بلا حاجت کچھ مانگناکیسا؟
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن

سلسلہ:شرحِ حدیث

*محترمہ بنتِ کریم بخش مدنیہ عطاریہ

موضوع:بلاحاجت کچھ مانگنا کیسا؟

حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے کچھ مانگا، آپ نے انہیں عطا فرما دیا،انہوں نے پھر مانگا،حضور نے پھر عطا فرما دیا یہاں تک کہ جو آپ کے پاس مال تھا وہ ختم ہو گیا تو ارشاد فرمایا:جو کچھ میرے پاس ہو گا وہ تم سے بچاکر نہ رکھوں گا۔جو مانگنے سے بچنا چاہے اللہ پاک اسے بچائے گا اور جو غنا چاہے اللہ پاک اسے غنی کر دے گا اور جو صبر چاہے اللہ پاک اسے صبر دے گا اور کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہ ملی۔([1])

شرحِ حدیث

مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ظاہر یہ ہے کہ یہ مانگنا بلا ضرورت تھا  جیسا کہ اگلے فرمان سے معلوم ہو رہا ہے۔ ضرورۃً مانگنے والوں کو تو حضور خود بھی دیتے تھے اور دوسروں سے بھی دلواتے تھے۔(مزید فرماتے ہیں:)وہ حضرات مانگتے رہے اور حضور دیتے رہے،انہیں سب کچھ دے کر پھر مسئلہ بتایا۔ اس میں تبلیغ بھی ہے اور سخاوتِ مُطْلَقَہ کا اظہار بھی۔([2])

امام نَوَوی رحمۃ اللہ  علیہ فرماتے ہيں:غِنٰی سے مراد دل کا بے نیاز ہونا ہے،یعنی لوگوں سے بے نیاز ہونے کے ساتھ ساتھ جو کچھ ان کے پاس ہے اس سے بھی بے نیاز ہو جانا۔([3])

کیا کسی سے کچھ مانگنا مطلقاً منع ہے؟

مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ ایک جگہ فرماتے ہیں:مانگنے سے مراد ذِلَّت و خواری کا مانگنا ہے یعنی بھیک مانگنا،لہٰذا باپ کا اولاد سے یا آقا کا غلام سے یا اس کے برعکس یا اُن سے کچھ مانگنا جن سے مانگنے میں عار نہ ہو،مطلقاً جائز ہے،حضور سے شفاعت اور انعامِ الٰہیہ اور اُخروی نعمتوں کی بھیک مانگنا بادشاہوں کے لئے فخر و عزت ہے۔اس پر علما کا اتفاق ہے کہ بلا ضرورت مانگنا ممنوع ہے۔([4])اسی طرح مسکین کا اپنی  حاجات کے لئے لوگوں سے کچھ طلب کرنا جائزہے۔مسکین وہ ہے کہ جس کے پاس  کچھ نہ ہو یہاں تک کہ کھانے اور بدن چُھپانے کے لئے اس کا محتاج  ہے کہ لوگوں سے مانگے۔([5])

بلا ضرورت مانگنے سے بچنے کی فضیلت:

معلوم ہوا! جو بلاوجہ مانگنے سے بچے اور اللہ پاک کے دئیے گئے رزق پر قناعت اختیار کرے تو اللہ پاک اسے مانگنے سے بچا لے گا اور قناعت کی دولت عطا فرمائے گا اور یہ ایسی دولت ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔نیز جو اللہ پاک کے سوا اوروں سے بے نیازی اختیار کرنا چاہے تو اللہ پاک اسے دوسروں سے بے نیاز کر دے گا اور یہی حقیقی غنا ہے کیونکہ غنا کثرتِ مال کا نام نہیں بلکہ اصل غنا تو دل کا بے نیاز ہونا ہے۔ جو اپنے آپ کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے روکتی اور صبر کرتی ہے،اللہ پاک اسے صبر عطا فرما دیتا ہے اور صبر انسان کو عطا کردہ اللہ پاک کی نعمتوں میں سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔

اسی طرح خود داری اور عزتِ نفس انسان کی بہت بڑی دولت ہے جبکہ مانگنا انسان کی خود داری اور عزتِ نفس کو مجروح کرتا اور اسے دوسروں کا محتاج بنا دیتا ہے۔دینِ اسلام ہمیں با عزت زندگی گزارنے اور بلا ضرورت کسی سے کچھ مانگنے سے بچنے کا درس دیتا ہے۔پیارےآقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:مومن کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے نفس کو ذلت میں ڈالے۔([6])اور ایک روایت میں ہے:مومن کی عزت لوگوں سے بے نیاز  ہونے میں ہے۔([7])

لوگوں سے بلا حاجت مانگنا اس قدر نا پسندیدہ عمل ہے کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صحابہ کرام کے ایک گروہ سے باقاعدہ اس بات پر بیعت لی کہ وہ کسی سے کچھ نہ مانگیں گے اور وہ حضرات حضور کے فرمان پر اس قدر سختی سے عمل کیا کرتے تھے کہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں نے ان میں سے بعض افراد کو دیکھا کہ اگر ان کا کَوڑا یا چابُک بھی زمین پر گر جاتا تو اسے اٹھانے کے لئے وہ کسی سے نہ کہتے۔([8])ایک مرتبہ حضور نے ارشاد فرمایا:جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ کسی سے کچھ نہیں مانگے گا تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔حضرت ثوبان نے ضمانت دی اور پھر اس کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہ مانگا۔([9])

