موضوع:شرح سلامِ رضا
137
وہ عمر جس کے اعداء پہ شیدا سقر
اس خدا دوست حضرت پہ لاکھوں سلام
مشکل الفاظ کے معانی:اعداء:دشمن۔ سقر:آگ۔ شیدا:فدا۔
مفہومِ شعر:اللہ پاک کے دوست یعنی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دشمنوں پر دوزخ عاشق ہے اور وہ فوراً انہیں ہڑپ لے گی، آپ پر لاکھوں سلام۔
شرح:اس شعر میں اور اگلے دو اشعار میں مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سلام پیش کیا جا رہا ہے۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی کنیت ”ابو حفص“ اور لقب”فاروقِ اعظم“ہے۔آپ دراز قد،بھاری جسامت اور سفید رنگت والے جبکہ داڑھی گھنی اور گھنگریالی تھی۔([1]) آپ عام الفیل کے تیرہ سال بعد پیدا ہوئے،یوں آپ کی تاریخ ِ ولادت 583 عیسوی ہے۔
حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے حضرت عمر کی شان میں کئی فرامین مروی ہیں۔مثلاً ایک مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا:عمر کی ناراضی سے ڈرو کیونکہ جب عمر ناراض ہو جائے تو اللہ پاک بھی ناراض ہو جاتا ہے۔([2])حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے عمر سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا اور جس نے عمر سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔([3]) جبکہ ایک روایت میں ہے:جس نے مجھ سے محبت کی اللہ پاک اس سے محبت فرمائے گا اور جس سے اللہ پاک نے محبت کی اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور جس نے مجھ سے بغض رکھا اس سے اللہ پاک بغض رکھے گا اور جس سے اللہ پاک نے بغض رکھا اسے جہنم میں داخل فرمائے گا۔([4]) ان دونوں روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی محبت اللہ و رسول کی محبت اور دخولِ جنت کا سبب ہے جبکہ ان سے دشمنی رکھنا اللہ و رسول کی دشمنی ہے جو کہ جہنم میں جانے کا ذریعہ ہے اور یہی مذکورہ شعر کا خلاصہ بھی ہے۔
138
فارقِ حق و باطل امام الہدیٰ
تیغِ مسلولِ شدت پہ لاکھوں سلام
مشکل الفاظ کے معانی:فاروق:فرق کرنے والا۔ امام الہدیٰ:ہدایت کے امام۔ تیغ:تلوار۔ مسلول:برہنہ۔
مفہومِ شعر:حق اور باطل میں فرق کرنے والے ہدایت کے امامِ برحق جو کفار کے لیے ایک ننگی تلوار کی مثل ہیں یعنی حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ پہ لاکھوں سلام۔
شرح:فارقِ حق و باطل:
رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:میرے بعد حق عمر کے ساتھ ہو گا وہ جہاں بھی ہو۔([5]) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فاروق کیوں کہا جاتا ہے،اس سے متعلق کئی اقوال مروی ہیں،مثلاً حضرت نزّال بن سَبْرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ایک روز ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے عرض کی:ہمیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیے۔آپ نے ارشاد فرمایا:امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں جنہیں اللہ پاک نے فاروق لقب عطا فرمایا، کیونکہ آپ نے اسلام کا اظہار کیا اور حق و باطل کے درمیان فرق کیا۔([6])
حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تو آپ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی:یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!کیا ہم حق پر نہیں؟حضور نے فرمایا:کیوں نہیں!ضرور ہم حق پر ہیں، انہوں نے کہا:پھر ہم چھپ کر کیوں رہیں؟بس پھر تمام مسلمان حضرت امیر حمزہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی قیادت میں دو صفیں بنا کر سب کے سامنے مسجدِ حرام میں داخل ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حق کو باطل سے جدا کرنے کے سبب آپ کو فاروق کا لقب عطا فرمایا۔ ([7])
