موضوع:حضور کی غریب و نادار صحابہ سے محبت
(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 53ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کئے جا رہے ہیں۔)
غریبوں اور مسکینوں سے محبت کرنا اخلاقِ حسنہ کا بنیادی حصہ ہے۔اسلام اور انسانیت ہمیں سکھاتے ہیں کہ نادار افراد کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں اور ان کی ضروریات کا خیال رکھیں، ان کی مدد کریں تاکہ معاشرے میں محبت و بھائی چارہ اور برابری کی فضا قائم ہو۔ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم غریبوں اورمسکینوں سے بےپناہ محبت فرماتے تھے،آپ غریبوں کے غم خوار تھے،آپ نے ہمیشہ غریبوں کو گلے لگایا اور انہیں معاشرے میں عزت واحترام ہی نہیں دیا،بلکہ ان سے محبت کرنے،ان کے قریب رہنے اور ان کی قدر کرنے کے بارے میں خصوصی تاکید بھی فرمائی۔یہاں تک کہ اللہ پاک سے دعا فرماتے:اے اللہ!مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ،مسکینی کی حالت میں موت دے اور قیامت کے دن مسکینوں کی جماعت میں میرا حشر فرما۔([1])
حضور مسجدِ نبوی کے چبوترے پر بیٹھنے والے غریبوں اور بےسر وسامان صحابہ(اصحابِ صفہ) کو خصوصی شفقت وقرب سے نوازتے اور خود ان کی خبر گیری فرماتے۔اگر کوئی صحابی بیمار ہو جاتے تو ان کی عیادت کے لیے خود ان کے گھر تشریف لے جاتے،چاہے وہ مالی طور پر کتنے ہی کمزور اور نادار کیوں نہ ہوں۔نیز آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم مالداروں کے ساتھ ساتھ غریبوں کی دعوت کو بھی بخوشی قبول فرماتے تھے اور کسی کو غربت کی وجہ سے حقیر نہ جانتے تھے۔نیزحضور نے یہ اصول قائم فرمایا کہ کسی انسان کی عزت کا معیار اس کا مال نہیں،بلکہ اس کا تقویٰ اور اخلاق ہے،حضرت بلال حبشی اور سلمان فارسی جیسے غریب اور نادار صحابہ کو جو بلند مقام حاصل ہے وہ آپ کی محبت ہی کا ثمر ہے۔
ایک حدیثِ مبارک میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مخاطب ہو کر فرمایا:اے عائشہ!مسکینوں سے محبت کرو اور انہیں اپنے قریب کرو کیونکہ اللہ پاک قیامت کے دن تمہیں(اس کی وجہ سے) قریب فرمائے گا۔([2])
ہمیں بھی پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ادا کو اپناتے ہوئے غریبوں اور ناداروں سے محبت کرنی چاہیے اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہیے،کیونکہ مسکین اور غریب کے ساتھ اچھا سلوک ایک ایسا اخلاقی اور دینی فریضہ ہے جو معاشرے میں محبت،سکون اور برابری کو فروغ دیتا ہے۔ اسلام اور انسانی اقدار میں کمزور اور نادار افراد کی مدد کرنے، ان کے حقوق کا خیال رکھنے اور ان سے نرمی سے پیش آنے پر زور دیا گیا ہے۔
معاشرے کی حقیقی ترقی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ طاقتور اور صاحبِ استطاعت لوگ کمزوروں کا ہاتھ پکڑیں یعنی ان کی مدد کریں اور ان سے محبت کریں،مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک نہ صرف آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے بلکہ ایک پرامن اور مہذب معاشرہ تشکیل دینے کی بنیاد بھی ہے۔اللہ پاک ہمیں بھی حضور کی غریب و نادار صحابہ سے محبت کا حصہ عطا فرمائے۔ اٰمین
سیرتِ رسول کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم غریب و نادار صحابہ کرام سے بے پناہ محبت،شفقت اور خاص الفت فرماتے تھے۔آپ ان کی خبر گیری خود فرماتے،ان کو خاص مقام عطا فرماتے اور ان کے غم میں بھی شریک ہوتے تھے۔قرآنِ کریم میں ہے:
لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ(۱۲۸)
(پ11،التوبۃ:128)
