موضوع:خلوص (کھرا پن)
اخلاص یا خلوص سے مراد وہ باطنی کیفیت ہے جس میں بناوٹ ومنافقت وغیرہ کی ملاوٹ نہ ہو،بلکہ دل کی سچائی اور نیت کی پاکیزگی نمایاں ہو۔یہ وہ صفت ہے جو قول وفعل میں ہم آہنگی پیدا کرتی ہے اور عبادات،معاملات،گفتگو اور کردار پر اثر انداز ہوتی ہے۔درحقیقت اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر عمل صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے انجام دے،بغیر کسی دنیاوی لالچ یا ذاتی فائدے کے۔یہی وہ وصف ہے جو انسان کو ایک باوقار زندگی عطا کرتا ہے اور اسے دیگر مخلوقات سے ممتاز بھی کرتا ہے۔
نیت میں اخلاص:
اگر نیت میں اخلاص ہو اور ہر عمل صرف رب کی رضا کے لیے کیا جائے تو اس میں غیر معمولی برکت پیدا ہو جاتی ہے۔خالص نیت عمل کو صرف درجۂ قبولیت تک نہیں پہنچاتی بلکہ اس کے اثرات کو بھی بڑھا دیتی ہے۔اس کی ایک مختصر مگر سبق آموز مثال یہ واقعہ بھی ہے:
پرانے زمانے میں ایک جوان اور ایک بوڑھے نے مل کر کھیتی باڑی کی۔فصل تیار ہوئی تو تقسیم کے وقت بوڑھا اپنا کچھ حصہ لیتا اور خاموشی سے جوان کے حصے میں یہ سوچ کر ڈال دیتا کہ اس کی زندگی ابھی باقی ہے۔اسی طرح جوان بھی بوڑھے کے حصے میں کچھ اضافہ کر دیتا کہ وہ عیال دار ہے۔ یوں دونوں ایک دوسرے کے لیے ایثار کرتے رہے،مگر حیرت انگیز طور پر گندم کم ہونے کے بجائے بڑھتی گئی اور دانے کا سائز بھی بڑا ہو گیا۔ جب دونوں نے اپنی نیت ایک دوسرے پر ظاہر کی تو معلوم ہوا کہ یہ برکت ان کے خلوص اور ایثار کا نتیجہ ہے۔بعد میں بادشاہِ وقت کو یہ واقعہ معلوم ہوا تو اس نے اس بابرکت گندم میں سے ایک دانہ اپنے خزانے میں محفوظ کر لیا تاکہ بعد والوں کے لئے یادگار ہو جائے۔([1])
عمل میں اخلاص:
عمل میں اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ انسان کوئی بھی نیک کام صرف اس لیے انجام دے کہ اس کا رب اس سے راضی ہو جائے،اس میں کسی انسان کی خوشنودی یا دنیاوی فائدے کی کوئی آمیزش نہ ہو۔خلوص انسان کے کردار کی اصل پہچان ہے۔جس طرح دودھ میں مکھن اس کی اصل جان اور قدر کو ظاہر کرتا ہے،اسی طرح عمل کی اصل قدر و قیمت بھی اخلاص سے ہی قائم رہتی ہے؛اگر عمل اخلاص سے خالی ہو تو وہ بے روح اور بے معنی ہو جاتا ہے۔اسی لیے اخلاص کے ساتھ کیا گیا عمل اللہ پاک کے ہاں نہایت قیمتی ہوتا ہے،یہاں تک کہ ایسے اعمال کو وسیلہ بنا کر کی گئی دعا بھی قبولیت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے ایک ایمان افروز واقعہ ملاحظہ ہو:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:تم سے پہلے لوگوں میں تین آدمی سفر کے دوران رات گزارنے کے لیے ایک غار میں داخل ہوئے،لیکن ایک چٹان گرنے سے غار کا راستہ بند ہوگیا۔ انہوں نے اس مشکل سے نکلنے کے لیے طے کیا کہ ہر شخص اپنے سب سے خالص نیک عمل کو اللہ پاک کے حضور پیش کر کے دعا کرے۔ چنانچہ ایک نے اپنے بوڑھے والدین کی بے لوث خدمت کا ذکر کیا،دوسرے نے اللہ پاک کے خوف سے ایک بڑے گناہ سے رک جانے کے خالص عمل کو وسیلہ بنایا اور تیسرے نے اپنی دیانت داری اور امانت کی ادائیگی کو اللہ پاک کے لیے پیش کیا ۔ ان تینوں کے اخلاص بھرے اعمال کے وسیلے سے اللہ پاک نے ان کی دعا قبول فرمائی اور چٹان ہٹا دی،یہاں تک کہ وہ محفوظ طور پر باہر نکل آئے۔([2])
تعلق میں خلوص:
