بچوں کے ساتھ غلط بیانی مت کیجئے!
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:بچوں کے ساتھ غلط بیانی مت کیجئے!

حضرت عبدُ اللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ایک دن حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے کہ میری والدہ نے مجھے پکارا:جلدی سے آؤ!میں تمہیں کچھ دوں گی۔حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم  نے میری والدہ سے پوچھا:تم اس بچے کو کیا چیز دینا چاہتی ہو؟ میری والدہ نے کہا:میں اسے ایک کھجور دینا چاہتی ہوں۔تو حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا:یاد رکھنا!اگر اس کہنے کے بعد تم بچے کو کوئی چیز نہ دیتی تو تمہارے نامۂ اعمال میں ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا۔([1])

معلوم ہوا کہ بچوں سے بھی غلط بیانی کرنا جائز نہیں کہ یہ بھی جھوٹ ہی کی ایک قسم ہے۔لیکن فی زمانہ ہمارے معاشرے میں اس بات کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا،نہ صرف والدین بلکہ رشتےدار اور دیگر لوگ بھی بلا جھجک بچوں سے جھوٹ بولتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کام کا گناہ ہونے کے سبب اُخروی نقصان اپنی جگہ لیکن اس سے بچے کے ننھے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے اور اس کی غلط تربیت کی بنیاد پڑجاتی ہے۔بچے کو کھانے یا پڑھائی کی طرف راغب کرنے کے لئے جھوٹا لالچ دینا اور سلانے کے لئے جھوٹ موٹ ڈرانا والدین میں بہت عام ہے مگر والدین شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ بچے کو صرف کھلانا،  پلانا، سلانا اور پڑھانا ہی ان کی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کی اچھی تربیت کرنا اور اس کو جذباتی طور پر ایک سلجھا ہوا انسان بنانا بھی ضروری ہے۔  اس طرح کے بولے جانے والے جھوٹ سے بعض بچوں میں سخت خوف پیدا ہو جاتا ہے،جو ساری زندگی انہیں پریشان رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ بہت سے لوگ بھی ایسے ہوتے ہیں جو بچوں کے جذبات سے کھیلنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے اور والدین بھی ایسے مواقع پر یا تو مُروّت میں کچھ نہیں بولتے یا پھر وہ یہ سمجھ ہی نہیں پاتے کہ یہ چیز بچے کو تکلیف دے رہی ہے۔کچھ لوگ بچوں کو غصہ دلا کر،چڑا کر اور تنگ کر کے انجوائے کرتے ہیں،تو کچھ لوگ جھوٹے لالچ یا خوف دلا کر بچے کے بے وقوف بننے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔یاد رکھئے!بعض بچے بہت حساس ہوتے ہیں اور اس طرح کی صورتحال میں بڑے اگرچہ اس مذاق کو مذاق ہی سمجھ کر مزے لے رہے ہوتے ہیں لیکن بچے کے لئے وہ ہرگز مذاق نہیں ہوتا بلکہ وہ ایسی باتوں کو واقعی حقیقت سمجھ لیتا ہے اور اس کے ذہن پر بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

بچوں کو جذباتی لحاظ سے مضبوط بنانے کے لئے ان سے جھوٹ بولنا بند کر دیجئے اور دوسروں کو بھی نہ بولنے دیجئے،ان کی عمر اور نفسیات کے مطابق ان کو زندگی کے حقائق سے آگاہ کیجئے،ان کی جذباتی صحت کا خیال رکھیے اور بلا وجہ کے ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہونے دیجئے۔بعض والدین بچوں کو بلا وجہ کے احساسِ جرم میں مبتلا رکھتے ہیں تو بعض احساسِ کمتری میں؛ بعض بچوں میں خود پسندی اور احساسِ برتری پیدا کر دیتے ہیں تو بعض خوش فہمیوں کی دنیا میں رکھتے ہیں۔ یاد رکھئے!اس طرح بچے کو آگے زندگی گزارنے میں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں،اس لئے بچوں کو حقیقت پسند بنائیے،خصوصاً بیٹیوں کو خوابوں کی دنیا میں رہنے کے بجائے حقیقت کا سامنا کرنا سکھائیے، انہیں بتائیے کہ زندگی کوئی پریوں کی کہانی نہیں ہوتی،اس لئے بےجا  امیدیں رکھ کر آخر میں مایوسی کا شکار ہونے سے بہتر ہے کہ شروع ہی سے سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے زندگی گزاری جائے۔ ٹیچرز کو بھی اسٹوڈنٹس کی تربیت میں ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں جھوٹ سے بچائے اور بچوں کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ خاتمِ النبیین صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ملیر کراچی



[1]ابو داود،4/ 387،حدیث:4991


Share