خواتین دین کا کام کیسے کریں؟
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


اہم نوٹ!ان صفحات میں ماہنامہ خواتین کے 47ویں تحریری مقابلے میں موصول ہونے والے 230 مضامین کی تفصیل یہ ہے:


عنوان

تعداد

عنوان

تعداد

عنوان

تعداد

حضور   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اصحابِ بدر سے محبت

92

سب کے سامنے سمجھانے کے نقصانات

83

خواتین دین کا کام کیسے کریں ؟

55

مضمون بھیجنے والیوں کے نام

حضور   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اصحابِ بدر سے محبت:

بہاولپور:یزمان:بنت محمد یانس۔حیدر آباد:لطیف آباد8:بنت سید جاوید اقبال۔خوشاب:جوہر آباد:بنت محمد الیاس۔راولپنڈی: نیو افضل ٹاؤن:بنت عاطف۔ساہیوال:طارق بن زیاد کالونی:بنت شفقت علی۔سیالکوٹ:پاکپورہ:بنت عبداللہ،بنت لیاقت علی،بنت محمد نعیم،بنت محمد منیر،بنت محمد یونس،بنت محمد نواز،بنت عبد القیوم، اختِ اسد ،بنت وسیم حسین،ہمشیرہ محمد حسیب،بنت اصغر علی۔تلواڑہ مغلاں:بنت محمد طارق محمود،بنت عارف حسین،بنت محمد جمیل،بنت جاوید،خوشبوئے مدینہ،بنت احمد رضا،بنت نصیر احمد،بنت طارق،بنت جاوید آصف،اخت حسین،اخت ابراہیم،اخت اسد،بنت سائیں ملنگا،بنت خالد حسین،بنت ندیم۔شفیع کا بھٹہ:بنت کرامت علی،بنت جعفر حسین،بنت محمد آصف اقبال،بنت عرفان،بنت محمد شاہد،بنت رزاق بٹ،بنت سید حسنین آصف شاہ،بنت عارف محمود،بنت کاشف شیراز،بنت سلیم،بنت رحمت،بنت ہمایوں،ہمشیرہ حضر علی،بنت سید عاشق حسین شاہ،بنت اصغر،بنت اشفاق احمد،بنت محمد شاہد،ہمشیرہ نوید علی،بنت محمد اشفاق۔گلبہار:بنت محمد شہباز،بنت ریاض۔مظفرپورہ:بنت محمد شہباز،بنت محمد طارق،ام سلمی،بنت عمران،بنت اعظم۔معراج کے:بنت ریاض احمد،بنت محمد اسلم،بنت رضا حسین،بنت محمد بوٹا،بنت غلام عباس،بنت محمد ادریس،بنت ذوالفقار علی،بنت نصیر احمد۔میانہ پورہ:بنت الیاس،بنت قمر شمس،بنت محمد جمیل،بنت منور،بنت محمد عمران،بنت  عتیق،بنت اعظم مبین،بنت سہیل،بنت محمد عمران،اخت حمزہ عمران۔ نندپور:بنت محمد سلیم،بنت محمد الیاس،بنت ندیم،بنت ہدایت اللہ،بنت عبدالستار۔نواں پنڈ: آرائیاں:بنت سلامت علی،بنت اختر،بنت شمس ۔شیخوپورہ: مانا نوالہ:بنت گوہر علی۔کراچی:ام نور۔علی شاہ بخاری:بنت ارشاد احمد۔فیضان آمنہ:بنت رحمت علی۔فیضان رضا:بنت محمد اسماعیل۔فیضان عطار:ہمشیرہ احمد رضا۔ گلشن معمار:بنت محمد اکرم۔گجرات:کنگ سہالی:بنت زبیر احمد۔گوجرانوالہ: کامونکی:بنت محمد رمضان۔لاہور: کرباٹھ گاؤں:بنت عابد علی۔

سب کے سامنے سمجھانے کے نقصانات:

