موضوع:منافق عورتوں کے برے کام
قرآنِ کریم ہدایت کا عظیم سرچشمہ ہے،جس نے انسانیت کے سامنے خیر و شر،حق و باطل اور ایمان و نفاق کا واضح فرق بیان کیا۔جس طرح اس نے مومن مردوں اور عورتوں کے پاکیزہ اوصاف بیان فرمائے،اسی طرح منافق مردوں اور عورتوں کے بُرے کردار اور عادات بھی واضح کیے،تاکہ مسلمان ان سے عبرت حاصل کریں اور اپنی اصلاح کریں۔جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:
اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍۘ-یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْؕ-نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْؕ-اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۶۷) (پ10،التوبہ:67)
ترجمہ:منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک ہی ہیں،برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں۔انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اس نے انہیں چھوڑ دیا۔بیشک منافقین ہی نافرمان ہیں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
تفسیر:
حضور انور کے زمانہ میں منافق مرد کل تین سو تھے اور منافق عورتیں ایک سو ستر تھیں۔(آیت کا)خلاصہ یہ ہے کہ منافقین اگرچہ دین میں مختلف ہیں مگر منافقت اور بد عملیوں اور اسلام کی دشمنی میں ایک ہی ہیں اس کی تفصیل یہ ہے:(1) ایک دوسرے کو برائیوں،حضور کی مخالفتوں،اسلام کی دشمنی اور دوسرے برے کاموں کا حکم دیتے ہیں۔(2)اچھے اچھے عقیدوں، ایمان، اخلاص اور اچھے اعمال،نماز،حج وغیرہ سے روکتے ہیں۔یا یہ مطلب ہے کہ یہ لوگ خفیہ خفیہ بعض مومنین کو برائیوں کا مشورہ دیتے ہیں اور اچھائیوں سے روکتے ہیں،ان مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کی طرف سے شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔(3)ان میں تیسرا عیب یہ ہے کہ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْاپنے ہاتھ سمیٹے رہتے ہیں نہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں نہ کراتے ہیں۔یا ہر بھلائی سے اپنے ہاتھ روکے رہتے ہیں یا دعا میں مسلمانوں کے ساتھ عموماً ہاتھ نہیں اٹھاتے۔(4)ان کا چوتھا عیب یہ ہے کہ یہ اللہ پاک کو بھول گئے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا ہی میں اللہ پاک نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا اور انہیں بھولا بسرا بنا دیا ہے۔منافق بڑے ہی فاسق بدکار لوگ ہیں۔اللہ پاک نے منافق مردوں،منافق عورتوں اور کھلے کافروں ان سب سے دوزخ کی آگ کا وعدہ کر لیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔صرف وہاں کا عذاب ہی ان کی سزا کے لیے کافی ہے۔
منافقین مذہبی لحاظ سے نرے کافر ہوتے ہیں،اس لیے وہ عذابِ آخرت میں برابر کے شریک ہیں۔سارے کفار خواہ وہ مشرکین ہوں یا یہود ونصاریٰ یا کوئی اور؛اسلام دشمنی میں یکساں ہیں۔اچھی باتوں اچھے کاموں سے روکنا کفار و منافقین کا طریقہ ہے۔اس سے ان لوگوں کو عبرت پکڑنی چاہیے جو ہمیشہ نیاز فاتحہ، میلاد شریف وغیرہ کارِ خیر سے ہی مسلمانوں کو روکتے ہیں۔ حرام رسموں،کھیل تماشوں سے روکنے پر زور نہیں دیتے، روکتے ہیں تو اللہ و رسول کے ذکر سے اچھی مجلسوں سے۔راہِ خدا میں خرچ سے رکنا اور روکنا بھی منافقوں کا طریقہ ہے۔بد ترین زندگی وہ ہے جو رب سے غفلت میں گزرے۔یہ زندگی منافقوں کی ہے۔([1])
اس آیت کے تحت تفسیرِ خازن میں ہے:منافق مرد اور منافق عورتیں سب نفاق اور اعمالِ خبیثہ میں برابر ہیں۔ان کا حال یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو شرک و گناہ کرنے اور رسولِ پاک صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کو جھٹلانے کا حکم دیتے ہیں، ایمان و بندگی اور تصدیقِ رسول سے منع کرتے ہیں،راہِ خدا اور ہر خیر کے کام میں خرچ کرنے سے اپنے ہاتھ بند رکھتے ہیں۔ انہوں نے اللہ پاک کو بھلا دیا اور انہوں نے اس کی اطاعت و رضا طلبی نہ کی تو اللہ پاک نے انہیں چھوڑ دیا اور ثواب و رحمت سے محروم کر دیا،بے شک وہی نافرمان ہیں۔([2])
اس کے علاوہ بھی کئی آیاتِ مبارکہ میں منافقین کے اعمال بیان کیے گئے ہیں جیساکہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا:
