موضوع:بچوں پر بےجا سختی مت کیجئے
(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 50ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیے جا رہے ہیں۔)
محترمہ بنتِ انور عطاریہ (فرسٹ پوزیشن)
(طالبہ:دورۂ حدیث،تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ)
اسلام نے بچوں کی تربیت میں شفقت،نرمی اور محبت کا درس دیا ہے۔بےجا سختی نہ صرف والدین اور اولاد کے تعلق کو بگاڑتی ہے بلکہ بچے کی شخصیت پر بھی برا اثر چھوڑتی ہے اور کل یہی برا اثر اس کو معاشرے کا باغی فرد بنا سکتا ہے۔قرآنِ کریم میں فرمایا گیا:
فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى(۴۴) (پ16،طہ:44)
ترجمہ: تو تم اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا ڈر جائے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
انسان کو چاہیے کہ وہ دوسروں کو پیار،محبت اور نرمی کے ساتھ نصیحت کرے کیونکہ اس طریقے سے نصیحت قبول ہونے اور اصلاح کی زیادہ امید ہوتی ہے۔غلطی سے سبق بھی حاصل ہوتا ہے۔دینی ودنیوی معاملات میں جہاں تک ممکن ہو نرمی اختیار کرنی چاہیے کیونکہ نرمی سے جو فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ سختی سے ضروری نہیں کہ حاصل ہو سکے۔
نرمی سے اصلاح کیجیے:
اصلاح کا انداز ایسا ہو کہ بچہ باغی نہ ہو اس لیے جب سمجھائیں نرمی سے سمجھائیں،بچوں کے جذبات بہت نازک ہوتے ہیں، بعض والدین کی عادت ہوتی ہے کہ اولاد جب بھی غلطی کرے تو اسے کوسنا شروع کردیتے ہیں،اس سے بچہ احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:نرمی جس چیز میں ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی چھین لی جاتی ہے اسے عیب دار کردیتی ہے۔([1]) اس کے علاوہ بھی بعض ماؤں کی عادت ہوتی ہے کہ بچوں کو سمجھاتے ہوئے مختلف دھمکیوں سے نوازتی ہیں،جبکہ بچے کا ناپختہ ذہن اس کا بہت غلط اثر قبول کرتا ہے اور سنبھلنے کے بجائے بگڑ جاتا ہے۔
اگر نرمی کے باوجود بچہ بار بار غلطی کرتا ہے تو حکمت یہ ہے کہ کچھ سختی کی جائے،پھر بھی باز نہ آئے تو ہلکی سی سزا دینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔البتہ!سزا دینی پڑے تو ہاتھ سے دے اور اتنی کہ بچہ برداشت کرسکے،چہرے پر مارنے سے بچے،حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب تم میں سے کوئی مارے تو اسے چہرے پر مارنے سے بچنا چاہیے۔([2])
حوصلہ افزائی کیجیے:
حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:جب بچہ اچھا کام کرے،خوش اخلاق بنے تو اس کی تعریف کی جائے اور اسے ایسی چیز دی جائے کہ وہ خوش ہو جائے۔اگر وہ بار بار غلطی کرے تو تنہائی میں سمجھائے کہ دوبارہ ایسا مت کرنا ورنہ لوگوں میں رسوا ہو جاؤ گے۔([3])
جوبچے اسکول یا مدرسے جاتے ہیں،اگر ان سے کوئی غلطی ہوجائے تو اکثر انہیں یہی کہا جاتا ہے کہ”ارے یہ تو پڑھتا ہے پھر بھی ایسے کام کرتا ہے!“،”کیا اسے اسکول/ مدرسے میں یہی سکھایا جاتا ہے!“ وغیرہ۔یاد رہے!بچوں کی تربیت صرف پڑھانے پر موقوف نہیں مختلف رویوں،باتوں اور باہمی تعلقات سے بھی بچوں کی ذہنی تربیت ہوتی ہے۔
بےجا سختی کے نقصانات:
بےجا سختی کے کئی نقصانات ہیں،جن میں سےچند یہ ہیں:
