موضوع:با ادب با نصیب (قسط 3)
ٹیچرز کی چغلی لگانا اور عیب بیان کرنا:
ٹیچرز کی چغلی لگانا اور ان کے عیب اچھالنا بھی راہِ علم کی ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے، لیکن افسوس!بعض اسٹوڈنٹس میں یہ بُری عادت بھی پائی جاتی ہے کہ وہ لگائی بجھائی کے معاملات میں پڑ ے رہتے ہیں، ٹیچرز کے کمزور پہلوؤں پر تنقید کرتے ہیں،ان کے عیوب دوسرے اساتذہ،انتظامیہ یا گھر والوں کے سامنے بیان کر کے ٹیچرز کے وقار کو مجروح کرتے ہیں،جس کے نتیجے میں خود بھی ان کی نظروں سے گر جاتے اور راہِ علم کے دروازے بھی خود پر بند کر لیتے ہیں ۔
چغلی کھانا انتہائی بُری عادت اور جہنم میں لے جانے والے اعمال میں سے ہے،اس کی مذمت کا اندازہ اس حدیثِ پاک سے لگائیے کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: چغل خور جنت میں داخل نہیں ہو گا۔([1])
چغلی کی اسی نحوست کے سبب بزرگانِ دین ہمیشہ سے اس کی مذمت بیان کرتے رہے ہیں،بالخصوص اسٹوڈنٹس اگر اساتذہ کی چغلی کریں تو یہ ان کے زہر قاتل ہے،چنانچہ یہی وجہ ہے کہ امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے طلبہ کرام کو اپنے استاد اور طالبات کو اپنی استانی کی کوئی بات ناگوار گزرنے پر دوسروں پر اس کا اظہار کرنے سے بچنے،ان کے عیبوں کو چھپانے اور ان کی کمزوریاں دوسروں کو نا بتانے کے حوالے سے خصوصی تربیت کا اہتمام فرمایا اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر اپنے جن اعمال کا جائزہ لینے کی ترغیب دلائی ہے ان میں اساتذہ کے عیوب کو ظاہر کرنے والی بات کو خاص طور پر ذکر کیا ہے۔ اللہ پاک ہمیں اپنے اساتذہ کے عیوب کی پردہ پوشی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
انتظامیہ کی نظر میں ان کو گندہ کرنا:
ایسا بھی ہوتا ہے کچھ بدنصیب اسٹوڈنٹس اپنے ٹیچرز کو انتظامیہ کی نظر میں نیچا دکھانے کے لیے ان کے متعلق ایسی باتیں پھیلا دیتے ہیں جو ٹیچرز کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں،جب ٹیچرز کو ان بے بنیاد باتوں کا علم ہوتا ہے تو ایسے طلبہ و طالبات ٹیچرز کے دل سے اتر جاتے ہیں اور علمِ دین کی حلاوت انہیں نصیب تک نہیں ہوتی۔حدیثِ مبارک میں مسلمان کی عزت کے تحفظ کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جس کے سامنے کسی مسلمان کی بے عزتی کی جائے اور وہ اس کی مدد کرنے پر طاقت ہونے کے باوجود مدد نہ کرے تو اللہ پاک قیامت کے دن اسے لوگوں کے سامنے ذلیل و رسوا کرے گا۔([2])
یہ حدیث ِپاک نقل کرنے کے بعد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسلمان کی بے عزتی دیکھ کر خاموش رہنا ایسے عذاب کا باعث ہے تو خود اسے ذلیل کرنے کے در پے ہونا،اس کی عزت میں رخنہ اندازی کی کوشش کرنا کس قدر عذاب اور اللہ تعالیٰ کے غضب کا سبب ہو گا! ([3])
زبان درازی اور بد اخلاقی:
