موضوع:حضرت شمویل علیہ السلام کے معجزات و عجائبات
حضرت شمویل علیہ السّلام کی بعثت ایک ایسے مبارک دور میں ہوئی جو دو عظیم انبیائے کرام؛حضرت موسیٰ علیہ السّلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے درمیان واقع ہے۔مفسرینِ کرام فرماتے ہیں کہ اس طویل عرصے میں ہزاروں انبیائے کرام تشریف لائے،جو سب کے سب شریعتِ موسوی کے مطابق لوگوں کی راہ نمائی کرتے اور تورات کے احکام کی تبلیغ فرماتے رہے،یہاں تک کہ اللہ پاک نے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو نئی شریعت عطا فرما کر مبعوث فرمایا۔([1]) انہی جلیل القدر انبیائے کرام میں حضرت شمویل علیہ السّلام بھی ہیں،جن کی بعثت ترتیبِ زمانی کے لحاظ سے حضرت یوشع بن نون علیہ السّلام کے بعد اور حضرت داود علیہ السّلام سے پہلے ہوئی۔یوں آپ کا زمانہ ہدایت کے اس نورانی تسلسل کا ایک اہم باب ہے،جس نے بنی اسرائیل کی دینی و روحانی راہ نمائی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
آپ کا نام شَموِیل ہے جوکہ اصل میں اشمویل تھا،کثرتِ استعمال کی وجہ سے شمویل رہ گیا۔عبرانی زبان میں اس کا معنی وہی ہے جو اسماعیل کا ہے،یعنی اے خدا میری سن لے!([2]) عبرانی زبان میں اشمو کا معنی سن اور ایل کا معنی اللہ ہے۔آپ کی ولادت سے پہلے آپ کی والدہ دعا کرتی تھیں:اشمویل یعنی اے اللہ سن لے!تو جب آپ کی پیدائش ہوئی تو آپ کا یہی نام رکھ دیا گیا ۔ ([3])
بنی اسرائیل کی عملی بدحالی اور ان پر قومِ عمالقہ کا تسلط
بنی اسرائیل میں مدتوں سے ایک منظم نظام رائج تھا جس کے تحت دو الگ مگر باہم مربوط ذمہ داریاں قائم تھیں:ایک طرف بادشاہ ہوتا جو ملک کے انتظام اور سیاسی امور سنبھالتا اور دوسری طرف نبی ہوتا جو دینی معاملات اور شریعت کی راہ نمائی فرماتا۔بادشاہت کا منصب حضرت یعقوب علیہ السّلام کے بیٹے یہودا کی نسل کے ساتھ خاص رہا،جن میں حضرت داود اور حضرت سلیمان علیہما السّلام جیسے جلیل القدر بادشاہ گزرے۔جبکہ نبوت کا سلسلہ حضرت یعقوب علیہ السّلام کے دوسرے بیٹے لاوی کی اولاد میں جاری رہا،جن میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السّلام جیسی عظیم المرتبت ہستیاں تشریف لائیں۔([4])
حضرت موسیٰ اور حضرت یوشع علیہما السّلام کے بعد جب بنی اسرائیل کی دینی و اخلاقی حالت بگڑنے لگی تو ان میں اعتقادی و عملی فساد عام ہوگیا۔وہ توحید کی خالص تعلیم کو فراموش کر بیٹھے، دین سے انحراف اختیار کیا اور اپنی طرف سے طرح طرح کی بدعتیں ایجاد کر لیں۔نتیجتاً وہ شرک و بت پرستی جیسے سنگین گناہوں میں مبتلا ہوگئے۔اس سرکشی اور نافرمانی کے سبب اللہ پاک نے ان پر اپنی ناراضی کا اظہار فرمایا اور ان میں نبوت کا سلسلہ موقوف کر کے ان کے دشمن جالوت اور اس کی قوم عمالقہ کو ان پر مسلط کر دیا،جو مصر اور فلسطین کے درمیان کے علاقوں میں آباد تھے۔
جالوت اور اس کی قوم نے بنی اسرائیل کے کئی شہر فتح کر لیے، ان کے معزز افراد کو قتل کیا،بہت سوں کو قیدی بنا لیا اور ان پر جزیہ بھی عائد کر دیا۔مزید یہ کہ جب بنی اسرائیل میدانِ تیہ سے نکلے تو تابوتِ سکینہ ان کے پاس تھا،جسے جالوت نے ان سے چھین لیا تھا۔یہ تمام مصیبتیں در اصل ان کی نافرمانیوں اور گناہوں کا نتیجہ تھیں۔اللہ پاک کا یہی دستور ہے کہ جب کوئی قوم اعتقادی و عملی طور پر بگڑ جاتی ہے تو اس پر ظالم قوموں کو مسلط کر دیا جاتا ہے۔قرآنِ کریم میں ایسے واقعات محض تاریخ بیان کرنے کے لیے نہیں بلکہ عبرت و نصیحت حاصل کرنے کے لیے ذکر کیے جاتے ہیں۔([5])