*بےجا سختی کی وجہ سے بچہ ڈر کے مارے جھوٹ بولنا سیکھ جاتا ہے۔*خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے۔*والدین سے فاصلہ بڑھ جاتا ہے۔* ضد اور بغاوت پیدا ہوتی ہے۔لہٰذا بچوں سے غلطی ہونے پر مارنے کے بجائے تنہائی میں اصلاح کیجئے،تجربہ سکھائیے،تعریف کیجئے،حوصلہ بڑھائیے،بچے کی عمر اور سمجھ کے مطابق بات کیجئے اور خود تحمل مزاج بنیے۔
بچے نرمی سے پھول کی طرح کھلتے ہیں،سختی سے مرجھا جاتے ہیں۔اگر ہم چاہتی ہیں کہ ہماری اولاد نیک اور فرمانبردار بنے تو پہلے ہمیں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے طریقے پر چل کر محبت سے تربیت کرنی ہوگی۔اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنیٰ میں سمجھنے سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
محترمہ بنتِ محمد آصف مدنیہ عطاریہ
(فیضانِ خدیجۃ الکبریٰ پی آئی بی کالونی کراچی)
اگر کسی خوبصورت پرندے کو ایک سونے کے پنجرے میں بند کر دیا جائے اور اسے وقت پر بہترین خوراک بھی دی جائے،لیکن اس کے پروں کو لوہے کی زنجیروں سے جکڑ دیا جائے تو کیا وہ کبھی اڑنا سیکھ پائے گا؟یقیناً نہیں۔ہمارے بچے بھی ان پرندوں کی طرح ہیں،جنہیں اڑنے کے لیے محبت کی کھلی فضا چاہیے ہوتی ہے،مگر ہم تربیت اور اچھے مستقبل کے نام پر ان کے گرد ”بےجا سختی“ کا ایسا پنجرہ کھڑا کر دیتی ہیں جو ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتا ہے۔مائیں اکثر یہ سمجھ بیٹھتی ہیں کہ جتنا سخت لہجہ ہوگا،بچہ اتنا ہی نیک اور فرماں بردار بنے گا،حالانکہ سختی سے صرف دوریاں جنم لیتی ہیں۔لہٰذا آج ہی اس پنجرے کا دروازہ کھولیے اور دیکھیے کہ محبت کی فضا بچوں کی شخصیت کو کیسے پروان چڑھاتی ہے۔
بچوں پر شفقت کرنا،انہیں نرمی سے سمجھانا،ان کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا گویا ان کی اچھی تربیت کے دروازے کو کھول دے گا۔اگر ہم چاہتی ہیں کہ ہمارے بچوں کی تربیت ایسی ہو کہ ہمارے بچے ہمارا کہنا مانیں،ہمارا ادب کریں تو اس کے لیے ہمیں ان پر بےجا سختی نہیں کرنی ہوگی کیونکہ اس سے ہمارا بچہ ضدی ہوجائے گا۔ہمارا عمل ایسا ہو کہ ہمارے بچے ہمیں فالو کریں اور ہم اپنے بچوں کے لیے رول ماڈل بنیں۔اس ضمن میں رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا عمل مبارک پیشِ خدمت ہے۔ چنانچہ
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ کھڑے ہو جاتے،ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اسے بوسہ دیتے،پھر ان کو اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے۔اسی طرح جب نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حضرت فاطمہ کے ہاں تشریف لے جاتے تو آپ کو دیکھ کر کھڑی ہو جاتیں،آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتیں،پھر اس کو چومتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔([4])
الغرض رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے جو انداز اپنی شہزادی کے ساتھ اختیار فرمایا تو آپ کی شہزادی نے بھی ویسا ہی کیا۔ہم اپنے بچوں کے ساتھ جو انداز اختیار کریں گی تو ہمارے بچے بھی ہم سے وہی سیکھیں گے۔لہٰذا کوشش فرمائیے کہ بچوں پر سختی نہیں شفقت،شفقت اور شفقت ہی کیجئے،بچے پھول جیسے ہوتے ہیں اور پھول مرجھائے ہوئے زیب نہیں دیتے۔
ربِّ کریم ہمیں بچوں پر شفقت کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
[1] مسلم،ص1073،حدیث:6602
[2] ابوداود،4/222،حدیث:4493
[3] کیمیائے سعادت،2/ 532
[4] ابوداود،4/454،حدیث:5217
Comments