علمِ دین کے حصول کی رکاوٹوں میں سے ایک رکاوٹ ٹیچرز کے ساتھ بد زبانی اور بد اخلاقی کا مظاہرہ کرنا بھی ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ جن اسٹوڈنٹس کو ٹیچرز انتہائی محنت سے پڑھاتے ہیں اگر انہی میں سے بعض نالائق اسٹوڈنٹس کو کبھی ڈانٹ دیا جائے یا سبق یاد نہ کرنے یا چھٹی کرنے کی وجہ پوچھی جائے تو وہ اس ہستی پر زبان درازی اور بد اخلاقی کی حد پار کر جاتے ہیں جو سب سے قیمتی اور عمدہ چیز یعنی علمِ دین کی دولت سے انہیں مالا مال کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔
یوں ہی بعض بد بخت اسٹوڈنٹس ٹیچرز کے سامنے اکڑ دکھاتے اور تکبر کا اظہار کرتے ہیں۔ بلا شبہ ایسے اسٹوڈنٹس کبھی بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتے،بلکہ اگر ایسے اسٹوڈنٹس ہزار ٹیچرز بھی بدل لیں تب بھی علمِ دین کی حقیقی برکتیں نہ پا سکیں گے۔
ٹیچرز کی نشست پر بیٹھنا:
ٹیچرز کی مخصوص نشست پر بغیر ان کی اجازت کے بیٹھنا بھی بے ادبی ہے،مگر افسوس! آج کے بعض اسٹوڈنٹس کی اس جانب کوئی توجہ ہی نہیں،ٹیچرز کی عدم موجودگی میں بعض شرارتی اسٹوڈنٹس بلا جھجھک ان کی جگہ پر بیٹھ کر بے ادبی کی آفت میں مبتلا ہو کر علمِ دین کی برکتوں سے محروم ہونے کی جانب رواں دواں ہو جاتے ہیں۔حالانکہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:استاد کا شاگرد پر یہ بھی حق ہے کہ استاد کے بستر پر نہ بیٹھے اگرچہ استاد موجود نہ ہو۔مزید فرماتے ہیں: عالِم کا حق جاہل پر اور استاد کا حق شاگرد پر یکساں(برابر)ہے کہ اس سے پہلے بات نہ کرے،اس کی جگہ پر نہ بیٹھے اگرچہ وہ موجود نہ ہو، اس کی بات کو رد نہ کرے اور چلنے میں اس سے آگے نہ چلے۔([4])
معلوم ہوا!ٹیچرز کی نشست گاہ پر بیٹھنا یا ان کی طرف پاؤں پھیلانا ادب کے خلاف ہے۔ہمارے بزرگانِ دین رحمۃ اللہ علیہم اپنے استاد کی جگہ پر بیٹھنا تو دور کی بات ہے ان کے گھر کی طرف پاؤں پھیلانا بھی بے ادبی جانتے تھے۔جیسا کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق منقول ہے کہ آپ نے کبھی اپنے استادِ محترم حضرت حَمّاد رحمۃ اللہ علیہ کے احترام کی وجہ سے ان کے مکانِ عالیشان کی طرف پاؤں نہیں پھیلائے، حالانکہ آپ کے استادِ محترم کے گھر مبارک اور آپ کی رہائش گاہ میں چند گلیوں کا فاصلہ تھا۔([5])
اسی طرح صاحبِ ہدایہ شریف شیخ الاسلام بُرہانُ الدین ابو الحسن علی مرغینانی رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حکایت بیان کی کہ بخارا کے ایک امام کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ علمِ دین کی مجلس میں تشریف فرما تھے کہ اچانک انہوں نے بار بار کھڑا ہونا شروع کر دیا،لوگوں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا:میرے استاد ِ محترم کا صاحبزادہ بچوں کے ساتھ گلی میں کھیل رہا تھا، کبھی کبھی کھیلتا ہوا وہ مسجد کی طرف آ جاتا، جب میری نظر اس پر پڑتی تو میں اپنے استاد کی تعظیم کی وجہ سے اس کے لئے کھڑا ہو جاتا۔([6]) چنانچہ،
اسٹوڈنٹس کو چاہیے کہ جس طرح وہ ٹیچرز کی موجودگی میں ان کا اور ان کی نشست گاہ کا ادب کرنا نہیں بھولتے اسی طرح ان کی غیر موجودگی میں بھی ان کی عزت و تعظیم کے پیشِ نظر ان کی نشست گاہ کا احترام کریں۔
