شرح شجرہ قادریہ، رضویہ، ضیائیہ،عطاریہ(قسط:08)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:شرح شجرۂ قادریہ،رضویہ،ضیائیہ،عطاریہ(قسط 8)

8

قادری کر قادری رکھ قادریوں میں اٹھا

قدر عبد القادر قدرت نما کے واسطے

مشکل الفاظ:قدر:عزت۔قدرت نما:قدرت ظاہر کرنے والا۔

مفہومِ شعر:اے اللہ!تجھے تیری قدرت کے مظہر یعنی حضور غوثِ پاک کی قدر و منزلت کا واسطہ!مجھے قادری بنا،پھر اس سلسلے پر ثابت قدم رکھ اور بروزِ حشر میرا انجام انہی کے ساتھ کرنا۔

شرح:اس شعر میں سلسلۂ عالیہ قادریہ رضویہ عطاریہ کے سترہویں بزرگ شیخِ طریقت حضور غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانی  رحمۃ اللہ علیہ  کے وسیلے سے دعا مانگی گئی ہے۔آپ کے نام پاک عبدالقادر کو اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ لفظی مناسبت ہو جائے،اگر قادری کے ساتھ آپ کا لقب غوثِ اعظم ذکر کیا جاتا تو لفظ مختلف ہو جاتا۔امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ اس شعر کی شرح میں فرماتےہیں:اے اللہ!شیخ عبدالقادر جیلانی  رحمۃ اللہ علیہ  کی قدر و عزت کا تجھے واسطہ دیتے ہیں جو کہ تیری قدرت کے مظہر ہیں،ہمیں قادری کر،قادری رکھ یعنی ہمیں قادریت پر استقامت دے،ہم قادریت پر باقی بھی رہیں اور قیامت کےدن ہم قادریوں کے گروہ میں اٹھیں۔

یاد رکھیے!بندےکی قدرت محدود ہوتی ہے اور اللہ پاک کی عطا سے ہوتی ہے جبکہ اللہ پاک کی قدرت خود بخود اور لامحدود ہے لہٰذا بندے کے لیے لفظِ قدرت بولنےمیں کوئی حرج نہیں بلکہ عام بول چال میں بولتے بھی ہیں کہ فلاں بڑا قادر الکلام ہے یعنی بولنے پر اس کی بڑی گرفت ہے،اسی طرح کسی کو بولتے ہیں کہ اس کو اپنے فن پر بڑی قدرت حاصل ہے اس کا مطلب خدا کی قدرت کا انکار یا اس کا مقابلہ ہرگز نہیں ہوتا بلکہ اس کی عطا کردہ قدرت مراد ہوتی ہے۔([1])

شیخ عبد القادر جیلانی پہلی رمضان  470 ھ جمعۃ المبارک کو گیلان میں پیدا ہوئے۔آپ کی کنیت ابو محمد ہے اور محی الدین اور غوثِ اعظم کے القاب سے مشہور ہیں۔آپ کے والد ابو صالح موسیٰ جنگی دوست اور والدہ ام الخیر فاطمہ ہیں۔آپ حسنی حسینی سید ہیں۔آپ کی وفات 11 ربیع الثانی 561 ھ میں 51 سال کی عمر میں بغداد شریف میں ہوئی۔آپ کا مزار مبارک بغداد شریف میں ہے۔آپ سلطان الاولیاء،قطب المشائخ اور پیرانِ پیر ہیں۔ آپ کا قدم  تمام اولیائے کرام کی گردنوں پر ہے۔آپ کو  ربِّ کریم نے یہ طاقت و قدرت عطا فرمائی تھی کہ آپ اپنی نگاہِ ولایت سے پوشیدہ (چھپی ہوئی) چیزوں کو بھی دیکھ لیا کرتے۔اللہ پاک نے آپ کو نورِ فراست سے نوازا تھا۔آپ خود فرماتے ہیں:اے لوگو!تمہارا ظاہر و باطن میرے سامنے آئینہ ہے،اگر شریعت کی روک میری زبان پر نہ ہوتی تو میں تم کو بتاتا کہ جو تم کھاتے ہو اور اور گھروں میں جمع کرتے ہو۔([2])

آپ کے اخلاق و عادات،اخلاقِ مصطفوی کا نمونہ تھے۔ آپ کثرت سے رونے والے،خدا ترس،مہربان،بردبار اور سچے تھے؛کبھی اپنے لیے غصہ نہ فرماتے،ہاں!رب کی نافرمانی کے معاملے میں بڑے سخت تھے،مکاشفہ آپ کی غذا اور مشاہدہ آپ کی شفا تھی،آدابِ شریعت آپ کا ظاہر اور اوصافِ حقیقت آپ کا باطن تھا۔اللہ پاک ہمیں حضور غوثِ پاک  رحمۃ اللہ علیہ کے در کی سچی غلامی نصیب فرمائے۔اسی غلامی میں مریں اور اسی غلامی میں قیامت کے دن اٹھائی جائیں۔

اٰمین بجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* کراچی



[1] مدنی مذاکرہ،11 اکتوبر 2025ء مطابق 18 ربیع الآخر 1447ھ

[2] بہجۃ الاسرار،ص 55


Share