نِکاح میں تاخیر کے نقصانات
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع: نکاح میں تاخیر کے نقصانات

حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ رسولِ پاک  صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے فرمایا:جب تمہیں کوئی ایسا شخص پیغامِ نکاح دے جس کی دین داری اور اس کے اخلاق تم کو پسند ہوں تو اس سے(اپنی بچی یا بہن وغیرہ کا)نکاح کر دو۔اگر یہ نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور لمبا چوڑا فساد ہو جائے گا۔([1])

شرحِ حدیث

مراد یہ ہے کہ جب مناسب رشتہ مل جائے تو نکاح میں تاخیر نہ کی جائے۔مفتی احمد یار خان نعیمی  رحمۃ اللہ علیہ  اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:جب تمہاری لڑکی کے لئے دیندار عادات و اطوار کا درست لڑکا مل جائے تو محض مال کی ہوس میں اور لکھ پتی کے انتظار میں جوان لڑکی کے نکاح میں دیر نہ کرو، اس لئے کہ اگر مالدار کے انتظار میں لڑکیوں کے نکاح نہ کیے گئے تو ادھر تو لڑکیاں بہت کنواری بیٹھی رہیں گی اور ادھر لڑکے بہت سے بے شادی رہیں گے جس سے زنا پھیلے گا اور زنا کی وجہ سے لڑکی والوں کو عار و ننگ ہو گی،نتیجہ یہ ہو گا کہ خاندان آپس میں لڑیں گے،قتل و غارت ہوں گے،جس کا آج کل ظہور ہونے لگا ہے۔([2])

یاد رہے! نکاح نہ صرف نفسانی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ ہے بلکہ یہ ایک اہم عبادت اور سنتِ انبیا بھی ہے۔نیز نسلِ انسانی کا باقی رہنا بھی اسی سے وابستہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ نکاح کے دینی و دنیاوی کثیر فوائد کے پیشِ نظر پیارے آقا  صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے قدرت رکھنے کے باوجود نکاح نہ کرنے کو ناپسند فرمایا اور ارشاد فرمایا:اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِیْ فَمَنْ لَمْ یَعْمَلْ بِسُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ یعنی نکاح میری سنت ہے تو جس نے میری سنت پر عمل نہ کیا وہ مجھ سے نہیں ۔([3])    بلکہ ایک روایت کے مطابق حضور شادی کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور(بلا وجہ) شادی نہ کرنے سے سختی سے منع فرمایا کرتے تھے۔([4])

نکاح کے فوائد:

نکاح ایمان کے تحفظ کا ذریعہ ہے،نکاح سے نگاہوں اور شرمگاہ کی حفاظت ہوتی ہے، بدکاری کا دروازہ بند رہتا ہے، نکاح سے سوچ و فکر کو پاکیزگی ملتی ہے، عبادت میں دل لگانے میں مدد ملتی ہے،نکاح حصولِ اولاد کا ذریعہ ہے، ہمارے پیارے آقا  صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم بروزِ قیامت اپنی اُمّت کی کثرت کے سبب دوسری اُمتوں پر فخر فرمائیں گے، نکاح منظم معاشرے کے استحکام اور پاکیزہ خاندانی نظام کی تشکیل کا ذریعہ ہے،نکاح معاشرے کو فحاشی و بدکاری سے بچا کر امن و سکون فراہم کرتا ہے،نکاح مختلف خاندانوں اور قبیلوں کو آپس میں جوڑتا ہے جس سے امن و امان کی فضا قائم ہوتی اور رشتوں میں محبت و احترام کا احساس پیدا ہوتا ہے،نکاح کے ذریعے مرد و عورت میں احساسِ ذمہ داری پیدا ہوتا ہے  اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ رشتہ انسان کو ذہنی و قلبی سکون فراہم کرتا ہے یوں وہ اپنی مذہبی،اخلاقی،معاشرتی ہر طرح کی ذمہ داری کو بخوبی ادا کرنے پر قادر ہوتا ہے۔

بچے بالغ ہو جائیں تو ان کی شادی کر دیجیے:

اسلام میں بچوں اور بچیوں کا مناسب رشتہ ملنے پر جلد شادی کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ ہے:جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اُسے چاہئے کہ اُس کا اچھا نام رکھے اور اس کی اچھی تربیت کرے اور جب وہ بالغ ہو تو اس کی شادی کر دے۔([5])

نکاح میں تاخیر کی وجوہات:

موجودہ دور فتنوں خصوصاً سوشل میڈیا کے اثرات کا دور ہے جس نے اخلاقیات کو شدید متاثر کیا ہے، اس لیے فرمانِ مصطفےٰ کے مطابق نکاح میں تاخیر کے بجائے بروقت شادی کی ضرورت ہے، مگر افسوس!معاملہ بالکل الٹ ہے۔ چنانچہ لڑکیوں کی شادی میں تاخیر کی چند عام وجوہات یہ ہیں:

معاشی عدم توازن اور غیر ضروری توقعات:

اگرچہ شرعاً نکاح کے لیے لڑکے کا مہر، نفقہ اور رہائش پر قادر ہونا کافی ہے، مگر عملاً لڑکی والوں کی طرف سے مستحکم آمدنی، ذاتی گھر، اعلیٰ معیارِ زندگی جیسی اضافی شرائط لگائی جاتی ہیں،جس سے مناسب رشتے بھی مؤخر ہو جاتے ہیں۔حالانکہ اللہ پاک نے نکاح کے ساتھ رزق میں وسعت کا وعدہ فرمایا ہے۔

تعلیم اور کیریئر کی ترجیح:

اکثر لڑکیوں کی شادی اس وجہ سے بھی مؤخر کی جاتی ہے کہ وہ پہلے اعلیٰ تعلیم مکمل کریں،کیریئر بنائیں یا مالی طور پر خودمختار ہو جائیں۔اگرچہ تعلیم اہم ہے، لیکن بعض اوقات یہی ترجیح مناسب وقت نکل جانے کا سبب بن جاتی ہے۔

رسومات، جہیز اور سماجی دباؤ:

فی زمانہ شادی کو سادگی کے بجائے ایک نمائشی تقریب بنا دیا گیا ہے۔بھاری جہیز،مہنگی تقریبات اور غیر ضروری رسمیں لڑکی والوں پر بوجھ ڈالتی ہیں،جس کی وجہ سے وہ شادی میں تاخیر کرتے رہتے ہیں۔حالانکہ شریعت میں آسان نکاح کو ہی باعثِ برکت قرار دیا گیا ہے۔

معیار (اسٹیٹس) اور غیر حقیقی توقعات:

خاندانوں کی طرف سے اپنے معیار کا سخت تصور مثلاً مخصوص ذات، معاشی حیثیت، پیشہ یا بیرونِ ملک قیام بھی رکاوٹ بنتا ہے۔بعض اوقات بہترین دینی و اخلاقی رشتے صرف اس وجہ سے رد کر دیئے جاتے ہیں کہ وہ ظاہری معیار پر پورے نہیں اترتے۔

والدین کی حد سے زیادہ چھان بین یا تاخیر:

بعض گھرانوں میں لڑکی کے لیے رشتہ طے کرنے میں غیر معمولی تاخیر کی جاتی ہے، ہر چھوٹی بات پر انکار کر دیا جاتا ہے، یا  اس سے بہتر کے انتظار میں وقت گزرتا رہتا ہے، جس سے عمر بڑھتی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا اور مثالی زندگی کا تصور:

موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے شادی کے بارے میں غیر حقیقی توقعات پیدا کر دی ہیں جیسے پرفیکٹ لائف پارٹنر، لگژری لائف اسٹائل جس کی وجہ سے حقیقی اور مناسب رشتے کم تر محسوس ہونے لگتے ہیں۔

خاندانی ذمہ داریاں:

کئی لڑکیوں کی شادی اس لیے مؤخر ہو جاتی ہے کہ وہ گھر کے معاملات سنبھال رہی ہوتی ہیں، چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ بھال یا والدین کی خدمت ان کے ذمے ہوتی ہے  اور والدین بھی اسی وجہ سے جلدی فیصلہ نہیں کرتے۔

دینی ترجیحات کا کمزور ہونا:

جب نکاح کو ایک دینی فریضہ کے بجائے محض سماجی معاملہ سمجھ لیا جائے تو اس میں غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں، اور اصل معیار دین اور اخلاق پسِ پشت چلا جاتا ہے۔

نکاح میں تاخیر کے نقصانات

*انسان میں فطری نفسانی خواہش موجود ہے جس کا حلال ذریعہ نکاح ہے، اس میں تاخیر زنا و بدکاری کے خطرات بڑھا دیتی ہے۔ *تاخیر سے مناسب رشتہ مشکل ہو جاتا ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ خوبصورتی و صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔* بڑھتی عمر خصوصاً عورت میں اولاد کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔*نکاح میں تاخیر سے عادات و کردار اور احساسِ ذمہ داری بھی متاثر ہوتے ہیں۔*اس سے خاندانی و معاشرتی نظام میں بھی خلل آتا ہے۔ لہٰذا والدین کی ذمہ داری ہے کہ اولاد کے قابل ہوتے ہی نکاح کر دیں تاکہ وہ گناہوں سے محفوظ رہیں، ورنہ کوتاہی کی صورت میں وبال ان پر بھی آ سکتا ہے، جیسا کہ حضور نے تنبیہ فرمائی۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شعبہ ٹیچر ٹریننگ ڈیپارٹمنٹ مجلس جامعۃ المدینہ گرلز



[1] ترمذی،2/344،حدیث:1086

[2] مراۃ المناجیح، 5/8 ملتقطاً

[3] ابن ماجہ،2/ 406 ،حديث:1846

[4] مسند امام احمد،20/63، حدیث :12613

[5] شعب الایمان،6/401 ، حدیث: 8666


Share