موضوع:چچی اور تائی کا کردار
نکاح کے بندھن میں بندھنے کے بعد عورت ایک ہی وقت میں بیوی،بہو،بھابھی کا کردار نبھانے کے ساتھ ساتھ چچی یا تائی کا کردار(Role)بھی ادا کرتی ہے۔چچا کی شادی کا انتظار کرنے والے بچے آنے والی دلہن کو چچی،چاچی یا آنٹی کہہ کر پکارتے ہیں۔تائی بھی حقیقت میں چچی ہی ہوتی ہے،لیکن رتبے کی بلندی نے اس کے لئے تائی کے لقب کو بہترین خیال کیا۔
چچا سے فرمائشیں کرنے والے،محبت و شفقت بھرے انداز کے طلب گار بچے؛چچی اور تائی سے بھی کچھ نہ کچھ توقعات رکھتے ہیں۔
چچی اور تائی خاندان کے ایسے ستون ہیں جو نہ صرف گھریلو ماحول کو سنوارنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں بلکہ نسلوں کی تربیت میں بھی خاموش مگر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں،مگر افسوس! ہمارے معاشرے میں ان کرداروں کو منفی انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔چنانچہ معاشرے میں چچی اور تائی کے مثبت کردار کو جاننے کی کوشش کرتی ہیں:
بچوں کی پرورش:
ایک ہی گھر کی بہو ہونے کے ناطے چچی اور تائی کو چاہیے کہ گھر کے بچوں کی تعلیم و تربیت میں اپنا کردار ادا کریں،انہیں دین کی بنیادی باتیں سکھائیں،درست پڑھانا آتا ہو تو قرآنِ کریم کی تعلیم دیں،ان کی ضروریات کا خیال رکھیں،ماں کا کردار ادا کرتے ہوئے ان کے ساتھ نرمی اور مہربانی سے پیش آئیں،خصوصاً جب بچے اپنی حقیقی ماں سے اس کے انتقال یا والدین میں جدائی وغیرہ کے سبب دور ہوں،جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی چچی جان حضرت فاطمہ بنتِ اسد رضی اللہ عنہ ا کی سیرتِ طیبہ میں اس حوالے سے بہترین راہ نمائی موجود ہے۔آپ کے وصال پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تشریف لائے اور ارشاد فرمایا:اللہ پاک آپ پر رحم فرمائے!میری والدہ محترمہ کے بعد آپ میری ماں تھیں،خود بھوکی رہتیں مجھے کھلاتیں،خود پرانے کپڑوں میں گزارا کرتیں مجھے نئے کپڑے پہناتیں،اچھے کھانے خود نہ کھاتیں بلکہ مجھے کھلاتیں صرف اس نیت سے کہ اللہ پاک کی رضا اور آخرت کی کامیابی حاصل ہو۔([1])
حسنِ سلوک کے حق دار:
قرآنِ کریم کی سورۂ نساء میں دور و نزدیک کے پڑوسی،یہاں تک کہ پاس بیٹھنے والے ساتھی کے ساتھ بھی احسان کا حکم دیا گیا ہے،لہٰذا گھر کے بچے بھی حقِ جوار و صحبت کے حق دار ہوئے۔نیز شوہر کے بھائی کی اولاد سے اچھا برتاؤ کرنا شوہر کی خوشنودی کا بھی سبب ہے،مزید یہ کہ خیر خواہی تو ہر مسلمان سے کرنی چاہیے کہ حدیث پاک کے مطابق مسلمان کا دل اپنے مسلمان بھائیوں کی خیرخواہی میں کبھی خیانت نہیں کرتا۔([2]) خود نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنی چچی کے حُسنِ سلوک کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:یہ ابو طالب کے بعد اللہ پاک کی مخلوق میں سب سے بڑھ کر مجھ سے نیک سلوک کرنے والی تھیں۔([3])
اسی طرح آقائے کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ایک اور چچی حضرت ام الفضل رضی اللہ عنہ ا حضور کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ ا کے وصال پر انہیں غسل دینے میں شریک تھیں۔([4]) نیز نواسۂ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو بھی آپ کی گود میں دیا گیا تھا۔([5])ان واقعات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی چچی حضرت ام الفضل کا حضور کے خاندان کے ساتھ محبت بھرے تعلق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
حُسنِ سلوک کی صورتیں:
چچی اور تائی کے بچوں کے ساتھ حُسنِ سلوک کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں:مثلاً:
