سیدہ میمونہ  رضی اللہ عنہا(دوسری اور آخری قسط)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:سیدہ میمونہ(دوسری و آخری قسط)

سیدہ میمونہ کے اوصاف:

اُمُّ المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا امت کی وہ عظیم محسنہ خاتون ہیں جن کے ذریعے اُمَّت کو کئى مسائل کا حل ملا،انہی مىں سے اىک مسئلہ حالتِ اِحرام مىں نکاح کرنے کا بھى ہے جىسا کہ فتاویٰ ہندیہ میں ہے کہ جس مرد اور عورت نے(حج ىا عمرے کا) احرام باندھا ہو،اسے اس حالت مىں نکاح کرنا جائز ہے۔([1]) اور اس کی دلیل بخارى شرىف کى یہ رواىت ہے کہ حضور نے حالتِ اِحرام مىں سیدہ مىمونہ سے نکاح فرماىا۔([2])

سیدہ میمونہ سنتِ نبوی کی وہ پاسبان ہیں جنہوں نے اُمّت کو آدابِ بندگی سکھائے۔آپ کی نگاہِ جوہر شناس نے حضور کے مبارک عادات و معمولات کو جس ترتیب اور سلیقے سے محفوظ فرمایا،وہ آپ کے بلند علمی مرتبے پر دلالت کرتا ہے۔چنانچہ آپ فرماتی ہیں کہ میں نے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کے نہانے کے لیے پانی رکھا اور کپڑے سے پردہ کیا،حضور نے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور ان کو دھویا،پھر سیدھے ہاتھ سے الٹے ہاتھ پر پانی ڈالا،پھر استنجا فرمایا،پھر اپنا ہاتھ زمین پر مار کر مَلا اور دھویا،پھر کُلّی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور منہ اور بازو دھوئے،پھر اپنے سر پر پانی ڈالا اور اپنے بدن پر بہایا،پھر اس جگہ سے الگ ہو کر پاؤں مبارک دھوئے،اس کے بعد میں نے(بدن پونچھنے کے لیے) ایک کپڑا دیا تو حضور نے نہ لیا اور ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے تشریف لے گئے۔([3])

اُمُّ المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کو حضور کی سنتوں سے بے پناہ محبت تھی۔اسی محبت کے باعث آپ کی مسواک ہمیشہ پانی میں بھیگی رہتی اور جب بھی نماز یا کسی اور کام سے فرصت ملتی،فوراً مسواک کر لیا کرتیں۔([4])

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی مبارک زندگی سخاوت،ایثار اور راہِ خدا میں خرچ کرنے کے جذبے سے روشن تھی۔آپ کے ایک عمل پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایسی رہنمائی عطا فرمائی جس سے معلوم ہوا کہ اگر صدقہ اپنے مستحق رشتہ داروں پر کیا جائے تو اس میں صدقے اور صلہ رحمی،دونوں کا اجر جمع ہو جاتا ہے۔چنانچہ ایک مرتبہ آپ نے ایک کنیز آزاد کر دی۔جب حضور تشریف لائے تو آپ نے اس کی اطلاع دی۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا:کاش!تم اسے اپنے ماموؤں کو دے دیتیں تو تمہارے لیے زیادہ ثواب ہوتا۔([5])

سیدہ میمونہ کو یہ منفرد مقام حاصل ہے کہ آپ کی بارگاہِ رسالت میں انتہائی درجہ احتیاط اور سچائی کی بدولت امت کو پاکیزگی سے متعلق نہایت اہم مسئلے کی وضاحت ملی۔نیز آپ کا جذبۂ تقویٰ اس قدر بلند تھا کہ حضور کے وضو کی پاکیزگی کے لیے اپنی ہر کیفیت کو واضح فرما دیا کرتی تھیں۔ایک مرتبہ آپ نے لگن (بڑے برتن) میں پانی لے کر غسل کیا،پھر حضور نے بھی اسی پانی سے وضو  کرنا چاہا تو آپ نے عرض کی:یا رسولَ اﷲ! میں ناپاک تھی۔فرمایا:پانی تو ناپاک نہیں ہوتا۔([6])

مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے ہیں:لگن میں غسل کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اس سے پانی لے کر غسل کیا نہ کہ اس میں بیٹھ کر یعنی بقیہ پانی حضرت میمونہ کا فضالہ تھا غسالہ نہ تھا۔([7])

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی سیرت سے پردے کے احکام پر عمل اور بارگاہِ رسالت کے ادب کا بہترین نمونہ ملتا ہے۔آپ نے دیگر ازواجِ مطہرات کی طرح حضور سے شرعی احکام سیکھے اور امت تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔چنانچہ ایک موقع پرآپ حضرتِ اُمِّ سَلَمَہ کے ساتھ حضور کی خدمت میں حاضر تھیں کہ اچانک حضرت ابنِ اُمِّ مکتوم آ گئے،یہ پردے کا حکم دئیے جانے کے بعد کا واقعہ ہے،حضور نے ان دونوں بیویوں سے فرمایا:ان سے پردہ کرو۔انہوں نے عرض کی:یا رسول اللہ!کیا وہ نا بینا نہیں؟ نہ وہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہمیں پہچان سکتے ہیں۔تو حضور نے ارشاد فرمایا:تو کیا تم دونوں بھی نا بینا ہو؟کیا تم انہیں نہیں دیکھ رہیں؟([8])

