موضوع:حسد سے بچئے!
فرمانِ الٰہی ہے:
اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ-فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا(۵۴) (پ5،النسآء:54)
ترجمہ:بلکہ یہ لوگوں سے اس چیز پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے پس بیشک ہم نے ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا فرمائی اور انہیں بہت بڑی سلطنت دی۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
ایک آیت میں ہے:
بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۚ-فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ(۹۰) (پ1،البقرۃ:90)
ترجمہ:انہوں نے اپنی جانوں کا کتنا برا سودا کیا کہ اللہ نے جو نازل فرمایا ہے اس کا انکار کررہے ہیں اس حسد کی وجہ سے کہ اللہ اپنے فضل سے اپنے جس بندے پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے تو یہ لوگ غضب پر غضب کے مستحق ہوگئے اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ قرآنِ پاک کس طرح حسد سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔
یاد رکھیے!حسد نہایت بری صفت ہے۔اللہ پاک نے کئی مقامات پر حسد سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔لہٰذا مرد ہو یا عورت،ہر ایک کے لیے یہی حکم ہے کہ وہ اپنے آپ کو حسد جیسی آفت سے دور رکھے اور آپس میں خوش اخلاقی اور محبت کے رشتے قائم رکھے۔
حسد کی تعریف و حکم:
کسی کی دینی یا دنیاوی نعمت کے زوال یعنی اس کے چھن جانے کی تمنا کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فلاں شخص کو یہ نعمت نہ ملے اسی کا نام حسد ہے۔([1]) اگر اپنے اختیار و ارادے سے بندے کے دل میں حسد کا خیال آئے اور یہ اس پر عمل بھی کرتا ہے یا بعض اعضاء سے اس کا اظہار کرتا ہے تو یہ حرام ہے۔ ([2])
حسد کی مزید وضاحت کرتے ہوئے مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ تفسیرِ نعیمی میں فرماتے ہیں:اے مسلمانو!اللہ نے جو بعض بندوں کو بعض پر دینی،دنیاوی،جسمانی،روحانی،داخلی، خارجی بزرگیاں دی ہیں،ان میں ایک دوسرے پر حسد یا نا جائز آرزو نہ کرو،رب پر اعتراض نہ کرو۔کسی کو امیر کیا،کسی کو غریب، کسی کو مرد بنایا،کسی کو عورت،کسی کو نیک بخت کیا،کسی کو بدبخت، کسی کو عالم یا ولی بنایا،کسی کو ان کا مُتَّبِع،یہ اس کی مہربانی ہے۔ زمین،زمان،مکین،تارے،چاند،سورج وغیرہ سب میں فرقِ مَراتِب ہے تو انسانوں میں بھی ہونا چاہیے۔ مَردوں کے لیے ان کے سے اعمال و درجات ہیں،عورتوں کے لیے ان کے لائق اعمال درجات ہیں۔مرد غازی،سلطان، قاضی بننے کے لیے ہیں تو عورتیں غازی،سلطان،قاضی جننے کے لیے ہیں۔مرد شمعِ محفل ہے تو عورتیں چراغ خانہ۔ان میں سے ہر ایک کو اپنے اعمال کا عوض پورا پورا ملے گا۔اللہ کے بندو!حسد،کینہ،بغض اور رب پر اعتراض نہ کرو بلکہ ہمیشہ اللہ سے اس کی مہربانی مانگو۔اگر وہ مہربانی فرمادے تو تھوڑے عمل پر زیادہ ثواب دیدے۔یہ عقیدہ رکھو کہ اللہ علیم ہے،حکیم ہے۔اس نے جو جسے دیا حکمت سے دیا،سب بندوں کو یکساں(برابر) نہ کیا،حکمت سے ہی کیا،لہٰذا اس کی عطا پر راضی رہو،غرضیکہ اس کی عطا میں لاکھوں حکمتیں ہیں،ان حکمتوں میں غور کر کے اس کی حمد کرو نہ کہ اس پر اعتراض ۔([3])