ترجمہ:بیشک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لےآئے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے،وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے،مسلمانوں پر بہت مہربان،رحمت فرمانے والے ہیں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
حضور کے خاص خادم حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حضور کی دس برس خدمت کی مگر حضور نے کبھی بھی ان سے اف نہ فرمایا نہ یہ فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا اور یہ کام کیوں نہیں کیا؟ ([3])
سبحٰن الله!میرے کریم آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا کیسا اندازِ محبت ہے کہ کبھی بھی آپ نے ان کو کسی بات پر جھڑکا نہ ڈانٹا، حالانکہ انسان کتنا ہی صابر ہو،بسا اوقات جلد بازی میں کچھ نہ کچھ بول ہی دیتا ہے مگر میرے کریم آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے اصحاب سے نہایت شفقت و نرمی والا معاملہ فرماتے۔
غریبوں کا صدقہ:
بعض صحابہ کرام نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یارسول اللہ!مال دار لوگ اجر و ثواب میں بڑھ گئے،وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں،ہماری طرح روزے رکھتے ہیں اور اپنے زائد مال سے صدقہ دیتے ہیں (جبکہ ہمارے پاس ضرورت سے زائد مال نہیں ہے جس سے ہم صدقہ کریں)،تو حضور نے ارشاد فرمایا:کیا اللہ پاک نے تمہارے لئے وہ اعمال نہیں بنائے جن کے ذریعے تم صدقہ کرو؟بےشک ہر تسبیح (سبحٰن اللہ کہنا) صدقہ ہے،ہر تکبیر (اللہ اکبر کہنا) صدقہ ہے،ہر تحمید(الحمدُ للہ کہنا)صدقہ ہے،ہر تہلیل(لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہنا)صدقہ ہے،نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے منع کرنا صدقہ ہے اور تمہاری شرم گاہ میں بھی صدقہ ہے۔ صحابہ نے عرض کی:یارسول اللہ!ہم میں سے کوئی شخص اپنی خواہش پوری کرے تو کیا اس میں بھی اس کے لئے اجر ہے؟ ارشاد فرمایا:مجھے بتاؤ کہ اگر وہ حرام جگہ اپنی خواہش پوری کرتا تو اس پر گناہ نہ ملتا؟ اسی طرح جب وہ حلال جگہ خواہش پوری کرے گا تو اس کے لئے ثواب ہوگا۔([4])
دودھ کا پیالہ:
ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھوک سے نڈھال ہورہے تھے،کئی دن کے فاقہ کی وجہ سے زمین پر کھڑا ہونا دشوار تھا،کچھ اصحاب سے انہوں نے اشارۃً بات کی کہ کھانے کو مل جائے مگر وہ نہ سمجھ پائے،آخرکار نبی رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ادھر تشریف لائے اور ان کے دل کی کیفیت کو جان کر انہیں اپنے ساتھ کاشانۂ اقدس لے گئے،وہاں دودھ کا ایک پیالہ رکھا ہوا تھا،آپ نے اصحابِ صفہ کو بھی بلوایا،جب وہ لوگ آ گئے تو حضور نے فرمایا:اے ابو ہریرہ!پیالہ اٹھاؤ اور ان لوگوں کو پلاؤ۔جب سب اصحابِ صفہ خوب سیر ہو چکے تو حضور نے پیالہ اپنے مقدس ہاتھ میں رکھا اور ابوہریرہ کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا: اے ابو ہریرہ!اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔پھر فرمایا:بیٹھ جاؤ اور پیو۔پھر وہ حضور کے اصرار پر پیتے رہے یہاں تک کہ دودھ پینے کی گنجائش نہ رہی تو وہ پیالہ حضور نے لے کر اللہ پاک کی حمد کی اور بسم اللہ پڑھ کر بچا ہوا دودھ پی لیا۔([5])
کیسی محبت تھی حضور کی اپنے غریب صحابہ سے کہ حضور ان کی کیفیات سے بھی واقف ہوتے،نہ صرف واقف ہوتے بلکہ ان کے لئے کھانے پینےکا انتظام فرماتے۔حضور کا سب صحابہ کرام کو پلا کر پھر خود نوش فرمانا یہ محبت ہی کا انداز ہے۔
اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمیں بھی غریب و نادار لوگوں کی دلجوئی کرنے اور مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
[1] ابن ماجہ،4/434،حدیث:4126
[2] ترمذی،4/158،حدیث:2359
[3] بخاری،4/110،حدیث:6038
[4] مسلم،ص 390،حدیث:2329
[5] بخاری،4/234،حدیث:6452 ملخصاً
Comments