ٹیچرز کی بے ادبی سے بچنے کے لیے طلبہ کرام کو امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ کی طرف سے عطا کردہ 92 اور طالبات کو 83 نیک اعمال کے رسالے کے مطابق عمل کرنا انتہائی مفید ہے۔چنانچہ طلبہ کے نیک اعمال کے رسالے میں موجود نیک عمل نمبر 44 میں ہے:آج آپ نے اپنے استاد صاحب بلکہ کسی کی بھی پیچھے سے نقلیں تو نہیں اتاریں؟نیز استاد صاحب کی نشست گاہ پر بیٹھنے کی بے ادبی تو نہیں کی؟جبکہ طالبات کے نیک اعمال کے رسالے میں موجود نیک عمل نمبر 8 میں ہے: آج آپ نے اُستانی صاحبہ کی نشست گاہ پر بیٹھنے کی بے ادبی تو نہیں کی؟(ظاہر و باطن میں دینی استانی کا ادب کرنا بے حد نفع بخش ہے) اللہ نے چاہا تو اس پر عمل کی برکت سے بے ادبی سے بچت رہے گی۔
ٹیچرز کی باتوں کو اہمیت نہ دینا:
بعض اسٹوڈنٹس ٹیچرز کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتے مثلاً موبائل فون میں ٹیچرز کے میسج کا جواب دینے میں تاخیر کرتے یا سرے سے اگنور ہی کر دیتے ہیں،ٹیچرز کی کال ریسیو نہیں کرتے،ان کا نمبر بلیک لسٹ میں ڈال دیتے ہیں یا پھر انہیں وہ نمبر دیتے ہیں جو بند ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض اسٹوڈنٹس کلاس میں ٹیچرز کے سامنے موجود ہوتے ہوئے بھی عدم توجہی کا مظاہرہ کرتے ہیں،بعض گہری سوچوں اور خیالات میں ہی دور دراز کے سفر پہ پہنچے ہوتے ہیں۔بعض رات کو دیر سے سونے کے سبب صبح کلاس روم میں نیند کے جھونکے لے رہے ہوتے ہیں۔بعض دورانِ لیکچر واٹس ایپ وغیرہ کے ذریعے چیٹنگ میں مصروف ہوتے ہیں یا پھر سوشل میڈیا پر اپنا وقت برباد کر کے گویا لیکچر سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ میچ کے شیدائی اسٹوڈنٹس کی ایک تعداد خفیہ طریقے سے میچ کی کمنٹری سننے میں مشغول ہوتی ہے۔ایسے بد نصیبوں کے حصے میں سوائے وقت ضائع کرنے کے کچھ ہاتھ نہیں آتا اور علمِ دین کی حقیقی برکات بھی ان میں منتقل نہیں ہوتیں۔
غیر ضروری اعتراضات و سوالات کر کے ٹیچرز کو تنگ کرنا یا ان کی علمی صلاحیت کو جانچنا:
بعض نا سمجھ اسٹوڈنٹس ٹیچرز کے بھی ٹیچرز بننے کی کوشش کرتے ہیں اور ان سے ایسے ایسے عجیب و غریب سوالات کرتے ہیں جن کا نا سر ہوتا ہے نا ہی پیر اور ان سوالات کا لیکچر سے بھی کوئی تعلق نہیں ہوتا،صرف ٹیچرز کی صلاحیت جانچنی مقصود ہوتی ہے کہ یہ کتنے پانی میں ہیں،ان کا مطالعہ کتنا وسیع ہے، ابھی پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے اس سبجیکٹ کی تیاری کی بھی ہے یا نہیں ؟اگر کی ہے تو فلاں فلاں کتاب کا بھی مطالعہ کیا ہے یا نہیں؟وغیرہ وغیرہ۔اسی طرح بعض اپنے ٹیچرز سے مختلف فاسد اغراض ومقاصد کے تحت انتہائی مشکل سوالات کر کے شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ٹیچرز و اسٹوڈنٹس پر ان کی علمیت واضح ہوگی کہ واہ!یہ اسٹوڈنٹس تو بہت ذہین ہیں اور ان کا مطالعہ تو بہت وسیع ہے!