بھتیجی و بھانجی کا کردار
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:بھتیجی وبھانجی کا کردار

بیٹی گھر کی وہ کلی ہے جو آنگن میں کھلتے ہی خوشیاں اور مسکراہٹیں بکھیر دیتی ہے۔بھتیجی اور بھانجی کی صورت میں اس کی چہکار اور معصوم ادائیں چچا،ماموں،پھوپھی اور خالہ سبھی کے دل موہ لیتی ہیں۔وقت کے ساتھ جب یہ ننھی کلی جوان اور سمجھ دار ہوتی ہے تو اس کے کندھوں پر مختلف ذمہ داریاں آ جاتی ہیں۔ذی رحم رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ اور ان کے حقوق کی ادائیگی بھی اس کے فرائض میں شامل ہو جاتی ہے۔ بھتیجی اور بھانجی کا کردار بھائی بہنوں کے باہمی تعلقات کو مضبوط رکھنے اور خاندان کے امن و سکون کو برقرار رکھنے میں نہایت اہم ہوتا ہے۔ایک عورت بطورِ بھتیجی و بھانجی خاندان میں محبت،الفت اور خوش اخلاقی کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔چنانچہ”خاندان میں بھتیجی اور بھانجی کا کردار کیسا ہونا  چاہیے؟“اس بارے میں چند اہم باتیں جانتی ہیں:

حقِ قرابت:قرآنِ کریم میں جن لوگوں کے ساتھ احسان اور بھلائی کا حکم دیا گیا ہے،ان میں قریبی رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ لہٰذا ایک بھتیجی اور بھانجی کی حیثیت سے چچا،ماموں،پھوپھی اور خالہ کے حقوق کا خیال رکھنا اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ضروری ہے۔شریعتِ مطہرہ میں ان رشتوں کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے،چنانچہ حدیثِ پاک میں خالہ کو ماں کے قائم مقام اور چچا کو باپ کے درجے میں قرار دیا گیا ہے۔نبیِ کریم صلی اللہُ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے اپنے عمل مبارک سے بھی ان رشتوں کی عظمت کو واضح فرمایا۔ایک موقع پر حضرت عمر نے حضرت عباس سے متعلق ایک معاملہ بارگاہِ نبوی میں پیش کیا تو حضور نے فرمایا:کیا تمہیں معلوم نہیں کہ انسان کا چچا اس کے باپ کے برابر ہوتا ہے؟([1])لہٰذا بھتیجی اور بھانجی کو چاہیے کہ وہ اپنے چچا،ماموں، پھوپھی اور خالہ کے ساتھ محبت،ادب اور خیرخواہی کا رویہ اختیار کرے اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرے۔

اظہارِ محبت و ہمدردی:چچا،ماموں،پھوپھی اور خالہ جیسے قریبی رشتہ داروں سے محبت اور قلبی وابستگی فطری معاملہ ہے۔ایک بھتیجی اور بھانجی کو چاہیے کہ وہ اس محبت کو صرف دل تک محدود نہ رکھے بلکہ اپنے اچھے اخلاق،اچھے برتاؤ اور ہمدردانہ رویّے سے اس کا اظہار بھی کرے۔سیرتِ طیبہ سے بھی ہمیں یہی درس ملتا ہے۔چنانچہ غزوۂ اُحد میں حضرت حمزہ کی شہادت کے بعد حضور کو اپنے چچا سے محبت کی بنا پر بے حد رنج ہوا۔ کفار نے آپ کے جسمِ مبارک کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا تھا،اس لیے حضور نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے ان کے پاس ان کے بیٹے حضرت زبیر کو حضرت حمزہ کا جسمِ مبارک لانے سے منع فرما دیا،تاکہ حضرت صفیہ اپنے بھائی کی یہ حالت دیکھ کر مزید غم زدہ نہ ہوں۔([2]) معلوم ہوا کہ رشتہ داروں کے جذبات کا خیال رکھنا اور موقع بہ موقع محبت و ہمدردی کا اظہار کرنا نہایت اہم ہے۔

وقت دینا:بھتیجی اور بھانجی کو چاہیے کہ چچا،ماموں،پھوپھی اور خالہ کے رشتوں کو وقت دے اور ان سے رابطہ برقرار رکھے۔ آج سوشل میڈیا نے دوریوں کو سمیٹ دیا ہے،لہٰذا جمعہ،عید اور دیگر خوشی و غمی کے مواقع پر ان کی خیریت معلوم کرے اور موقع ملنے پر ملاقات بھی کرتی رہے۔سیرتِ طیبہ سے بھی اس کا درس ملتا ہے،جیسا  کہ حضور کے متعلق مروی ہے کہ کبھی حضرت اُمِّ سُلیم اور کبھی حضرت اُمِّ حرام بنتِ ملحان کے پاس تشریف لے جاتے تھے،جو حضور یا  حضور کے والدِ گرامی یا دادا جان کی رضاعی خالہ تھیں۔([3])اس سے معلوم ہوا کہ رشتہ داروں سے تعلق اور آمدورفت برقرار رکھنا سنتِ نبوی ہے۔

