موضوع:حضور کے دودھ پینے کی عمر کے واقعات(قسط 01)
گزشتہ سے پیوستہ:
حضور نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سیدہ حلیمہ رضی اللہ ُعنہا اور ان کے خاندان پر نوازشوں کا ذکر جاری ہے۔پچھلی قسط میں ان برکتوں کا ذکر ہوا جن کا تعلق سیدہ حلیمہ رضی اللہ ُعنہا کی ذات سے تھا۔اب ان برکتوں کو ذکر کیا جائے گا جن کا تعلق سیدہ حلیمہ رضی اللہ ُعنہا کے مال ،مویشی اور قبیلے سے ہے:
سیدہ حلیمہ کے مال مویشیوں اور قبیلے والوں کا حال:
سیدہ حلیمہ رضی اللہ ُعنہا کی گدھی کا نام سدرہ اور اونٹنی کا نام السَّمْرَاءُ اللَّقُوح تھا، ([1]) گدھی کی حالت یہ تھی کہ جب سیدہ حلیمہ رضی اللہ ُعنہا مکے شریف اپنی ساتھی عورتوں کے ساتھ آ رہی تھیں تو یہ اپنی کمزوری کی وجہ سے تیز چل بھی نہ سکتی تھی،([2]) یہی وجہ ہے کہ بار بار پیچھے رہ جاتی۔جبکہ اونٹنی کے متعلق امام ابو نعیم اصبہانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سیدہ حلیمہ رضی اللہ ُعنہا کی اونٹنی اتنی بوڑھی تھی کہ جب آپ مکے شریف روانہ ہوئیں تو اس سے ایک دن پہلے اس اونٹنی جیسی عمر کا اونٹ مر گیا تھا گویا وہ بھی موت کی عمر کو پہنچ چکی تھی، یعنی یہ اونٹنی بوڑھی بھی تھی اور قحط کی وجہ سے اتنی کمزور تھی کہ اس کے تھنوں میں دودھ کا ایک قطرہ تک نہ تھا۔جب سیدہ حلیمہ رضی اللہ ُعنہا حضور نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو لے کر اس جگہ پہنچیں جہاں انہوں نے مکے شریف میں پڑاؤ کیا ہوا تھا تو کیا دیکھتی ہیں کہ گدھی اپنی رسی تڑوا کر گھر میں گھوم رہی ہے اور اونٹنی بھی کھڑی ہو کر جگالی کر رہی ہے۔یہ دیکھ کر سیدہ حلیمہ رضی اللہ ُعنہا(حیران ہو گئیں اور)اپنے شوہر سے کہنے لگیں:یہ بچہ بابرکت معلوم ہوتا ہے۔تو ان کے شوہر حضرت حارث رضی اللہ عنہ نے فرمایا:(ہاں واقعی!بات تو درست ہے کیونکہ) کچھ برکت تو ابھی سے نظر آنے لگی ہے۔پھر کیا دیکھتے ہیں کہ وہ اونٹنی جو ایک قطرہ دودھ نہ دیتی تھی اس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے ہیں۔چنانچہ حضرت حارث رضی اللہ عنہ نے اونٹی کو دوہا تو دودھ سے ایک بڑا برتن بھر گیا جو انہوں نے سیدہ حلیمہ رضی اللہ ُعنہا کو پلا دیا۔پھر دوہا تو دوسرا برتن بھر گیا وہ انہوں نے خود سیر ہو کر پی لیا۔اب جو دیکھا تو ابھی بھی اونٹنی میں دودھ تھا۔چنانچہ تیسری بار پھر دوہا تو ایک اور برتن بھر گیا جسے انہوں نے مشکیزے وغیرہ میں محفوظ کر لیا۔([3])
حضور نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکی سیدہ حلیمہ رضی اللہ ُعنہا کے گھر تشریف آوری کے بعد یہ سب سے پہلی برکت تھی جو ان کے مویشیوں کو حاصل ہوئی،گویا کہ ان کے مویشیوں کی چال ڈھال تبدیل ہو گئی اور وہ حضور نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا قرب پا کر اپنی قسمت پر ناز کرنے لگے اور ان کی حالت میں ایسی تبدیلی آئی کہ وہ پہچان میں ہی نہ آتے، جیسا کہ امام ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ دلائل النبوۃ میں فرماتے ہیں:واپسی کے سفر پر جب حضرت حارث رضی اللہ عنہ اونٹنی پر سوار ہوئے اور سیدہ حلیمہ رضی اللہ ُعنہا بھی حضور نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو گود میں لے کر گدھی پر سوار ہوئیں اور مقام سرر پر موجود اپنی ساتھی عورتوں کے پاس پہنچیں تو ان کی ساتھی عورتیں انہیں اپنی طرف آتا دیکھ کر ایک دوسرے سے کہنے لگیں:یہ ہیں تو حلیمہ رضی اللہ ُعنہا اور ان کا شوہر ہی، مگر یہ گدھی اور اونٹنی ان کی نہیں لگ رہیں، کیونکہ یہ گدھی اور اونٹنی بہت زیادہ صحت مند ہیں جبکہ ان کے جانوروں کا تو سر تھمنے میں نہ آتا تھا۔پھر جب ان سب نے سیدہ حلیمہ رضی اللہ ُعنہا سے پوچھا:تم نے اپنے جانوروں کے ساتھ کیا کیا ہے؟تو آپ نے انہیں بتایا:خدا کی قسم! میں نے تو کچھ نہیں کیا، بس یہ سب اس بچے کی برکت ہے، پھر اس کے بعد جب آپ نے انہیں حضور نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مزید چند برکتیں بتائیں تو وہ سب سیدہ حلیمہ رضی اللہ ُعنہا کی قسمت پر رشک کرنے لگیں۔([4])
اس کے بعد جب واپسی کا سفر شروع ہوا تو اس کے متعلق شیخ عبدُ الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہنے سیدہ حلیمہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ میں حضور کو اپنی گود میں لے کر اپنی گدھی پر سوار ہوئی ، میری گدھی خوب چست و چالاک ہو گئی تھی اور اپنی گردن اوپر تان کر چل رہی تھی(گویا کہ فخر سے اپنی قسمت پر ناز کر رہی ہو)۔پھر وہ قبیلے کے جانوروں کے آگے آگے دوڑنے لگی۔لوگ اس کی تیز رفتاری پر تعجب کرنے لگے۔میری ساتھی عورتیں مجھ سے کہنے لگیں:اے بنتِ ابی ذویب!کیا یہ وہی جانور ہے جس پر سوار ہو کر ہمارے ساتھ آئی تھیں،جو تمہارے بوجھ کو اٹھا نہیں سکتا تھا اور سیدھا چل تک نہ سکتا تھا؟میں نے جواب دیا:خدا کی قسم!یہ وہی جانور ہے اور یہ وہی گدھی ہے لیکن اللہ پاک نے اس بچے کی برکت سے اسے طاقت ور کر دیا ہے۔اس پر انہوں نے کہا:خدا کی قسم!اس کی بڑی شان ہے۔سیدہ حلیمہ فرماتی ہیں:میں نے اپنی گدھی کو جواب دیتے سنا:ہاں!خدا کی قسم!میری بڑی شان ہے۔میں مردہ تھی،مجھے زندگی عطا فرمائی، میں کمزور تھی،مجھے قوت و توانائی بخشی۔اے بنی سعد کی عورتو! تم پر تعجب ہے! تم غفلت میں ہو اور تم نہیں جانتیں کہ میری پیٹھ پر کون ہے!میری پیٹھ پر سیدُ المُرسلین،خَیرُ الاوَّلین و الآخِرین اور حبیبِ ربّ العالمین ہیں۔([5])
امام ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ نے سیدہ حلیمہ رضی اللہ ُعنہا کا یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ آپ اپنی بکریوں کی حالت کچھ یوں بیان فرماتی ہیں کہ ہمارے گھر میں دس بکریاں تھیں جو کمزوری کے باعث باہر نہیں نکلا کرتی تھیں، مگر اب ہماری حالت یہ ہو گئی کہ ہم اپنے اونٹ اور بکریاں چرنے کے لئے بھیجنے لگے تو وہ دودھ سے بھر کر لوٹتے اور ہم صبح و شام دودھ دوہتے۔میں نے محسوس کیا کہ ہماری اونٹنی کی کوہان اونچی ہو گئی ہے اور گدھی کی رانیں گوشت سے بھرتی جا رہی ہیں جو کبھی بھوک کے مارے ایسے ہوتے تھے گویا ان میں کیڑا پڑا ہوا ہے۔([6])