یوں ہی بعض ٹائم پاس اسٹوڈنٹس کا جب پڑھنے کا موڈ نہیں ہوتا یا انہیں سبق یاد نہیں ہوتا تو وہ ٹیچرز کو بے تکے سوالات میں الجھانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں تاکہ نہ ٹیچرز ان سےسبق سنیں نہ ہی ان کی سستی و کاہلی کا پول سب کے سامنے کھلے وغیرہ۔ایسے اسٹوڈنٹس دیگر کلاس فیلوز کے ساتھ ساتھ ٹیچرز کہ جو علمائے دین و عالماتِ دین ہوتے ہیں ان کی تکلیف کا بھی باعث بنتے اور اپنے لیے ہلاکت و بربادی کا سامان کر تے ہیں۔ایسوں کو ابنِ سقا کے واقعے سے عبرت حاصل کرنی چاہیے ۔
امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:عالِمِ دین سے امتحاناً سُوال کرنا شرعاً گناہ ہے۔([7])یعنی غیرِ عالِم کسی عالِمِ دِین سے اِمتحاناً سُوال نہیں کر سکتا۔ابنِ سقا حضور غوثِ پاک رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ پڑھتا تھا، اس نے اللہ پاک کے ایک نیک بندے کی توہین کی اور کہا:میں ان سے ایسا سوال کروں گا کہ جواب نہیں دے سکیں گے۔آخر کار وہ اس گستاخی کی وجہ سے کفر پر مرا۔([8])
عالِمِ دین چاہے غوث ہو یا نہ ہو امتحان لینے کے لیے اس سے سوال کرنا جائز نہیں ۔بلکہ اپنا یہ ذہن بنانا چاہیے کہ ہمیں خود کیا آتا ہے اور کتنا آتا ہے کہ ہم امتحان لینے نکلیں؟ ہاں!اگر واقعی سیکھنے کی نیت ہے تو پوچھنا اور معلومات حاصل کرنا چاہئے تاکہ علم میں اِضافہ ہو،اس نیت سے سوال کرنا اچھی بات ہے۔ عربی محاورہ ہے:اَلسُّوَالُ مِفْتَاحُ الْعِلْم یعنی سُوال علم کی چابی ہے۔ لیکن خواہ مخواہ تنگ کرنے کے لیے سُوال نہیں کرنا چاہیے۔([9])
امیرِ اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے نیک اعمال کے رسالے میں دینی طلبہ کو اپنے استاد اور طالباتِ دین کو اپنی استانی سے امتحاناً سوال کرنے سے بچنے پر مشتمل نیک عمل بھی شامل فرمایا ہے۔ لہٰذا اگر طلبہ و طالباتِ علمِ دین نیک اعمال کے رسالے کے مطابق اپنے اخلاق و کردار کو ڈھالنا شروع کر دیں تو ان شاءاللہ بہت ساری بُری عادات سے چھٹکارا ملے گا۔
ٹیچرز کے احسانات بھلا دینا:
محسن کوئی بھی ہو اس کا حسان مند ہونا چاہیے۔ٹیچر بھی وہ ہستی ہے جس کے احسانات و انعامات کا شکریہ ادا کرنا کسی بھی انسان کے بس میں نہیں۔ٹیچر کے احسانات کو بھلا دینا اور ان کے احسان و کرم نوازی کا شکر ادا نہ کرنا بھی علمِ دین سے محرومی کا باعث ہے۔
ٹیچرز کی ڈانٹ کو انا کا مسئلہ بنا لینا:
مشہور کہاوت ہے:جو استاد کی سختیا ں نہیں جھیل سکتا اسے زمانے کی سختیاں جھیلنی پڑتی ہیں۔
طلبہ و طالباتِ علمِ دین کو یہ بات خوب سمجھ لینی چاہئے کہ ٹیچرز انہی اسٹوڈنٹس کو ڈانٹتے اور سختی کرتے ہیں جن سے انہیں ہمدردی ہوتی ہے اور جس کی بھلائی انہیں مقصود ہوتی ہے ورنہ کس کو پڑی ہے کہ سنوارنے سدھارنے کے لیے کسی پر اتنی کوششیں کرے!لیکن افسوس!بعض کے نزدیک ٹیچرز کی ڈانٹ یا سختی بے عزتی سمجھی جاتی ہے اور تجربہ ہے کہ پھر ایسے عزت دار اسٹوڈنٹس علمِ دین سے جاہل ہی رہ جاتے ہیں۔