افسوس!ہمارے معاشرے میں کچھ پیشہ ور بھکاری محنت کے بجائے مانگنے کو ذریعہ معاش بنا چکے ہیں،جو یقیناً قابلِ مذمت ہے اور اس کی برائی سب جانتے ہیں۔مگر عام طور پر صرف اسی کو عیب سمجھا جاتا ہے،جبکہ آپس میں بلا ضرورت چیزیں مانگنے کی عادت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔حالانکہ یہ بھی خود داری کے خلاف ہے۔خود داری کا تقاضا ہے کہ انسان اپنی ضروریات حتی المقدور خود پوری کرے۔

بلا ضرورت مانگنے کی چند مثالیں یہ ہیں:*موبائل میں بیلنس نہ رکھ کر کال کے لئے دوسروں کا فون استعمال کرنا۔* خواتین کا گھریلو چیزیں جیسے برتن،چینی،نمک وغیرہ پڑوس سے مانگنا۔* شادی بیاہ پر زیورات اور ملبوسات دوسروں سے لے کر استعمال کرنا۔* ضروری چیزیں،مثلاً:قلم یا موبائل چارجر ساتھ نہ رکھنا اور بوقتِ ضرورت مانگ لینا۔اس طرح کی عادتیں عموماً نظر انداز ہوتی ہیں،جس سے یہ آہستہ آہستہ پکی ہو جاتی ہیں۔

بلا ضرورت مانگنے کی وجوہات

(1)کم روزی پر قناعت نہ کرنا:

جو خاتون اللہ پاک کے دیے ہوئے رزق پر قناعت نہیں کرتی،وہ دوسروں سے مانگنے کی عادت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔بہتر یہ ہے کہ ہم اللہ پاک کی عطا پر راضی رہیں اور جو میسر ہو اسی میں زندگی بسر کریں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے:اللہ پاک ایسے بندے کو پسند فرماتا ہے جو نیک اور قناعت پسند ہو۔([10])جبکہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے عرض کی:سب سے زیادہ مالدار کون ہے؟ارشاد ہوا: جو میرے دیئے ہوئے رزق پر قناعت کرے۔([11])

(2)توکل کی کمی:

اللہ پاک ہی حقیقی عطا فرمانے والا ہے،اس لئے ہمیں اسی پر کامل یقین اور بھروسا رکھنا چاہیے کہ وہی تمام ضروریات پوری کرنے والا ہے کہ  ایک روایت میں ہے:ہر شخص اپنے رب سے اپنی تمام حاجتیں مانگے،یہاں تک کہ جب جوتے کا تسمہ بھی ٹوٹ جائے تو اسی سے مانگے۔([12])

(3)دنیاوی مال و دولت کی حرص:

بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس ضرورت کی ہر چیز موجود ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ دوسروں سے کچھ نہ کچھ مانگتے رہتے ہیں تاکہ ان کے پاس موجود مال میں اور اضافہ ہو جائے۔یہ ایک بہت بری عادت ہے۔حدیثِ مبارک میں اس کی مذمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا:جو مال بڑھانے کے لئے بھیک مانگے تو وہ انگارہ مانگتا ہے،اب چاہے کم مانگے یا زیادہ۔([13])

(4)سستی و کاہلی:

بعض لوگ سستی و کاہلی کے باعث اپنی ضروریات محنت سے پوری نہیں کرتے اور دوسروں سے مانگ لیتے ہیں،حالانکہ بہترین کمائی وہی ہے جو انسان اپنے ہاتھ کی محنت سے حاصل کرےکہ پیارےآقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے رب کی بارگاہ میں لوگوں سے بے نیاز رہنے کی دعا فرمایا کرتے تھے:اَللّٰهُمَّ اِنّي أَسْأَلُكَ الْهُدٰي و التُّقٰي وَ العَفَافَ وَ الْغِنٰي یعنی اے اللہ پاک!میں تجھ سے ہدایت،پرہیزگاری، پاکدامنی اور غنا(لوگوں سے بے نیاز رہنا)طلب کرتا ہوں۔([14])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شعبہ ٹیچر ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ مجلس جامعۃ المدینہ گرلز




[1] بخاری،1/496،حدیث:1469

[2] مراٰۃ المناجیح،3 /59

[3] شرح مسلم للنووی،جزء:17 / 41

[4] مراٰۃ المناجیح،3/54،53

[5] فتاویٰ  ہندیہ،1 /188،187

[6] ترمذی،4 / 112،حدیث:2261

[7] شعب الایمان،3 / 171،حدیث:3248

[8] ابو داود،2/169،حدیث:1642

[9] ابو داود،2/170،حدیث:1643

[10] مسلم،ص 1212،حدیث:7432

[11] الزھد لہناد،1/277،حدیث:489

[12] مشکاۃ المصابیح،1/421،حدیث:2251

[13] مسلم،ص402،حدیث:2399

[14] مسلم،ص1117،حدیث:6904


Share