موضوع:ایصالِ ثواب
ہمارے معاشرے میں تحائف کے ذریعے محبت اور تعلق مضبوط کیے جاتے ہیں۔معمولی سا تحفہ بھی عزیزوں کے چہرے پر خوشی لے آتا ہے اور بدلے میں وہ بھی اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔لیکن جب کوئی پیارا دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو یہ سلسلہ رک جاتا ہے۔حالانکہ ہم چاہیں تو ایصالِ ثواب کی صورت میں اس سے کہیں بہتر تحفے بھیج کر اس کی خوشی کا سامان کر سکتی ہیں۔جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:قبر میں مردے کا حال ڈوبتے ہوئے انسان کی مانند ہے جو شدت سے انتظار کرتا ہے کہ ماں،باپ،بیٹا یا کسی دوست کی دعا اس کو پہنچے اور جب کسی کی دعا اسے پہنچتی ہے تو اس کے نزدیک دنیا اور اس میں جو کچھ ہے سب سے بہتر ہوتی ہے،اللہ پاک قبر والوں کو ان کے زندہ متعلقین کی طرف سے ہدیہ کیا ہوا ثواب پہاڑوں کی مانند عطا فرماتا ہے زندوں کا تحفہ مردوں کے لئے دعائیں، مغفرت کرنا اور ان کی طرف سے صدقہ کرنا ہے۔([1])
بلاشبہ ایصالِ ثواب کی برکتیں بہت زیادہ ہیں،اس کی برکت سے مرحومین کو سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
ایصالِ ثواب کے لفظی معنی ہیں؛اپنے کسی نیک عمل کا ثواب کسی دوسرے مسلمان کو پہنچانا۔شریعتِ مطہرہ میں اپنے کسی بھی نیک عمل کا ثواب کسی فوت شُدہ یا زندہ مسلمان کو ایصال کرنا جائز اور اچھا عمل ہے۔
ایصالِ ثواب سے متعلق رائج رسومات
ہمارے معاشرے میں ایصالِ ثواب کے مختلف طریقے رائج ہیں،جن سے آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے،لہٰذا ایصالِ ثواب کے متعلق رسومات و نظریات ملاحظہ کیجئے:
تیجہ،دسواں،چالیسواں وغیرہ:
میت کا تیجہ،دسواں،چالیسواں اور برسی کرنا بہت اچھے کام ہیں کہ یہ ایصالِ ثواب کے ہی ذرائع ہیں،شریعت میں ان کاموں کے ناجائز ہونے کی دلیل نہ ہونا ہی ان کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔البتہ!ہمارے ہاں اس کے ساتھ کچھ شرعی خرابیاں شامل کردی جاتی ہیں،جن سے بچنا ضروری ہے،مثلاً:جس گھر میں میت ہو جائے وہاں عموماً تیجے کا کھانا دعوت کی صورت میں ہوتا ہے،ہر خاص و عام مدعو ہوتے ہیں،تیجے کے بجائے دعوتِ ولیمہ کا منظر لگ رہا ہوتا ہے،کسی کو جائز و ناجائز کی کوئی پروا نہیں ہوتی ہے جبکہ اس حوالے سے حکمِ شرع یہ ہے کہ تیجے کا کھانا ایک تو میت کے چھوڑے ہوئے مال سے نہیں کر سکتے،البتہ اگر میت کے چھوڑے ہوئے مال سے تیجے کا کھانا کریں تو اس کی صورت یہ ہے کہ سارے ورثہ بالغ ہوں اور سب کے سب اجازت بھی دیں اگر ایک بھی وارث نابالغ ہے تو سخت حرام ہے،ہاں بالغ اپنے حصے سے میت کا کھانا کرسکتا ہے۔([2])
نیز تیجے کا کھانا مالداروں کے لئے جائز نہیں صرف غربا و مساکین کھائیں۔تیجے کے بعد بھی وہ کھانے جو میت سے منسوب ہوتے ہیں جیسے دسواں چالیسواں وغیرہ ان سے بھی مالداروں کو بچنا چاہئے۔آج کل تو یہ رواج عام ہے کہ اس کھانے کو فراخدلی سے کھلایا جاتا ہے،میت کے اہلِ خانہ جو اپنے پیارے کو کھو چکے ہوتے ہیں دکھ سے نڈھال ہوتے ہیں،لیکن تیجے کے دن دکھ کو بالائے طاق رکھ کر اس فکر میں الجھے ہوتے ہیں کہ سب رشتے داروں تک دعوت پہنچ گئی کوئی رہ تو نہیں گیا!فلاں ناراض نہ ہو جائے!پھر کھانے کے وقت بھی ہر ایک کو خصوصی اہتمام کے ساتھ کھانا کھلانا کہ کوئی ناراض نہ ہو جائے،یہ وہ خرابیاں ہیں جن کا ختم ہونا ضروری ہے۔
قرآن خوانی و محافلِ ذکر و نعت:
اسی طرح تیجہ و چالیسواں وغیرہ کے کھانے سے پہلے ایصالِ ثواب کے سلسلے میں قرآن خوانی اور محافلِ ذکر و نعت کا اہتمام کیا جاتا ہے،یہ بھی اچھا رواج ہے جب تک کہ اس میں بےجا قیودات یا کسی چیز کو لازم سمجھنا نہ پایا جائے۔
