اسمائے قرآنِ کریم
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:اسمائے قرآنِ کریم

جہاں تک قرآنِ کریم کے ناموں کا تعلق ہے تو وہ اس کتاب کی عظمت،اس کے بلند مرتبے،اللہ پاک  اور اہلِ ایمان کے نزدیک اس کے بلند مقام پر واضح دلالت کرتے ہیں۔کیونکہ کسی چیز کے ناموں کی کثرت اس کے مُسَمّٰی(وہ وجود جس پر کسی خاص نام کو پکارا جاتا ہو اس)کی شرافت یا کسی معاملے میں اس کے کمال پر دلالت کرتی ہے۔

اسمائے قرآن کی حکمت

قرآنِ کریم کے مختلف ناموں میں کئی حکمتیں ہیں،مثلاً:

*قرآن کی عظمت کو ظاہر کرنا۔

*اس کی مختلف صفات کو بیان کرنا۔

*انسان کو قرآن کے مختلف پہلوؤں سے متعارف کروانا۔

*قرآن کی ہدایت اور جامعیت کو واضح کرنا۔

اسمائے قرآن کی تعداد

تفسیر کبیر میں قرآنِ کریم کے 32 نام ذکر کئے گئے ہیں جو کہ قرآنِ کریم میں ہی مذکور ہیں اور وہ یہ ہیں:(1) کتاب (2) قرآن(3)فرقان(4)ذکر(5)تنزیل(6)حدیث(7) موعظہ (8)حکم،حکمۃ،حکیم(9)شفاء(10)ھُدیٰ(11) صراطِ مستقیم (12)حبل(13)رحمۃ(14)روح(15) قصص(16) بیان (17)بصائر(18)فصل(19)  نجوم (20) مثانی(21)نعمۃ (22)برہان(23)بشیر و نذیر(24)قیِّم(25)مُھَیمِنُ(26) ہادی(27)نور(28)حق(29)عزیز (30)  کریم(31)عظیم (32)مبارک۔([1])

ان مبارک اسمائے قرآن میں سے چند ناموں کی مختصر وضاحت ذکر کی جاتی ہے۔

قرآن:

لفظ قرآن یا تو  قَرَءَ سے بنا ہے یا قِرَاءَۃ سے یا قرن سے۔قرء کے معنی جمع ہونے کے ہیں۔قرآن کو قرآن اس لئے کہتے ہیں کہ یہ سارے اولین و آخرین کے علوم کا مجموعہ ہے۔دین و دنیا کا کوئی ایسا علم نہیں جو قرآن میں نہ ہو۔اسی لئے حق تعالیٰ نے خود فرمایا کہ

وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ (پ14،النحل:89)

(ترجمہ: اور ہم نے تم پر  یہ قرآن اتارا جوہر چیز کا روشن بیان ہے۔)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

نیز یہ سورتوں اور آیتوں کا مجموعہ ہے،یہ تمام بکھرے لوگوں کو جمع کرنے والا ہے۔دیکھو ہندی،سندھی،عربی،عجمی لوگ، ان کے لباس،طعام،زبان،طریقِ زندگی سب الگ الگ،کوئی صورت نہ تھی کہ اللہ کریم کے یہ بکھرے ہوئے بندے جمع ہوتے،لیکن قرآنِ کریم نے ان سب کو جمع فرمایا اور ان کا نام رکھا مسلمان۔خود فرمایا:

سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ ﳔ (پ17،الحج:78)

(ترجمہ: اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اگر یہ قراءۃ سے بنا ہے تو اس کے معنی ہیں پڑھی ہوئی چیز۔ تو اب اس کو قرآن اس لئے کہتے ہیں کہ اور انبیائے کرام کو کتابیں یا صحیفے حق تعالی کی طرف سے لکھے ہوئے عطا فرمائے گئے لیکن قرآنِ کریم پڑھاہوا اترا۔

 نیز جس قدر قرآنِ کریم پڑھا گیا اور پڑھا جاتا ہے اس قدر کوئی دینی و دنیوی کتاب دنیا میں نہیں پڑھی گئی کیونکہ جو آدمی کوئی کتاب بناتا ہے وہ تھوڑے سے لوگوں کے پاس پہنچتی ہے اور وہ بھی ایک آدھ بار پڑھتے ہیں اور پھر کچھ زمانے بعد ختم ہو جاتی ہے۔اسی طرح پہلے آسمانی کتابیں بھی خاص خاص جماعتوں کے پاس آئیں اور کچھ دنوں رہ کر پہلے تو بگڑیں اور پھر ختم ہو گئیں لیکن قرآنِ کریم کی شان ہے کہ سارے عالم کی طرف آیا،ساری خدائی میں پہنچا،سب نے پڑھا  اور بار بار پڑھا مگر دل نہ بھرا۔اکیلے پڑھا،جماعتوں کے ساتھ پڑھا۔لطف کی بات یہ ہے کہ اسے مسلمان نے بھی پڑھا اور کفار نے بھی۔

