حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور پردے کا اہتمام (قسط:04)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع: حضرت عائشہ اور پردے کا اہتمام(قسط4)

الحمد للہ!نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی محبوبہ اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ ُعنہا کا ذکرِ خیر جاری ہے۔پچھلی قسط میں سیدہ عائشہ رضی اللہ ُعنہا کا علمی مقام بیان کیا گیا، اب ان شاء اللہ آپ کی مبارک زندگی سے کچھ ایسی باتیں بیان کی جائیں گی جن سے یہ واضح ہو گا کہ آپ  شریعت کے احکام پر سختی سے عمل کرتی تھیں،بلکہ ہمیشہ مسائلِ شرعیہ میں بھی فتویٰ کے بجائے تقویٰ پر عمل کو اختیار فرمایا کرتیں۔چنانچہ اس حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ ُعنہا کی مبارک زندگی کے صرف ایک پہلو کو بطورِ مثال پیش کیا جائے گا۔

اللہ پاک نے اپنی پاکیزہ کتاب قرآنِ کریم میں نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مقدس بیبیوں کو جب پردے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا:

وَ قَرْنَ فِیْ بُیُوْتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى (پ22، الاحزاب:  33)

ترجمہ:اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بے پردہ نہ رہو جیسے پہلی جاہلیت کی بے پردگی۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تو بلا شبہ تمام امہات المومنین رضی اللہ ُعنہن نے اس فرمانِ الٰہی پر لَبَّیْک کہا اور ہمیشہ اس حکم پر عمل فرمایا۔بلکہ ایک روایت کے مطابق سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا جب بھی یہ آیت ِ مبارکہ تلاوت کرتیں تو اس قدر روتیں کہ آنسوؤں سے دوپٹہ تر ہو جاتا۔([1])چنانچہ،

سیدہ عائشہ کی مبارک زندگی کو اگر گہرائی سے پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پردے کے معاملے میں آپ بہت احتیاط فرمایا کرتی تھیں جیسا کہ مروی ہے کہ حضرت ابو  قُعَیس رضی اللہ عنہ کی بیوی صاحبہ نے اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صِدِّیقہ رضی اللہ ُعنہا کو بچپن میں دودھ پلایا تھا، لہٰذا حضرت ابو  قُعَیس رضی اللہ عنہ حضرت  عائشہ رضی اللہ ُعنہا کے رضاعی والد اور ابو قُعَیس کے بھائی حضرت افلح رضی اللہ عنہما  آپ کے رضاعی چچا ہوئے۔حضرت افلح حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں سیدہ عائشہ کے ہاں حاضر ہوتے رہتے تھے،مگر جب پردے سے متعلق آیاتِ مقدَّسہ نازل ہوئیں اور افلح رضی اللہ عنہ نے حضرت  عائشہ رضی اللہ ُعنہا کے پاس آنا چاہا تو آپ نے پردے کی احتیاط کے پیشِ نظر منع فرما دیا اور اپنے رضاعی چچا سے فرمایا:پہلے میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے پوچھ لوں کہ دودھ کے رشتے کی وجہ سے اَفلح کا مجھ سے پردہ ہے یا نہیں؟ کیونکہ میں یہ سمجھتی ہوں کہ دودھ تو میں نے ابو  قُعَیس کی بیوی کا پیا ہے،افلح سے کیا رشتے داری!اس پر حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! اَفلح کو اجازت دے دو کہ وہ تمہارے رضاعی چچا ہیں۔([2]) نیز ایک روایت کے مطابق اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صِدِّیقہ رضی اللہ عنہا حضرات حسنین کریمین یعنی امام حسن و حسین رضی اللہ عنہما سے بھی پردہ کیا کرتی تھیں حالانکہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ ُعنہا کا ان دونوں حضرات سے پردہ نہ کرنا جائز تھا۔([3])

سبحانَ اللہ!یہ سب سیدہ عائشہ کے علمی مقام و مرتبے کی شان تھی کہ آپ پردے کے اہتمام کا خوب خیال رکھا کرتی تھیں،گویا کہ یہ پردہ آپ کی فطرت کا حصہ بن گیا تھا،چنانچہ

 طبقات اِبنِ سعد میں ہے:حضرت اِسحٰق اعمیٰ(نابیناصحابی رضی اللہ عنہ)  فرماتے ہیں:میں اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صِدِّیقہ رضی اللہ عنہا کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھ سے پردہ کیا، میں نے عرض کی:آپ مجھ سے پردہ کرتی ہیں حالانکہ میں آپ کو دیکھ نہیں سکتا؟تو آپ نے فرمایا:اگرچہ آپ مجھے دیکھ نہیں سکتے لیکن میں تو آپ کو دیکھ سکتی ہوں! ([4])ممکن ہے کہ اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا   کا حضرت اسحاق سے یوں پردہ کرنا حضور  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اس فرمان پر عمل کے نتیجے میں ہو جو ترمذی شریف میں اُمُّ المومنین حضرت  اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا  سے مروی ہے،جس میں آپ فرماتی ہیں: وہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا دونوں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر تھیں کہ اچانک اِبنِ اُمِّ مکتوم رضی اللہ عنہ  حاضر ِ خدمت ہوئے،یہ اس وقت کی بات ہے جبکہ پردہ کی آیت نازل ہو چکی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ان دونوں کو جب پردے کا حکم ارشاد فرمایا تو حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ ُعنہا نے عرض کی:یارسولَ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم!کیا وہ نابینا نہیں ہیں؟وہ تو ہمیں دیکھ سکتے ہیں نہ ہمیں پہچانتے ہیں!ارشاد فرمایا: کیا تم دونوں بھی نابینا ہو کہ انہیں دیکھ نہیں سکتیں؟([5])