کھانا سامنے رکھ کر فاتحہ پڑھنا و دن مقرر کرنا:
ایصالِ ثواب کے متعلق ایک رواج یہ بھی ہے کہ جس کھانے پر ایصالِ ثواب کرنا ہو اسے سامنے رکھ کر فاتحہ خوانی کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔عموماً گھر کے بزرگ اس بات کو ضروری سمجھتے ہیں اور پھر تمام گھر والوں کو اس کام کے لئے اکٹھا کیا جاتا ہے،جب تمام افراد ایک جگہ جمع ہو جاتے ہیں تو کھانا سامنے رکھ کر بلند آواز سے فاتحہ خوانی کی جاتی ہے،ایسا کرنا ضروری نہیں کھانا سامنے رکھے بغیر بھی فاتحہ پڑھی جا سکتی ہے،لیکن کھانے کا سامنے ہونا بھی منع نہیں ہے،ہاں اگر فاتحہ وغیرہ پڑھ کر کھانے پر دم کیا جائے تو وہ کھانا بابرکت ہو جاتا ہے،لہٰذا اس میں حرج نہیں۔([3])
اگر کھانا اپنے لئے بنایا ہو تو اس پر بھی ایصال ثواب کیا جا سکتا ہے،اگر کچھ بھی نہیں بنا ہوا ہے تب بھی سورتیں، پارے،کلمہ،درود شریف پڑھ کر بغیر کھانے کے بھی ایصالِ ثواب کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح ایصالِ ثواب کے سلسلے میں کسی نیک کام کے لئے دن معین کرنے میں بھی حرج نہیں ہے کہ دن معین کرنے سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ لوگ جمع ہو جائیں اور اہتمام کے ساتھ عملِ خیر کیا جائے جیسا کہ نمازِ باجماعت میں لوگوں کی آسانی کے لئے ایک وقت مقرر کر دینا،ایسے ہی کسی دینی اجتماع،محافل یا شادی بیاہ وغیرہ کے لئے بھی دن و تاریخ متعین کر دینا جائز ہے۔البتہ اس تعین کو ضروری سمجھنا کہ اس کے بغیر ایصالِ ثواب نہ ہوگا یہ درست نہیں،جاہلانہ خیال ہے اس سے باز رہنا ضروری ہے۔([4])
کونڈوں کی نیاز:
رجب المرجب میں حضرت امام جعفر صادق اور حضرت جلال بخاری رحمۃ اللہ علیہما کے ایصالِ ثواب کے لئے نیاز کی جاتی ہے جس میں چاول،کھیر،پوریاں وغیرہ پکا کر ان کے کونڈے بھرتے ہیں پھر ان پر ختم دلوایا جاتا ہے،یہ بھی ایصالِ ثواب کی ایک صورت ہے۔اس موقع پر عام طور پر کہانی سنائی جاتی ہے وہ من گھڑت ہے اس کی کوئی اصل نہیں،لہٰذا وہ کہانی نہ پڑھی جائے نہ سنی جائے۔امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:کونڈوں کی نیاز کے موقع پر دس بیبیوں کی کہانی،لکڑہارے کی کہانی اور جناب سیدہ کی کہانی یہ سب من گھڑت قصے ہیں ان کو نہ پڑھا کریں بلکہ ایک بار سورہ ٔ یسین پڑھ لیا کریں کہ 10 قرآن پاک کا ثواب ملے گا۔مزید فرماتے ہیں:کونڈوں کی نیاز بھی ایصالِ ثواب کی ایک صورت ہے(اس کو ناجائز کہنا شریعت پر افترایعنی بہتان باندھنا ہے)۔([5])
کونڈوں کے ختم میں بعض جگہ یہ قید لگاتے ہیں کہ یہیں کھاؤ،کہیں اور لے نہ جاؤ یہ قید بھی بیجا ہے،ان باتوں سے بچنا چاہیے۔اسی طرح بعض یہ قید لگاتے ہیں کہ مٹی کے برتن وغیرہ میں کونڈے کی نیاز ضروری ہے یہ قید بھی ضروری نہیں جس برتن میں چاہے کونڈوں کو رکھا جا سکتا ہے اس کے لئے مٹی کے برتن ہونا ضروری نہیں۔
پانی کے ذریعے ایصالِ ثواب:
پانی یا شربت کی سبیل لگانا جبکہ اچھی نیت ہو اور رضائے الٰہی مقصود ہو تو یہ ایک مستحب اور کارِ ثواب ہے۔دس محرم الحرام کو خالص اللہ پاک کی رضا اور شہیدانِ کربلا کی ارواحِ طیبہ کو ثواب پہنچانے کی نیت سے مسلمانوں کے لئے پانی کی سبیل لگانا بلا شبہ جائز،مستحب اور ثواب کا کام ہے۔حدیثِ پاک میں پانی کو افضل صدقہ کہا گیا ہے،جیسا کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کی:یا رسول اللہ!اُمِّ سعد(یعنی میری ماں) انتقال کر گئیں،تو کون سا صدقہ ان کے لئے بہتر ہے؟ فرمایا: پانی،تو انہوں نے کنواں کھدوایا اور کہا:یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے ہے۔([6])اس روایت کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے: بعض لوگ سبیلیں لگاتے ہیں،عام مسلمان ختم فاتحہ وغیرہ میں دوسری چیزوں کے ساتھ پانی بھی رکھ دیتے ہیں،ان سب کا ماخذ(اصل)یہ حدیث ہے،کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ پانی کی خیرات بہتر ہے۔([7])نیز پانی پلانے سے گناہ معاف ہوتے ہیں، جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے:جب تیرے گناہ زیادہ ہو جائیں، تو پانی پر پانی پلاؤ،گناہ جھڑ جائیں گے جیسے آندھی میں درخت کے پتے گرتے ہیں۔([8])
سبیل لگانے میں ایصالِ ثواب کی نیت ہونی چاہیے۔فتاویٰ رضویہ میں ہے:نیت ایصالِ ثواب کی ہو اور ریا وغیرہ کو دخل نہ ہو،تو اس(یعنی پانی پلانے)کے جواز میں کوئی شبہہ نہیں،شربت کریں اور عرض کریں کہ الٰہی!یہ شربت ترویحِ رُوحِ حضرت امام(یعنی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی روح کو راحت پہنچانے)کے لئے کیا ہے،اس کا ثواب انہیں پہنچا اور ساتھ فاتحہ وغیرہ پڑھیں،تو اور افضل،پھر مسلمانوں کو پلائیں۔([9])
ایصالِ ثواب سے متعلق متفرق مدنی پھول
*ایک دن کے بچے کو بھی ایصالِ ثواب کرسکتے ہیں۔
*جو زندہ ہیں اُن کو بھی بلکہ جو مسلمان ابھی پیدا نہیں ہوئے اُن کو بھی پیشگی ایصالِ ثواب کیا جاسکتا ہے۔
*مسلمان جنات کو بھی ایصالِ ثواب کرسکتے ہیں۔
*جتنوں کو بھی ایصالِ ثواب کیااللہ کی رحمت سے امید ہے کہ سب کو پورا ملے گا،یہ نہیں کہ ثواب تقسیم ہوکر ٹکڑے ٹکڑے ملے۔
*ایصالِ ثواب کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ امید ہے کہ اُس نے جتنوں کو ایصالِ ثواب کیا اُن سب کے مجموعے کے برابر اِس کو ثواب ملے گا،مثلاً: کوئی نیک کام کیا جس پراُس کو دس نیکیاں ملیں اب اُس نے دس مُردوں کو ایصالِ ثواب کیا تو ہر ایک کو دس دس نیکیاں پہنچیں گی جبکہ ایصالِ ثواب کرنے والے کو ایک سو دس اور اگر ایک ہزار کو ایصالِ ثواب کیا تو اِس کو دس ہزار دس۔([10])
*ایصالِ ثواب صرف مسلمان کو کرسکتے ہیں،کافر یا مرتد کو ایصالِ ثواب کرنا یا اُس کو مرحوم کہنا کُفر ہے۔([11])
مجھ کو ثواب بھیجو!دعائیں ہزار دو!
گو قبر میں اتارا،نہ دل سے اتار دو!
ایصالِ ثواب ایک بہترین عمل ہے،اس سے نیک لوگوں کے درجات بلند ہوتے ہیں،گناہ گاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور اہلِ قبر سختی یا عذاب میں مبتلا ہوں تو نجات پاتے یا تخفیف پاتے ہیں اور یہ سب اللہ پاک کے چاہنے سے ہوتا ہے۔نیز ایصالِ ثواب کرنے والی بھی اجر و ثواب سے محروم نہیں ہوتی۔اس کے عمل کا اجر و ثواب بھی باقی رہتا ہے بلکہ ان سب کی گنتی کے برابر نیکیاں ملتی رہتی ہیں جن کو اس نے ایصالِ ثواب کیا ہوتا ہے۔ اس لئے ہمیں ایسی رسومات کہ جن سے دین و دنیا دونوں کو نقصان ہو اپنانے سے گریز کرنا چاہیے اور قرآن و حدیث کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* شعبہ ذمہ دار ماہنامہ خواتین
[1] مسند الفردوس ،2/336،حدیث:6664
[2] بہار شریعت،1/822،حصہ:4 ملخصاً
[3] بنیادی عقائد اور معمولات اہل سنت،ص 98
[4] بنیادی عقائد اور معمولات اہل سنت،ص 97 مفہوماً
[5] کفن کی واپسی،ص 16،15 مفہوماً
[6] ابو داود،2/180،حدیث:1681
[7] مراۃ المناجیح،3/105
[8] تاریخ بغداد،6/400،حدیث:3464
[9] فتاویٰ رضویہ،9/601
[10] بہار شریعت،1/850،حصہ:4
[11] فاتحہ اور ایصالِ ثواب کا طریقہ،ص 12 تا 18 ماخوذاً

Comments