حضرت خضر علیہ السلام کے معجزات و عجائبات
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:حضرت خضر  علیہ السلام کے معجزات و عجائبات

خضر آپ کا لقب ہے،جبکہ آپ کا نام بَلیا بن ملکان اور کنیت ابو العباس ہے۔حاشیہ صاوی میں ہے:بعض عارفین فرماتے ہیں کہ جس نے حضرت خضر کا نام ولدیت،کنیت اور لقب سمیت یاد رکھا اس کا خاتمہ اسلام پر ہوگا۔([1])آپ کے خضر لقب ہونے کی کئی وجوہات بیان فرمائی گئی ہیں:ایک سبب نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ ان کا نام خضر اس لئے رکھا گیا ہے کہ یہ خشک گھاس پر بیٹھتے تو ان کے قدموں کے نیچے اور اس کے اردگرد کی گھاس سرسبز ہوکر لہرانے لگتی تھی۔([2]) جبکہ ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ جہاں آپ نماز پڑھتے اس کے اردگرد کی جگہ سرسبز ہو جاتی،نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ کے حسن و جمال اور چہرے کی چمک دمک کی وجہ سے آپ کا یہ نام رکھا گیا۔([3])

آپ کے نبی ہونے پر دلائل:

آپ کے نام،نسب اور حیات کی طرح آپ کی نبوت میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے،آپ کا ولی ہونا تو یقینی ہے مگر نبوت کے بارے میں بعض کا اختلاف ہے،البتہ!راجح اور صحیح یہی ہے کہ آپ نبی ہیں اس پر دلیل یہ ہے کہ آپ نے لڑکے کو قتل کر کے فرمایا:یہ میں نے اپنی مرضی سے نہیں کیا!یعنی انہوں نے وحی کے ذریعے اس کو قتل کیا اور وحی کا تعلق نبوت سے ہے،کسی کو ناحق قتل کرنا حرام ہے اور یہ حرمت صرف دلیلِ قطعی سے ہی اٹھ سکتی ہے جوکہ وحی ہے،اگر آپ ولی ہوتے اور الہام کے ذریعے ایسا کرتے تو یہ جائز نہیں تھا کیونکہ الہام دلیلِ قطعی نہیں ہوتا بلکہ دلیلِ ظنی ہوتا ہے اور دلیلِ ظنی کی بنیاد پر کسی کو قتل کرنا جائز نہیں۔نیز تکوینی معاملات میں حضرت خضر کا علم حضرت موسیٰ سے زیادہ تھا اور ایسا نہیں ہو سکتا کہ ولی کا علم کسی بھی صورت نبی سے زیادہ ہو،لہٰذا یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت خضر نبی ہیں۔([4])

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اور سیدنا خضر علیہ السلام بھی جمہور کے نزدیک نبی ہیں اور ان کو خاص طور سے علمِ غیب عطا ہوا ہے۔([5])

آپ زندہ ہیں:

حضرت خضر علیہ السلام کی حیات کے بارے میں شدید اختلاف ہے،تاہم اکثر علما اور تمام اہلِ باطن و اہلِ معرفت صوفیائے کرام کے نزدیک حضرت خضر علیہ السلام زندہ ہیں اور آپ کے زندہ ہونے پر دلیل وہ حدیث ہے جو امام حاکم نے مستدرک میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے وفات پائی اور صحابہ کرام جمع ہوئے تو ایک آدمی داخل ہوا جس کی سیاہ سفید داڑھی،خوب صورت بھاری بھر کم جسم تھا۔وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے بڑھا اور رو پڑا۔پھر اس نے صحابہ کرام کو دیکھا اور کہا:ہر مصیبت میں اللہ پاک کی طرف سے صبر،ہر ہاتھ سے نکل جانے والی چیز کا بدلہ اور ہر ہلاک ہونے والے کا جانشین ہوتا ہے۔تم سب اللہ پاک ہی کی طرف رجوع کرو اور اسی کی طرف رغبت رکھو۔اللہ پاک کی نگاہ مصیبت اور آزمائش میں تمہاری طرف ہے۔تم بھی غور کرو!مصیبت زدہ وہ ہے جس کی تلافی نہ ہو سکے۔حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت علی   رضی اللہ عنہما نے فرمایا:یہ بات کرنے والے حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔([6]) اس روایت سے ان کے زندہ ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔

حضرت خضر علیہ السلام کے اب تک زندہ ہونے کی دو وجوہات بیان کی گئی ہیں:ایک قول کے مطابق  حضرت آدم علیہ السلام نے ان کے لئے لمبی زندگی کی دعا کی تھی،جیسا کہ حافظ ابنِ کثیر نے ابنِ اسحاق کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو خبر دی کہ عنقریب لوگوں پر طوفان آئے گا اور انہیں وصیت کی کہ جب یہ واقعہ پیش آئے تو وہ ان کے جسم کو اپنے ساتھ کشتی میں رکھیں اور اسے اسی جگہ دفن کریں جس کی انہوں نے نشاندہی کی تھی۔چنانچہ جب طوفان آیا تو انہوں نے آپ کے جسم کو اپنے ساتھ رکھا اور جب وہ زمین پر اترے تو حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کے جسم کو لے جا کر اسی جگہ دفن کریں جہاں وصیت کی گئی تھی۔انہوں نے کہا:وہ زمین سنسان ہے اور اس پر وحشت طاری ہے۔حضرت نوح نے انہیں اس کام پر ابھارتے ہوئے فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اس شخص کے لئے طویل عمر کی دعا کی ہے جو ان کی تدفین کرے گا،لیکن وہ لوگ اِس وقت اُس مقام تک جانے سے گھبرائے،لہٰذا حضرت آدم کا جسم ان کے پاس ہی رہا، یہاں تک کہ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کی تدفین کی ذمہ داری سنبھالی اور اللہ پاک نے ان کے حق میں اپنا وعدہ پورا فرمایا،پس وہ زندہ ہیں اور جب تک اللہ چاہے زندہ رہیں گے۔([7])