سیدہ حلیمہ جب حضور نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اپنے ہاں لائیں تو اس وقت وہ علاقہ بارش نہ ہونے کی وجہ سے خشک ہو چکا تھا، آپ کی آمد سے کھیت لہلہانے لگے،حضرت حلیمہ کے مویشیوں کی تعداد بڑھ گئی، خوب نشو و نما ہوئی اور آپ کی وجہ سے حضرت حلیمہ کی عزت و شہرت بڑھ گئی اور ہر وقت بھلائی و سعادت کا نزول ہوتا،آپ کی برکت سے سیدہ حلیمہ کے دن پھر گئے،بلکہ حضور نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی وجہ سے سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا عزت و بزرگی کے بلند مقام پر فائز ہو گئیں، ان کے مویشیوں کی تعداد بڑھ گئی،ان کی زمین سرسبز ہوگئی اور یہ سعادت صرف حضرت حلیمہ تک محدود نہ رہی، بلکہ تمام بنو سعد نے اس سے سعادت پائی۔([7])
سیدہ حلیمہ کا قبیلہ بنو سعد حضور کی برکتوں سے کس طرح فیض یاب ہوا،اس کے متعلق سیدہ حلیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں جب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو لے کر اپنے گھر داخل ہوئی تو بنی سعد کا کوئی گھر ایسا نہ تھا جس میں رہنے والوں نے مشک و عنبر کی خوشبو نہ سونگھی ہو، حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دی گئی یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو کوئی جسمانی تکلیف پہنچتی تو وہ حضور کا ہاتھ مبارک پکڑ کر تکلیف والی جگہ پر رکھتا تو اللہ پاک کے حکم سے فوراً آرام آجاتا۔یونہی اگر بکری یا اونٹ کو تکلیف ہوتی تو آپ کا ہاتھ مبارک تکلیف کی جگہ رکھنے سے اسے فوری آرام آ جاتا۔([8]) قحط کے ان دنوں میں بکریاں بہت کم دودھ دیتی تھیں،سیدہ حلیمہ کی ایک بکری کا نام اطلال تھا،اس کے تھنوں کو حضور نے مس فرمایا تو اس کی برکت کا ذکر امام ابو نعیم فرماتے ہیں: حضور نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ان کی بکری کے تھنوں کو چھویا تو صبح و شام جب چاہتے اس سے دودھ حاصل کرلیتے، حالانکہ ان ایام میں قحط سالی کی وجہ سے سبزہ تک نہ تھا۔([9])
حضرت حلیمہ کے چرواہوں میں سے کسی کا قول ہے کہ ہم سیدہ حلیمہ کی بکریاں لے کر جاتے تو وہ زمین سے سر نہ اٹھاتیں ( کچھ کھاتی ہی رہتیں) ان کے منہ اور مینگنیوں میں سبزہ ہوتا تھا، جبکہ ہم اپنی قوم کی دوسری بکریاں لے کر جاتے تو (انہیں کھانے کو سبزہ نہ ملتا تھا) وہ زیادہ سے زیادہ یہ کرتیں کہ اگلے پاؤں اٹھا کر کسی جھاڑی سے کوئی لکڑی وغیرہ منہ میں ڈال لیتیں۔قوم کی بکریاں واپس لوٹتے ہوئے بہت بھوکی ہوتیں جبکہ سیدہ حلیمہ کی بکریوں کے پیٹ زیادہ کھانے کے سبب گویا کہ پھٹنے والے ہوتے۔([10])