تیغِ مسلولِ شدت:
یوں تو نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے تمام صحابہ ہی کفر و نفاق کے لیے مثلِ تلوار اور قرآن کریم کے بیان کردہ وصفاَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ کی تفسیر ہیں مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ دیگر کئی اوصاف کی طرح اس وصف میں بھی منفرد و ممتاز تھے، آپ کی شدت کا وہ واقعہ اس کا واضح ثبوت ہے کہ دو لوگوں کے درمیان جھگڑا ہوا،مقدمہ بارگاہِ رسالت میں پہنچا، حضور نے یہودی کے حق میں فیصلہ دیا،دوسرا چونکہ منافق تھا، لہٰذا اس نے وہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فیصلہ کروانے کی ضد کی،دونوں بارگاہِ فاروقی میں آئے اور ماجرا بیان کیا،یہودی نے کہا:مقدمے کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے میرے حق میں کیا ہے،آپ اندر تشریف لے گئے تلوار لا کر حضور کا فیصلہ نہ ماننے والے کی گردن اڑا دی اور فرمایا:جو حضور کا فیصلہ نہیں مانتا اس کا فیصلہ عمر کی تلوار کرے گی۔([8])
139
ترجمانِ نبی ہمزبانِ نبی
جانِ شانِ عدالت پہ لاکھوں سلام
مشکل الفاظ کے معانی:ترجمانِ نبی:نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سفیر۔ہم زبان:ایک جیسی بولی بولنے والے۔عدالت: جہاں سے انصاف ملتا ہے۔
مفہومِ شعر:نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ترجمان و ہم زبان اور عدل و انصاف کی روح کو شان و شوکت عطا فرمانے والے حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ پر لاکھوں سلام۔
شرح:ترجمانِ نبی ہم زبانِ نبی:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بہترین ترجمان تھے اور حضور کی صحبت و نسبت کا آپ کو یہ فیضان عطا ہوا تھا کہ حضور کے ارشادات کو دوسروں سے زیادہ سمجھنے والے اور حضور کے مزاج مبارک کو ایسے جانتے تھے کہ حضور کچھ ارشاد فرماتے تو وہی مفہوم بغیر سنے ہی آپ کی زبان پر جاری ہوتا تھا، قرآنِ کریم کی کئی آیاتِ مبارکہ آپ کی رائے کے مطابق نازل ہوئیں۔
یہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی صحبت اور تربیت کا گہرا اثر تھا کہ اسلامی احکامات نافذ کرنے اور ان پر عمل کروانے میں آپ کسی قسم کی رعایت نہیں کرتے تھے۔چنانچہ ایک مرتبہ بازار میں ایک بہت موٹا اونٹ فروخت ہوتے دیکھا تو پوچھا:یہ اونٹ کس کا ہے؟لوگوں نے بتایا:آپ کے بیٹے کا ہے،فوراً بیٹے کو بلوایا اور اونٹ کے موٹا تازہ ہونے کا سبب دریافت کیا،انہوں نے عرض کی:یہ اونٹ سرکاری چراگاہ میں چرتا ہے اس لئے اتنا فربہ ہو گیا ہے۔آپ نے حکم ارشاد فرمایا:اس اونٹ کو بیچ کر اونٹ کی عام رقم اپنے پاس رکھ لو اور باقی رقم سرکاری خزانے میں جمع کروا دو۔ ([9])
جس شخص کو کسی صوبے کا حاکم بناتے تو اس کے تمام مال و اثاثوں کی فہرست لکھوا کر اپنے پاس محفوظ کرلیتے تھے۔ بعد میں جن افسران کے اثاثے زائد ہوتے(اور وہ ان کی کوئی صحیح وجہ بیان نہ کر پاتے)تو ان اثاثوں کو بیت المال میں جمع کروانے کا حکم فرما دیتے۔ ([10])
جانِ شانِ عدالت:
آپ انصاف پسند تھے،آپ کے عدل و انصاف کی گواہی کے لیے آپ کی سیرتِ مبارکہ کا یہ مشہور واقعہ ہی کافی ہے کہ جب قیصرِ روم کا سفیر آپ کو قتل کرنے کے ارادے سے آیا تو اس نے دیکھا کہ آپ ایک درخت کے نیچے بغیر بستر کے اینٹ کو سرہانہ بنائے مٹی پر آرام فرما رہے ہیں، جب وہ قتل کے ارادے سے آگے بڑھا تو دیکھا کہ ایک شیر آپ کے گرد گھوم رہا ہے اور آپ کے قدموں کو بوسہ دے رہا ہے، اسی دوران غیب سے آواز آئی:اے عمر! تم عدل و انصاف کے پیکر ہو اسی لیے اطمینان و سکون کی نیند سو رہے ہو، یہ منظر دیکھ کر وہ مسلمان ہو گیا۔([11])آپ 13 ہجری میں خلیفہ بنے اور دس سال چھ ماہ تک خلیفہ رہے۔