حضرت شمویل کی ولادت و پرورش اور بعثت
قومِ عمالقہ کے ظلم و ستم کے اس دور میں ان کے درمیان کوئی نبی یا بادشاہ موجود نہ تھا،جو انہیں اس بھنور سے نکالنے کی تدبیر کرتا۔خا ندانِ نبوت کے سب لوگ وفات پاچکے تھے صرف ایک عورت حاملہ تھی،جس کی دعا کا ذکر پیچھے گزرا،اس کے یہاں حضرت شمویل کی ولادت ہوئی۔جب آپ بڑے ہوئے تو توریت کا علم سیکھنے کے لیے آپ کو بیت المقدس میں ایک بزرگ عالم کے سپرد کردیا گیا،یہ نیک بزرگ آپ پر بہت مہربان تھے اور آپ پر بڑی شفقت کرتے تھے۔ایک رات آپ انہی بزرگ کے پاس آرام فرما رہے تھے کہ جبریلِ امین علیہ السّلام نے آپ کو ان بزرگ کی آواز میں”یا اشمویل“ کہہ کر پکارا،آپ عالم صاحب کے پاس گئے اور کہا کہ کیا آپ نے مجھے آواز دی ہے؟انہوں نے یہ سوچ کر کہ انکار کرنے سے کہیں ڈر نہ جائیں!یہ کہہ دیا:تم سو جاؤ!آپ سوئے تو پھر دوبارہ جبریلِ امین نے ویسی ہی آواز دی، آپ نے آکر بزرگ سے پوچھا تو انہوں نے کہا:اب اگر میں آواز دوں تو تم کوئی جواب نہ دینا!تیسری مرتبہ حضرت جبریل ظاہر ہوگئے اور بشارت دی کہ اللہ پاک نے آپ کو نبوت کا منصب عطا فرما دیا ہے،لہٰذا اپنی قوم کے پاس جا کر ان تک رب کے احکام پہنچائیں۔([6])
اعلانِ نبوت اور قوم کا مطالبہ
پیچھے گزر چکا ہے کہ بنی اسرائیل میں نبوت لاوی بن یعقوب کی نسل سے جاری تھی اور بادشاہت یہودا بن یعقوب کی نسل سے چلی آرہی تھی،بنی اسرائیل کی بدعملیوں کی وجہ سے یہ سلسلہ رک گیا تھا،گو کہ حضرت شمویل علیہ السّلام کے منصبِ نبوت پر فائز ہونے کے بعد نبی کی کمی پوری ہوگئی تھی،تاہم بادشاہت کا منصب خالی تھا،لہٰذا حضرت شمویل نے جب قوم کے سامنے اپنی نبوت کا اظہار فرمایا تو انہوں نے ماننے کے لیے یہ شرط رکھی کہ اگر آپ اپنے دعوی میں سچے ہیں تو ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کردیں جس کی قیادت میں ہم قومِ عمالقہ سے جہاد کریں، حضرت شمویل نے فرمایا:دیکھ لو!کہیں ایسا نہ ہو کہ تم جہاد کرنے سے انکار کردو؟انہوں نے کہا کہ ہمیں ہمارے گھروں سے نکالا گیا ہے،ہماری اولا کو قیدی بنایا گیا ہے،پھر ہم کیوں نہ جہاد کریں گے!ہم ضرور اللہ پاک کی راہ میں لڑیں گے۔پھر جب حضرت شمویل علیہ السّلام کی درخواست پر ان پر بادشاہ مقرر کر دیا گیا اور جہاد کا حکم دیا گیا تو وہی ہوا جس کا اندیشہ اللہ پاک کے نبی نے ظاہر فرمایا تھا،چنانچہ بنی اسرائیل کی بہت معمولی تعداد جہاد کے لیے تیار ہوئی جبکہ بقیہ نے منہ موڑ لیا۔
حضرت شمویل کی درخواست پر بنی اسرائیل کے لیے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا گیا تھا،اس کا انتخاب یوں ہوا کہ حضرت شمویل کو ایک عصا دیا گیا اور بتایا گیا کہ جس کا قد اس عصا کے برابر ہو وہی تمہاری قوم کا بادشاہ ہوگا۔لوگوں کی پیمائش کی گئی تو طالوت کا قد اس کے برابر نکلا،حضرت شمویل نے فرمایا کہ میں اللہ پاک کے حکم کے مطابق طالوت کو تم پر بادشاہ مقرر کرتا ہوں۔چونکہ اس سے قبل بادشاہت یہود بن یعقوب کی اولاد سے چلتی تھی اور طالوت اس خاندان سے نہیں تھے،لہٰذا قوم کے سرداروں نے کہا کہ یہ تو اس خاندان سے نہیں نیز یہ ایک غریب آدمی ہے اس سے زیادہ تو ہم بادشاہت کے حق دار ہیں!
(باقی اگلی قسط میں)
[1] تفسیر خازن،1/68 ملخصاً -تفسیر نعیمی،1/466 ملخصاً
[2] تفسیر کبیر،2/502 مفہوماً
[3] البدایہ و النہایہ،1/450 ماخوذاً- تذکرۃ الانبیاء،ص 431
[4] تفسیر کبیر،2/504-عجائب القرآن مع غرائب القرآن،ص 59 ملخصاً
[5] تفسیر خازن،1/186 ملخصاً -سیرت الانبیاء،ص 660 ملخصاً
[6] تفسیر خازن،1/186
Comments