بہاولپور:یزمان:بنت محمد یونس۔حیدر آباد:لطیف آباد 8:بنت شکیل احمد،ہمشیرہ سید قوسین حیدر،خوشاب:جوہر آباد:بنت امتیاز حسین۔راولپنڈی:اڈیالہ:بنت غلام حسین شاکر۔ساہیوال:طارق بن زیاد:بنت شفقت علی۔سیالکوٹ:پاکپورہ:بنت محمد انور حسین،بنت سید رضوان علی،بنت مظہر جلیل،بنت محمد منیر،بنت محمد طاہر جمیل،بنت شفاقت علی،بنت محمد عمران،بنت احمد رضا،بنت اصغر،بنت شاہد،بنت سلیم،بنت نوید حسین،بنت شمشاد علی، ہمشیرہ دانیال۔تلواڑہ مغلاں:بنت محمد انور،بنت رزاق احمد،بنت محمد اعجاز احمد،بنت بشارت علی،بنت جاوید آصف،بنت محمد شکور،اخت عبد الاحد،بنت انور۔ سید پور:بنت امجد علی۔شفیع کا بھٹہ:ہمشیرہ حنظلہ صابر،بنت ذوالفقار انور،بنت محمد نواز،بنت سرور،بنت محمد اکرام،بنت محمد اشفاق،بنت محمد امین،بنت عرفان،ہمشیرہ حامد،بنت عبدالحمید،بنت محمد اصغر مغل،بنت عثمان علی،بنت جعفر حسین،بنت عبدالرزاق،بنت ارشد،بنت ندیم جاوید۔ گلبہار:ام ہلال،بنت حافظ محمد الیاس، بنت محمد شہباز۔مظفرپورہ:بنت محمد طارق،ام سلمی،بنت حافظ محمد شبیر،بنت اظہر اقبال۔معراج کے:بنت محمد جاوید،بنت محمد اشرف، بنت محمد رفیق۔میانہ پورہ: بنت الیاس،بنت قمر شمس،بنت منور،بنت محمد جمیل،بنت محمد عمران،بنت عتیق،بنت اعظم مبین،بنت محمد عمران،بنت سہیل۔ نندپور:بنت ہدایت اللہ،بنت ندیم،بنت افتخار احمد،بنت عبدالستار۔نواں پنڈ: آرائیاں:بنت محمد منیر،بنت اختر،بنت محمد زمان،بنت شمس ،بنت عبدالرؤف۔فیصل آباد: 137 روڈ سمندری: بنت محمد اشرف۔چباں:بنت ارشد محمود۔کراچی:پی آئی بی کالونی:بنت علی محمد۔فیضان رضا:بنت ساجد علی۔فیضان عطار:بنت اسماعیل۔فیض مدینہ:بنت طفیل الرحمان ہاشمی۔کوئٹہ:مسلم ٹاؤن:بنت احمد دین۔گوجرانوالہ:ضلع کامونکی:بنت محمد رمضان۔لاہور:جوہر ٹاؤن:بنت منصور۔نارووال:بنت محمد جاوید،بنت انور منظور۔ عرب: بحرین:بنت مقصود ۔

خواتین دین کا کام کیسے کریں ؟

حیدر آباد:لطیف آباد 8:بنت سکندر خاور۔ساہیوال:طارق بن زیاد کالونی:بنت شفقت علی۔سیالکوٹ:پاکپورہ:بنت اظہر، اختِ اسد ، بنت کاشف منیر،بنت محمد ناظم،بنت ذیشان،بنت محمد طفیل۔تلواڑہ مغلاں:بنت جاوید سرور،بنت شفیق،بنت عبدالستار،بنت بشارت علی،بنت عدنان یوسف، بنت مطہر محمود،بنت محمد آصف،بنت فیصل مجید،بنت خلیل تبسم،بنت رضا مصطفی۔چوبارہ:بنت سلامت علی۔شفیع کا بھٹہ:بنت صغیر احمد،ہمشیرہ محمد منیب،بنت محمد سلیم،بنت سعید،بنت عرفان،بنت محمد جمیل،بنت محمد شریف،ہمشیرہ عمر جٹ،بنت محمد طارق۔معراج کے:بنت محمد ذوالفقار،بنت منیر حسین، بنت طاہر حسین،بنت محمد ادریس۔میانہ پورہ:بنت الیاس،بنت قمر شمس،بنت منور،بنت محمد جمیل،بنت محمد عمران،بنت عتیق،بنت اعظم مبین،بنت محمد عمران، بنت سہیل،اخت حمزہ عمران۔نندپور:بنت ندیم،بنت ہدایت اللہ،بنت عبدالستار۔نواں پنڈ:آرائیاں:بنت اختر،بنت شاہد ،بنت شمس۔قصور: چونیاں الہ آباد:بنت اختر،بنت انور ۔گجرات:بنت غلام غوث۔گوجرانوالہ:کامونکی:بنت محمد رمضان۔لاہور:بربنس  پورہ:بنت افضل۔جوہر ٹاؤن:بنت منصور۔ نواب شاہ: بہار شریعت:بنت محمد آصف اقبال۔عرب شریف: جدہ:بنت اسلم ۔


