شرح قصیدہ معراجیہ (آخری قسط)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:شرح  قصیدۂ معراجیہ (آخری قسط)

61

زبان کو انتظارِ گُفْتَن تو گوش کو حسرتِ شنیدن

یہاں جو کہنا تھا کہہ لیا تھا جو بات سننی تھی سن چکے تھے

مشکل الفاظ کے معانی:گفتن:گفتگو۔گوش:کان۔شنیدن:سننا۔

مفہومِ شعر:زبان کو گفتگو کا انتظار تھا اور کانوں کو سننے کی حسرت، مگر آپ نے جو کہنا وسننا تھا کہہ سن چکے تھے۔

شرح:حبیب و محبوب کے درمیان ہونے والے راز و نیاز کو جاننے کی آرزو تو تھی،مگر وہ ایسے اسرار تھے جو اللہ پاک اور اس کے محبوب ہی کے درمیان رہے،کسی اور کو ان پر مطلع نہیں کیا گیا۔ قرآنِ کریم میں ہے:

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ(۱۰)(پ 27، النجم: 10)

ترجمہ:پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اس نے وحی فرمائی۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یا ایک معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضور منتظر رہے کہ میں کچھ کہوں لیکن بولنے کا موقع ہی نہیں ملا،کیونکہ جو کچھ بولا اور سنا گیا وہ زبان و کان کے واسطے کے بغیر تھا۔

62

وہ برج بطحا کا مَاہ پارا بہشت کی سَیر کو سدھارا

چمک پہ تھا خلد کا ستارا کہ اس قمر کے قدم گئے تھے

مشکل الفاظ کے معانی:برج:گنبد،فضائے آسمان کا بارہواں حصہ۔بطحا:وادی بطحا،مکہ مکرمہ۔ماہ پارا:چاند کا ٹکڑا۔بہشت: جنت۔سدھارا:روانہ ہوا۔خلد:جنت۔قمر:چاند۔

مفہومِ شعر:وادیِ بطحایعنی مکہ شریف کا چاند جنت کی سیر کو نکلا اور اس کے قدم جنت کی زمین پر لگے تو جنت کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا اور وہ آپ کے پائے ناز کو چوم کر وجد کرنے لگی۔

شرح:اپنے رب کریم کے دیدار،راز ونیاز اور خصوصی انعامات سے سرفراز ہونے کے بعد حضور جنت کی سیر کے لیے تشریف لے گئے تو گویا جنت کی قسمت جاگ اٹھی۔تفسیر روح البیان میں ہے:جنت بندوں کے نیک اعمال سے آباد ہوتی ہے۔([1]) جیسا کہ مروی ہے کہ معراج کی رات حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے حضور سے فرمایا:میری امت کو بتا دیجیے کہ جنت کی مٹی نہایت عمدہ،پانی بہت میٹھا اور وہ خالی میدان ہے،جس کی شجر کاری سُبْحَانَ اللہ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ،لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ اور اللہ اَکْبَر سے ہوتی ہے۔([2])

 63

سرور مَقْدَم کی روشنی تھی کہ تابشوں سے مہِ عرب کی

جناں کے گلشن تھے جھاڑ فرشی جو پھول تھے سب کنول بنے تھے

مشکل الفاظ کے معانی:سرور:خوشی۔مقدم:آنا۔تابش:تجلی۔ جھاڑ فرشی:کانٹے دار فرش۔کنول:نیلوفر کا پھول۔

مفہومِ شعر:حضور کی آمد کی خوشی میں ہر چیز روشن تھی اور حضور کی نورانی تجلیوں کی وجہ سے جنت کے باغات کے کانٹے گویا کہ گلشن اور تمام پھول نیلوفر کی طرح نظر آرہے تھے۔

شرح:حضور جب جنت میں داخل ہوئے تو آپ کے چہرۂ انور کی چمک دمک سے خلدِ بریں جگمگا اٹھا اور ماہِ عرب کی تجلیوں سے جنت کے گلستانوں کا ہر ہر پودا روشن ومنور ہوگیا اور ان کے پھول گویا فانوس بن کر اپنی روشنی بکھیر رہے تھے۔

64

طرب کی نازِش کہ ہاں لچکیے اَدَب وہ بندش کہ ہل نہ سکیے

یہ جوشِ ضِدَّین تھا کہ پودے کشاکشِ اَرَّہ کے تلے تھے

مشکل الفاظ کے معانی:طرب:خوشی۔نازش:نخرہ۔لچکئے: جھکئے۔ ضدین:دو مخالف چیزیں۔کشاکش:کھینچاتانی۔ارہ:آرا۔

مفہومِ شعر:خوشی سے جھومنے کی بےقراری اور ادب سے ٹھہرے رہنے کے باعث جنتی پودے ایسے ساکت تھے،گویا آرے کے نیچے ہوں۔

