سلسلہ:اخلاقِ نبوی
موضوع:حضور کی اصحابِ بدر سے محبت
(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 47ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کئے جا رہے ہیں۔)
محترمہ اختِ اسد عطاریہ(فرسٹ پوزیشن)
(طالبہ:درجہ رابعہ،جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ)
اصحابِ بدر رضی اللہ عنہم کی جماعت وہ مقدس جماعت ہے جن کے بارے میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے محبت اور عظمت کے کلمات ارشاد فرمائے۔ان خوش نصیبوں نے اللہ پاک اور اس کے رسول کی خاطر ہر قسم کی قربانی دی اور تاریخِ اسلام میں وفا و استقامت کی روشن مثال قائم کی۔ حضور کی ان سے محبت ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ اللہ پاک کے دین کے لئے خلوص،یقین اور قربانی ہی اصل معیار ہے۔ آج اگر ہم کامیابی چاہتی ہیں تو ہمیں بھی اپنے ایمان کو مضبوط، اپنے کردار کو پاکیزہ اور اپنے اعمال کو مخلص بنانا ہوگا۔اللہ پاک ہمیں اصحابِ بدر کی سچی محبت عطا فرمائے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق دے۔آمین
اسلامی تاریخ میں غزوۂ بدر کو ایک فیصلہ کن مقام حاصل ہے۔یہ وہ دن تھا جب مٹھی بھر اہلِ ایمان نے اللہ پاک پر کامل بھروسا کرتے ہوئے باطل کی بڑی قوت کا مقابلہ کیا۔ان جانثاروں نے نہ اپنی قلتِ تعداد کی پروا کی اور نہ ہی سامان کی کمی کا شکوہ کیا،بلکہ ان کے دل یقینِ کامل سے لبریز تھے۔یہی وہ مبارک جماعت ہے جسے دنیا اصحابِ بدر کے نام سے جانتی ہے۔
اسی جماعتِ مخلصین کی مدد کے لئے اللہ پاک نے آسمان سے فرشتے نازل فرمائے جن کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ اَنِّیْ مُمِدُّكُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُرْدِفِیْنَ(۹) (پ 9،الانفال:9)
ترجمہ:یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری فریاد قبول کی کہ میں ایک ہزار لگاتار آنے والے فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کرنے والا ہوں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اپنے ان جانثاروں سے بے حد محبت تھی،کیونکہ انہوں نے ہر آزمائش میں آپ کا ساتھ دیا۔میدانِ بدر میں حضور کی دعائیں،آنسو اور اپنے ساتھیوں کے لئے فکر اس بات کی روشن دلیلیں ہیں کہ آپ ان سے کس قدر محبت و شفقت فرماتے تھے۔جب کبھی اہلِ بدر کا ذکر آتا تو آپ ان کی عظمت بیان فرماتے اور ان کے مقام کو نمایاں کرتے۔
احادیثِ مبارکہ کے مطابق اللہ پاک نے اہلِ بدر کے بارے میں خصوصی مغفرت اور رضا کا اعلان فرمایا۔یہی وجہ ہے کہ دیگر صحابۂ کرام بھی اہلِ بدر کا بےحد احترام کرتے تھے۔ان کا شمار اسلام کے اولین اور عظیم ترین مجاہدین میں ہوتا ہے۔حضور کی ان سے محبت در اصل ان کے اخلاص، وفاداری اور بے مثال قربانی کا اعتراف تھی۔
حضرت علی المرتضی،شیرِ خدا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ (جو اہلِ بدر میں سے تھے)سے ایک معاملے میں خطا ہوگئی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی:یارسول اللہ!مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن مار دوں،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:بے شک اﷲ کریم اہلِ بدر سے واقف ہے اور اس نے یہ فرما دیا ہے کہ تم اب جو عمل چاہو کرو بلاشبہ تمہارے لئے جنت واجب ہو چکی ہے یا(یہ فرمایا)کہ میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔([1])
نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بدری صحابہ کرام کو غیرمعمولی محبت و عزت سے نوازتے،ایک مرتبہ کچھ بدری صحابہ حضور کی مجلس میں حاضر ہوئے جبکہ مجلس بھر چکی تھی،انہوں نے حضور اور اہلِ مجلس کو سلام کیا اور اس انتظار میں کھڑے ہوگئے کہ ان کے لئے جگہ کشادہ کی جائے،مگر کسی نے انہیں جگہ نہ دی،یہ بات حضور پر گراں گزری اور حضور نے اپنے سامنے والوں کو اٹھا کر بدری صحابہ کو ان کی جگہ پر بٹھا دیا۔([2])
اصحابِ بدر کی زندگیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ ایمان صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ عمل،صبر اور استقامت کا تقاضا کرتا ہے۔انہوں نے دنیاوی مفاد کو چھوڑ کر اللہ پاک اور اس کے رسول کی رضا کو ترجیح دی اور یہی ان کی کامیابی کا راز تھا۔
اگر ہم حضور کی سچی محبت چاہتی ہیں تو ہمیں بھی دین کے لئے اخلاص اور وفاداری کو اپنانا ہوگا۔اصحابِ بدر کی سیرت ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔
اللہ پاک ہمیں ان عظیم ہستیوں کی محبت عطا فرمائے اور ہمیں بھی دینِ اسلام کی خدمت کرنے والی بنا دے۔آمین
محترمہ بنتِ عبدالقیوم عطاریہ
(طالبہ:درجہ رابعہ،جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ)
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اصحابِ بدر سے محبت اور ان کی قدر ومنزلت بہت خاص تھی۔یہ وہ خوش نصیب صحابہ کرام تھے جنہوں نے غزوۂ بدر میں حضور کے ساتھ مل کر اسلام کی پہلی بڑی جنگ لڑی۔اس جنگ کے دن کو قرآنِ پاک میں”یومِ فرقان“ کا نام دیا گیا ہے۔
اصحابِ بدر کی تعداد 313 تھی۔غزوۂ بدر اسلام کی تاریخ کا پہلا سب سے اہم معرکہ تھا جو ہجرت کے دوسرے سال 17 رمضان المبارک کو پیش آیا۔مسلمان اس وقت بہت کم تعداد میں تھے اور ان کے پاس جنگی ساز و سامان بھی بہت کم تھا،اس کے برعکس قریشِ مکہ کا لشکر تقریباً ایک ہزار افراد پر مشتمل تھا اور وہ مکمل طور پر مسلح تھے۔
قرآنِ پاک میں عمومی طور پر صحابہ کی تعریف کے ضمن میں بیان فرمایاگیا:
وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (پ 11،التوبۃ:100)
ترجمہ:اور بیشک مہاجرین اور انصار میں سے سابقیْنِ اولین اور دوسرے وہ جو بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے ہیں ان سب سے اللہ راضی ہوا اور یہ اللہ سے راضی ہیں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اصحابِ بدر چونکہ اولین مہاجرین و انصار میں شامل تھے اس لئے یہ آیت ان کی شان کو بھی شامل ہے۔
اللہ پاک نے بدر کے موقع پر اپنی خاص مدد نازل فرمائی جس کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌۚ- (پ 4،ال عمرٰن:123)
ترجمہ:اور بیشک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سر و سامان تھے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
جن صحابہ کرام نے غزوۂ بدر میں حصہ لیا ان کے فضائل پر مشتمل فرامینِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم درج ذیل ہیں:
*مجھے امید ہے جو لوگ بدر اور حدیبیہ میں شریک تھے، ان شاء اللہ ان میں سے کوئی بھی جہنم میں نہیں جائے گا۔([3])*بے شک اﷲ کریم اہلِ بدر سے واقف ہے اور اس نے یہ فرما دیا ہے کہ تم اب جو عمل چاہو کرو بلاشبہ تمہارے لئے جنت واجب ہو چکی ہے یا(یہ فرمایا)کہ میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔([4])*اصحابِ بدر کے نام پڑھ کر دعائیں کی جائیں تو ان شاء اللہ قبول ہوں۔([5])اللہ پاک ہمیں بھی اصحاب بدر کی سچی محبت عطا فرمائے،ان کی قربانیوں سے جو درس ملتا ہے اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے دلوں کو ان کی محبت سے سرشار فرما دے۔آمین
[1] بخاری،3/13،حدیث:3983
[2] تفسیرخازن،4/240
[3] ابن ماجہ،4/ 508،حدیث:4281
[4] بخاری،3/ 13،حدیث:3983
[5] مراۃ المناجیح،8/567


Comments