محترمہ بنتِ منصور مدنیہ عطاریہ (فرسٹ پوزیشن)

(معلمہ:جامعۃ المدینہ ای ون جوہر ٹاؤن لاہور)

ارشادِ خداوندی ہے:

وَ  لْتَكُنْ  مِّنْكُمْ  اُمَّةٌ  یَّدْعُوْنَ  اِلَى  الْخَیْرِ  وَ  یَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  یَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِؕ-وَ  اُولٰٓىٕكَ  هُمُ  الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۴) (پ 4،ال عمرٰن:104)

ترجمہ:اور تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بری بات سے منع کریں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اسی طرح سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس ذات کی قسم!جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے،تم ضرور نیکی کا حکم دیتے رہنا اور بُرائی سے منع کرتے رہنا،ورنہ قریب ہے کہ اللہ پاک تم پر اپنا عذاب نازل فرمائے،پھر تم اس کی بارگاہ میں دعا کرو گے لیکن تمہاری دعا قبول نہیں کی جائے گی۔([1]) اسی طرح قرآن و احادیث میں نیکی کی دعوت و دین کی خدمت کی ترغیب و تاکید کے متعلق کئی فضائل آئے ہیں۔

امیر ہو یا غریب،حاکم ہو یا محکوم،چھوٹا ہو یا بڑا،بادشاہ ہو یا غلام،مرد ہو یا عورت ہر ایک کو اپنی طاقت و قوت کے مطابق نیکی کی دعوت عام کرنی چاہیے۔خواتین بھی دین کی خدمت  میں اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کر سکتی ہیں۔اس کے مختلف انداز ہو سکتے ہیں،مثلاً:

علمِ دین سیکھ کر عمل کے ذریعے:

جب خواتین علمِ دین سے واقف ہوں گی تو دوسروں کو اپنے عمل کے ذریعے ترغیب دلا سکیں گی۔نیز  دوسروں کو دینی مسائل سکھا کر،یا ایسے ادارے کی طرف راہ نمائی کر کے بھی دین کا کام کرسکتی ہیں جو دین کی دعوت دیتا ہو،جیسے جامعۃ المدینہ و مدرسۃ المدینہ کی طرف راہ نمائی کرنا وغیرہ۔

بیانات کے ذریعے:

اس انداز میں کہ خود مبلغہ بن کر دینی و اصلاحی موضوعات پر بیانات کرنا یا دوسروں کو دعوتِ اسلامی کے اجتماعات میں شرکت کی دعوت دینا یا اپنے گھر کے محارم، اپنے بالغ بچوں کو مدنی قافلے،مدنی مذاکرے وغیرہ میں بھیجنا یہ سب خدمتِ دین کے ذرائع ہیں۔علاوہ ازیں خواتین گھر درس دے کر بھی خدمتِ دین کر سکتی ہیں۔

مالی تعاون کے ذریعے:

اسی طرح دین کے کاموں میں اپنا مال خرچ کر کے بھی خواتین دین کی خدمت کر سکتی ہیں۔

بچوں کی اچھی تربیت کے ذریعے:

ماں اولاد کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔لہٰذا ایک عورت  اپنے بچوں کی دین کے احکامات کے مطابق اچھی تربیت کرے تاکہ بچہ بڑا ہو کر دین دار بنے تو یہ بھی دین کی خدمت ہے۔

تحریری کام کے ذریعے:

خواتین کا اپنے علم و مطالعہ کی روشنی میں صحیح اور مستند ترغیبی و اصلاحی لٹریچر لکھنا جس سے کسی کو ترغیب ملے،یوں بھی  دین کی خدمت کی جا سکتی ہے،اس کا ایک بہترین ذریعہ ماہنامہ خواتین(ویب ایڈیشن)کا سلسلہ  تحریری مقابلہ  بھی ہے جس کے تحت کئی اسلامی بہنیں مختلف موضوعات پر محنت و کوشش کر کے مضامین لکھتی رہتی ہیں۔