اُمُّ المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی مبارک زندگی کے ذریعے اُمت کو عبادات اور طہارت سے متعلق بہت سے قیمتی احکام حاصل ہوئے۔آپ سے مروی روایات اس حقیقت کو بھی واضح کرتی ہیں کہ شریعتِ اسلامیہ تنگی نہیں بلکہ آسانی اور اعتدال کی تعلیم دیتی ہے۔اس لیے پانی میں ایسی معمولی ملاوٹ جو اس کی پاکیزگی کو متاثر نہ کرے،پاکیزگی میں رکاوٹ نہیں ہوتی۔اسی سلسلے میں ایک نہایت سبق آموز واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور سیدہ میمونہ نے اس برتن سے وضو فرمایا جس میں گندھے ہوئے آٹے کا اثر باقی تھا۔([9])

وصال:

آپ نے حضور کے ساتھ 4 سال گزارے۔([10])زمانہ ایک عرصے تک آپ کے علم و عمل،زہد و عبادت اور تقویٰ و پرہیزگاری کے نور سے چمکتا دمکتا رہا،بالآخر وہ وقت قریب آیا کہ جس میں آپ نے اس دنیائے فانی سے کوچ کرنا تھا،اس وقت آپ مکہ شریف میں تھیں،روایت میں ہے کہ جب آپ کے مرضِ وفات نے شدت اختیار کی تو فرمانے لگیں:مجھے مکہ شریف سے باہر لے جاؤ کیونکہ حضور نے مجھے بتایا ہے کہ میرا انتقال مکہ میں نہیں ہو گا۔چنانچہ جب آپ کو مکہ شریف سے باہر مقامِ سرف میں اس درخت کے پاس لایا گیا جس کے نیچے ایک خیمے میں رسولِ پاک صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے آپ کے ساتھ رسمِ عروسی ادا فرمائی تھی تو آپ کا انتقال ہو گیا۔([11]) وصال کے وقت آپ کی عمر مبارک 59 سال تھی۔([12])

آپ کے انتقال کے سال میں مؤرخین کا اختلاف ہے۔مگر قولِ مشہور یہ ہے کہ 51 ہجری میں مقامِ سرف میں وفات پائی جہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ان سے زفاف فرمایا تھا۔

ابنِ سعد نے واقدی سے نقل کیا ہے کہ سیدہ میمونہ نے   61 ہجری میں وفات پائی جبکہ امام ابنِ اسحاق کا قول ہے کہ 63 ہجری ان کے انتقال کا سال ہے۔آپ کی وفات کے وقت آپ کے بھانجے حضرت عبدُ اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما موجود تھے، انہوں نے ہی آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ کو قبر میں اتارا۔([13])

حضرت عطا فرماتے ہیں:ہم لوگ حضرت عبدُ اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ مقامِ سرف میں حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں شریک تھے۔حضرت عبدُ اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:اے لوگو!یہ حضور کی مقدس بیوی ہیں۔لہٰذا جب تم ان کے جنازے  اٹھاؤ تو اسے جھٹکے نہ دو،نہ زیادہ ہلاؤ بلکہ نرمی سے لے کر چلو۔([14])

حضرت یزید بن اصم رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ عنہا کو مقامِ سرف میں اسی چھپر کی جگہ میں دفن کیا جس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ان کو پہلی بار اپنی قربت سے سرفراز فرمایا تھا۔([15])

سیدہ میمونہ کی کرامات:

مدینہ روڈ پر نواریہ کے قریب  مقامِ سرف واقع ہے۔یہ مزار شریف اگرچہ مکہ مکرمہ سے باہر ہے تاہم یہاں حجاج کوشش کریں تو حاضری دے سکتے ہیں۔یہ مزار مبارَک سڑک کے بیچ میں ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی تعمیر کے لئے اس مزار شریف کو شہید کرنے کی کوشش کی گئی تو ٹریکٹر (TRACTOR) الٹ جاتا تھا،نا چار یہاں چار دیواری بنا دی گئی۔ سیدہ  میمونہ رضی اللہ عنہا کی کرامت مرحبا!([16])

