پیر اور شبِ پیر کی عبادات
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:پیر اور شبِ پیر کی عبادات

پیر کا دن اسلامی اعتبار سے نہایت بابرکت ہے،کیونکہ یہ حضور کی ولادتِ مبارکہ کا دن ہے۔اس مناسبت سے یہ دن شکر،عبادت اور اطاعتِ رسول کا تقاضا کرتا ہے۔اس دن فرائض کے ساتھ درود شریف،ذکرِ الٰہی،تلاوتِ قرآن، نوافل، استغفار اور صدقہ و خیرات کا اہتمام کرنا چاہیے۔

قربان اے دو شنبہ تجھ پر ہزار جمعے

وہ فضل تو نے پایا صبحِ شبِ ولادت

اس دن کی عظمت اس کی مبارک نسبتوں سے ظاہر ہے: حضرت ادریس  علیہ السّلام  کو پیر کے دن آسمان پر اٹھایا گیا، حضرت موسیٰ  علیہ السّلام  کوہِ طور پر گئے،پہلی وحی کے لیے حضرت جبرئیل  علیہ السّلام  اسی دن حاضر ہوئے اور امت کے اعمال بھی پیر کو حضور نبی کریم   صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم   کی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں۔نیز حضور کی ولادت،ہجرت،مدینہ میں تشریف آوری،غزوۂ بدر کی فتح،نزولِ سورۂ مائدہ،حجرِ اسود کی تنصیب اور وصالِ مبارک بھی پیر کے دن ہی ہوا،([1])جس سے اس دن کی خصوصی برکت و  فضیلت نمایاں ہوتی ہے۔

پیر شریف کو حضور سے نسبت کی وجہ سے خصوصی شرف حاصل ہے،لہٰذا اس دن کو عبادت اور شکر میں گزارنا چاہیے۔ اگر ممکن ہو تو پیر کا روزہ رکھا جائے،کیونکہ یہ سنت ہے۔ حضرت ابو قتادہ انصاری  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ جب بارگاہِ رسالت میں پیر کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو حضور نے فرمایا کہ اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی ۔ ([2])  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیر کے دن دنیا کو دو عظیم نعمتیں ملیں:حضور کی تشریف آوری اور نزولِ وحی کی ابتدا۔یہی وجہ ہے کہ اس دن روزہ رکھنا باعثِ فضیلت ہے۔اس حدیث سے یہ اصول بھی واضح ہوتا ہے کہ زمان و مکان کو اہم واقعات کے سبب فضیلت حاصل ہوتی ہے اور حضور کی ولادت اللہ پاک کی عظیم نعمت ہے۔

نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ اہم دینی واقعات کی یاد عبادت کے ذریعے منانا سنت سے ثابت ہے،بشرطیکہ اس میں لہو و لعب نہ ہو بلکہ ذکر و عبادت ہو۔اسی لیے اہلِ سنت کے ہاں میلاد شریف، معراج اور دیگر مبارک ایام کو عبادت کے ساتھ منانے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔دینی حلقوں میں پیر شریف کے روزے کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ حضور کی ولادت کے شکرانے کا اہتمام کیا جا سکے،جو نہایت بابرکت عمل ہے۔

پیر کے دن کی فضیلت محض ایک تاریخی نسبت تک محدود نہیں بلکہ عبادات اور مغفرت کے اعتبار سے بھی نہایت اہم ہے۔جیسا کہ ایک روایت کا مفہوم ہے کہ پیر اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور ہر اس شخص کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو شرک سے بچتا ہو،البتہ!دو لوگ محروم رہتے ہیں جن کے دلوں میں باہمی کینہ ہو،جب تک وہ صلح نہ کر لیں۔([3]) نیز احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیر اور جمعرات کو(اللہ پاک کی بارگاہ میں)بندوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں،([4]) اسی لیے حضور ان دنوں روزہ رکھنا پسند فرماتے تھے تاکہ آپ کا عمل حالتِ صیام میں پیش ہو۔جیسا کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ   رضی اللہ عنہا  سے مروی ہے کہ حضور پیر اور جمعرات کے روزوں کا خاص خیال رکھتے تھے۔([5]) حضور کا چونکہ یہ معمول تھا کہ آپ ان دنوں کے روزوں کا خاص اہتمام فرماتے،چنانچہ یہ عمل صرف حضور تک محدود نہ رہا بلکہ صحابہ و صحابیات نے بھی اس سنت کو اپنایا،یہاں تک کہ حضرت اسامہ بن زید  رضی اللہ عنہ  کے متعلق مروی ہے کہ حضور کی پیر اور جمعرات کے روزوں کی پابندی فرمانے والی سنت پر عمل کرتے ہوئے وہ بھی ان روزوں کا اہتمام کرتے تھے یہاں تک کہ بڑھاپے میں بھی انہوں نے اس سنت پر عمل کو نہ چھوڑا۔([6]) اسی طرح حضور کی چچی جان بی بی امِّ فضل   رضی اللہ عنہا  کا بھی معمول تھا کہ وہ ہر پیر اور جمعرات کو روزہ رکھتی تھیں۔([7])

