بزرگوں کی سواری  آنا
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:بزرگوں کی سواری آنا

معاشرے میں وقتاً فوقتاً بعض ایسی رسومات جنم لیتی ہیں جو آہستہ آہستہ مذہبی رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔ابتدا میں وہ صرف ایک سماجی طرزِ عمل ہوتا ہے،مگر رفتہ رفتہ انہیں روحانیت، بزرگوں کی نسبت یا کسی خاص سلسلے سے جوڑ دیا جاتا ہے۔زیرِ نظر مضمون میں”سواری“کے نام سے معروف ایک رسم کا تحقیقی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے،جو مختلف علاقوں میں مختلف انداز سے رائج ہے۔

یہ نظریہ ہمارے معاشرے میں جعلی پیروں اور جاہل عورتوں نے پیدا کر رکھا ہے۔”سواری آنا“یا”سواری ہونا“ سے مراد یہ لیا جاتا ہے کہ کسی عورت  پر کسی بزرگ، ولی، یا کسی نہ نظر آنے والی ہستی کا اثر ہو جاتا ہے اور وہ غیرمعمولی کیفیت میں چلی جاتی ہے۔اس کیفیت میں وہ بعض اوقات مخصوص انداز میں گفتگو کرتی ہے اور اُس کی آواز بدل جاتی ہے،وہ بعض پیش گوئیاں کرتی ہے یا لوگوں کے مسائل کا حل بتاتی ہے  اور اس سے جو بھی بات غیب کے متعلق پوچھی جائے وہ بتا دیتی ہے۔

یاد رکھئے!جن بزرگوں نے ساری زندگی اپنی نگاہوں اور جسم کی حفاظت کی وہ دنیا سے پردہ کرنے کے بعد معاذ اللہ غیرمحرم عورتوں پر سواری کی صورت میں آئیں،ایسا ممکن نہیں، حقیقت میں یہ سارا شیطانی جنات کا کھیل ہوتا ہے جس سے وہ لوگوں میں پھوٹ ڈالتے ہیں۔

یہ کیفیت زیادہ تر مخصوص مجالس یا محافل میں ظاہر ہوتی ہے۔بعض اوقات یہ کیفیت جذباتی دباؤ،ذہنی پریشانی یا گھریلو مسائل کے پسِ منظر میں سامنے آتی ہے۔اکثر یہ عمل خواتین میں زیادہ دیکھا گیا ہے،خصوصاً وہ خواتین جو سماجی یا نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوں۔اس کیفیت کے بعد بعض افراد کو جسمانی کمزوری یا شدید تھکن لاحق ہو جاتی ہے۔

جس عورت پر یہ اثرات ہوتے ہیں وہ ہر سال عورتوں کو بلاتی ہے جسے پنجابی میں پیڑی کہا جاتا ہے۔دیگر عورتیں اس عورت کی بہت عزت کرتی اور اس سے بہت ڈرتی ہیں۔محفل میں جب جن اس پر سوار ہوتا ہے تو یہ تصور کیا جاتا ہے کہ بابا جی آگئے ہیں عورت کی آواز بدل جاتی ہے،دیگر عورتیں اس سے دعائیں کراتی اور غیب کی خبریں پوچھتی ہیں،وہ جن جھوٹی خبریں دے کر گھروں میں لڑائی کرواتا ہے کہ فلاں نے تیرے اوپر جادو کیا ہے۔اگر کسی پر سواری آتی ہو اور وہ کسی بزرگ کا نام لے کہ میں فلاں ہوں  تب بھی کسی مضبوط عامل سے علاج کروا لینا چاہیے  کیونکہ وہ حقیقت میں جن ہی ہوتا ہے۔جب علاج ہوگا تو وہ جن بھاگ جائے گا۔بعض اوقات خاندان کے اندر بھی ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو  سواری آنے  کا جھوٹا دعویٰ کرتے ہیں،محض اس لئے کہ اس سے انہیں مالی فائدہ حاصل ہو جاتا ہے اور اگر یہ نہ بھی ہو تو کم از کم لوگوں کی توجہ اور واہ وا  ضرور ملتی ہے۔ لوگ ان کے گرد جمع ہوتے ہیں تو وہ خود کو اہم سمجھنے لگتے ہیں اور اسی میں لطف محسوس کرتے ہیں۔

شرعی حیثیت

جنات یا بزرگوں کی سواری آنے کی شرعی حیثیت یہ ہے کہ یہ عقیدہ قرآن و حدیث کی اصل تعلیمات سے ثابت نہیں اور زیادہ تر توہم پرستی یا شیطانی اثرات پر مبنی ہے۔بزرگانِ دین اپنی قبروں میں آرام فرما ہیں،وہ کسی کے جسم پر سوار نہیں ہوتے۔مفتیِ اعظم پاکستان حضرت علامہ مفتی محمد وقار الدین قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:کسی مرد یا عورت پر کسی بزرگ کی سواری نہیں آتی یہ دعویٰ فریب ہے۔صرف جنات کا اثر ہوتا ہے وہ بھی کسی کسی پر۔مگر ان جنات سے سوال کرنا یا آئندہ کا حال معلوم کرنا ناجائز ہے۔([1])

