شرح شجرہ قادریہ، رضویہ، ضیائیہ،عطاریہ(قسط:07)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:شرح شجرۂ قادریہ،رضویہ،ضیائیہ،عطاریہ(قسط 7)

7

بو الفرح کا صدقہ کر غم کو فرح دے حسن و سعد

بو الحسن اور بو سعید سعد زا کا واسطے

مشکل الفاظ کے معنی:فرح:خوشی/ مسرت۔حسن:خوبصورتی /  بھلائی۔سعد:نیک بختی۔

مفہومِ شعر:اے اللہ!تجھے حضرت ابو الفرح رحمۃ اللہ علیہ کا واسطہ؛میرے رنج و غم کو خوشیوں میں بدل دے اور حضرت ابو الحسن رحمۃ اللہ علیہ   کے وسیلے سے میرا ظاہر و باطن اچھا کر دے اور حضرت ابو سعید مبارک مخزومی رحمۃ اللہ علیہ   کے وسیلے سے مجھے نیک بخت و سعادت مند بنا دے۔

شرح:اس شعر میں سلسلۂ عالیہ قادریہ عطاریہ کے چودھویں، پندرہویں اور سولہویں مشائخ حضرت ابو الفرح شیخ محمد یوسف طرطوسی،ابو الحسن علی ہکاری اور ابو سعید مخزومی   رحمۃ اللہ علیہم کے وسیلے اور ان بزرگوں کی کنیت کی مناسبت سے دعا مانگی گئی ہے۔جیسے حضرت ابو الفرح کے وسیلے سے فرح یعنی خوشی طلب کی گئی ہے،اسی طرح حضرت ابو الحسن اور ابو سعید کے وسیلے سے بھلائی اور نیک بختی طلب کی گئی ہے۔ان تینوں بزرگوں کا مختصر تعارف پیشِ خدمت ہے:

حضرت ابو الفرح شیخ محمد یوسف طرطوسی:

آپ کا نام یوسف اور کنیت ابو الفرح ہے،طرطوس شہر میں پیدا ہوئے اور یہیں 3 شعبان المعظم 447ھ کو وصال فرمایا،مزار شریف بھی اسی شہر میں ہے۔آپ حضرت ابوالفضل عبدالواحد تمیمی رحمۃ اللہ علیہ کے جلیل القدر مرید و خلیفہ ہیں۔آپ نہایت عبادت گزار ، اللہ پاک پر کامل بھروسا کرنے والے اور اپنے وقت کے عظیم اولیائے کرام میں سے تھے۔

حضرت ابوالحسن علی بن محمد ہکاری:

آپ کا نام علی اور کنیت ابو الحسن ہے۔آپ نے اپنی پوری زندگی اشاعتِ اسلام میں گزاری،یوں آپ کا لقب شیخ الاسلام پڑ گیا۔آپ کو علمِ حدیث و فقہ میں بہت مہارت حاصل تھی۔آپ کثرت سے عبادت و ریاضت کرنے والے،علم و حلم والے،دن کو روزہ رکھنے اور رات کو قیام کرنے والے تھے۔آپ کے شوقِ عبادت کا یہ عالم تھا کہ عشا کے بعد کلامِ الٰہی کی تلاوت شروع کرتے اور نمازِ تہجد سے پہلے دو قرآن ختم فرمالیتے۔([1])آپ 409 ھ میں بغداد شریف کے قصبہ ہکّار میں پیدا ہوئے،پہلی محرم الحرام 436 ھ کو یہیں پر وصال فرمایا اور یہیں آپ کا مزار ہے۔

حضرت ابو سعید مبارک مخزومی:

آپ کا نام مبارک بن علی، کنیت ابو سعید اور بغداد کے قبیلے کی نسبت سے مخزومی لقب سے مشہور ہوئے۔آپ نے ممتاز علما و مشائخ سے علومِ دینیہ حاصل کر کے حدیث،فقہ اور علمِ معقولات و منقولات میں مہارت حاصل کی۔آپ بغداد شریف کے مشہور صوفی، فقیہ، شیخ الاسلام،بزرگ ترین امام اور ظاہری و باطنی علوم کے جامع تھے۔زہد و تقویٰ کی وجہ سے سلطان الاولیاء کہلائے۔حنبلی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔حضور غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ سے خرقۂ خلافت پہنا۔آپ کی ولادت بغداد شریف میں ہوئی اور وفات 7 شعبان شریف 513ھ کو ہوئی،مزار مبارک بغداد شریف میں ہے۔اللہ پاک ان بزرگوں پر  کروڑوں رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے، ان کے وسیلے سے  ہمارے غموں کو دور فرما کر ہمیں خوشیاں، خیر و بھلایاں اور سعادت  مندی نصیب فرمائے۔ آمین

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* کراچی



[1] تذکرہ ٔمشائخِ قادریہ رضویہ،ص 234 تا 241 ماخوذاً


Share