اگر یہ قرن سے بنا ہے تو قرآن کے معنی ہیں:ملنا اور ساتھ رہنا۔اب اس کو قرآن اس لئے کہتے ہیں کہ حق و ہدایت اس کے ساتھ،نیز اس کی سورتیں اور آیتیں ہر ایک بعض بعض کے ساتھ ہیں،کوئی کسی کے مخالف نہیں نیز اس میں عقائد اور اعمال اور اعمال میں اخلاق،سیاسیات،عبادات،معاملات تمام ایک ساتھ جمع ہیں نیز یہ ہر وقت مسلمان کے ساتھ رہتا ہے، دل کے ساتھ،خیال کے ساتھ،ظاہری اعضا کے ساتھ۔اس کو مسلمان بنایا،ہاتھ،پاؤں،ناک اور کان وغیرہ کو حرام کاموں سے روک کر حلال میں مشغول کر دیا۔غرض یہ کہ سر سے پاؤں تک ہر عضو پر اپنا رنگ جما دیا۔

قرآن کا ایک نام فرقان بھی ہے۔یہ لفظ فرق سے بنا ہے۔ اس کے معنی ہیں:فرق کرنے والی چیز۔قرآن کو فرقان اس لئے کہتے ہیں کہ حق و باطل،جھوٹ و سچ،مومن و کافر میں فرق فرمانے والا ہے۔قرآن بارش کی مثل ہے جیسے کسان زمین کے مختلف حصوں میں مختلف بیج بو کر چھپا دیتا ہے کسی کو پتہ نہیں لگتا کہ کہاں کون سا بیج بویا ہے مگر بارش ہوتے ہی جہاں جو بیج دفن تھا وہاں وہی پودا نکل آتا ہے تو بارش زمین کے اندرونی تخم کو ظاہر کرتی ہے۔اسی طرح ربِّ کریم نے اپنے بندوں کے سینوں میں ہدایت،گمراہی،سعادت،شقاوت اور کفر و ایمان کے مختلف تخم امانت رکھے۔نزولِ قرآن سے پہلے سب یکساں معلوم ہوتے تھے صدیق و ابو جہل،فاروق و ابو لہب میں فرق نظر نہیں آتا تھا،قرآن نے نازل ہو کر کھرا اور کھوٹا علیحدہ کر دیا،صدیق کا ایمان،زندیق کا کفر ظاہر فرما دیا۔لہٰذا اس کا نام فرقان ہوا۔([2])

برہان/نور:

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا(۱۷۴) (پ6،النسآء:174)

ترجمہ:اے لوگو!بیشک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل آ گئی اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور نازل کیا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

برہان سے مراد قرآن ہے۔قرآن کیوں نہ دلیل ہو کہ بڑے بڑے فُصَحا اس کی مثل لانےسے عاجز آ گئے تھے۔([3])

شفاء،موعظہ،ہُدٰی،رحمۃ:

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِۙ۬-وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۵۷)

(پ 11، یونس:57)

ترجمہ:اے لوگو!تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی شفا اور مومنوں کیلئے ہدایت اور رحمت آ گئی۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت میں قرآنِ کریم کے آنے اور اس کے نصیحت، شفا،ہدایت ا ور رحمت ہونے کا بیان ہے کہ یہ کتاب اُن فوائدِ عظیمہ کی جامع ہے۔اس آیت میں قرآنِ کریم کے تین عظیم فائدے بیان کئے گئے:

(1)مَوْعِظَةٌ:

اس کے معنی ہیں وہ چیز جو انسان کو پسندیدہ چیزکی طرف بلائے اور خطرے سے بچائے۔خلیل نے کہا کہ مَوْعِظَةٌ نیکی کی نصیحت کرنا ہے جس سے دل میں نرمی پیدا ہو۔

(2)شفاء:

اس سے مراد یہ ہے کہ قرآنِ پاک قلبی اَمراض کو دور کرتا ہے،دل کے امراض سے مراد مذموم اَخلاق،فاسد عقائد اور مہلک جہالتیں ہیں،قرآنِ پاک ان تمام امراض کو دور کرتا ہے۔

(3)ہدایت و رحمت:

قرآنِ کریم کی ایک صفت ہدایت بھی ہے،کیونکہ وہ گمراہی سے بچاتا اور راہِ حق دکھاتا ہے اور ایمان والوں کے لئے رحمت اس لئے فرمایا کہ وہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔([4]) اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں فیضانِ قرآن سے دنیا اور آخرت میں مالا مال فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* لاہور



[1] تفسیر کبیر،1/260 تا 264ماخوذاً

[2] مقدمہ تفسیرِ نعیمی،1/6،5 ملتقطاً

[3]  تفسیر کبیر،1/ 263

[4]  تفسیر صراط الجنان،4/338،337


Share