شیخ عبدُ الحق مُحدِّث دِہْلَوی رحمۃ اللہ علیہفرماتے ہیں:سیدہ حلیمہ فرماتی ہیں:ہماری قوم کے لوگ اپنے چرواہوں سے کہتے کہ تم اپنی بکریوں کو ان چراگاہوں میں کیوں نہیں چراتے جس چراگاہ میں بنتِ ابی ذویب کی بکریاں چرتی ہیں؟حالانکہ وہ اتنا نہیں جانتے کہ ہمارے گھر میں یہ خیر و برکت کہاں سے آئی ہے!یہ برکت غیبی چراگاہ اور کسی اور چارے سے تھی۔بہرحال اس کے بعد ہماری قوم کے چرواہوں نے ہمارے چرواہوں کے ساتھ بکریاں چرانی شروع کر دیں۔یہاں تک کہ اللہ پاک نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی وجہ سے ان کے اموال اور بکریوں میں بھی خیر و برکت پیدا کر دی اور یوں تمام قبیلے میں خیر و برکت پھیل گئی۔میں جانتی ہوں کہ یہ سب حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے وجودِ گرامی کی برکت سے ہے۔([11])
سیدہ حلیمہ پر ان تمام برکتوں کا نزول کیوں ہوا، اس کے متعلق قصیدہ ہمزیہ میں بڑے ہی خوبصورت اشعار مذکور ہیں، چنانچہ یہ اشعار ذکر فرمانے کے بعد امام نور الدین حلبی رحمۃ اللہ علیہ ان کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:حضور نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو دودھ پلانے کی برکت فوراً ہی یہ ظاہر ہوئی کہ اس دودھ پلانے والی کی بکریاں جو بہت کمزور اور بے دودھ کی تھیں اچانک دودھ دینے لگیں اور خوب موٹی تازی ہو گئیں، انہوں نے سیدہ حلیمہ اور ان کے گھرانے کو دودھ سے خوب سیراب کیا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ زبردست خشک سالی اور قحط کے بعد ان کو زندگی کا آرام و عیش حاصل ہوا۔یہ صرف اس کی برکت تھی کہ سیدہ حلیمہ کو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لئے غذا اور خوراک حاصل کرنی تھی۔
حضرت حلیمہ کی یہ سعادت کتنی زبردست تھی کہ انہوں نے حضور نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اپنا دودھ پلایا کہ ان کو اس نعمت کے بدلے میں دوہری نعمت و سعادت حاصل ہوئی اور جو نعمت انہوں نے حضور کو پیش کی تھی اسی قسم کی نعمت ان کو حاصل ہوئی۔کیونکہ اللہ پاک کا قانون یہ ہے کہ انسان جس قسم کی نیکی کرتا ہے اسی قسم کی اس کو جزا دی جاتی ہے۔ لہٰذا جب سیدہ حلیمہ نے حضور کو اپنے دودھ سے سیراب کیا تو خود ان کو بھی دودھ اور غذا سے سیراب کیا گیا۔اس میں کوئی تعجب کی بات بھی نہیں ہے کیونکہ جب اللہ پاک کسی نیک اور شریف انسان کی محبت کے لئے کچھ لوگوں کا انتخاب فرماتا ہے تو خود وہ لوگ بھی اس شریف انسان کی وجہ سے شریف اور خوش قسمت ہو جاتے ہیں۔([12])
(ان شاء اللہ اگلی قسطوں میں ان عجائبات وغیرہ کا ذکر کیا جائے گا جو سیدہ حلیمہ کے ہاں ظاہر ہوئے۔)
[1] دلائل النبوۃ لابی نعیم،ص90،حدیث:96
[2] مدارج النبوۃ مترجم،2/34
[3] دلائل النبوۃ لابی نعیم،ص90،حدیث:96
[4] دلائل النبوۃلابی نعیم،ص90، حدیث: 96
[5] مدارج النبوۃ مترجم،2/35
[6] دلائل النبوۃلابی نعیم،ص90، حدیث:96
[7] نثر الدرر فی مولد ابن حجر مترجم،ص139
[8] سبل الہدی و الرشاد،1/ 387
[9] دلائل النبوۃ لابی نعیم،ص91،حدیث:96
[10] دلائل النبوۃ لابی نعیم،ص 91، حدیث:97
[11] مدارج النبوۃ مترجم، 2/ 36
[12] سیرت حلبیہ، 1/ 134

Comments