سیدہ عائشہ رضی اللہ ُعنہا خود پردے کا اہتمام کرتیں تو دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلاتیں اور ممکنہ صورت میں اس معاملے میں سختی سے بھی کام لیتیں،جیسا کہ ایک مرتبہ آپ کی خدمت میں آپ کے بھائی حضرت عبدُ الرحمن رضی اللہ عنہ کی بچی حفصہ حاضر ہوئی جس نے باریک دوپٹّا اوڑھ رکھا تھا تو آپ رضی اللہ ُعنہا  نے اس دوپٹّے کو پھاڑ کر اسے موٹا دوپٹّا  اوڑھا دیا۔([6])  یعنی اس دوپٹے  کو پھاڑ کر دو رومال بنا دئیے تاکہ اوڑھنے کے قابل نہ رہے، رومال کے کام آئے، لہٰذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ آپ نے یہ مال ضائع کیوں فرما دیا۔ یہ ہے عملی تبلیغ اور بچیوں کی صحیح تربیت و تعلیم اس دوپٹے سے سر کے بال چمک رہے تھے،سَتْر حاصل نہ تھا  اس لیے یہ عمل فرمایا۔([7])

اُمُّ المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ ُعنہا کی عظمت پر قربان! آپ نے زندہ لوگوں سے ہی پردے کا اہتمام نہ فرمایا، بلکہ دنیا سے پردہ کر جانے والوں سے بھی اس معاملے میں خوب احتیاط فرمائی۔ چنانچہ

 آپ خود فرماتی ہیں:میں اپنے اس  گھر میں داخل ہوتی جس میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور میرے والد دفن ہیں(یعنی روضہ اطہر میں)تو اپنے(کچھ)کپڑے اتار لیتی(یعنی جو غیروں کے سامنے ستر پوشی کے لئے ضروری ہیں)اور کہتی کہ یہاں تو صرف میرے شوہر اور میرے والد ہیں!پھر جب حضرت عمر ان کے ساتھ دفن ہوئے تو آپ فرماتیں:خدا کی قسم!میں حضرت عمر سے حیا کرتے ہوئے خود کو کپڑے میں اچھی طرح لپیٹے بغیر نہ جاتی۔([8]) یعنی جب تک میرے حجرے میں رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور حضرت ابو بکر صِدِّیق (رضی اللہ عنہ)مدفون رہے تب تک تو میں سر کھولے یا ڈھکے ہر طرح حجرے میں چلی جاتی تھی کیونکہ نہ خاوند سے حجاب ہوتا ہے نہ والد سے(لیکن)جب سے حضرت عمر میرے حجرے میں دفن ہو گئے تب سے میں بغیر چادر اوڑھے اور پردے کا پورا اہتمام کئے بغیر حجرے شریف میں نہ گئی کہ حضرت عمر سے شرم و حیا کرتی ہوں۔اس حدیث سے بہت مسائل معلوم ہو سکتے ہیں: (1) میت کا بعدِ وفات بھی احترام چاہئے۔ فقہا فرماتے ہیں کہ میت کا ایسا ہی احترام کرے جیسا کہ اس کی زندگی میں کرتا تھا۔(2)بزرگوں کی قبور کا بھی احترام اور ان سے بھی شرم و حیا چاہئے۔ (3)میت قبر کے اندر سے باہر والوں کو دیکھتا اور انہیں جانتا پہچانتا ہے۔ دیکھو! حضرت  عمر سے عائشہ صِدِّیقہ ان کی وفات کے بعد شرم و حیا فرما رہی ہیں۔اگر آپ باہر کی کوئی چیز نہ دیکھتے تو اس حیا فرمانے کے کیا معنی!(4)قبر کی مٹی تختے وغیرہ تو میت کی آنکھوں کے لیے حجاب نہیں بن سکتے مگر زائر(یعنی زیارت کرنے والے)کے جسم کا لباس ان کیلئے آڑ ہے، لہٰذا میت کو زائر ننگا نہیں دکھائی دیتا ورنہ حضرت عائشہ صِدِّیقہ کا چادر اوڑھ کر وہاں جانے کے کیا معنیٰ تھے، یہ قانونِ قدرت ہے۔لہٰذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب حضرت عمر قبر کے اندر سے زائر کو دیکھ رہے ہیں تو زائر کے کپڑوں کے اندر کا جسم بھی انہیں نظر آ رہا ہے۔([9])



…[1]الزہد لامام احمد،ص185،رقم:911

…[2] بخاری،4/143،حدیث:6156

…[3]طبقاتِ ابنِ سعد،8/58

…[4]طبقاتِ ابنِ سعد،8/55  

…[5]ترمذی، 4/357، حدیث:2787

…[6]مؤطا امام مالک،2/410،حدیث:1739

…[7]مراٰۃ المناجیح، 6 / 124

…[8]مسند  امام احمد،42/441،حدیث:25660

…[9]مراۃ المناجیح،2/527


Share