موضوع:ہمارا انتخاب رضائے ربِّ کائنات
اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صِدّیقہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں:جب یہ آیت
وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪- (پ 18، النور: 31)
(ترجمہ:اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
نازل ہوئی تو عورتوں نے اپنی تہبند کی چادروں کو کناروں سے پارہ پارہ کیا اور اُن سے اپنے چہرے ڈھانپے۔([1])
سبحان اللہ!ہماری بزرگ خواتین کا حکمِ الٰہی پر عمل کا جذبہ بھی کیا ہی خوب تھا۔یاد رکھیے!عورت پر نا محرموں سے پردہ کرنا فرض ہے اور اصل مذہب کے مطابق عورت کے لئے سوائے چہرے کی ٹکلی،ہتھیلی اور ٹخنے کے نیچے پاؤں کہ جسے ظاہرِ زینت کہا جاتا ہے تمام جسم کا اجنبی سے چھپانا ضروری ہے اور مُتَأَ خِّرین کے نزدیک اجنبی مرد سے یہ تین اعضاء بھی چھپائے جائیں گے۔([2])مگر اس پُر فتن دور میں بغیر ضرورت عورت کا غیر محرم کے سامنے چہرہ کھولنا منع ہے،اسی طرح غیر محرم کا اس کی طرف دیکھنا بھی جائز نہیں۔مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے حکم پر سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے فوراً لبیک کہے اور اس پر عمل کرے،جیسا کہ مذکورہ واقعے سے واضح ہے۔مگر افسوس کہ آج ہم اللہ پاک کو راضی کرنے والے کاموں کو ترجیح دینے کے بجائے نفس و شیطان کی پیروی اور دنیاوی رسم و رواج کی دوڑ میں لگ گئی ہیں۔پردے کے معاملے میں بھی یہی صورت حال ہے؛ کبھی لوگوں کی باتوں،ماحول یا مذاق کے خوف سے پیچھے ہٹ جاتی ہیں،کبھی یہ سوچ مانع بنتی ہے کہ پہلے پردہ نہیں کیا تو لوگ کیا کہیں گے،یا رشتے اور دیگر معاملات متاثر ہوں گے۔حالانکہ یہ سب ہماری کم ہمتی اور اللہ پاک پر بھروسے کی کمی کا نتیجہ ہے۔ حقیقت میں اکثر رکاوٹ ہماری اپنی نفسانی خواہشات ہی ہوتی ہیں،جو زینت ظاہر کرنے پر آمادہ کرتی ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی رکاوٹوں کے باوجود پردہ کیسے کیا جائے؟چنانچہ سب سے پہلے ضرورت ہے پکے ارادے کی:یہ عزم کہ مجھے بے پردگی کے گناہ سے بچنا ہے اور حکمِ شریعت کے مطابق اسلامی پردہ اپنانا ہے۔لوگوں کی رائے ہمیشہ مختلف ہوگی اور سب کو خوش کرنا ممکن نہیں۔اگر بے پردہ رہیں تو با حیا طبقے میں حوصلہ شکنی ہوگی اور اگر اسلامی پردہ اختیار کریں تو دین سے بیزار لوگ آپ کو دقیانوسی یا تنگ نظر کہیں گے اور کچھ مذاق بھی اُڑائیں گے۔یہ آپ پر منحصر ہے کہ کس طبقے کی پسند کو اہمیت دیتی ہیں۔یاد رکھیے!موت کسی بھی وقت آ سکتی ہے۔اگر ارادہ مضبوط اور اعتماد پکا ہو تو لوگوں کے رویے کا اثر کم ہو جائے گا۔فی زمانہ بہت سی خواتین انہی حالات میں پردہ کرتے ہوئے بھی اپنے تمام امور کامیابی سے انجام دے رہی ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ ذہن مضبوط بنایا جائے،نفس و شیطان سے مقابلہ کیا جائے اور اسلامی پردہ سمیت تمام احکاماتِ الہٰیہ پر عمل کی طرف توجہ دی جائے۔
بالفرض اگر کچھ دنیاوی نقصان ہو بھی جائے تو فکر نہ کیجیے،بس آخرت کا نقصان نہ ہو۔حدیثِ مبارک میں ہے:جو اپنی دنیا سے محبت کرتا ہے،وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو اپنی آخرت سے محبت کرتا ہے،وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے۔([3])اس لئے فنا ہونے والی دنیا پر باقی رہنے والی آخرت کو ترجیح دیجیے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ملیر کراچی
Comments