140
زاہدِ مسجدِ احمدی پر درود
دولتِ جیشِ عسرت پہ لاکھوں سلام
مشکل الفاظ کے معانی:زاہد:عبادت گزار۔مسجدِ احمدی:مسجد نبوی۔جیشِ عُسرت:تنگی کا لشکر۔
مفہومِ شعر:مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر لاکھوں سلام جو مالدار ہو کر بھی مسجدِ نبوی کے خادم اور نمازی پرہیز گار بن کر زندگی گزارتے رہے اور جیش عُسرت یعنی غزوۂ تبوک کے موقع پر مجاہدین کی دل کھول کر مدد کی۔
شرح:زاہدِ مسجدِ احمدی:
یہاں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خوبیوں کا ذکر ہو رہا ہے۔آپ کا نامِ پاک زمانۂ جاہلیت اورزمانۂ اسلام دونوں میں عثمان ہی رہا۔([12])
اس شعر میں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے متعلق اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ اکثر مسجدِ نبوی میں حاضر رہتے۔ آپ کے زہد و تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ جس ہاتھ سے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دستِ مبارک پر بیعت کی وہ (سیدھا ہاتھ ) پھر میں نے کبھی بھی اپنی شرم گاہ کو نہ لگایا۔ ([13])بلکہ امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی شرم و حیا کی شدّت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اگر حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کسی کمرے میں ہوتے اور اُس کا دروازہ بھی بند ہوتا تب بھی نہانے کے لئے کپڑے نہ اتارتے اور حیا کی وجہ سے کمر سیدھی نہ کرتے تھے۔ ([14])
دولتِ جیشِ عسرت:
آپ کا ایک لقب مُجَہِّزُ جَیْشِ الْعُسْرَۃ بھی ہے،جس کا معنیٰ ہے تنگی والے لشکر کی مالی معاونت کرنے والا۔ جنگِ تبوک کے موقع پر جو اسلامی لشکر تیار ہوا تھا اسے جَیْشُ الْعُسْرَۃ کہا جاتا ہے کیونکہ غزوۂ تبوک نہایت ہی دشوار مقام اور شدید گرمی کے موسم میں ہوا۔حضرت عبدالرحمٰن بن خبّاب سے مروی ہے کہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر تھا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم صحابہ کرام کو جیشِ عُسرت(یعنی غزوۂ تبوک) کی تیاری کیلئے ترغیب ارشاد فرما رہے تھے۔حضرت عثمان بن عفّان رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر عرض کی:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!پالان اور دیگر متعلقہ سامان سمیت سو 100 اونٹ میرے ذمّے ہیں۔حضور نے پھر ترغیباً فرمایا تو حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ دوبارہ کھڑے ہوئے اور عرض کی:یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!میں تمام سامان سمیت 200 اونٹ حاضر کرنے کی ذمّہ داری لیتا ہوں۔حضور نے صحابہ کرام سے پھر ترغیباً ارشاد فرمایا تو حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ نے عرض کی:یا رسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! میں 300 اونٹ سامان کے ساتھ اپنے ذمّے قبول کرتا ہوں۔ یہ سن کر پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بہت خوش ہوئے۔ ([15]) اسی لیے آپ کو مُجَہِّزُ جَیْشِ الْعُسْرَۃ یعنی تنگی والے لشکر کی مالی معاونت کرنے والا کہتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ڈبل ایم اے (اردو، مطالعہ پاکستان)
گوجرہ منڈی بہاؤ الدین
Comments