(نیک عمل نمبر 25)
اللہ پاک اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ وسلم کے بعد عورت پر جس ذات کی اطاعت و فرمانبرداری لازم ہے وہ اس کے والدین ہیں یا اس کا شوہر ہے۔چنانچہ ان دونوں رشتوں کی اہمیت کے پیشِ نظر امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے 63 نیک اعمال کے رسالے میں یہ سوال عطا فرمایا ہے:
سوال نمبر 25:کیا آج آپ شادی شدہ ہونے کی صورت میں شوہر اور غیر شادی شدہ ہونے کی صورت میں والدین کے ساتھ ادب و احترام بجا لائیں؟(ان کی کہی ہوئی بات شریعت کے مطابق ہو تو ماننا،والدہ کا ہاتھ چومنا،ان کی آواز سے اپنی آواز کم رکھنا وغیرہ۔سسرال میں ہونے کی صورت میں ساس کے لئے بھی اس کا لحاظ فرمائیں مزید تفصیلات کے لیے رسالہ سمندری گنبد کا مطالعہ فرمائیے۔)
شوہر کا ادب کرنا:
میاں بیوی کا رشتہ اللہ پاک کے ہاں بہت مقدس، پاکیزہ اور پسندیدہ ہے۔اس خوبصورت رشتے کی بنیاد ادب و احترام، اعتماد و محبت کے ساتھ قائم ہوئی ہے۔یقیناً ایک کامیاب خاتون وہ ہوتی ہے جو اپنے شوہر کو خوش رکھنے اور اپنے گھر کو امن کا گہوارہ بنانے میں بھرپور کردار ادا کرتی ہے۔نیک عورت دنیا کا ایک قیمتی سرمایہ ہے۔نیک بیوی شوہر کے لئے باعثِ فخر اور سب سے انمول تحفہ ہے۔چنانچہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ اللہ پاک کے سوا کسی کو سجدہ کرے تو ضرور عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔([1])حکیمُ الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیثِ مبارک کے تحت فرماتے ہیں:کیونکہ خاوند کے حقوق بہت زیادہ ہیں اور عورت اس کے احسانات کے شکریہ سے عاجز ہے،اسی لیے خاوند ہی اس کے سجدے کا مستحق ہوتا ہے۔خاوند کی اطاعت و فرمانبرداری اشد ضروری ہے، اس کی ہر جائز تعظیم کی جائے۔([2])یعنی شادی شدہ عورت کے لیے شوہر کی فرمانبرداری میں ہی دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔
عورت کی جنت کا راستہ اللہ پاک اور اس کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت کے بعد شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری سے شروع ہوتا ہے۔کاش!ہماری خواتین کامیابی کا راستہ دکھانے والے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے فرمان کے مطابق شوہر کی اطاعت کو اپنے لئے باعثِ عظمت سمجھ لیں۔اگر ایسا ہو جائے تو گھر امن کا گہوارہ بن جائے گا۔اس ضمن میں ایک خوب صورت واقعہ پیشِ خدمت ہے۔چنانچہ
عہدِ صحابہ کے مشہور قاضی اور فقیہ ابو اُمَیَّہ شُرَیْح رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں نے بنو تمیم کی ایک عورت سے شادی کی، جب وہ پہلی رات میرے پاس آئی تو میں نے کہا:شوہر کے لیے مستحب ہے کہ جب دلہن اس کے پاس آئے تو وہ کھڑا ہو اور دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ پاک سے اس کی بھلائی مانگےاور اس کے شر سے پناہ طلب کرے۔یہ کہہ کر میں اٹھا اور نماز کے لیے وضو کرنے لگا۔جب نئی نویلی دلہن نے میرا یہ عمل دیکھا تو وہ بھی اٹھ کر میرے ساتھ وضو کرنے لگی اور پھر ہم دونوں نے ایک ساتھ نماز ادا کی۔جب گھر مہمانوں سے خالی ہو گیا تو میں اس کے پاس آیا اور اپنا ہاتھ اس کی پیشانی کی طرف بڑھایا تو اس نے کہا:اے ابو امیہ!ذرا ٹھہرئیے!پھر اس نے اللہ پاک کی حمد و ثنا اور حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم پر درودِ پاک پڑھنے کے بعد کہا:اے میرے سرتاج!میں ایک اجنبی عورت ہوں،آپ کی عادتوں کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ لہٰذا آپ مجھے وہ باتیں بتا دیجیئے جو آپ کو پسند نہیں تاکہ میں ان سے بچوں۔ اللہ پاک کی قسم!میری بیوی کی ان دانشمندانہ باتوں نے مجھے بھی کچھ کہنے پر مجبور کر دیا، میں نے اسے اپنی پسند و نا پسند کے بارے میں بتایا۔اس نے کہا:آپ کو میرا اپنے میکے والوں سے ملنا جلنا کس حد تک پسند ہے؟میں نے کہا:مجھے یہ پسند نہیں کہ بہت زیادہ آمد و رفت کی وجہ سے مجھے اکتاہٹ میں مبتلا کر دیں۔پڑوسیوں کے متعلق پوچھا تو میں نے کہا:فلاں لوگ نیک ہیں اور فلاں لوگ اچھے نہیں۔اس طرح میں نے اس کے ساتھ وہ پہلی رات بہت اچھے طریقے سے گزاری اور پھر 20 سال اس سعادت مند عورت کے ساتھ گزار دئیے مگر مجھے کبھی اس کی کوئی بات نا گوار نہیں گزری۔([3])