ایک عاشقِ رسول کا کہنا ہے کہ آدھی رات کے وقت ہم مکہ شریف سے مدینہ منورہ جانے والے راستے پر واقع مقامِ  سَرِف پہنچے جہاں اُمُّ المومنین سیِدہ میمونہ کا مزار ہے،عجیب اتفاق ہے کہ اُس دن میں نے کچھ نہیں کھایا تھا،بھوک کی شدّت کی وجہ سے میری طاقت جواب دے چکی تھی،روٹی حاصل کرنے کی بہت کوشش کی مگر کہیں سے نہ ملی،مجبوراً زیارت کے لئے حجرۂ مقدّسہ میں گیا،میں نے مزارِ سیدہ میمونہ کے سامنے سلام عرض کیا،سورۂ فاتحہ اور سورۂ اخلاص پڑھ کر ان کی روح کو ایصالِ ثواب کیا،فقیرانہ صدا لگائی:اے پیاری امی جان!میں آپ کا مہمان ہوں،کھانے کے لئے کچھ عنایت فرمایئے اور اپنے الطافِ کریمانہ سے مجھے محروم نہ لوٹایئے۔ میں بیٹھا ہوا تھا کہ اللہ پاک کی طرف سے اچانک تازہ انگور کے دو گُچّھے میرے ہاتھ میں آ گئے!عجیب ترین بات یہ تھی کہ سردیوں کا موسم تھا اور کہیں بھی تازہ انگور نہیں ملتے تھے،میں حیران رہ گیا،ایک گُچھا تو میں نے وہیں کھا لیا،مزار شریف سے باہر آ کر ایک ایک دانہ ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔([17])

محبت کا رشتہ صرف انسانوں تک محدود نہیں،بلکہ اللہ پاک کے مقبول بندوں،بندیوں اور پاکیزہ ہستیوں سے نسبت رکھنے والی بے جان چیزیں بھی ان کی جدائی کا اثر لیتی ہیں۔کائنات کا ذرہ ذرہ ان نفوسِ قدسیہ کی خوشبو پہچانتا ہے اور ان کے قرب کا طالب رہتا ہے۔اُمُّ المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی شانِ کریمی اور ان کے مزارِ اقدس کی نورانیت کا عالم یہ ہے کہ وہاں کی مٹی اور سنگریزے بھی آپ کی نسبت سے محرومی برداشت نہیں کر پاتے۔چنانچہ،

امیرِ اہلِ سنت دامت  برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:چند سال قبل مدینہ روڈ پر نَوارِیہ کے قریب مقامِ سَرِف پر واقع اُمُّ المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے مزارِ فائض الانوار پر میں نے حاضری دی اور چند مبارک سنگریزے اٹھا کر کلمہ شریف پڑھ کر ان کو اپنے ایمان کا گواہ کیا اور اسلامی بھائیوں سے کہا کہ ان کو تَبَرُّکاً پاکستان میں اسلامی بھائیوں کو تحفۃً پیش کروں گا۔جب اپنی قیام گاہ پر آیا تو ایک سنگریزہ(یعنی پتھر کا ٹکڑا)ایک جگہ سے نم ہو گیا تھا،کچھ دیر بعد اُس کی نمی میں مزید  اضافہ ہو گیا۔میں نے اسلامی بھائیوں سے کہا:غالباً یہ اُمُّ المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے فراق میں رو رہا ہے،ان شاء اللہ میں اِن تمام سنگریزوں کو امّی جان رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا دوں گا۔حیرت بالائے حیرت یہ کہ کچھ ہی دیر میں وہ خشک ہو گیا یعنی ڈھارس ملنے پر اُس نے رونا بند کر دیا۔بالآخر میں نے اُمُّ المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے دربار میں حاضری دی اور ان سنگریزوں کو بَصَد اَدَب وہاں رکھ دیا اور امّی جان رضی اللہ عنہا سے معافی بھی مانگی۔([18])

خدماتِ احادیث:

ام المومنین حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ عنہا سے کل 76 حدیثیں مروی ہیں جن میں سے سات حدیثیں ایسی ہیں جو بخاری و مسلم دونوں کتابوں میں مذکور ہیں اور ایک حدیث صرف بخاری میں ہے اور ایک ایسی حدیث ہے جو صرف مسلم میں ہے اور باقی حدیثیں احادیث کی دوسری کتابوں میں مذکور ہیں۔([19])




[1]فتاویٰ  ہندیہ،1/283

[2]بخارى،1/607،حديث:1837

[3]بخاری،1/113،حدیث:276

[4]مصنف ابن ابى شیبہ،2/219،حديث:1812

[5] بخاری،2/173،حدیث:2592

[6]ترمذی،1/127،حدیث:65

[7]مراۃ المناجیح،1/309

[8]ترمذی،4/356،حدیث:2787

[9]ابن ماجہ،1/233،حدیث:378

[10]آخری نبی کی پیاری سیرت،ص138

[11]دلائل النبوة للبيہقى،6/437

[12]آخری نبی کی پیاری سیرت،ص138

[13]سیرت مصطفی،ص677

[14]بخارى،3/423،422،حديث:5067

[15]شرح زرقانی،4/424

[16] عاشقانِ رسول کی 130 حکایات،ص 244،245ملتقطاً

[17]مخزنِ احمدی،ص99

[18]سفر ِمدینہ کے متعلق سوال جواب،ص5

[19]سیرتِ مصطفی،ص676


Share