خلوص ہی رشتوں کی بنیاد اور ان کی پائیداری کا راز ہے۔خلوص سے نبھایا گیا تعلق کبھی بوجھ نہیں بنتا بلکہ زندگی کی خوبصورتی اور سکون کا ذریعہ بن جاتا ہے۔جب نیت صاف ہو اور دوسروں کے لیے دل میں خیر خواہی ہو تو اللہ پاک کی رضا کی امید پیدا ہوتی ہے اور جب رب کی رضا حاصل ہو جائے تو خیر و برکت،رحمت اور آسانیاں نازل ہوتی ہیں۔مگر آج کے معاشرے میں اکثر یہ کیفیت بدل چکی ہے،جہاں ہر انسان اپنی ذات کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے،میرا فائدہ ہو،میرا پیٹ بھرے،کسی اور کا حق متاثر ہو تو ہو جائے!جیسی سوچ عام ہوتی جا رہی ہے۔ جب نیت میں لالچ آ جائے اور اخلاص ختم ہو جائے تو رشتے بھی متاثر ہوتے ہیں۔بعض اوقات عورت کی غیر مخلصانہ سوچ گھر کے ماحول کو خراب کرتی ہے،وہ اپنے شوہر کے دل میں ایسی باتیں ڈال دیتی ہے جن سے وہ بھائی کا حق بھی دبا لیتا ہے اور بہنوں کے حقوق بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاملات بگڑتے ہیں،دعائیں قبول نہیں ہوتیں اور پریشانیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں مگر وجہ سمجھ نہیں آتی۔
حقیقت یہ ہے کہ جب اخلاص ختم ہو جائے تو محبتیں کمزور، برکتیں ختم اور دلوں میں دوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ میاں بیوی اگر ایک دوسرے سے مخلص نہ ہوں تو گھر سکون سے محروم ہو جاتا ہے،بھائی بھائی سے مخلص نہ ہو تو رشتے ٹوٹنے لگتے ہیں اور طالبات بھی اگر ایک دوسرے کے لیے خیر خواہ نہ ہوں تو علم کا فائدہ کم ہو جاتا ہے۔ساس بہو،نند بھاوج کے جھگڑوں کی اصل جڑ بھی اکثر یہی بے اخلاص رویہ ہوتا ہے۔جب عمل میں اخلاص ہو تو نہ صرف رشتے سنورتے ہیں بلکہ زندگی بھی سکون و برکت سے بھر جاتی ہے۔
اخلاص کیسے حاصل ہو؟
اخلاص حاصل کرنے کے لیے مسلسل جد و جہد اور اپنے باطن کا محاسبہ ضروری ہے۔*سب سے پہلے اپنی نیت پر غور کرنا چاہیے اور ہر عمل کو اللہ پاک کی رضا کے لیے خالص کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اگر کوئی کسی غریب رشتہ دار کی مالی مدد کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ اپنی نیت صرف رب کی رضا رکھے،نہ کہ اس کے سلوک یا رویے کو معیار بنائے۔ چاہے رشتہ دار ناراض ہی کیوں نہ ہو،صلہ رحمی کی نیت سے اس کی خیریت دریافت کرے اور ضرورت کے وقت مدد کرے، یہی اخلاص کی علامت ہے۔*اسی طرح اگر کسی کو تحفہ دیا جائے تو اس میں یہ سوچ نہ ہو کہ بدلے میں اس سے بہتر تحفہ ملے گا یا زیادہ فائدہ ہوگا،بلکہ نیت یہ ہو کہ اللہ پاک خوش ہو جائے اور مسلمان کے دل میں خوشی داخل ہو۔جب نیت خالص ہو تو اس عمل پر ثواب کے ساتھ دنیا و آخرت میں برکت بھی ملتی ہے۔*بعض اوقات سسرال یا گھریلو معاملات میں خواتین خدمت تو کرتی ہیں لیکن دل میں بوجھ اور جلن رکھتی ہیں،جس سے عمل کی روح ختم ہو جاتی ہے۔ایسے اعمال بظاہر تو اچھے لگتے ہیں مگر ان میں اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے ان کا حقیقی فائدہ ظاہر نہیں ہوتا۔اگر یہی خدمت اللہ پاک کی رضا کے لیے خالص ہو تو اس کا اثر محبت،عزت اور برکت کی صورت میں ضرور ظاہر ہوتا ہے۔*اخلاص کا اصل تقاضا یہ ہے کہ انسان کسی بھی نیکی پر لوگوں کی تعریف یا داد و تحسین کا منتظر نہ رہے۔اگر مقصد صرف اللہ پاک کی رضا ہو تو اجر بھی وہی عطا فرماتا ہے۔لوگوں کی تعریف وقتی ہوتی ہے اور اس کا آخرت میں کوئی فائدہ نہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے حواریوں نے جب سوال کیا کہ اعمال میں خالص کون ہے؟تو آپ نے فرمایا:وہ جو اللہ کے لیے عمل کرے اور یہ پسند نہ کرے کہ اس پر کوئی اس کی تعریف کرے۔([3])
اللہ پاک ہمیں نیت وعمل میں خلوص کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ذمہ دار شعبہ ماہنامہ خواتین (کراچی سطح)،
رکن انٹرنیشنل افیئرز ڈیپارٹمنٹ
Comments