* بچوں کی پسندیدہ ڈشز بنا کر انہیں کھلائیے*ان کا کوئی کام ہو تو وہ کردیجیے*عید،سالگرہ کے مواقع پر تحائف کا تبادلہ کیجیے*دکھ اور پریشانی کے مواقع پر بچوں کا ساتھ دیجیے اور صبر کی تلقین کیجیے* اگر بچے دور رہتے ہوں تو ان کے آنے پر ناک بھوں چڑھانے کے بجائے خندہ پیشانی سے استقبال کیجیے اور خوب مہمان نوازی کا اہتمام کیجیے*بچے چچا یا تایا سے کوئی بات منوانا چاہتے ہوں اور کوئی رکاوٹ نہ ہو تو بچوں کے حق میں سفارش کر دیجیے وغیرہ۔
افسوس!ہمارے معاشرے میں اس کے برعکس صورتحال دیکھنے میں آتی ہے۔چچا کا اپنے بھتیجوں اور بھتیجیوں سے پیار کرنا چچی تائی کو ایک آنکھ نہیں بھاتا۔چچا انہیں کوئی تحفہ دلانا چاہے تو چچی تائی طرح طرح کے حیلے بہانوں کے ذریعے روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔چچا کو بچوں سے دور کرتی ہیں،اس گمانِ فاسد میں کہ پیار تقسیم ہوجائے گا اور میرے بچے رہ جائیں گے حالانکہ محبت ایسی چیز ہے جو تقسیم کرنے سے بڑھتی ہے اور دوسروں کا بھلا چاہنے سے اپنا بھی بھلا ہی ہوتا ہے۔اللہ پاک عقلِ سلیم عطا فرمائے۔آمین
خاندانوں میں محبت:
چچی تائی دو بھائیوں کے خاندانوں میں محبت کے رشتے مضبوط اور آپس میں جوڑے رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔بچے چچی تائی سے سیکھتے ہیں لہٰذا چچی اور تائی ان کے دلوں میں ددھیال کی محبت پیدا کریں۔اپنی اولاد کو بھی صلہ رحمی کا درس دیتے ہوئے انہیں رشتوں کی پہچان کروائیں اور شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے چچازاد اور تایا زاد بھائی بہنوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تلقین کرتی رہیں۔ بچوں کی لڑائی ہو جانے کی صورت میں ان میں صلح کروائیں اور معاف کرنے کا ذہن دیں۔
خبردار!بچوں کی لڑائی کے نتیجے میں بڑوں میں لڑائی نہ ہونے پائے۔عموماً بچے تو لڑائی کر کے بھول جاتے ہیں اور بڑے آپس میں دشمنیاں پال لیتے ہیں،ایسا ہرگز نہ کیجئے۔
بےجا سختی سے پرہیز:
بچے پیار چاہتے ہیں۔بےجا روک ٹوک انہیں باغی اور ضدی بنا دیتی ہے۔ہر گھر میں چچی تائی کی بات سنی جاتی ہو؛ضروری نہیں۔اس لئے چچی اور تائی گھر میں اپنی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے ضرورت پڑنے پر ایک حد تک ہی بچوں کو سمجھائیں۔جس قدر ممکن ہو شفقت بھرے انداز میں ہی بچوں کی غلطی کی نشاندہی کریں۔خود سمجھانے پر قادر نہ ہونے کی صورت میں ضرورتاً بچوں کی والدہ کی توجہ دلا دیں کہ بچے اپنی ماں کی بات کسی دوسرے کے مقابلے میں اچھے انداز میں سمجھ لیتے ہیں۔
نیز چچی اور تائی بچوں کے رہن سہن،اٹھنے بیٹھنے،لباس وغیرہ پر بےجا تنقید کرنے سے بھی بچیں کہ اس طرح اپنی اہمیت کھو دینے اور دلوں میں نفرتیں پیدا ہونے کا پورا پورا اندیشہ ہے۔
ضروری احتیاط!
شوہر کے بھتیجے عورت کے حق میں نامحرم ہیں۔بالغ ہوجانے پر ان سے پردہ کرنا شرعاً لازم ہے۔نیز چچازاد اور تایازاد بھائی بہن بھی آپس میں اجنبی (جس سے نکاح ہمیشہ کے لئے حرام نہ ہو) کے حکم میں ہیں اور آپس میں پردہ لازم ہے۔چچی اور تائی خود بھی پردے کے متعلق شرعی حکم کی پاسداری کریں اور اپنے بچوں کو بھی نامحرم کزنز سے دور رکھیں۔اللہ پاک ہمیں شریعت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے رشتے داروں کے ساتھ حُسنِ سلوک کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* جامعۃ المدینہ گرلز صدر راولپنڈی
[1] معجم کبیر،24/351،حدیث:871
[2] مشکاۃ المصابیح،1/64،حدیث:228 ملخصاً
[3] معجم اوسط،5/165،حدیث:6935
[4] امتاع الاسماع،6/30
[5] سوانح کربلا،ص 105
Comments