63 نیک اعمال(نیک عمل نمبر 27)
کھانا اللہ پاک کی ایک ایسی پیاری نعمت ہے جس میں ہمارے لئے طرح طرح کی لذتیں رکھی گئی ہیں۔کھانا انسانی جسم کے لئے وہی حیثیت رکھتا ہے جو کسی بھی مشین کے لئے ایندھن کی ہے، چنانچہ مناسب اور درمیانے انداز میں کھانا مفید اور بے تکے انداز میں کھانا انتہائی نقصان دہ ہے۔لہٰذا ہمارے لئے بہتر یہ ہے کہ ہم اس طریقے کے مطابق کھانا کھائیں جو طبیبوں کے طبیب،اللہ پاک کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہمیں بتایا ہے اور اسی بات کی جانب امیر ِاہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے 63 نیک اعمال کے رسالے کے سوال نمبر27میں کچھ یوں توجہ دلائی ہے:کیا آج آپ نے سنت کے مطابق کھانا کھایا اور کھانے سے پہلے اور بعد کی دعائیں پڑھیں؟
اگر ہم اللہ پاک کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سنت کے مطابق کھانا کھائیں تو ہمارے لئے برکت و ثواب کا باعث ہو گا۔چنانچہ کھانا کھانے کی چند سنتیں ملاحظہ فرمائیے:
کھانے کا وضو:
کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کرنے کی بہت برکتیں ہیں، جیسا کہ ایک روایت میں ہے:کھانے سے پہلے اور بعد میں وضو کرنا محتاجی کو دور کرتا ہے اور یہ رسولوں کی سنتوں میں سے ہے۔([1])ایک اور روایت میں ہے:جو یہ پسند کرے کہ اﷲ پاک اس کے گھر میں بھلائی زیادہ کرے تو جب کھانا حاضر کیا جائے، وضو کرے اور جب اٹھایا جائے اس وقت بھی وضو کرے۔([2])البتہ!خیال رہے کہ کھانے کے وضو سے مراد نماز والا وضو نہیں بلکہ اس میں دونوں ہاتھ گِٹّوں تک اور منہ کا اگلا حصّہ دھونا اور کلی کرنا ہے۔
ہاتھوں سے چونکہ کئی کام کئے جاتے ہیں اور وہ مختلف چیزوں سے مس بھی ہوتے ہیں لہٰذا ان پر میل کچیل اور کئی طرح کے جراثیم لگ جاتے ہیں۔کھانے سے پہلے ہاتھ دھو لینے سے یہ صاف ہو جاتے ہیں اور سنت کی برکت سے کئی بیماریوں سے نجات بھی ملتی ہے۔مگر کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئیں تو تولیے سے نہ پونچھیے کہ تولیہ وغيرہ کے جراثیم لگ سکتے ہیں۔
زمین پر دستر خوان بچھا کر کھانا سنت ہے۔([3])جب دستر خوان لگایا جاتا تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم یہ دعا پڑھتے:بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا نِعْمَۃً مَّشْکُوْرَۃً تَصِلُ بِھَا نِعْمَۃَ الْجَنَّۃِ یعنی اللہ پاک کے نام سے شروع، یااللہ!اس کو ایسی نعمت بنا جس کا شکر ادا کیا جا ئے اور اس کے ذریعے جنت کی نعمت تک پہنچا جا سکے۔([4])یہ دعا بھی پڑھ لی جائے بِسْمِ اللہ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ يَا حَيُّ يَا قَيُّوْمُ اگر کھانے میں زہر بھی ہو گا تو ان شاء اللہ اثر نہیں کرے گا۔([5])
مل کر کھانا کھانا:
ایک مرتبہ صحابہ کرام نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!ہم کھانا تو کھاتے ہیں لیکن پیٹ نہیں بھرتا۔ارشاد فرمایا:شاید تم الگ الگ کھاتے ہو گے؟عرض کی:جی ہاں!ارشاد فرمایا:مل بیٹھ کر کھانا کھایا کرو اور کھاتے وقت بسم اللہ پڑھ لیا کرو تمہارے لئے کھانے میں برکت دی جائے گی۔([6])ایک اور روایت میں ہے:مِل کر کھاؤ! الگ الگ نہ کھاؤ کہ برکت جماعت کے ساتھ ہے۔([7]) پتھالوجی کے ایک پروفیسر نے انکشاف کیا ہے جب مِل کر کھانا کھایا جاتا ہے تو سب کھانے والوں کے جراثیم کھانے میں مل جاتے ہیں اور وہ دوسرے امراض کے جراثیم کو مار ڈالتے ہیں نیز بعض اوقات کھانے میں شفا کے جراثیم شامل ہو جاتے ہیں جو معدے کے امراض کے لئے مفید ہوتے ہیں۔([8])
بیٹھ کر کھانے کا سنت طریقہ:
کھانا کھانے کے لیے بیٹھنے کی ایک سنت یہ ہے کہ کھانے کے وقت بایاں(اُلٹا)پاؤں بچھا دے اور داہنا(سیدھا)کھڑا رکھے یا سرین پر بیٹھے اور دونوں گھٹنے کھڑے رکھے۔([9])دو زانو بیٹھ کر کھانا جس طرح اَلتَّحِیَّات میں بیٹھتے ہیں، یہ بھی سنت ہے۔([10])
دونوں گھٹنے کھڑے کر کے زمین سے سرین لگا کر کھانے سے بقدرِ ضرورت ہی کھانا معدے میں جاتا ہے جس کے سبب امراض سے حفاظت ہوتی ہے۔ایک پاؤں کھڑا کر کے اور دوسرا بچھا کر کھانے کی سنت کی برکت سے تلّی کی بیماریوں سے بچاؤ ہوتا ہے اور رانوں کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔
چار زانو یعنی چوکڑی مارکر کھانے کے عادی کا موٹاپا بڑھتا اور توند نکل آتی ہے۔نیز چار زانو کھانے سے بڑی آنت کا درد ہو جانے کا بھی خطرہ رہتا ہے۔لہٰذا چوکڑی مار کر یعنی چار زانو بیٹھ کر کھانا کھانے والوں کو چاہیے کہ اپنا ذہن بنائیں اور سنت کے مطابق بیٹھ کر کھائیں کہ سنت میں عظمت ہے۔البتہ!اس طرح بیٹھ کر کھانے والوں کو ٹوکا نہ جائے کہ ان میں بہت سے سنت کے مطابق بیٹھ کر کھانا چاہتے ہیں لیکن ان کے لئے سنت کے مطابق بیٹھنا مشکل ہوتا ہے، اگر ایسے لوگ خود کوشش کرنا شروع کر دیں تو سنت کے مطابق بیٹھنے میں کامیاب ہو جائیں گے، دو چار دن پریشانی ہو گی پھر ٹھیک ہو جائیں گے۔اسلامی بہنیں شاید ایسا سمجھتی ہیں کہ ان کے لئے یہ طریقہ سنت نہیں ہے۔حالانکہ ایسا نہیں، بلکہ اسلامی بہنوں کو بھی اسی طرح سنت کے مطابق بیٹھ کر کھانا کھانا چاہیے۔کرسی ٹیبل پر کھانا اگرچہ ناجائز نہیں ہے، لیکن سنت کے خلاف ہے اور صحّت کے لئے نقصان دہ بھی ہے۔
دائیں ہاتھ سے کھانا:
کھانا دائیں ہاتھ سے کھائیں کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو الٹے ہاتھ سے کھانا پینا بے حد ناپسند تھا۔([11]) ایک بزرگ فرماتے ہیں:لینے اور دینے میں دائیں(سیدھے) ہاتھ کو استعمال کرو۔یہ عادت ایسی پختہ(پکی) ہو جائے کہ کل قیامت کو جب نامۂ اعمال پیش ہو تو اسی عادت کے موافق دایاں (سیدھا) ہاتھ آگے بڑھ جائے تب تو کام بن جائے گا۔([12])
مختلف سنتیں اور آداب :