دوسری وجہ بیان کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جمہور علما کی رائے یہ ہے کہ حضرت خضر زندہ ہیں اور قیامت تک زندہ رہیں گے،ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے آبِ حیات پی لیا تھا۔([8])

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جمہور علما کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت خضر زندہ ہیں اور ہم میں موجود ہیں،اس معاملے پر عارفین اور صوفیائے کرام تمام کا اتفاق ہے،اور صوفیائے کرام کی ان کو دیکھنے،ان سے ملنے،ان سے علم حاصل کرنے اور ان سے سوال جواب کے متعلق حکایات مشہور ہیں اور مقدس مقامات اور خیر کی مجلسوں میں ان کی حاضری کے متعلق بےشمار واقعات موجود ہیں۔([9])

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یہ دونوں(حضرت خضر  و الیاس) زمین پر تشریف فرما ہیں،دریا سیدنا خضر علیہ الصلوۃ و السلام کے متعلق ہے اور خشکی سیدنا الیاس علیہ الصلوۃ و السلام کے،دونوں صاحبان حج کو ہر سال تشریف لاتے ہیں،بعدِ حج آپ زمزم شریف پیتے ہیں کہ وہی سال بھر تک ان کے کھانے پینے کو کفایت کرتا ہے۔([10])

حضرت خضر سے ملاقات کرنے والے حضرات:

صحابہ کرام سمیت کثیر حضرات نے حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کا شرف حاصل کیا ہے،مثلاً:ایک مرتبہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نمازِ جنازہ پڑھا رہے تھے کہ اچانک انہوں نے ایک آواز سنی  کہ اللہ پاک آپ پر رحم فرمائے،ہمیں پیچھے نہ چھوڑیں۔ حضرت عمر ٹھہر گئے یہاں تک کہ وہ شخص صف میں شامل ہو گیا۔ پھر اس شخص نے میت کے لئے دعا کرتے ہوئے کہا:اے اللہ!اگر تو اسے عذاب دے تو اس نے یقیناً تیری بہت نافرمانی کی ہے اور اگر تو اسے بخش دے تو وہ تیری رحمت کا محتاج ہے۔تدفین کے بعد حضرت عمر نے اس شخص کو تلاش کرنے کا حکم دیا مگر وہ اچانک غائب ہوگیا۔لوگوں نے دیکھا تو اس کے قدموں کا نشان ایک ہاتھ(تقریباً ایک گز) لمبا تھا۔اس پر حضرت عمر نے فرمایا:اللہ کی قسم!یہ وہی خضر ہیں جن کے متعلق ہمیں حضور نے بتایا تھا۔اسی طرح حضرت علی شیرِ خدا رضی اللہ عنہ   نے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے ایک بزرگ  کو دیکھا جو غلافِ کعبہ کو پکڑ کر کہہ رہے تھے:يَا مَنْ لَا يَمْنَعُهُ سَمْعٌ مِنْ سَمْعٍ،وَ يَا مَنْ لَا تُغَلِّطُهُ الْمَسَائِلُ،وَ يَا مَنْ لَا يُبْرِمُهُ اِلْحَاحُ الْمُلِحِّينَ وَ لَا مَسْئَلَةُ السَّائِلِينَ،اُرْزُقْنِي بَرْدَ عَفْوِكَ وَ حَلَاوَةَ رَحْمَتِكَ۔حضرت علی نے ان سے یہ دعا دوبارہ مانگنے کو کہا تو وہ بولے:آپ نے یہ دعا سن لی ہے،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں خضر کی جان ہے!جو اس دعا کو فرض نماز کے بعد پڑھے اس کے گناہ خواہ سمندر کے جھاگ،درختوں کے پتوں اور تاروں کی تعداد کے برابر ہوں بخش دیئے جائیں گے۔([11])

کئی اولیائے کرام نے بھی حضرت خضر سے ملاقات کی ہے، چنانچہ حضرت داتا گنج بخش کی حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقاتوں  کے متعلق حضرت علی خوّاص رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کی تین شرطیں ہیں:(1) وہ سنت  کا عامل ہو (2)   دنیا پر لالچی نہ ہو(3) مسلمانوں کے لئے اس کا سینہ بالکل صاف ہو،نہ تو اس کے دل میں کینہ ہو نہ  ہی حسد اور نہ ہی وہ کسی پر تکبر کرتا ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ داتا صاحب ان تینوں صفات کے حامل تھے؛ آپ عاملِ سنت بھی تھے،دنیا کے لالچ سے دور تھے اور مسلمانوں کے خیرخواہ تھے جبھی آپ نے حضرت خضر سے نہ صرف ملاقات کی بلکہ شرفِ صحبت بھی پایا۔([12])



[1] حاشیہ صاوی،4/1207

[2] بخاری،2/441،حدیث:3402

[3] عمدۃ القاری،2/84

[4] عمدۃ القاری،2/85،84 مفہوماً

[5] فتاویٰ رضویہ،26/401

[6] مستدرک،3/605،حدیث:4448

[7] البدایۃ و النہایۃ،1/429

[8] عمدۃ القاری،2/85

[9] شرح صحیح مسلم للنووی،15/136،135

[10] فتاویٰ رضویہ،26/401

[11] البدایہ و النہایہ،1/437

[12] فیضان داتا علی ہجویری،ص 24


Share