شرح:حضور کی آمد سے جنت کے درخت اور پودے خوشی سے جھومنا چاہتے تھے،مگر ادب کے باعث ساکت رہے۔ خوشی اور ادب کی انہی دو کیفیتوں نے انہیں یوں بےبس کر دیا،جیسے وہ آرے کے نیچے کھڑے ہوں۔

65

خدا کی قدرت کہ چاند حق کے کروروں منزل میں جلوہ کرکے

ابھی نہ تاروں کی چھاؤں بدلی کہ نور کے تڑکے آلئے تھے

مشکل الفاظ کے معانی:تڑکا:اجالا،سویرا۔

مفہومِ شعر:اللہ پاک کی شان دیکھیے!حضور کروڑوں منزلوں کی سیر کر کے پل بھر میں واپس تشریف لے آئے،مگر تاروں کی چمک اور روشنی ایسے ہی برقرار رہی،گویا صبح کا اجالا ہو۔

شرح:حضور نے شبِ معراج مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصی تک اور وہاں سے ساتوں آسمانوں،جنت ودوزخ وغیرہ کی جسم وروح کے ساتھ رات کے ایک چھوٹے سے حصے میں سیر فرمائی۔بلا شبہ اس کروڑوں برس کی مسافت کو چند ساعتوں میں طے کر لینا تعجب خیز  بات ہے جو کہ حضور کا عظیم الشان معجزہ اور آپ کے خصائص میں سے ایک نمایاں خصوصیت ہے۔

66

نبی رحمت شفیعِ امت! رضؔا پہ لِلّٰہ ہو عنایت

اسے بھی ان خلعتوں سے حصہ جو خاص رَحمت کے واں بٹے تھے

مشکل الفاظ کے معانی:خلعت:لباس۔واں:وہاں۔

مفہومِ شعر:اے شفیعِ اُمت!معراج کی رات کی عطاؤں میں سے رضا کو بھی وافر حصہ عطا فرما دیجئے۔

شرح:اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ اس شعر میں بارگاہِ رسالت میں عرض کرتے ہیں:اے رحمت والے نبی!اے شفیعِ اُمت!اللہ پاک کے لیے اپنے غلام رضا پر بھی کرم فرمائیے اور معراج کی رات مقامِ دَنا پر اللہ پاک کی عطا کردہ خاص خلعتوں اور انعامات میں سے ایک حصہ اسے بھی عطا فرما دیجیے۔

اس مبارک رات اللہ پاک نے اپنے محبوب کو بے شمار انعامات سے نوازا،جن کی حقیقت اللہ پاک اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔البتہ!علمائے کرام نے لکھا ہے کہ ان بے شمار عطاؤں میں تین خاص انعامات یہ تھے:پانچ نمازوں کا حکم،سورۂ بقرہ کی آخری آیات اور اُمّت کے ہر غیر مشرک فرد کی مغفرت۔([3])

 67

ثنائے سرکار ہے وَظیفہ قبولِ سَرکار ہے تَمَنَّا

نہ شاعری کی ہوس نہ پَروا رَوِی تھی کیا کیسے قافیے تھے

مشکل الفاظ کے معانی:پروا:غرض۔روی:قافیہ کا حرفِ اصلی جس پر قافیہ کا دار و مدار ہو۔قافیہ:شعر کا آخری سے پہلا ہم وزن لفظ۔

مفہومِ شعر:حضور کی نعت گوئی ہی میرا وظیفہ ہے اور یہی تمنا ہے کہ بس آقا قبول کر لیں،اس کے علاوہ نہ کوئی شاعری کی ہوس ہے اور نہ ہی ردیف قافیہ کی فکر۔

شرح:کلام کے آخری شعر میں اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ نہایت عاجزی سے عرض کرتے ہیں کہ میرا اصل وظیفہ صرف نعتِ مصطفےٰ ہے۔میری ایک ہی آرزو ہے کہ آقا اس حقیر نذرانۂ عقیدت کو شرفِ قبول بخش دیں۔مجھے نہ شاعری کی شہرت مطلوب ہے،نہ ردیف وقافیہ کی نمائش؛ میرا مقصود صرف اپنے محبوب سے محبت کا اظہار ہے۔

بلاشبہ اعلیٰ حضرت سچے عاشقِ رسول تھے۔آپ کی پوری زندگی عشقِ رسول کا عملی نمونہ تھی،اسی لیے آپ کے ہر شعر سے محبتِ مصطفےٰ کی خوشبو آتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود آج بھی آپ کا کلام عاشقانِ رسول کے دلوں میں عشقِ رسول کی تڑپ تازہ کر دیتا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ڈبل ایم اے (اردو،مطالعہ پاکستان)

گوجرہ منڈی بہاؤ الدین



[1] تفسیر روح البیان،5/124

[2] ترمذی،5/286،حدیث:3473

[3] مسلم،ص 93،حدیث:431


Share