موضوع:دنیا یا آخرت؟ترجیح کس کو؟
حضرت آسیہ بنتِ مزاحم رضی اللہ عنہا فرعون کی بیوی تھیں۔ جب ان کے ایمان لانے کی خبر فرعون کو ہوئی تو اس نے انہیں سخت سزا دی،ہاتھ پاؤں چار میخوں سے باندھ دیا،سینے پر بھاری چکی رکھ کر دھوپ میں ڈال دیا۔جب اذیتیں بڑھیں تو انہوں نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی:اے میرے رب!میرے لیے اپنے پاس جنت میں گھر بنا دے۔اللہ پاک نے ان کا جنتی مکان انہیں دکھا دیا،جس کی خوشی میں فرعون کی سختیاں آسان ہو گئیں۔پھر انہوں نے دعا کی کہ مجھے فرعون اور اس کے کفر و ظلم سے نجات دے اور ظالم لوگوں سے بھی بچا۔چنانچہ دعا قبول ہوئی اور اللہ پاک نے ان کی روح قبض فرمالی۔([1])
حضرت آسیہ رضی اللہ عنہا نے سخت ترین حالات میں بھی رضائے الٰہی کے لیے دنیاوی تکالیف برداشت کیں،مگر اللہ پاک کی نافرمانی گوارا نہ کی۔اس کے برعکس ہمارا حال یہ ہے کہ معمولی رکاوٹوں کے سبب عبادات متاثر ہو جاتی ہیں؛کبھی گھر کے کام،کبھی مہمانوں کی وجہ سے نماز قضا ہو جاتی ہے تو کبھی پردے میں سستی آ جاتی ہے۔کبھی سہیلیوں یا رشتہ داروں کے ساتھ غیبت،عیب جوئی اور مذاق جیسی باتوں میں مبتلا ہو جاتی ہیں اور کبھی والدین،شوہر یا دیگر لوگوں کی خوشنودی کی خاطر غیر شرعی کام کر بیٹھتی ہیں۔نتیجتاً ہم مخلوق کو راضی کرنے میں لگ کر خالق کی ناراضی مول لے لیتی ہیں اور اپنی آخرت کو دنیا کے بدلے قربان کر دیتی ہیں۔حالانکہ یہ بڑی نادانی ہے۔ کیونکہ ایک روایت کے مطابق قیامت کے دن سب سے بدترین درجہ اس کا ہوگا جو دوسروں کی دنیا کے لیے اپنی آخرت برباد کرے،([2])اور سب سے زیادہ شرمندگی اسے ہوگی جس نے اپنی آخرت کو دنیا کے بدلے فروخت کر دیا۔([3])
یہ طرزِ عمل جہاں آخرت کے اعتبار سے نقصان دہ ہے وہیں دنیا میں بھی اکثر مایوسی ہی دیتا ہے۔اتنی قربانیوں کے باوجود گھر والوں اور رشتہ داروں کی شکایات ختم نہیں ہوتیں؛والدین نکمی اولاد کہہ دیتے ہیں،شوہر شکوہ کرتا ہے کہ تم کرتی ہی کیا ہو!نیز بچوں کو بھی گلہ رہتا ہے۔یوں ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری کوئی قدر نہیں،حالانکہ جب ہم خود اپنی آخرت قربان کر کے اپنی قدر نہیں کرتیں تو دوسروں سے قدر کی توقع کیسے ہو!قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ﳝ- وَ اَحْسِنُوْاۚۛ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۹۵) (پ2،البقرۃ:195)
ترجمہ:اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو اور نیکی کرو بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ لوگوں کی خوشنودی کے لیے اللہ پاک کی نافرمانی سے بچیں اور اس کی اطاعت کو مقدم رکھیں۔یقیناً اس نے بندوں کے حقوق مقرر فرمائے ہیں،مگر اصول یہی ہے کہ جہاں خالق کی نافرمانی ہو وہاں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ اللہ پاک کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں،اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ہے۔([4])
یقین کیجئے کہ جب ہم احکاماتِ الٰہی کے مطابق زندگی گزاریں گی تو ہماری دنیا خود بخود سنور جائے گی۔جب آخرت کی فکر غالب ہو گی تو دنیاوی پریشانیاں بھی ہلکی محسوس ہوں گی اور وہ رب کہ جس کے قبضے میں سب کے دل ہیں ہمارے کے لیے کافی ہو گا۔اللہ پاک ہمیں راہِ ہدایت پر استقامت نصیب فرمائے۔
اٰمین بجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ملیر کراچی
[1] تفسیر خازن،4/288،جلالین،ص466
[2] ابن ماجہ،4/339،حدیث:3966
[3] تاریخ کبیر،5/388،حدیث:7998/1927
[4] مسلم،ص789،حدیث:4765
Comments