ادب و احترام کا مظاہرہ:بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے شفقت خاندان کی خوبصورتی کی علامت ہے۔ایک روایت میں ہے:جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرےاور ہمارے بڑوں کا حق نہ پہچانے وہ ہم میں سے نہیں۔([4]) لہٰذا بھتیجی اور بھانجی کو چاہیے کہ وہ اپنے بزرگ رشتہ داروں کا ادب کرے اور خوش اخلاقی سے پیش آئے،کیونکہ یہ رویہ والدین کی نیک نامی اور دوسروں کے لیے ترغیب کا ذریعہ بنتا ہے۔

چھوٹوں پر شفقت:اپنے چھوٹے کزنز اور خاندان کے بچوں کے ساتھ اچھا برتاؤ،دینی و اخلاقی راہ نمائی اور مثبت کردار ان کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس سے خاندان میں محبت اور اچھے اخلاق کی روایات پروان چڑھتی ہیں۔لہٰذا بھتیجی یا بھانجی کو چاہیے کہ وہ اپنے چھوٹے کزنز پر شفقت کرے،انہیں دین کی باتیں بتائے اور راہ نمائی کرے،اس سے ان کے والدین یعنی بھتیجی بھانجی کے چچا،ماموں،خالہ یا پھوپھی کے دل میں بھی خوشی داخل ہوگی اور خاندان میں محبت کا ماحول پروان چڑھے گا۔

نرم گفتگو:قرآنِ مجید نے والدین سے قولِ کریم یعنی ایسی خوشگوار،عمدہ اور دھیمی گفتگو کرنے کا حکم دیا ہے،جس کا تقاضا حسنِ ادب ان کے ساتھ کرتا ہے۔([5]) چونکہ چچا اور خالہ بھی ماں باپ کے قائم مقام رشتہ دار ہیں،اس لیے بھتیجی اور بھانجی کو چاہیے کہ ان کے ساتھ بھی نرم لہجہ اور محبت بھری گفتگو اختیار کرے۔میٹھی زبان،خوش اخلاقی اور مسکراہٹ کے ساتھ بات کرنا دلوں کو جوڑتا ہے اور خاندان میں محبت و الفت کے ماحول کو فروغ دیتا ہے۔

صلہ رحمی:دینِ اسلام محبت اور رشتہ داری کے تعلق کو مضبوط بنانے کی نہایت تاکید کرتا ہے اور صلہ رحمی کو عمر میں برکت، رزق میں وسعت اور معاشرتی سکون کا ذریعہ قرار دیتا ہے،جبکہ رشتہ توڑنے کو سخت ناپسند فرمایا گیا ہے۔صلہ رحمی کا حقیقی مفہوم صرف یہ نہیں کہ احسان کرنے والے کے ساتھ احسان کیا جائے،بلکہ اس سے آگے بڑھ کر ناراضی اور برائی کے بدلے میں بھی نرمی،معافی اور بھلائی کا رویہ اختیار کرنا ہے۔بھتیجی اور بھانجی کو چاہیے کہ وہ اپنے چچا،ماموں،پھوپھی اور خالہ کے ساتھ تعلق مضبوط رکھے،ان کی خیریت معلوم کرے،ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور خوشی و غمی کے مواقع پر شریک رہے۔ اگر کبھی بڑوں کے درمیان ناراضی یا رشتہ ٹوٹنے کی صورت پیدا ہو جائے تو بھی وہ خود رشتہ نہ توڑے بلکہ حکمت،نرمی اور خیرخواہی کے ساتھ صلح کی کوشش کرے اور ہر حال میں حسنِ اخلاق اور صلہ رحمی کا دامن تھامے رکھے۔

آخری بات:عمومی مشاہدہ ہے کہ والدین کی حیات میں تو چچا، ماموں،پھوپھی اور خالہ وغیرہ سے کچھ نہ کچھ تعلق رکھا جاتا ہے، لیکن ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد مصروفیات اور غفلت کی وجہ سے یہ تعلقات کمزور پڑ جاتے ہیں۔حالانکہ حدیثِ پاک میں والدین کی وفات کے بعد ان کے دوستوں اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھے برتاؤ کی ترغیب دی گئی ہے۔([6])اس لیے ان کے بھائی بہن تو بدرجۂ اولیٰ اس کے مستحق ہیں۔لہٰذا بھتیجی اور بھانجی کو چاہیے کہ والدین کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اپنے ماموں،چچا،پھوپھی اور خالہ کے ساتھ تعلق قائم رکھے، ان کی خیریت پوچھے،ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور صلہ رحمی کا سلسلہ جاری رکھے۔اللہ پاک ہمارے خاندانوں میں محبت و الفت کی اقدار کو ہمیشہ قائم رکھے اور ہمیں صلہ رحمی کرنے والی بنائے۔ اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* صدر راولپنڈی



[1] مسلم،ص381،حدیث:2277

[2] المنتظم،3/170 ملخصاً

[3] مراۃ المناجیح،8/123 ملخصاً

[4] ابوداود،4/ 372،حدیث:4943

[5] تفسیر خازن،3/171

[6] ابوداود،4/434،حدیث:5142 ماخوذاً


Share