حسد سے منع کرتے ہوئے علامہ ابو الحسنات سید محمد احمد قادری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اصطلاح میں آرزو کرنے کو تمنا کہتے ہیں۔اللہ اگر کسی کو کسی بات میں برتری و فضیلت عطا فرمائے اور اسے اس میں ممتاز کردے تو اس کی ہوس نہ کرو،حرص و حسد اللہ کو پسند نہیں۔کسی کی عزت و ترقی پر پچھتانا خواہ دنیا کی جہت سے ہو یا دین کی جس سے آپس میں حسد و بغض پیدا ہو یہ ممنوع ہے اور کسی کی ترقی دیکھ کر یہ آرزو کرنا کہ اللہ نے جو اسے دیا سلامت رہے اور مجھے بھی ایسا ہی دے خواہ وہ دنیا کی جہت سے ہو یا دین کی وہ غبطہ(یعنی رشک) کہلاتا ہے،یہ منع نہیں۔جو بری صفت ہے اس میں حاسد اپنے لیے وہ نعمت چاہتا ہے جو دوسرے میں دیکھے اور اس سے اس کے زوال کا متمنی ہوتا ہے۔([4]) لہٰذا انسان کو چاہیے کہ ظاہری امراض کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو باطنی امراض،جیسے جھوٹ،غیبت،چغلی،حسد،تکبر وغیرہ سے بھی محفوظ رکھے اور اللہ پاک کے احکامات کی پیروی کرتے ہوئے اپنی زندگی نیکیوں میں گزارے،ورنہ آخرت میں نقصان کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔
ان تمام باتوں سے واضح ہو گیا کہ حسد جیسی آفت سے بچنا ہر ایک کے لیے کتنا ضروری ہے!حسد انسان کو لے ڈوبتا ہے، حسد اللہ پاک کی ناراضی کا سبب ہے۔حسد سے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حسد سے نیکیاں ضائع ہو جاتی ہیں۔حسد سے انسان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں کم ہو جاتی ہیں۔لہٰذا مرد ہو یا عورت ہر ایک کو چاہیے کہ ایک دوسرے سے حسد نہ کریں بلکہ غبطہ (یعنی رشک)کریں۔غبطہ یہ ہے کہ کسی میں کوئی خوبی یا اس کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ مجھے بھی یہ خوبی یا نعمت مل جائے اور اس سے اس خوبی یا نعمت کے زوال کی خواہش نہ ہو تو یہ غبطہ یعنی رشک ہے۔([5])
حسد سے بچنے کا علاج:
اللہ پاک کی رضا پر راضی رہیے،اس کی اطاعت والے کاموں میں لگی رہیے،گناہوں سے بچیے،حسد کی تباہ کاریوں پر نظر رکھیے،لوگوں کی نعمتوں پر نگاہ نہ رکھیے، دوسروں کی خوشی میں خوش رہنے کی عادت بنائیے،اپنی خامیوں کی اصلاح کیجیے اور اپنی موت کو یاد رکھیے ان شاء اللہ الکریم ایسا کرنے سے کوئی بھی باطنی مرض آپ کو قابو نہیں کر سکے گا،آپ شیطان کے وار سے بچنے میں کامیابی حاصل کر لیں گی اور دل کو بھی قرار حاصل رہے گا۔
دل کے صبر و قرار کا نسخہ:
دل کے صبر و قرار کا نسخہ اللہ پاک کی رضا پر راضی رہنا ہے۔دنیا میں کوئی انسان ہر نعمت سے مالا مال نہیں ہوتا۔کسی کے پاس مال ہے تو ممکن ہے صحت یا خوبصورتی کی کمی ہو،کسی کو خوبصورتی ملی ہے تو ممکن ہے مال نہ ہو۔اگر انسان دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر اپنی محرومیوں کا غم دل میں بٹھا لے تو بے قراری بڑھتی جائے گی،لیکن اگر اللہ پاک کی عطا پر راضی رہے اور آخرت کے ثواب کو پیشِ نظر رکھے تو دل کو سکون حاصل ہوسکتا ہے۔
حضرت عبدُ اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا:اگر ابنِ آدم کے پاس مال کی دو وادیاں بھی ہوں تو بھی وہ تیسری وادی کی خواہش کرے گا اور انسان کا پیٹ تو مٹی ہی بھر سکتی ہےاور جو اللہ پاک کی بارگاہ میں توبہ کرے تو اللہ پاک اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔([6])
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ارشاد فرمایا:تم اپنے سے نیچے والے کو دیکھو اور جو تم سے اوپر ہو اسے نہ دیکھو،یہ اس سے بہتر ہے کہ تم اللہ پاک کی اپنے اوپر نعمت کو حقیر جانو۔([7])
حاسدوں کے حسد،کی نہیں کوئی حد اب تو کر دو کرم،تاجدارِ حرم
لہٰذا دوسروں کی نعمتوں پر نظر رکھنے کے بجائے اللہ پاک کی عطا پر شکر اور اس کی رضا پر راضی رہنے کی عادت بنائیے، اس سے دل حسد اور بے قراری سے محفوظ رہے گا۔
اللہ پاک ہمیں حسد جیسی آفت سے بچنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* معاونہ ومتخصصہ دارالافتاء اہلسنت
دھوراجی کراچی
[1]حدیقہ ندیہ،3/34
[2]حدیقہ ندیہ،3/35
[3]تفسیر نعیمی،5/47ملتقطاً
[4]تفسیر حسنات،1/747
[5]نجات دلانے والے اعمال کی معلومات،ص275
[6]بخاری،4/229،228،حدیث:6436
[7]مسلم،ص1211،حدیث:7430

Comments