ان تمام روایات کا حاصل یہ ہے کہ پیر کا دن عبادت،روزہ اور باطنی اصلاح کا خاص موقع ہے۔اس دن نہ صرف اعمال بارگاہِ خداوندی میں پیش ہوتے ہیں بلکہ مغفرت کے دروازے بھی کھول دیئے جاتے ہیں،اس لیے اس دن روزہ رکھنا،بغض و کینہ سے بچنا اور اپنے اعمال کی اصلاح کرنا انتہائی اہم اور باعثِ سعادت ہے۔

پیر  شریف کے نوافل

پیر کے دن سے متعلق چند اعمال پیشِ خدمت ہیں:

پیر کے دن کے نوافل:

حديثِ پاک میں ہے:جو بروز پیر سورج بلند ہوتے وقت دو رکعتیں ادا کرے،ہر رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ،ایک بار آیۃ الکرسی،ایک بار سورۂ اخلاص اور ایک ایک بار مُعَوَّذَتَیْن(سورۂ فلق و ناس)پڑھے،پھر سلام پھیر کر دس بار استغفار کرے اور دس بار مجھ پر درودِ پاک پڑھے تو اللہ پاک اس کے تمام گناہ معاف فرما دے گا۔([8])

پیر کی رات کے نوافل:

جو پیر کی رات چار رکعت نماز پڑھے،پہلی رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ اور 10 بار سورۂ اخلاص پڑھے، دوسری رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ اور  20 بار سورۂ اخلاص پڑھے، تیسری رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ اور  30 بار سورۂ اخلاص پڑھے،چوتھی رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ اور  40 بار سورۂ اخلاص پڑھے،پھر سلام پھیر کر 75 بار سورۂ اخلاص پڑھے،پھر اپنے اور اپنے والدین کے لئے 75 بار استغفار کرے،پھر اللہ پاک سے اپنی حاجت طلب کرے تو اللہ پاک کے ذمۂ کرم پر ہے کہ اس کی حاجت پوری فرما دے۔([9])

پیر کی رات جو دو رکعت نماز پڑھے،ہر رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ،15 بار سورۂ اخلاص اور 15،15بار مُعَوَّذَتَیْن(سورۂ فلق و ناس) پڑھے اور سلام پھیرنے کے بعد 15 بار آیۃالکرسی پڑھے اور  15 بار اللہ پاک سے استغفار کرے تو اس کے لئے عظیم ثواب اور بڑا اجر ہے۔([10])

فرشتے استقبال کریں گے:

حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا:جو بروز پیر بارہ رکعتیں پڑھے، ہر رکعت میں ایک بار سورۂ فاتحہ اور آیۃ الکرسی پڑھے،سلام پھیرنے کے بعد 12 بار سورۂ اخلاص پڑھے اور 12 بار استغفار کرے تو بروزِ قیامت پکارا جائے گا:فلاں بن فلاں کہاں ہے؟ وہ کھڑا ہو اور اللہ پاک سے اپنا ثواب لے لے۔چنانچہ بطورِ ثواب اسے پہلے ہزار حُلّے اور تاج عطا  کئے جائیں گے اور کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جا۔پس ایک لاکھ فرشتے ایک لاکھ تحفوں سے اس کا استقبال کریں گے اور اسے تحفے پیش کریں گے یہاں تک کہ وہ نور سے بنے ہوئے ہزار محلات پر جائے گا جو جگمگا رہے ہوں گے۔([11]) اللہ پاک ہمیں پیر سمیت ہر دن اپنی رضا کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین    صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* شعبہ ذمہ دار ماہنامہ خواتین



[1]معجم کبیر،12/183،حدیث:12984

[2]مسلم،ص455،حدیث:2750

[3]مسلم،ص1065،حدیث:6544

[4]ابو داود،2/477،حدیث:2436

[5]ترمذی،2/186،حدیث:745

[6]فضائل الاوقات،ص141،رقم:334

[7]طبقات ابن سعد،8/217

[8]احیاء علوم الدین،1 / 266

[9]احیاء علوم الدین،1 / 268

[10]اتحاف السادۃ،3/630

[11]قوت القلوب،1/53


Share