حضرت امام ابن ِعُیینہ رحمۃ اللہ علیہ سخت مزاج تھے۔آپ سے عرض کی گئی:طالبِ علم دور دور سے آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ ان سے ناراض ہو جاتے ہیں!کہیں وہ آپ کو چھوڑ کر نہ چل دیں!آپ نے فرمایا:وہ تمہاری طرح بیوقوف ہوں گے جو میری سختی کی وجہ سے اپنا فائدہ چھوڑ دیں۔([10])لہٰذا طلبہ و طالبات کو چاہئے کہ وہ نفس و شیطان کے بہکاوے میں آکر ٹیچرز کی سختی یا ڈانٹ پر پڑھائی چھوڑ نے کے بجائے ان کی سختی کو اپنے لئے باعث ِ رحمت جانتے ہوئے ان کی بےا دبی سے بچیں تاکہ علمِ دین کی حقیقی برکتوں سے مالا مال ہو سکیں۔
دیگر ٹیچرز کو اہمیت نہ دینا:
ادارے میں موجود تمام ہی ٹیچرز قابلِ احترام ہوتے ہیں خواہ وہ ہمیں پڑھائیں یا نہ پڑھائیں۔مگر بعض اسٹوڈنٹس صرف انہی ٹیچرز کو ادب کے لائق سمجھتے اور انہی ٹیچرز کو لائک کرتے ہیں جو انہیں پڑھائیں باقی ٹیچرز کی ان کے نزدیک کوئی ویلیو نہیں ہوتی۔دیگر ٹیچرز ڈانٹ دیں تو ان سے الجھا جاتا ہے،ان کی بے ادبی و بد تمیزی کی جاتی ہے،یوں ہی اگر وہ کسی ٹیچرز کی غیر موجودگی میں ہماری کلاس میں آ کر پریڈ لے لیں تو انہیں جان بوجھ کر تنگ کیا جاتا ہے۔یاد رکھئے!ادارے میں موجود ہر ہر ٹیچر کا ادب ہم پر لازم و ضروی ہے چاہے وہ ہمیں پڑھائیں یا نہ پڑھائیں،لہٰذا ہمیں انہیں دل کھول کر اہمیت دینی چاہئے۔ کیونکہ ٹیچرز کا ایک ادارے سے دوسرے ادارے میں ٹرانسفر ہوتا رہتا ہے،یوں ہی سبجیکٹس بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں،ممکن ہے جس ٹٰیچر کو ہم نے اہمیت نہ دی یا جس کی بے ادبی و توہین کی یا کسی طرح بھی اس کا دل دکھایا یا کہنا نہ مانا ہو انتظامیہ اسی ٹیچر کو ہماری کلاس کا کوئی پریڈ دے دے اور موجودہ ٹٰیچر کا کسی اور جگہ پر تبادلہ کر دے تو کیا اس وقت بھی ہمارا انداز ان کے ساتھ ویسا ہی ہوگا جیسا کہ اب ہے!لہٰذا حصولِ علمِ دین پر استقامت پانے،علمِ دین کی روشنی سے منور ہونے اور اس کی حقیقی برکتوں کو پانے کے لئے تمام بُری خصلتوں خصوصاً ٹیچرز کی بے ادبی اور ان کی توہین سے خود کو بچانا ضروری ہے۔ورنہ ان کی بے ادبی کی نحوست تباہی و بربادی کے دہانے پر پہنچا دیتی ہے جبکہ ان کا ادب دنیا و آخرت میں کامیابی کی سند ہے۔
آلاتِ علم،کتابوں اور قلم وغیرہ کا ادب:
یاد رہے!علم کا اصل فیضان پانے کے لے ٹیچرز کے ساتھ ساتھ آلاتِ علمِ دین یعنی کتابوں،قلم اور ڈیسک وغیرہ کا ادب کرنا بھی انتہائی ضروری ہے جن کے ذریعے ہم تک علمِ دین کا فیض پہنچتا ہے۔بعض اسٹوڈنٹس کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ کتاب کو ادب سے رکھنے کی بجائے ادھر ادھر پھینکتے ہیں،نوٹ بکس کے صفحات پھاڑ کر ان سے کھیلتے اور ادھر ادھر پھینکتے رہتے ہیں یہاں تک کہ کتابوں کو ردی میں بیچ دیتے ہیں،یہ بھی سخت بے ادبی ہے۔آلاتِ علم کے ادب کے حوالے سے ہمارے بزرگانِ دین کا انداز لائقِ تقلید ہوا کرتا ہے۔چنانچہ
