ممانی کا کردار
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:ممانی کا کردار

بچوں کے لیے ننھیالی رشتوں میں بہت ہی قریب اور اہم ترین رشتہ ماموں کا ہوتا ہے،ہمارے ہاں عمومی معاشرتی رجحان کے مطابق بچے ددھیال سے زیادہ ننھیال کی جانب کھنچتے ہیں۔ ماں کا بچے کو چاند بھی چندا ماموں کہہ کر دکھانا غیر محسوس طریقے سے بچے کو ننھیالی رشتوں کی طرف مائل کر دیتا ہے۔اسی رشتے کی بنیاد پر ماموں کی بیوی یعنی ممانی/مامی بھی بچوں کے لیے خاصی اہمیت رکھتی ہے۔بچوں کا ماموں کے ساتھ ساتھ ممانی کی طرف بھی لگاؤ بڑھ جاتا ہے۔اب اس لگاؤ کو برقرار رکھنا یا ٹھیس پہنچانا ممانی کے ہی ہاتھ میں ہوتا ہے،کیونکہ ممانی بچوں کے حق میں ممانی ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی والدہ (یعنی اپنی نند) کے ساتھ بھابھی ہونے کا کڑا رشتہ بھی نبھا رہی ہوتی ہے۔گویا کہ ممانی صرف ماموں کی شریکِ حیات نہیں ہوتی بلکہ وہ بچوں کے لیے مجازی ماں،نندوں کے لیے بہن اور خاندان کے لیے محبت و آہنگی کا پُل بن جاتی ہے۔چنانچہ خاندان میں ممانی کے کردار کا جائزہ پیشِ خدمت ہے:

گھریلو انتظامات:

ننھیال میں نانا نانی ہی بزرگ ہوتے ہیں۔جوں جوں ان کی عمر بڑھتی جاتی ہے،گھر کے انتظامات ماموں اور ممانی کے ہاتھ آ جاتے ہیں۔گویا کہ بچے اب اپنے نانا نانی کے گھر آنے کے بجائے ماموں ممانی کے گھر آتے ہیں۔یہاں ممانی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نانا نانی کی اپنے نواسے نواسیوں کے ساتھ محبت و شفقت اور احسان و بھلائی کی روایت کو باقی رکھے۔بچے یہ فرق محسوس نہ کریں کہ اب ہمیں ویسا پیار نہیں ملتا یا اب ہماری پہلے جیسی آؤ بھگت نہیں ہوتی۔

یونہی ان کی والدہ کے ساتھ بھی بہنوں والا سلوک رکھے (تفصیل کے لئے قسط ”بھابھی کا کردار“ ملاحظہ کیجئے) اسی طرح لین دین کے معاملے میں بھی حسبِ استطاعت خرچ کیجیے۔

مالی تفاوت:

عمومی طور پر بھائی بہن کے مالی حالات ایک سے نہیں ہوتے۔کبھی بہن اچھے گھرانے میں چلی جاتی ہے تو کبھی بھائی عیش کر رہا ہوتا ہے۔ممانی کو چاہیے کہ دونوں صورتوں میں بچوں کے ساتھ متوازن سلوک رکھے۔بسااوقات مالی لحاظ سے مضبوط ہونے کے گھمنڈ میں ممانی کا سلوک بچوں کے ساتھ ناروا ہو جاتا ہے۔ بات چیت،ملنے جلنے میں متکبرانہ انداز کی بو آ رہی ہوتی ہے۔ یونہی اگر ایک سے زائد نندیں ہوں اور ان میں مالی تفاوت ہو تو امیر بچوں کی پیسے کی وجہ سے تو خوشامد کی جاتی ہے جبکہ غریب بچوں کو کوئی گھاس بھی نہیں ڈالتا۔حالانکہ دین اسلام میں فضیلت کا معیار مال و دولت،رنگ و نسل نہیں بلکہ تقویٰ ہے۔لہٰذا ممانی کو چاہیے کہ نہ تو خود مغرورانہ اور خوشامدانہ روش اختیار کرے اور نہ ہی اپنے بچوں کو اختیار کرنے دے۔نیز خاندان کا اہم فرد ہونے اور بچوں کی اٹیچ منٹ (Attachment) کی بنا پر ممانی بچوں کے لئے رول ماڈل ہوتی ہے۔ممانی کو چاہیے کہ بچوں کے ساتھ محبت و اعتماد کی فضا قائم رکھتے ہوئے ان کی تعلیم و تربیت میں اپنا حصہ ملائے۔خوشی،غمی میں ساتھ دے۔ضرورت پڑنے پر اپنے تجربات کی روشنی میں اچھا مشورہ بھی دے۔بے جا سختی سے گریز کرے۔نیز اپنی اولاد میں بھی پھوپھی اور ان کے بچوں کی محبت و دیعت کرے۔

توجہ:

ممانی اور شوہر کے بھتیجے باہم اجنبی ہیں۔اسی طرح ماموں زاد بھائی،بہن کا بھی ایک دوسرے سے پردہ ہے۔اس حکم کو لازمی،  لازمی اور  لازمی مدِّ نظر رکھا جائے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* صدر   راولپنڈی


Share