفس،روح، لباس، بدن، اخلاق غرضکہ ہر چیز کو پاک صاف رکھے۔اقوال، افعال، احوال، عقائد سب درست رکھے۔اپنے صحن صاف رکھو یعنی اپنے گھر تک صاف رکھو لباس،بدن وغیرہ کی صفائی تو بہت ہی ضروری ہے گھر بھی صاف رکھو وہاں کوڑا جالا وغیرہ جمع نہ ہونے دو۔([4])

طبی اعتبار سے صفائی کی اہمیت:

اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ صفائی ستھرائی کی عادت ڈالنا نہ صرف اجر و  ثواب کے حصول کا باعث ہے بلکہ اس کے کئی دنیوی فوائد بھی ہیں۔جبکہ گندگی اور آلودگی نہ صرف اسلامی نقطۂ نظرسے نا پسندیدہ چیزیں ہیں بلکہ دنیاوی اعتبار سے بھی اس کے کثیر نقصانات ہیں اور صفائی کا خیال نہ رکھنے کے باعث کثیر بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں، مثلاً: ڈائریا،ٹائیفائڈ،ٹی بی،جلدی بیماریاں،مثلاً:خارش وغیرہ۔

صفائی کی اقسام:

صفائی کی دو قسمیں ہیں:

(1)ذاتی صفائی:

اپنے جسم اور لباس وغیرہ کو صاف ستھرا رکھنا کئی بیماریوں سے بچانے کے ساتھ ساتھ انسان کی شخصیت کو پُرکشش بناتا اور اعتماد ووقار میں اضافہ کرتا ہے جبکہ گندے لباس اور میلے کچیلے جسم والوں کو نہ صرف حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے بلکہ ایسے لوگوں میں خود اعتمادی کی کمی بھی پائی جاتی ہے۔جسم و لباس کے علاوہ اپنی سواری،موبائل فون، لیپ ٹاپ،ٹیبلیٹ،پی سی،چپل،جرابیں،چادر، گھڑی، رومال، قلم،بیگ وغیرہ استعمالی چیزوں کو بھی صاف رکھا جائے اور جن چیزوں کو دھونا ممکن ہو وقتِ مناسب پر دھویا جائے۔ہاتھ پاؤں کے ناخن ہفتے میں ایک بار ضرور کاٹیں ورنہ میل جمع ہوتا ہے اور جراثیم پرورش پاتے ہیں جو کھانے کے ذریعے پیٹ میں جا کر بیماریاں،مثلاً:ہیضہ،ڈائریا وغیرہ کا باعث بن سکتے ہیں۔ دانتوں کی صفائی ستھرائی کا بھی بہت خیال رکھنا چاہیے۔

(2)ماحول کی صفائی:

بالخصوص اپنے گھر کے باورچی خانے اور بیتُ الخلاء کی صفائی کا اہتمام کیجیے۔بہتر یہ ہے کہ صفائی کا شیڈول بنا لیجیے کہ کن چیزوں کی روزانہ،کن کی ہفتہ وار اور کن کی ماہانہ صفائی کرنی ہے،مثلاً:فریج،پنکھوں اور انرجی سیور کی صفائی ستھرائی مہینے میں ایک بار،دروازوں،کھڑکیوں اور الماریوں کی صفائی ہفتہ وار کرنی چاہیے۔

بچوں کی تربیت:

بچوں کو بھی شروع ہی سے صفائی کی تربیت دی جائے،کھانے سے پہلے اور بعد ہاتھ دھونے کی مشق کرائی جائے۔کم از کم رات سونے سے پہلے بالخصوص ہاتھ پاؤں، دانتوں،لباس،سواری،چپل،گھر،دفتر،گلی اور محلے کی صفائی ستھرائی پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔

(2)سلیقہ مندی:

سوال کا ایک حصہ سلیقہ مندی کا خیال رکھنے پر مشتمل ہے۔یاد رہے!اسلام میں ہر چھوٹا بڑا عمل سلیقہ مندی کا تقاضا کرتا ہے اور دینِ اسلام نے ہمیں یہ سلیقہ سکھایا ہے کہ سلیقہ مندی نظم و ضبط کے قیام کا باعث ہے۔بلکہ ہر کام میں نظم و ضبط اور ترتیب و سلیقہ مندی کا لحاظ رکھنا دینِ اسلام اور اللہ پاک کو پسند ہے۔

وقت کی پابندی:

اسلام کے بنیادی ارکان،یعنی نماز،روزہ، زکوٰۃ،حج سب میں اوقات کی تعیین ضروری ہے۔خدا کی بنائی ہوئی ہر چیز وقت کی پابندی کا درس دیتی ہے،چاہے آسمان ہو یا زمین،سورج ہو یا چاند،دریا ہو یا پھول،پودے چرند،پرند غرضیکہ ہر ایک چیز کو اللہ پاک نے وقت کا پابند بنا رکھا ہے۔ وقت کی اہمیت سے کوئی بھی عقل مند انکار نہیں کر سکتا۔وقت ایک قیمتی سامان ہے اور اس کی ضرورت زندگی کے ہر شعبے میں ہے۔جو لوگ وقت کے پابند ہوتے ہیں وہی کامیابی سے ہمکنار ہو کر اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ جاتے ہیں۔

وقت کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے حضور کا یہ فرمانِ مبارک کافی ہے جو حضرت عبدُ اللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نے ایک شخص کو ارشاد فرمایا:پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو:(1)اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے(2)اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے(3)اپنی دولت مندی کو اپنی غربت سے پہلے(4)اپنی فراغت کو اپنی مشغولیت سے پہلے اور(5)اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے۔([5])

امیرِ اہلِ سنت کے عطا کردہ اس سوال کا مقصد یہی ہے کہ ہم سلیقہ مندی اپنائیں اور ہماری زندگی نظم و ضبط کی عادی ہو جائے۔چنانچہ مذکورہ سوال میں چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،لہٰذا ہمیں نیک اعمال کے رسالے میں موجود ہر ہر سوال پر عمل کر کے اپنی آخرت کو سنوارنے کے لئے دن رات کوشش کرنی چاہیے اور ہر انگریزی ماہ کی پہلی تاریخ کو یہ رسالہ اپنے علاقے میں ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں وہاں کی ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لینا چاہیے۔اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین بِجَاہِ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم



[1] کنز العمال،5/123،جزء:9،حدیث:25996

[2] فیض القدیر،1/249،تحت الحدیث:257

[3] ترمذی،4/365،حدیث:2808

[4] مراۃ المناجیح،6/192ملخصاً

[5] مستدرک،5/435،حدیث:7916


Share