موضوع:سفرِقرآن بذریعۂ تفسیر ِقرآن
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے تعلیمِ قرآن کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسےسکھائے۔([1])اس حدیث کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے:قرآن سیکھنے سکھانے میں بہت وسعت ہے بچوں کو قرآن کے ہجے روزانہ سکھانا،قاریوں کا تجوید سیکھنا سکھانا،علما کا قرآنی احکام بذریعہ حدیث و فقہ سیکھنا سکھانا،صوفیائے کرام کا اسرار و رموزِ قرآن بسلسلۂ طریقت سیکھنا سکھانا سب قرآن ہی کی تعلیم ہے صرف الفاظِ قرآن کی تعلیم مراد نہیں۔([2])یہی وجہ ہے کہ حضور نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے لئے دعا کرتے ہوئے فرمایا:اَللّٰهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّيْنِ یعنی اے اللہ!ابنِ عباس کو دین کی سمجھ عطا فرما۔([3])اَللّٰهُمَّ عَلِّمْهُ الْكِتَابَ یعنی اے اللہ!ابنِ عباس کو کتاب کا علم عطا فرما۔([4])
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت جابر کو صاحبِ علم قرار دیا تو ایک شخص نے عرض کی:میں آپ پر قربان!آپ حضرت جابر کو صاحبِ علم کہہ رہے ہیں حالانکہ آپ کا اپنا(علمی) مقام بہت بلند ہے!آپ نےفرمایا:حضرت جابر اس ارشادِ الٰہی کی تفسیر کو جانتے ہیں:
اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لَرَآدُّكَ اِلٰى مَعَادٍؕ- (پ20،القصص:85)
ترجمہ:بیشک جس نے آپ پر قرآن فرض کیا ہے وہ آپ کو لوٹنے کی جگہ ضرور واپس لے جائے گا۔([5])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
صحابہ کرام کی طرح ہمارے دیگر بزرگانِ دین بھی علمِ تفسیر کی اہمیت پر بہت زور دیتے تھے۔جیسا کہ حضرت ایاس بن معاویہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جو لوگ قرآن پڑھتے ہیں اور اس کی تفسیر نہیں جانتے اس قوم کی طرح ہیں جن کے پاس رات کو بادشاہ کا تحریری فرمان پہنچے اور ان کے پاس چراغ نہ ہو تو وہ گھبراہٹ کا شکار ہو جائیں اور انہیں علم نہ ہوسکے کہ اس خط میں کیا لکھا ہے!([6])
تفسیرِ قرآن کی اہمیت کے پیشِ نظر چند باتیں ملاحظہ کیجئے:
اللہ کریم کے کلام کی درست سمجھ:
قرآنِ کریم اللہ پاک کا کلام ہے۔اس کے الفاظ،اسبابِ نزول،ناسخ و منسوخ اور سیاق و سباق کو سمجھے بغیر مفہوم میں غلطی ہو سکتی ہے۔تفسیر انسان کو درست مفہوم تک پہنچاتی ہے۔
عقیدہ و عمل کی اصلاح:
صحیح تفسیر سے ایمان مضبوط ہوتا ہے اور عبادات و معاملات میں درست راہ ملتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مفسرین نے ہر آیت کی وضاحت دلائل کے ساتھ کی ہے۔
شبہات کا ازالہ:
بعض آیات بظاہر مشکل محسوس ہوتی ہیں۔تفسیر ان اشکالات کو دور کر کے دین کے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کرتی ہے۔
بزرگانِ دین کی روشنی:
صحابہ و تابعین کی تشریحات کے بغیر قرآن کو سمجھنا گمراہی کا سبب ہو سکتا ہے۔
دنیا و آخرت کی کامیابی:
قرآن ہدایت کی کتاب ہے،مگر ہدایت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب اسے سمجھ کر پڑھا جائے۔تفسیر اس سمجھ کا ذریعہ ہے۔
گمراہی سے حفاظت:
تفسیر کے ذریعے من گھڑت تشریحات اور غلط نظریات سے بچاؤ ممکن ہونے کے ساتھ ساتھ صحیح اسلامی عقائد و تعلیمات کی سمجھ حاصل ہوتی ہے۔
احکامِ الٰہی کی وضاحت:
قرآن میں بیان کردہ احکام و مسائل کو تفسیر کی مدد سے تفصیل سے سمجھا جا سکتا ہے۔
