حاکم کے حقوق
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن

اہم نوٹ:ان صفحات میں ماہنامہ خواتین کے 28ویں تحریری مقابلے میں موصول ہونے والے255مضامین کی تفصیل یہ ہے:

عنوان

تعداد

عنوان

تعداد

عنوان

تعداد

حضورکی قرآن سے محبت

49

گناہ پر مدد

65

حاکم کے حقوق

141

مضمون بھیجنے والیوں کے نام

حضور کی قرآن سے محبت:

سیالکوٹ:اگوکی:بنت ارشد۔تلواڑہ مغلاں:بنت اسلام، بنت اللہ دتہ، بنت جاوید سرور، بنت عارف حسین، بنت غلام عباس، بنت فیصل مجید، بنت فیصل، بنت محمد آصف، بنت محمد ارشد، بنت محمد اسلم، بنت منیر احمد، بنت وسیم علی۔شفیع کا بھٹہ:بنت امجد حسین، بنت امجد فاروق، بنت اورنگزیب، بنت خالد حسن، بنت راشد، بنت رضا، بنت سرمد، بنت عرفان، بنت محمد امین، بنت محمد بوٹا، بنت محمد حبیب، بنت محمد شاہد، بنت محمد عارف، بنت ناصر علی، بنت ناصر، ہمشیرہ احمد، ہمشیرہ علی، ہمشیرہ محمد اسماعیل، ہمشیرہ محمد حسین۔مظفر پورہ:بنت آصف محمود، بنت ارشد علی، بنت شفیق، بنت محمد ارشد، بنت محمد نواز، ہمشیرہ قاسم علی۔معراج کے:بنت غلام عباس۔ گلبہار:ام مشکوۃ، ام ہانی، بنت محمد عنصر، بنت محمود حسین۔فیصل آباد:چباں:بنت محمد جاوید اقبال۔لاہور:ناظم آباد:بنت محمد فاروق۔ملتان:قادر پوراں:بنت محمد اسحاق۔کوہی والا:بنت محمد علی، بنت واجد۔گجرات:سوکلاں:بنت محمد عاشق ڈار۔

حاکم کے حقوق:

بہاولپور:یزمان:بنت قاسم حسین۔سیالکوٹ:تلواڑہ مغلاں:اخت عبدالاحد، بنت رزاق احمد، بنت سائیں منگا، بنت شہزاد، بنت عبد الوحید خان، بنت محمد انور، بنت محمد جنید رضا، بنت محمد شکور۔شفیع کا بھٹہ:بنت افتخار احمد، بنت آصف اقبال، بنت ابرار حسین، بنت اشرف، بنت اشفاق، بنت اصغر، بنت اعجاز احمد، بنت اعجاز، بنت اللہ دتہ، بنت امجد پرویز، بنت انتظار حسین، بنت انعام اللہ، بنت بابر، بنت بشیر احمد، بنت تنویر، بنت خالد پرویز، بنت خلیل احمد، بنت خوشی محمد، بنت دلاور حسین، بنت ذو الفقار انور، بنت راشد محمود، بنت رزاق بٹ، بنت ساجد، بنت سعید، بنت سلیم، بنت سید  عاشق حسین، بنت شفاقت علی، بنت شمس پرویز، بنت شہباز احمد، بنت صغیر احمد، بنت طارق محمود، بنت طارق نذیر، بنت طاہر ، بنت طاہر محمود، بنت عبد القادر، بنت عبد الماجد، بنت عبد المجید، بنت عثمان علی، بنت عرفان، بنت غلام رسول، بنت فضل الٰہی، بنت محمد آصف، بنت محمد احسن، بنت محمد ارشد، بنت محمد اشرف (رابعہ)، بنت محمد اشرف(خامسہ)، بنت محمد اشفاق بھٹی، بنت محمد اشفاق، بنت محمد امجد، بنت محمد امین، بنت محمد اکرام، بنت محمد بشیر، بنت محمد بوٹا، بنت محمد جان، بنت محمد جمیل، بنت محمد حبیب، بنت محمد خالد، بنت محمد رمضان، بنت محمد سجاد احمد، بنت محمد سجاد، بنت محمد سلیم، بنت محمد شریف، بنت محمد شمس، بنت محمد شکیل، بنت محمد شہباز، بنت محمد طارق، بنت محمد عابد، بنت محمد عارف، بنت محمد عرفان، بنت محمد فاروق، بنت محمد فرید، بنت محمد ندیم، بنت محمد نعیم، بنت محمد کاشف، بنت محمد گلزار، بنت محمد یعقوب، بنت محمد یوسف، بنت ندیم جاوید، بنت نوید احمد، بنت کاشف شیراز، بنت کرامت علی، ہمشیرہ حامد مغل، ہمشیرہ حیدر علی، ہمشیرہ زین علی، ہمشیرہ عبدالرحمن، ہمشیرہ عبدالقدوس، ہمشیرہ علی، ہمشیرہ عمر جٹ، ہمشیرہ محمد آصف، ہمشیرہ محمد احمد، ہمشیرہ محمد ایان، ہمشیرہ محمد جواد، ہمشیرہ محمد شہزاد حسن، ہمشیرہ محمد طاہر، ہمشیرہ محمد علی، ہمشیرہ محمد منیب، ہمشیرہ میر حمزہ۔ مظفر پورہ:بنت غلام میراں، بنت آصف محمود، بنت ارشد علی، بنت خلیل احمد، بنت رمضان، بنت شاہد، بنت شبیر، بنت ظفر اقبال، بنت عبدالقیوم، بنت محمد اعظم، بنت محمد افضل، بنت محمد شہباز، بنت محمد طارق، بنت محمد عمران، بنت محمد لطیف عمران، بنت محمد نواز، بنت محمد یاسر۔نواں پنڈ آرائیاں: بنت ظفر اسلام۔پاکپورہ:بنت اظہر، بنت لیاقت علی، بنت میاں محمد یوسف قمر۔گلبہار:بنت امیر حیدر، بنت رضوان، بنت سجاد حسین، بنت طارق محمود، بنت ظہور الٰہی، بنت محمد رشید، بنت محمد شہباز، بنت محمد عنصر، بنت محمد منیر، بنت محمود حسین۔لالہ موسیٰ:بنت قیصر نوید۔ملتان:کوہی والا:بنت واجد۔گجرات:سراجا منیرا:بنت محمد طارق۔

گناہ پر مدد:

اٹک:حضرو:بنت محمد ایوب۔خیر پور:میرس:بنت شاہ حسین۔ناتھن شاہ:بنت غلام علی چانڈیو۔راولپنڈی:ھدی للناس اکیڈمی:بنت راجہ واجد حسین۔سیالکوٹ:اگوکی:بنت تنویر۔تلواڑہ مغلاں:بنت رانا محمد نعیم، بنت نصیر احمد۔شفیع کا بھٹہ:بنت اشفاق احمد، بنت افضال احمد، بنت اورنگزیب، بنت اویس، بنت تنویر، بنت جاوید اقبال، بنت جہانگیر، بنت شبیر احمد زیدی، بنت شبیر احمد، بنت شبیر، بنت شمس، بنت شمس پرویز، بنت ظہور احمد، بنت عارف محمود، بنت عبدالرزاق، بنت عرفان، بنت محمد اصغر مغل، بنت محمد اقبال، بنت محمد انور، بنت محمد اکرم، بنت محمد سلیم، بنت محمد عمران، بنت محمد غفور، بنت محمد نعیم، بنت محمد وسیم، بنت محمد یوسف، بنت ناصر محمود، ہمشیرہ احسان الٰہی ، ہمشیرہ حنظلہ صابر، بنت عبد الرزاق۔مظفر پورہ: بنت آصف محمود، بنت ارشد، بنت ارشد علی، بنت اظہر اقبال، بنت اظہر حسین، بنت جاوید، بنت عابد حسین،  بنت غلام عباس، بنت غلام میراں، بنت محمد طارق، بنت محمد لطیف عمران، بنت محمد نعیم، بنت محمد نواز، بنت ملک امجد سہیل، بنت نعیم، ہمشیرہ امیر حمزہ۔پاکپورہ:بنت اظہر، بنت سید ابرار حسین۔ گلبہار: بنت امیر حیدر۔فیصل آباد:چباں:بنت ارشد محمود۔لالہ موسیٰ:بنت شفیق۔ملتان:کوہی والا:بنت اشرف،بنت واجد۔کراچی: دھوراجی:بنت شہزاد احمد۔سرجانی ٹاؤن:بنت محمد نعیم ۔گجرات:ام شجاع۔

