شرح سلامِ رضا
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:شرح سلامِ رضا

145

اوّلیں دافعِ اہلِ رِفض و خروج

چارمی رکنِ ملت پہ لاکھوں سلام

مشکل الفاظ کے معانی:اوّلین:پہلے۔دافع:دورکرنے والے۔

چارمی رکنِ ملت:اُمت کے چوتھے ستون۔

مفہومِ شعر:اُمّت کے چوتھے خلیفہ اور روافض و خوارج کے فتنوں کے خلاف جنگ کرنے والی اوّلین ہستی مولا مشکل کشا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر لاکھوں سلام۔

شرح:اوّلیں دافعِ رِفض و اہلِ خروج:

اسلام کو مختلف ادوار میں کئی طرح کے فتنوں کا سامنا رہا ہے، کبھی اغیار کی طرف سے تو کبھی ان نام نہاد مسلمانوں کی طرف سے جو اسلام کی بات کرنے، اسلامی عبادات کرنے اور اسلامی شکل و صورت اختیار کرنے کے باوجود اسلام کو نقصان پہنچانے میں لگے رہے اور اپنے باطل عقائد اور فاسد نظریات کی وجہ سے گمراہ تصور کیے گئے،ان میں سرِ فہرست فتنۂ خارجیت و رافضیت ہے۔ خوارج سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور آپ کی آل و اولاد سے بغض رکھتے ہیں جبکہ روافض وہ لوگ ہیں جو حضرت علی اور اہلِ بیت کرام رضی اللہ عنہم کی محبت کی آڑ میں دیگر صحابہ کرام کی مذمت اور کردار کشی کو جائز سمجھتے ہیں۔

خوارج کی شروعات  دورِ نبوی میں ہی ہو گئی تھی،دورِ عثمانی میں ان کی فکر پروان چڑھی اور پھر حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دور میں ان کا عملی ظہور مُنَظَّم صورت میں سامنے آیا۔ مولائے کائنات رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں ان دونوں فتنوں کو ختم فرمایا،چنانچہ جب خوارج کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو آپ نے پہلے ان کے مقابلے کے لیے حضرت عبدُ اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا، وہ ان پر غالب آئے  اور نتیجے میں کثیر خارجی اپنے باطل عقائد سے تائب ہوئے،جبکہ ایک جماعت بھاگ کر نہروان چلی گئی اور وہاں ڈکیتی شروع کر دی،جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے خود ان کے خلاف لشکرکشی فرمائی اور وہاں جا کر اس فتنے کا خاتمہ کیا۔([1])

رہے وہ لوگ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کی آڑ میں حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر طعن کرتے تھے انہیں بھی کئی مواقع پر آپ نے ڈانٹ پلائی،مثلاً ایک مرتبہ ایک شخص نے آپ سے پوچھا کہ آپ کے ہوتے ہوئے مہاجرین و انصار نے آپ پر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کس طرح مقدم کر دیا؟ حالانکہ مرتبے میں آپ افضل ہیں!فرمایا:اگر یہ بات نہ ہوتی کہ مومن اللہ پاک کی پناہ میں ہوتا ہے تو میں تجھے قتل کر دیتا۔([2]) بلکہ آپ کا اعلان تھا کہ میں نے اگر کسی کو پایا کہ وہ مجھے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیتا ہے تو وہ بہتان تراش  ہے ۔([3])

الغرض رافضی اور خارجی دونوں گروہ گمراہ اور ہلاکت کے پیشوا ہیں۔سیدھے راستے پر صرف اہلِ سنت و جماعت ہیں جو محبتِ اہلِ بیت بھی رکھتے ہیں اور عظمتِ صحابہ بھی۔

چارمی رکنِ ملت:

حضرت علی مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ ہیں۔ لہٰذا جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے بعد خلافت مولا علی کو ملنی تھی مگر معاذَ اللہ انہوں نے مجبوراً دب کر پہلے تینوں خلفا کی بیعت کر لی تھی، تو یہ سراسر غلط اور مولا علی پر الزام ہے ، کیونکہ اللہ پاک کا شیر کسی سے دبتا ہے نہ مجبور ہوتا ہے، اگر مولیٰ علی رضی اللہ عنہ مجبور ہوں تو مشکل کشا کیسے ہوں گے!