*اپنے سامنے سے کھانا کھانا سنت ہے۔([13])*حضور نے کبھی کسی کھانے کو بُرا نہیں کہا،اگر پسند ہوتا تو کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔([14])*کھانے کے وقت جوتے اتار لینا سُنتِ جمیلہ (اچھا طریقہ)ہے۔([15]) *گرم کھانے میں برکت نہیں لہٰذا کچھ ٹھنڈا ہونے کے بعد کھانا چاہئے۔ایک روایت میں ہے:گرم کھانا ٹھنڈا کر لیا کرو کیونکہ گرم کھانے میں برکت نہیں ہوتی۔([16]) حضور کھانے کی بھاپ ختم ہونے سے پہلے اسے کھانا نا پسند فرماتے۔([17])کھانا ٹھنڈا کیجئے مگر یہ ضروری نہیں کہ اتنا ٹھنڈا کر دیں کہ جم کر بد مزہ ہو جائے بلکہ کچھ ٹھنڈا ہو لینے دیں کہ بھاپ اٹھنا بند ہو جائے۔* جس کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھی جائے شیطان کے لیے وہ کھانا حلال ہو جاتا ہے۔([18])اگر شروع میں کوئی اللہ پاک کا نام لینا بھول جائے تو یوں کہے:بِسْمِ اللہ اَوَّلَہٗ وَ اٰخِرَہٗ۔([19])
کھانا تین انگلیوں سے کھانا سنت ہے:
ایک روایت کے مطابق تین انگلیوں سے کھانا سنت اور پانچ انگلیوں سے کھانا گنواروں کا طریقہ ہے۔([20]) البتہ حضور بسا اوقات چار انگلیوں سے بھی کھانا کھاتے تھے۔([21]) تین انگلیوں سے انگوٹھا، شہادت کی اور بیچ والی انگلی مراد ہے، بلا عذر چار یا پانچ انگلیوں سے نہیں کھانا چاہیے کہ پانچ انگلیوں سے کھانا حریصوں کی علامت ہے۔([22]) تین انگلیوں سے کھانے کا نوالہ چھوٹا بنتا ہے اور اسے چبانا بھی آسان ہے۔جتنا بہتر طریقے پر چبائیں گی اتنا ہی منہ سے نکلنے والا ہاضم لعاب اس میں شامل ہو گا اور اس طرح کھانا جلدی ہضم ہو گا۔([23])
*چھری کانٹوں اور چمچوں کے ساتھ کھانا خلافِ سنت ہے۔ہمارے بزرگانِ دین چمچ کے ساتھ کھانا کھانے سے بچتے تھے۔جیسا کہ امام ابراہیم باجوری رحمۃ اللہ علیہ فر ماتے ہیں:ایک بار عبّاسی خلیفہ مامون الرشيد کے سامنے کھانا پیش کیا گیا تو اس نے چمچ منگوائے،اس وقت کے قاضِیُّ الْقُضَاۃ یعنی چیف جسٹس امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ بھی موجود تھے۔انہوں نے مامون الرشيد سے فرمایا:آپ کے دادا جان حضرت عبدُ اللہ ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہما اس آیتِ کریمہ
وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ (پ15، بنی اسرآءیل: 70)
(ترجمہ:اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی۔)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
کی تفسیر میں فرماتے ہیں:ہم نے ان کے لئے انگلیاں بنائیں جن سے وہ کھانا کھاتے ہیں۔تو جب چمچ لائے گئے تو اُس نے چمچ چھوڑ کر اپنی انگلیوں سے کھانا کھایا۔([24]) البتہ!اگر غذا ہی ایسی ہے مثلاً فِرنی یا پتلا دہی وغیرہ وہ چیزیں جو انگلیوں سے کھائی نہیں جا سکتیں اور پی بھی نہیں جا سکتیں یا ہاتھ میں زخم ہے یا ہاتھ میلے ہیں اور دھونے کے لئے پانی موجود نہیں تو ضرورتاً چمچ استعمال کرنے کی اجازت ہے۔اسی طرح گوشت کا پکا ہوا بڑا ٹکڑا یا ران وغیرہ کو چھری سے کاٹ کر کھانے کی بھی اجازت ہے۔
*برتن کے درمیان سے نہ کھانا سنت ہے کیونکہ برتن کے درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے۔نیز کھانے کے اول و آخر نمک یا نمکین چیز کھانا سنت ہے بلکہ اس سے 70 بیماریاں دور ہوتی ہیں۔([25])*کھانے کے بعد لکڑی کے تنکے سے خلال کرنا سنت ہے۔([26]) بخاری شریف میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کھانے سے فارغ ہو جاتے تو ایک بار یہ کلمات پڑھتے:اَلْحَمْدُ لِلہِ کَثِیرًا طَیِّباً مُّبَارَکاً فِیْہِ غَیْرَ مَکْفِیٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًی عَنْہُ رَبَّنَا۔([27])جبکہ ابو داود شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کھانا کھانے کے بعد یہ دعا پڑھتے:اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِیْن۔([28])
*کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنا:
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد پہلے بیچ والی، پھر شہادت والی اور آخر میں انگوٹھا چاٹنا سنت ہے۔([29]) کھانے کے بعد انگلیاں تین بار چاٹنا سنت ہے۔([30]) حضور نے انگلیوں اور برتن کو چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا:تمہیں معلوم نہیں کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے!([31])
کھانے کے بعد مَسح کرنا سنت ہے:
حدیْثِ پا ک میں یہ بھی ہے کہ(کھانے سے فراغت کے بعد )حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہاتھ دھوئے اور ہاتھوں کی تَری سے ہتھیلیوں،چہرے،کلائیوں اور سرِ اقدس پر مسح کر لیا اور اپنے پیارے صحابی سے فرمایا:اے عکراش!جس چیز کو آگ نے چھوا( جو آگ سے پکائی گئی ہو)اُس کے کھانے کے بعد یہ وضو ہے۔([32])
اللہ پاک ہمیں اس کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کے رسالے میں شامل دیگر نیک اعمال کو بھی اپنانے کا جذبہ عطا فرمائے تاکہ ہم صحیح معنوں میں سنتوں کی پیکر بن جائیں۔یہ رسالہ فِل کر کے ہر انگریزی ماہ کی پہلی تاریخ کو بدھ کے دن اپنے علاقے میں ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں جا کر وہاں کی ذمہ دار اسلامی بہن کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے ان شاء اللہ ڈھیروں برکتیں نصیب ہوں گی۔
[1]معجم اوسط،5/231،حدیث:7166
[2] ابن ماجہ،4/9،حدیث:3260
[3] بخاری، 3/532، حدیث:5415مفہوماً
[4] احیاء العلوم،2/454
[5] مسند الفردوس، 1/ 282،حدیث:1106
[6] ابوداود،3/486،حدیث:3764
[7] ابن ماجہ، 4/ 21،حدیث:3287
[8] فیضانِ سنت،ص199
[9] بہارِ شریعت،5/378، حصہ:16
[10] اشعۃ اللمعات،3 /518
[11] مسلم،ص861، حدیث:5268ماخوذاً
[12] تذکرۂ محدثِ اعظم پاکستان،2/283
[13] شعب الایمان،5/79،حدیث:5846
[14] بخارى،2 / 490،حديث:3563
[15] مستدرک،4/423،حدیث:5550ملخصاً
[16] مستدرک، 5/162،حدیث:7207
[17] مجمع الزوائد،5/13،حدیث:7883
[18] مسلم،ص 860، حدیث:5259
[19] ابوداود،3/487،حدیث:3767
[20] مسند الفردوس،5/59، حدیث:7457
[21] جامع صغیر،ص429،حدیث:6942ملخصاً
[22] مرقاۃ المفاتیح، 8/ 9،8،تحت الحدیث:4164ملتقطاً
[23] مواہب لدنیہ للباجوری، ص258،تحت الحدیث:141
[24] فیضانِ سنت،ص244
[25] رد المحتار،9/562 ملتقطاً
[26] جنات کو بُرا بھلا کہنا کیسا؟ ص15
[27] بخاری،3/543،حدیث:5458
[28] ابوداود،3/ 513، حدیث:3850
[29] مجمع الزوائد،5/29،حدیث:7941
[30] مسلم،ص865، حدیث: 5306
[31] مسلم، ص865،حدیث:5300
[32] ترمذی، 3/335 ،حدیث:1855

Comments