کتب و رسائل پیش کرنے کے ذریعے:

دوسری  خواتین،محلہ دار،دوست احباب رشتہ دار وغیرہ کو دینی کتب و رسائل پیش کر کے،پڑھنے کی ترغیب دلا کر بھی دین کی خدمت کر سکتی ہیں۔

الغرض اچھی نیت کے ساتھ دوسروں کو بیان کے لئے تیار کرنا،عمل کی ترغیب دلانا،شرعی مسئلے کی طرف یا ایسوں کی جانب راہ نمائی کرنا جو مسائل حل کر سکیں یہ بھی خدمتِ دین  ہی ہے۔اللہ پاک ہمین بھی دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

محترمہ بنتِ ذیشان عطاریہ

(طالبہ:درجۂ رابعہ،جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ)

اسلام نے عورت کو نہایت باعزت مقام عطا فرمایا ہے۔ دین کی خدمت صرف مردوں تک محدود نہیں بلکہ خواتین بھی اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے دینی خدمات انجام دے سکتی ہیں۔قرآن و حدیث میں اس کی واضح راہ نمائی موجود ہے۔ارشادِ الٰہی ہے:

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ(پ10،توبہ:71)

ترجمہ: اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ مرد و  عورت دونوں کے لئے ہے۔اسی طرح فرمایا:

لَاۤ  اُضِیْعُ  عَمَلَ  عَامِلٍ  مِّنْكُمْ  مِّنْ  ذَكَرٍ  اَوْ  اُنْثٰىۚ- (پ 4،الِ عمرٰن:195)

ترجمہ:میں تم میں سے عمل کرنے والوں کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا وہ مرد ہو یا عورت۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے زمانے میں خواتین نے دین کی خدمت کے مختلف شعبوں میں حصہ لیا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا علمِ دین کی زبردست معلمہ تھیں۔بڑے بڑے صحابہ کرام آپ سے احادیث سیکھتے تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین علم حاصل کر کے اسے آگے پہنچا سکتی ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔([2])

یہ فضیلت عورتوں کے لئے بھی ہے۔لہٰذا خواتین قرآن کی تعلیم حاصل کر کے اپنے گھروں،بچیوں اور دیگر عورتوں کو سکھا سکتی ہیں۔گھر ہی سے دینی حلقے،دروسِ قرآن اور سیرت النبی کی محافل منعقد کی جا سکتی ہیں۔

اسی طرح حیا اور پردہ کے ساتھ دین کی دعوت دینا بھی اہم ہے۔اللہ پاک نے فرمایا:

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى (پ22،الاحزاب:33)

ترجمہ:اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے پہلی جاہلیت کی بے پردگی۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت کی روشنی میں خواتین کو چاہیے کہ وہ پردے اور شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے دین کا کام کریں۔سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی احتیاط ضروری ہے؛ پیغامِ دین پہنچاتے وقت آواز،لباس اور انداز میں حیا و وقار ہونا چاہیے۔

ایک روایت میں ہے:تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا۔([3])چنانچہ عورت گھر کی نگہبان ہے،لہٰذا سب سے پہلے اپنی اولاد کی صحیح اسلامی تربیت کرے۔بچوں کو نماز،قرآن اور اچھے اخلاق سکھانا بھی بہت بڑا دینی کام ہے۔ایک نیک ماں پوری قوم کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔مزید یہ کہ خواتین صدقہ و خیرات،بیماروں کی عیادت،دینی کتب کی اشاعت میں تعاون اور ضرورت مند بہنوں کی مدد جیسے کام بھی کر سکتی ہیں۔اخلاص،صبر اور حسنِ اخلاق کے ساتھ کیا گیا ہر نیک عمل دین کی خدمت ہے۔

خلاصہ یہ کہ خواتین علم حاصل کریں،پردے کا اہتمام کریں،اپنی اصلاح کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کی کوشش کریں،اولاد کی تربیت پر توجہ دیں اور حکمت و نرمی کے ساتھ دعوتِ دین کا کام کریں۔اللہ پاک ہمیں اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین



[1] ترمذی،4/69،حدیث:2176

[2] بخاری،3/410،حدیث:5027

[3] مسلم،ص 784،حدیث:4724


Share