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْۚ-وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) (پ5،النسآء:142)
ترجمہ:بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کر کے مارے گا اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو بڑے سست ہو کر لوگوں کے سامنے ریاکاری کرتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں اور اللہ کو بہت تھوڑا یاد کرتے ہیں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہاں منافقوں کی ایک اور بری خصلت کا بیان ہے وہ یہ کہ یہ اپنے گمان میں اللہ پاک کو دھوکا دینا چاہتے ہیں،حقیقتاً تو مسلمانوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں کیونکہ حقیقت میں تو اللہ پاک کو فریب دینا ممکن نہیں۔ان کے اس فریب کا جواب انہیں اللہ پاک دے گا کہ انہیں غافل کر کے مارے گا،دنیا میں انہیں رسوا کرے گا اور قیامت میں انہیں عذاب میں مبتلا کرے گا۔ان منافقوں کی علامت یہ ہے کہ جب مومنین کے ساتھ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو مرے دل سے اور سستی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان تو ہے نہیں جس سے عبادت کا ذوق اور بندگی کا لطف انہیں حاصل ہو سکے،محض لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔([3])
منافقین جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے ایمان کا ثبوت دیتے تھے، جسے قرآن نے یوں بیان کیا ہے:
وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْؕ-وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ(۵۶)(پ10،التوبہ:56)
ترجمہ:اور (منافق) اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں لیکن وہ لوگ ڈرتے ہیں۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت کے تحت تفسیر نسفی میں ہے: منافقین اس پر اللہ پاک کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تمہارے دین و ملت پر ہیں اور مسلمان ہیں لیکن اللہ پاک نے فرما دیا کہ وہ تم میں سے نہیں ہیں بلکہ تمہیں دھوکا دیتے اور جھوٹ بولتے ہیں۔ وہ صرف اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر ان کا نفاق ظاہر ہو جائے تو مسلمان ان کے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جو مشرکین کے ساتھ کرتے ہیں،اس لئے وہ براہِ تَقِیَّہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔([4])
یاد رہے!منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے جس کی سزا خود رب نے بیان فرمائی جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے:
اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِۚ-وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ(۱۴۵)(پ5،النسآء: 145)
ترجمہ:بیشک منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہیں اور تو ہرگز ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔
تفسیر خزائن العرفان میں اس آیتِ مبارکہ کے تحت ہے:منافق کا عذاب کافر سے بھی زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا میں اظہارِ اسلام کر کے مجاہدین کے ہاتھوں سے بچا رہا ہے اور کفر کے باوجود مسلمانوں کو مُغالطہ دینا اور اسلام کے ساتھ اِستہزاء (مذاق)کرنا اس کا شیوہ رہا ہے۔([5])
یاد رکھئے!قرآنِ کریم نے منافقین کی علامات صرف ان کی مذمت کے لیے بیان نہیں فرمائیں،بلکہ اہلِ ایمان کو ان سے بچانے اور اپنی اصلاح کی دعوت دینے کے لیے بیان فرمائی ہیں ۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے عقائد،عبادات،اخلاق اور معاملات کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتی رہیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ لاعلمی یا غفلت میں منافقت کی کوئی عادت ہماری زندگی میں جگہ بنا لے۔اللہ پاک ہمیں نفاق سے محفوظ و مامون فرمائے۔
اٰمِیْن بِجاہِ سیدِ المرسلین صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* معاونہ ومتخصصہ دارالافتاء اہلسنت
دھوراجی کراچی
[1]تفسیر نعیمی،10/395 تا 498ملتقطاً
[2]تفسیر خازن،2/258
[3]تفسیر صراط الجنان،2/335
[4]تفسیر نسفی،ص440،تفسیر صراط الجنان،4/153
[5]تفسیر خزائن العرفان،ص 196
Comments