یاد رہے!جنات سے آئندہ کی بات پوچھنی حرام ہے۔ مثلاً:پوچھنا کہ میرا بچہ کب تندرست ہو گا؟میری فلاں جگہ شادی ہو گی یا نہیں؟میں امتحان میں کامیاب ہوں گی یا نہیں؟ وغیرہ سوالات کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:بہت لوگ حاضرات کر کے مُؤکلان جن سے پوچھتے ہیں فلاں مقدمہ میں کیا ہوگا؟فلاں کام کا انجام کیا ہو گا؟یہ حرام ہے۔([2])

سواری یا ڈھونگ؟

بعض اوقات تو یہ نرا ڈھونگ ہوتا ہے جو کہ حُبِّ جاہ اور سستی شہرت کے بھوکے لوگ عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور بھیڑ جمانے کے لئے رچاتے ہیں اور بسا اوقات یہ شریر جنات ہوتے ہیں جو کسی انسان پر غلبہ پا کر ایسی باتیں کرتے ہیں۔جیسا کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:وہ(یعنی شریر جنات) سخت جھوٹے کذاب ہوتے ہیں،اپنا نام کبھی شہید بتاتے ہیں اور کبھی کچھ۔اس وجہ سے جاہلانِ بے خرد(یعنی بےعقل جاہلوں) میں شہیدوں کا سر پر آنا مشہور ہو گیا، ورنہ شہداءِ کرام(اور اولیائے عظام) ایسی خبیث حرکات سے منزہ و مبرا ہوتے ہیں۔([3])

مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:آسیب جن کی ایک قسم ہے جو کسی انسان پر مسلط ہو کر اسے ایذا دیتا ہے۔یہ اُس وقت ہے کہ واقع میں کسی پر آسیب کا تسلط ہو ورنہ اس زمانہ میں بہت سی عورتوں کو اور بعض مردوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ حقیقتاً آسیب زدہ نہیں ہیں۔لوگوں کو پریشان کرنے کے لئے آسیب زدہ ہونا ظاہر کرتے ہیں اور بنتے ہیں اور آسیب زدہ میں دو صورتیں ہوتی ہیں کبھی تو وہ آسیب خود ہی مسلط ہوتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض اعمال کے ذریعہ جن کو لوگ مسخر کر لیتے ہیں اور یہ مسخر کرنے والے اسے حکم دیتے ہیں کہ فلاں پر مسلط ہو جا!اسکے کہنے سے مسلط ہو جاتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں کہ اسی آسیب نے جسکا نام بتایا ہو اسے  خوامخواہ مُتہم(الزام) کیا جائے اور اسی کا بھیجا ہوا سمجھا جائے کہ اولاً تو اس میں شبہ ہے کہ یہاں آسیب ہے۔ہو سکتا ہے کہ بناوٹ ہو اور اگر آسیب ہو بھی تو یہ یقینی بات ہے کہ آسیب بکثرت جھوٹ بولتے ہیں۔ہر عامل اس کو جانتا ہے اور اس قسم کا اس کو سابقہ پڑتا ہے۔لہذا صرف اس کے کہہ دینے سے ہرگز یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا کہ یہ سچا ہے اور اسی کا بھیجا ہے۔خصوصاً کسی مسلمان عورت پر ایسی تہمت رکھنا اور خصوصاً ایسے وقت جبکہ باعتبارِ دین و دیانت بہتر حالت رکھتی ہو محض آسیب زدہ کے کہہ دینے سے اس پر تہمت رکھنا حرام ہے۔([4])

یاد رہے!اسلام میں ولایت،کرامت اور بزرگانِ دین کا مقام مسلّم ہے،مگر اس کے ساتھ یہ اصول بھی واضح ہے کہ کسی بھی غیر معمولی کیفیت کو فوراً کرامت یا روحانی تصرف قرار دینا درست نہیں۔شریعت کے خلاف کوئی بھی بات، حرکت یا دعویٰ قابلِ قبول نہیں۔اگر کسی مجلس میں سواری کے نام پر ایسے افعال ہوں جو شریعت کے خلاف ہوں تو یہ سب قابلِ مذمت ہیں۔دینِ اسلام سادگی،اعتدال اور دلیل پر قائم ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ ہر رسم کو قرآن و سنت کے میزان پر پرکھا جائے اور جو چیز دین کے مطابق ہو اسے اختیار کیا جائے اور جو خلاف ہو اسے حکمت کے ساتھ چھوڑا  جائے۔

مؤکلات کی حاضری کی حقیقت

بزرگوں کی سواری اور حاضری کے ساتھ ساتھ مؤکلات (جنات) کا تصور بھی ہمارے معاشرے میں خاصا رائج ہو چکا ہے۔موجودہ دور میں بعض جعلی صوفیا اور عاملین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے پاس مؤکلات ہیں اور وہ انہی کے ذریعے مسائل حل کرتے ہیں۔چنانچہ جب کسی کے ہاں چوری،ڈکیتی یا کوئی اور پریشانی پیش آتی ہے،یا لوگ مستقبل کے بارے میں جاننے کے خواہش مند ہوتے ہیں تو ایسے افراد کے پاس رجوع کرتے ہیں۔یہ عاملین محض اٹکل اور قیاس سے بات کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ چور کے نام کا پہلا حرف مثلاً: ن  ہے۔