مختصر یہ کہ تفسیرِ قرآنِ کریم اللہ پاک کے کلام کے پوشیدہ معانی،احکام اور حکمتوں کو سمجھنے کا علم ہے،جس کے بغیر قرآن کے حقیقی پیغام تک رسائی نا ممکن ہے۔یہ انسان کو گمراہی سے بچا کر ہدایت،زندگی کے اصولوں اور اخلاقیات سے روشناس کراتی ہے،نیز اسے فکری و عملی زندگی میں سیدھے راستے پر چلنے کی راہ نمائی فراہم کرتی ہے۔تفسیرِ قرآن سے مقصود قرآنِ مجید کا سمجھنا ہے۔زمانۂ نزول سے لے کر آج تک قرآنِ مجید کو سمجھنے کے مختلف انداز رہے ہیں۔قرآنِ کریم کا نزول عربی لغت میں اہلِ عرب کے اسلوبِ بلاغت کے اعلیٰ معیار پر ہوا تھا۔اس لئے صحابہ کرام قرآنِ کریم سمجھنے کی کوشش کرتے اور جہاں کہیں انہیں الجھن محسوس ہوتی بارگاہِ نبوت میں حاضر ہو کر جواب پاتے اور مطمئن ہو جاتے۔حضور کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد خلفائے راشدین کا دور آیا تو انہوں نے بھی قرآن فہمی کا وہی انداز رکھا جو حضور نے اختیار فرمایا تھا۔حضور کے وصال کے بعد ان اکابر صحابہ کرام کی طرف رجوع کیا جانے لگا جنہیں بارگاہِ رسالت سے فیض پانے کا موقع زیادہ ملا تھا۔ چنانچہ اس اعتبار سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تفسیرِ قرآن کے کئی درجات ہیں،مثلاً:
(1)تفسیرُ القرآن بالقرآن:
یعنی قرآنِ کریم کی کسی آیت کی تفسیر خود قرآنِ کریم ہی کی دوسری آیات سے کی جائے۔کیونکہ بعض باتیں قرآن میں بعض جگہ اجمالاً(مختصر انداز)میں مذکور ہیں تو دوسری جگہ تفصیل سے مذکور ہیں۔اس طرح ایک آیت دوسری آیت کی تفسیر بن جاتی ہے اور یہی طریقہ سب سے اعلیٰ درجے کی تفسیر کا ہے۔
(2)تفسیرُ القرآن بالحدیث:
یعنی قرآنِ مجید کی تفسیر احادیث سے کی جائے۔کیونکہ حضور قرآن کے شارح ہیں۔اللہ پاک نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو قرآنِ مجید کے احکام اور معارف کی وضاحت کے لئے بھیجا ہے۔اس لئے قرآن کی تفسیر آیات کے ساتھ ساتھ احادیث سے بھی بیان کی جاتی ہے۔
(3)تفسیرُ القرآن بآثارِ الصحابہ:
یعنی قرآن کی تفسیر صحابہ کرام کے اقوال سے کی جائے۔کیونکہ ان حضرات نے قرآنِ کریم کی تعلیم براہِ راست حضور سے حاصل کی تھی۔اس لئے جب قرآنِ مجید کی کسی آیت کی تفسیر بیان کی جاتی ہے تو صحابہ کرام کے اقوال کو بھی پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔
(4)تفسیرُ القرآن بآثارِ التابعین:
یعنی قرآنِ مجید کی تفسیر تابعینِ عظام کے اقوال سے کی جائے۔کیونکہ انہوں نے صحابہ کرام سے قرآنِ مجید کی تعلیم حاصل کی۔
(5)تفسیرُ القرآن باللغۃ العربیۃ:
قرآنِ پاک کی بعض آیات ایسی ہیں جن کا مفہوم اہلِ فن اور عربی داں نہیں بلکہ عام لوگ بھی سمجھ جاتے ہیں،جیسے نماز،روزہ،زکوٰۃ اور حج کے احکام وغیرہ۔البتہ! بعض آیات کا مفہوم واضح نہیں،انہیں جاننے کے لئے تفسیر کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ عربی زبان میں اس قدر وسعت ہے کہ اس میں ایک لفظ کے بسا اوقات کئی کئی معنی ہوتے ہیں۔([7])
قرآن فہمی بہت بڑی عبادت و سعادت ہے۔لہٰذا تلاوتِ قرآن کے ساتھ مستند تفاسیر کے ذریعے معانیِ قرآن سمجھنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔اس کے لئے نیک اعمال کے رسالے پر عمل کرتے ہوئے کنز الایمان مع خزائن العرفان یا نور العرفان یا آسان ترجمۂ قرآن کنز العرفان مع افہام القرآن سے کم از کم تین آیات پڑھ یا سن لیا کریں یا تفسیر صراط الجنان سے کم و بیش دو صفحات پڑھنے کا روزانہ معمول بنا کر قرآنِ کریم کو سیکھنے اور سمجھنے کی سعادت حاصل کیجیے۔اسی طرح دعوتِ اسلامی کے شعبہ شارٹ کورسز کے ذریعے بھی اسلامی بہنوں کو مختصر وقت میں قرآنِ پاک کی کئی سورتوں کی تفسیر پڑھانے کا سلسلہ ہوتا ہے،مثلاً:تفسیر سورۂ نور کورس،فیضانِ تلاوتِ قرآن کورس،خاص طور پر ماہِ رمضان میں 20 یا 30 دن کے کورسز میں قرآنِ پاک کی تلاوت کے ساتھ قرآنی آیات کی تفسیر کے حصے بھی شامل کیے جاتے ہیں۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے مقدس کلام کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* لاہور
[1] بخاری،3/410،رقم:5027
[2] مراۃ المناجیح،3/217
[3] بخاری،1/74،حدیث:143
[4] بخاری،1/45،حدیث:75
[5] تفسیر قرطبی،جزء:1/41
[6] تفسیر قرطبی،جزء:1/41
[7] تفسیر صراط الجنان،1/31ملخصاً


Comments