حاکم کے حقوق


کسی بھی معاشرے میں زندگی کے معاملات کو صحیح طور پر چلانے کے لئے ایک حاکم یا امیر کا ہونا ضروری ہے۔ شہری زندگی ہو یا دیہاتی۔بغیر حاکم و امیر کے کسی بھی جگہ کا نظام درست نہیں رہ سکتا اور کوئی بھی حاکم معاشرے میں امن و امان اس وقت تک قائم نہیں کر سکتا، جب تک کہ اسے رعایا کا تعاون حاصل نہ ہو۔اگر غور کیا جائے تو یہ معلوم ہو گا کہ کسی بھی معاشرے کے اندر بدامنی کے پھیلنے میں سب سے بڑا دخل حاکم اور محکوم کی اپنی اپنی ذمہ داری اور اپنے اوپر واجبی حقوق کو ادا کرنے میں کوتاہی ہے۔اس لئے اس چیز کی پہچان ضروری ہے کہ حاکم و محکوم اپنے فرائض و واجبات کو پہچانیں۔

اسی کے پیشِ نظر رعایا پر حاکم کے چند حقوق ذکر کئے جا رہے ہیں۔چنانچہ اللہ پاک نے اپنی کتاب قرآنِ کریم میں یہ حکم ارشاد فرمایا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ- (پ5،النسآء:59)

ترجمہ:اے ایمان والو!اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے حکومت والے ہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت سے ثابت ہوا کہ مسلمان حکمرانوں کی اطاعت کا بھی حکم ہے جب تک وہ حق کے موافق رہیں اور اگر حق کے خلاف حکم کریں تو ان کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔آیت میں ” اُولِی الْاَمْرِ “کی اطاعت کا حکم ہے۔ اس میں امام، امیر، بادشاہ، حاکم، قاضی،علما سب داخل ہیں۔([1])

حاکمِ اسلام کے حقوق:

 (1)اطاعت کرنا:

حاکمِ اسلام کی اطاعت و فرمانبرداری ہر فردِ بشر پر واجب ہے بشرطیکہ اس کا حکم شریعت کے مطابق ہو۔ جیسا کہ حضور نبیِّ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے امیر کی نافرمانی کی اُس نے میری نافرمانی کی۔([2])

( 2)احترام کرنا:

حاکمِ اسلام کی عزت و احترام کرنا اور اس کی توہین نہ کرنا بھی ضروری ہے۔حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حاکم کی عزت نہ کرنے کے حوالے سے فرمایا:جس نے اللہ پاک کے بنائے گئے حاکم کی توہین کی اللہ پاک اسے ذلیل کرے گا۔([3])

مذکورہ حدیثِ پاک کے تحت دلیلُ الفالحین میں ہے:یعنی اس کی بات نہ سنی اور نہ ہی اس کے حکم کی اطاعت کی تو اللہ پاک اسے دنیا میں بھی ذلیل کرے گا اور عفو و درگزر کا معاملہ نہ ہوا تو آخرت میں بھی ذلت و رسوائی کا عذاب دے گا۔کیونکہ اس نے اللہ پاک کی نافرمانی کی اور ایسے شخص کو ذلیل کرنے کی کوشش کی جسے اللہ پاک نے عزت عطا فرمائی۔

حدیثِ پاک میں سلطان سے مراد ہر وہ شخص ہے جو مسلمانوں کے معاملات میں سے کسی چیز پر والی اور حاکم بنایا گیا ہو۔([4])

( 3)حکم پر عمل:

رعایا کو چاہیے کہ حاکم کے حقوق ادا کرے اور اس کا جو حکم شریعت کے موافق ہے اس کی اطاعت کرے اگرچہ حاکم رعایا کے حقوق ادا نا کرتا ہو۔ چنانچہ،

حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے ایسے حاکم کے بارے میں پوچھا گیا جو رعایا کے حقوق ادا نہ کرتا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ان پر وہ لازم ہے جس کے وہ پابند کیے گئے ہیں اور تم پر وہ لازم ہے جس کے تم پابند کیے گئے ہو۔([5])

 (4) حاکم سے جھگڑا نہ کرنا:

حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی حاکم سے جھگڑے تو اس کی گردن اڑا دو۔([6])علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:یہ خطاب اس حاکم کی بیعت لینے اور نہ لینےوالے دونوں کو شامل ہے۔ ([7])

 (5)حکمرانوں کے عیب ظاہر نہ کرنا:

حضرت زید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اللہ پاک سے آہستہ آواز سے دعا کرو۔کیونکہ جب لوگ  بلند آواز سے دعا کریں گے تو ان کا عمل حکمرانوں کی بے عزتی اور فتنہ و فساد کا سبب بنے گا۔([8])

 (6)اچھائی پر شکر اور بُرائی پر صبرکرنا:

رسولِ اكرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا:حاکمِ اسلام زمین پر اللہ پاک کا سایہ ہے۔ جب وہ انصاف کرے تو اُس کے لئے اجر ہے اور رعایا پر شکر لازم ہے اور اگر وہ  ظلم کرے تو اس کا گناہ اُسی پر ہے اور رعایا پر صبر لازم ہے۔([9])

ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تو ایسے حاکم ہیں کہ چور بھی ہمارے مدنی آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دامنِ کرم میں پناہ لیتے ہیں اور  گناہ گار بھی ان کی کملی میں چھپتے ہیں۔چنانچہ اعلیٰ حضرت،امامِ اہلِ سنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ حدائقِ بخشش میں لکھتے ہیں:

چور حاکم سے چھپا کرتے ہیں یاں اس کے خلاف

تیرے دامن میں چُھپے چور انوکھا تیرا

 (7)ان کی عزت کرنا:

حضرت عبدُ اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  کا فرمان ہے:سلاطین کی عزت و توقیر کرو کیونکہ جب تک یہ انصاف کریں گے زمین پر اللہ پاک کی قوت اور سایہ ہوں گے۔([10])

 (8)خیر خواہی:

حاکمِ اسلام کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کیا جائے۔اگر کوئی غفلت نظر آئے تو اچھے طریقے سے انہیں آگاہ کیا جائے۔نیز اسے بلکہ تمام مسلمانوں کو صحیح،سچے اور اچھے انداز میں مشورہ دیا جائے۔ چنانچہ ارشادِ باری ہے:

(پ14،النحل:125)ترجمہ:اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ۔

معلوم ہوا کہ رعایا کو اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے حکمران کی اطاعت کرنی چاہیے۔ہاں!اگر وہ بُرائی کا حکم دے تو اطاعت واجب  نہیں بلکہ نا جائز اور گناہ ہے۔اس کی اصلاح کے لیے اللہ پاک سے دعا کرنی چاہیے اور اپنی اصلاح کی طرف بھی بھر پور توجہ دینی چاہیے۔ کیونکہ رعایا کے بُرے اعمال کے سبب ہی بُرے حکمران مسلط کیے جاتے ہیں۔لوگ حکمرانوں کو تو بُرا کہتے ہیں لیکن اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔اگر رعایا سدھر جائے تو حکمران بھی سدھر جائیں گے۔اللہ پاک ہمیں بُرے حکمرانوں سے محفوظ فرمائے اور نیک حکمران عطا فرمائے۔

اٰمین بجاہِ النبی الامین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم



...[1] تفسیر صراط الجنان،2/230

...[2] بخاری، 2/297،حدیث:2957

...[3] ترمذی، 4/96،حدیث:2231

...[4] دلیل الفالحین،3/137،تحت الحدیث:672

...[5] مسلم، ص792،حدیث:4782

...[6] مسلم، ص791، حدیث:4776

...[7] مرقاۃ المفاتیح،7/ 260،تحت الحدیث:3679

...[8] عمدۃ القاری،16/329،تحت الحدیث:7052

...[9] شعب الایمان،6/16،حدیث:7369

...[10] ربیع الابرار ونصوص الاخبار،5/ 161، حدیث:1


Share