والدین کا ادب کرنا:
یقیناً ماں باپ کا درجہ بہت بلند و بالا ہے۔ان کی دعائیں اولاد کے حق میں مقبول ہوتی ہیں، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ان کو خوب خوش رکھیں اور ان کی دعائیں حاصل کرکے اپنی دنیا و آخرت سنوار لیں۔کیونکہ ان کی خوشی ایمان کی سلامتی اور ان کی ناراضی ایمان کی بربادی کا باعث ہوتی ہے۔ماں باپ کی فرمانبردار سدا پھلتی پھولتی اور شاد و آباد رہتی ہے جبکہ والدین کو ستانے والی دنیا میں بھی سزا پاتی ہے۔جیسا کہ ایک روایت میں ہے:سب گناہوں کی سزا اللہ پاک چاہے تو قیامت تک مؤخَّر رکھتا ہے مگر ماں باپ کی نافرمانی کی سزا جیتے جی دیتا ہے۔([4])
اللہ و رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہمیں والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا ہمیں ان کی عزت کرنی چاہئے اور ان کی نافرمانی سے بچنا چاہیے، کیونکہ ان کی نافرمانی باعثِ وبال ہے جیسا کہ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: باپ کی نافرمانی اﷲ جبار وقہار کی نافرمانی ہے اورباپ کی ناراضی اﷲ جبار وقہار کی ناراضی ہے، آدمی ماں باپ کو راضی کرے تو وہ اس کے جنت ہیں اور ناراض کرے تو وہی اس کے دوزخ ہیں۔جب تک باپ کو راضی نہ کرے گا اس کاکوئی فرض، کوئی نفل، کوئی عمل نیک اصلاً قبول نہ ہو گا، عذابِ آخرت کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سخت بلا نازل ہوگی مرتے وقت معاذ اﷲ کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے۔([5])
زخمی انگلی:
حضرت با یزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ میری ماں نے مجھ سے پانی مانگا، میں پانی لایا تو وہ سو چکی تھیں، لہٰذا میں ان کے جاگنے کے انتظار میں کھڑا رہا۔جب وہ بیدار ہوئیں تو فرمایا:پانی کہاں ہے؟میں نے پیالہ پیش کر دیا۔ پیالے کا کچھ پانی میری انگلی پر گر کر سردی کی شدت کے سبب جم گیا تھا۔چنانچہ جب والدہ ماجدہ نے پیالہ پکڑا تومیری انگلی کی کھال ادھڑ گئی اور خون بہنے لگا۔ماں نے دیکھ کر فرمایا:یہ کیا؟میں نے سارا معاملہ بیان کیا تو ماں نے یوں دعا کی:یااللہ!میں اس سے راضی ہوں، تو بھی اس سے راضی ہو جا۔([6])جن خوش نصیبوں کے والدین زندہ ہیں ان کو چاہئے کہ روزانہ کم از کم ایک بار ان کے ہاتھ پاؤں چوما کریں کہ ایک روایت کے مطابق اپنی والدہ کے پاؤں کو چومنا جنت کی چوکھٹ کو چومنے کی طرح ہے۔([7])
63 نیک اعمال کا رسالہ مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے قیمۃً حاصل کیا جا سکتا ہے۔اس کے ہر ہر سوال پر عمل کا معمول بنا لیجئے اور ہر سوال کے نیچے دئیے گئے خانوں کو عمل ہونے کی صورت میں(√)اور عمل نہ ہونے کی صورت میں(0)ان نشانات کے ساتھ Fill کیجئے اور ہر انگریزی ماہ کی پہلی تاریخ کو بدھ اجتماع میں اپنی ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے ، ان شاءاللہ ڈھیروں بھلائیاں حاصل ہوں گی۔
[1] ترمذی،2/386،حدیث:1162
[2] مراۃ المناجیح،5/97ملتقطاً
[3] مستطرف،2/ 401،400ملخصاً
[4] مستدرک،5/217،حدیث:7345
[5] فتاویٰ رضویہ،24/ 384
[6] نزہۃ المجالس، 1/261 7 در مختار، 9/606
[7] در مختار، 9/606
Comments