اب اگر اتفاق سے کسی قریبی رشتہ دار یا جاننے والے کا نام اس حرف سے شروع ہوتا ہو تو بلا تحقیق اسی پر الزام رکھ دیا جاتا ہے،جس سے بدگمانی،بہتان اور باہمی لڑائی جھگڑوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔یوں ایک بے بنیاد دعویٰ نہ صرف خاندانی تعلقات کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ معاشرے میں فساد اور انتشار کا سبب بھی بنتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے دعوے نہ شرعی بنیاد رکھتے ہیں اور نہ ہی عقلِ سلیم انہیں قبول کرتی ہے۔ایسے لوگوں کے فریب میں آنا ایمان و اخلاق دونوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ جیسا کہ قرآنِ پاک سے یہ بات ثابت ہے کہ جنات کو غیب کا علم نہیں ہوتا۔جیسا کہ مفتی سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ ایک آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: حضرت سلیمان علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی تھی کہ ان کی وفات کا حال جنات پر ظاہر نہ ہوتا کہ انسانوں کو معلوم ہو جائے کہ جن غیب نہیں جانتے پھر آپ محراب میں داخل ہوئے اور حسبِ عادت نماز کے لئے اپنے عصا پر تکیہ لگا کر کھڑے ہو گئے، جنات حسبِ دستور اپنی خدمتوں میں مشغول رہے اور یہ سمجھتے رہے کہ حضرت زندہ ہیں اورحضرت سلیمان کا عرصۂ دراز تک اسی حال پر رہنا ان کے لئے کچھ حیرت کا باعث نہیں ہوا  کیونکہ وہ بارہا دیکھتے تھے کہ آپ ایک ماہ،دو دو ماہ اور اس سے زیادہ عرصہ تک عبادت میں مشغول رہتے ہیں اور آپ کی نماز بہت دراز ہوتی ہے حتٰی کہ آپ کی وفات کے پورے ایک سال بعد تک جنات آپ کی وفات پر مطلع نہ ہوئے اور اپنی خدمتوں میں مشغول رہے یہاں تک کہ بحکمِ الٰہی دیمک نے آپ کا عصا کھا لیا اور آپ کا جسمِ مبارک جو لاٹھی کے سہارے سے قائم تھا زمین پر آیا،اس وقت جنات کو آپ کی وفات کا علم ہوا۔([5])

امام طبری نقل فرماتے ہیں:شیاطین جن حضرت سلیمان علیہ السلام کے وصال کے بعد ایک سال تک کام کرتے رہے، پھر بعد میں لوگوں کو یقین ہوگیا کہ جنات کا دعویٔ علمِ غیب کرنا جھوٹ ہے کہ اگر یہ غیب جانتے ہوتے تو حضرت سلیمان کے وصال کو جان لیتے اور ایک سال تک اس عذاب میں گرفتار نہ ہوتے۔([6]) لہٰذا قرآن سے ثابت ہوگیا کہ جن علمِ غیب نہیں رکھتے یعنی یہ نہیں بتا سکتے کہ چوری کس نے کی؟کالا علم کس نے کیا؟کل کیا ہو گا؟وغیرہ۔

یہ ممکن ہے کہ عامل جن کو یہ پتا کرنے کے لئے بھیجے کہ چوری کس نے کی ہے اور جن چونکہ لوگوں کو نظر نہیں آتا تو رشتہ داروں اور محلے داروں کے گھر جا کر کوئی بات سن کر عامل کو بتادے۔کیونکہ جن جھوٹ بھی بولتے ہیں اس لئے جن کے کہنے پر بھی کسی پر چوری کا الزام نہیں لگایا جا سکتا۔

دوسرا یہ کہ اکثر عامل جھوٹ بولتے ہیں کہ ان کے پاس موکلات ہیں۔ موکلات کو قید کرنا ہر کسی کا کام نہیں،جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے اور اگر موکلات ہوں بھی تو اس کا نقصان ہے کہ بندے میں تکبر پیدا ہوتا اور کئی حرام ہوتے ہیں،مثلاً:کسی کو جن کی مدد سے جانی و مالی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔اللہ پاک ہمیں صحیح فہمِ دین عطا فرمائے اور ہر قسم کی بے بنیاد رسومات سے بچائے۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* طالبہ: فیضان آن لائن اکیڈمی بحرین، عرب



[1] وقار الفتاویٰ،1/177

[2] فتاویٰ افریقہ،ص 178،177

[3] فتاویٰ رضویہ،21/218

[4] فتاویٰ امجدیہ،4/229

[5] تفسیر خزائن العرفان،ص 795

[6] تفسیر طبری،10/359 ،رقم:28778


Share