146

شیرِ شمشیرِ زَن شاہِ خَیبر شِکَن

پَرتَوِ دستِ قدرت پہ لاکھوں سلام

مشکل الفاظ کے معانی:شمشیرِ زن:تلوار چلانے کا ماہر۔خیبر شِکَن:خیبر توڑ دینے والا۔پَرتَو:عکس۔دست:ہاتھ۔

مفہومِ شعر:تلوار چلانے کے ماہر،خیبر کے در و دیوار ہلا دینے والے اور اپنی طاقت میں دستِ قدرت کے عکسِ جمیل مولا علی رضی اللہ عنہ پہ لاکھوں سلام۔

شرح:آپ تلوار کے ایسے ماہر تھے کہ جب آپ کی تلوار اٹھتی تو بڑے بڑے بہادر گاجر مُولِی کی طرح کٹ کر زمین پر گرتے جاتے اور آپ کے سامنے کوئی نہ ٹھہر سکتا تھا، گویا کہ ہر طرف یہی شور ہوتا:لَافَتٰی اِلَّا عَلِیّ لَاسَیْفَ اِلَّا ذُو الْفِقَاریعنی جوان تو بس حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی ہیں اور تلوار تو بس ذو الفقار ہی ہے۔

شاہِ خیبر شکن:

غزوۂ خیبر میں جب دشمن قلعے کے اندر سے مسلمانوں پر حملہ کر رہے تھے اور قلعہ کی مضبوط دیوار ان کی حفاظت کا ذریعہ بن رہی تھی تو بشارتِ نبوی کے مطابق وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی تھے جنہوں نے خیبر کے دروازے کو ایک ہاتھ سے اکھاڑا،چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مولیٰ علی رضی اللہ عنہ نے دروازے کو اپنی پیٹھ پر اٹھالیا اور اس پر چڑھ کر مسلمانوں نے فتح حاصل کی۔بعد میں اسے اٹھانے کی کوشش کی گئی تو چالیس مردوں سے کم اسے نہ اٹھاسکے۔([4])

147

ماحیِ رفض و تفضیل و نصب و خروج

حامیِ دین و سنت پہ لاکھوں سلام

مشکل الفاظ کے معانی:ماحی:مٹانے والا۔رفض و تفضیل:بُغضِ صحابہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تمام صحابہ علیہمُ الرّضوان سے افضل سمجھنے کا عقیدہ رکھنا۔نصب و خروج:اہل بیت کی دشمنی رکھنا۔

مفہومِ شعر:رافضیت و خارجیت چاہے وہ ناصبیت کی شکل میں ہو یا تفضیلیت کی شکل میں ان تمام بدعقیدگیوں کو مٹاکر دین و سنت کی حمایت کرنے والے مولا مشکل کشا پہ لاکھوں سلام۔

شرح:حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جن فتنوں کو مٹانے کی کوشش فرمائی ان میں سے ایک تفضیلی  فتنہ بھی ہے، یعنی وہ لوگ جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دیتے ہیں۔ چنانچہ آپ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا: آخری زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو ہماری محبت کا دعویٰ کریں گے اور ہمارے گروہ میں ہونا ظاہر کریں گے، وہ لوگ اللہ پاک کے شریر بندوں میں سے ہیں جو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو بُرا کہتے ہیں۔([5])

148

مومنیں پیشِ فتح و پسِ فتح سب

اہلِ خیر و عدالت پہ لاکھوں سلام

مشکل الفاظ کے معانی:پیشِ فتح:فتح مکہ سے پہلے۔پسِ فتح:فتحِ مکہ کے بعد۔اہلِ خیر:بھلائی والے۔

مفہومِ شعر:تمام صحابہ جو فتحِ مکہ سے پہلے ایمان لائے یا اس کے بعد، یہ سب اہلِ خیر اور عادل ہیں، ان سب پر لاکھوں سلام۔

شرح:تمام صحابہ سے اللہ پاک نے جنت اور بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے،وہ سب عادل ہیں، ان میں سے کسی سے بغض رکھنا یا ان کے خلاف زبان کھولنا خود کو ہلاکت پر پیش کرنا ہے، کیونکہ فرمانِ مصطفےٰ ہے:میرے صحابہ کے معاملے میں اللہ پاک سے ڈرو، میرے بعد ان کو طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنا لینا۔جس نے ان سے محبت کی تو اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی  اور جس نے ان سے بغض رکھا تو اس نے میرے بغض کے سبب ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں تکلیف پہنچائی تو اس نے ضرور مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی تو ضرور اس نے اللہ پاک کو تکلیف پہنچائی تو جس نے اللہ پاک کو تکلیف پہنچائی تو قریب ہے کہ اللہ پاک اس کی پکڑ فرمائے۔([6])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ڈبل ایم اے (اردو، مطالعہ پاکستان)

گوجرہ منڈی بہاؤ الدین



[1] تاریخ الخلفاء، ص 138

[2] کنز العمال،جزء:12، 6/231، حدیث:35671

[3] صواعق محرقہ،ص60

[4] تاریخ الخلفاء،ص 133

[5] کنز العمال،جزء:13 ،7/6، حدیث:36098

[6] ترمذی، 5/463، حدیث:3888


Share