موضوع:مصیبت ہے یا راحت؟
حضرت فتح موصلی رحمۃ اللہ علیہ کی اہلیہ کو ٹھوکر لگی اور ان کا ناخن ٹوٹ گیا مگر وہ (واویلا کرنے کے بجائے)مسکرانے لگیں۔عرض کی گئی:کیا آپ کو درد محسوس نہیں ہو رہا؟ارشاد فرمایا:( درد تو ہے لیکن)اس درد پر ملنے والے ثواب کی لذت نے میرے دل سے درد کی کڑواہٹ دور کر دی۔([1])
جو مصیبت بندے کو اللہ پاک سے قریب کرے،آخرت کی فکر پیدا کرے اور ثواب و بلندیِ درجات کا سبب بنے،وہ حقیقت میں مصیبت نہیں بلکہ نعمت ہے۔انسان اکثر دنیا کی رنگینیوں اور آسائشوں میں کھو کر غفلت اور گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے،لیکن جب کوئی تکلیف یا آزمائش آتی ہے تو اسے اپنے رب کی یاد آ جاتی ہے اور وہ توبہ و عبادت کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔اس اعتبار سے آزمائش بندے کے لیے رحمت اور نعمت بن جاتی ہے،کیونکہ اسی کے ذریعے وہ اللہ پاک کی اطاعت،عبادت اور فکرِ آخرت اختیار کرتا ہے،جو بسا اوقات راحت و آسائش کے ماحول میں مشکل ہو جاتا ہے۔
کئی مرتبہ انسان گناہوں بھری صحبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تمنا رکھنے کے باوجود اس ارادے میں کامیاب نہیں ہو پاتا،لیکن جب وہیں سے بے وفائی اور دھوکے بازی کا مظاہرہ ہو تو انہیں چھوڑنے کا مشکل ترین فیصلہ بھی لمحوں میں آسان ہو جاتا ہے۔اسی طرح ضمیر کی ملامت کے باوجود حرام ذریعۂ روزگار کو چھوڑنا دشوار معلوم ہوتا ہے،لیکن جب وہ ذریعہ ہی ختم ہو جائے تو انسان حرام سے بچ کر حلال کی طرف آ جاتا ہے۔موبائل فون پر گناہوں بھری چیزیں دیکھتے ہوئے گناہ کا احساس ہونے کے باوجود بچنا نفس پر دشوار گزرتا ہے، مگر جب موبائل خراب ہو جائے،وائی فائی کنکشن کٹ جائے یا کوئی اور رکاوٹ پیدا ہو جائے تو ان گناہوں سے دور رہنا آسان ہو جاتا ہے۔اسی طرح تندرستی میں جن گناہوں میں انسان مبتلا ہوتا ہے،بیماری آنے پر ان میں کمی آ جاتی ہے اور بندہ اللہ پاک کی یاد میں لگ جاتا ہے۔بہت سے لوگ مال و دولت کے سبب گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں،لیکن مال نہ رہے تو ان سے باز آ جاتے ہیں۔یہ چند مثالیں ہیں،ورنہ بہت سے معاملات ایسے ہیں کہ بظاہر آزمائش نظر آنے والی مصیبت حقیقت میں خیر کا باعث بنتی ہے،بلکہ کبھی وہ مصیبت ہوتی ہی نہیں بلکہ گناہ کے اسباب ختم ہو جانے کو مصیبت سمجھ لیا جاتا ہے۔
البتہ!یہ بات ذہن میں رہے کہ اپنے لیے مصیبت کی دعا نہیں کرنی چاہیے،بلکہ اللہ پاک سے عافیت مانگنی چاہیے۔پھر اگر کوئی پریشانی آ جائے تو صبر،ہمت اور حوصلے سے کام لیتے ہوئے اسے اللہ پاک کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ بنانا چاہیے۔بعض کم ہمت لوگ ایسے مواقع پر بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور گناہوں،بلکہ کبھی معاذ اللہ کفریہ کلمات تک بک جاتے ہیں۔لہٰذا ہر تکلیف کے وقت حوصلہ بلند رکھا جائے اور اس کے اُخروی فوائد پر نظر رکھی جائے تاکہ مصیبت کا احساس کم ہو جائے۔نیز اگر اس آزمائش کے نتیجے میں گناہوں سے نجات مل جائے تو اللہ پاک کا شکر ادا کیا جائے،سچی توبہ کی جائے اور آئندہ ہر قسم کے گناہ سے بچنے کا پکا ارادہ کیا جائے۔اللہ پاک ہمیں اپنی اطاعت گزار بندیوں میں شامل فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*ملیر کراچی

Comments