حضور حافظِ ملّت رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ قیام گاہ پر ہوتے یا درس گاہ میں کبھی کوئی کتاب لیٹ کر یا ٹیک لگا کر نہیں دیکھتے بلکہ تکیہ یا ڈیسک پر کتاب رکھ کر دیکھتے اور پڑھاتے۔قیام گاہ سے مدرسے یا مدرسے سے قیام گاہ تک کبھی کتاب لے کر آنا جانا ہوتا تو کتاب سیدھے ہاتھ میں لے کر سینے سے لگا لیتے۔کبھی کسی طالبِ علم کو ہاتھ میں کتاب لٹکا کر چلتے دیکھتے تو فرماتے:کتاب جب سینے سے لگائی جائے گی تو کتاب سینے میں اُترے گی اور جب کتاب کو سینے سے دور رکھا جائے گا تو کتاب سینے سے دور ہو جائے گی۔([11])
حضرت محدِّثِ اعظم پاکستان رحمۃ اللہ علیہ نہ صرف خود کتبِ احادیث کا ادب کرتے، بلکہ طلبہ میں بھی ادب کا جوہر پیدا فرماتے اور تلقین فرمایا کرتے کہ کتب رکھتے وقت حِفْظِ مراتب کا خیال کرتے ہوئے حدیثِ پاک کی کتاب کے اوپر قرآنِ حکیم کے علاوہ اور کوئی کتاب نہیں رکھنی چاہئے۔ایک مرتبہ ایک طالبِ علم نے بخاری شریف پر گلاب کا پھول رکھ دیا تو آپ نے تنبیہ کی اور فرمایا:پھول اگرچہ بڑی نرم و نازک چیز ہے ۔بہرحال بخاری شریف سے افضل نہیں۔([12])
امام ابنِ جوزی رحمۃ اللہ علیہ حدیثِ پاک لکھنے میں جو قلم استعمال فرماتے،ان کے تراشے اپنے پاس محفوظ رکھتے تھے۔ آپ نے انتقال کے وقت یہ وصیت فرمائی تھی کہ میرے غسل کا پانی لکڑی کے انہی تراشوں سے گرم کیا جائے۔([13])
بہارِ شریعت میں ہے:نئے قلم کا تراشہ( یعنی چھیلن)تو ادھر ادھر پھینک سکتے ہیں مگر مُسْتَعْمَل(استعمال شدہ)قلم کا تراشہ ایسی جگہ نہ پھینکا جائے کہ احترام کے خلاف ہو۔(جب تراشے کا احترام ہے تو خود استعمال شدہ قَلَم کا کتنا احترام ہو گا!یہ ہر عقل مند انسان سمجھ سکتا ہے) ۔([14])
ایک مرتبہ اَمِیْرِ اَہْلِ سنّت کی نظر ایک دینی کتاب پر پڑی جس پر کسی نےوائٹو(لفظ مٹانے والا قلم)رکھ دیا تھا۔آپ نے بڑھ کر وائٹو اس کتاب پر سے ہٹا تے ہوئے اس طرح ارشاد فرمایا: دینی کتاب پر کسی چیز کا رکھنا ادب کے خلاف ہے،اس کا خیال رکھنا سعادت مندی ہے،جو اس طرف توجہ نہیں دیتا اس کی بے احتیاطیاں بڑھ جاتی ہیں۔پھر فرمانے لگے:دعوتِ اسلامی کے قیام سے پہلے کی بات ہے،کم و بیش 27 سال پہلے میں ایک صاحب سے ملاقات کے لئے پہنچا،دورانِ گفتگو انہوں نے ہاتھ میں لی ہوئی احادیثِ مبارکہ کی مشہور کتاب مشکوٰۃ شریف کو اس طرح اوپر سے میز پر ڈالا کہ اچھی خاصی دھمک پیدا ہوئی۔ مجھے اس بات کا اس قدر صدمہ ہوا کہ آج کافی عرصہ گزر جانے کے با وجود بھی جب وہ واقعہ یاد آتا ہے تو اس دھمَک کا صدمہ محسوس ہوتا ہے۔([15])
بزرگانِ دین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہمیں چاہئے کہ آلالتِ علمِ دین کا خوب خوب ادب کریں اور دینی کتابوں کو سینے سے لگائے رکھیں اور ہرگز ہر گز ان کی بے ادبی نہ ہونے دیں۔اللہ کریم تمام طلبہِ علمِ دین کو اپنے اساتذہ و ناظمین اور طالباتِ علمِ دین کو اپنی معلمات و ناظمات کے ساتھ ساتھ آلاتِ علمِ دین کا بھی دل و جان سے ادب بجا لانے کی سعادت نصیب فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
( جاری ہے۔۔۔)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* معلمہ جامعۃ المدینہ گرلزیزمان بہاولپور


Comments