شرح قصیدۂ نور (قسط2)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:شرح قصیدۂ نور (قسط2)

5

عرش بھی فِردوس بھی اس شاہِ والا نور کا

یہ مُثَمَّن  بُرج وہ مُشکُوئے اَعلیٰ نور کا

مشکل الفاظ کے معانی:فردوس:جنت کا اعلیٰ درجہ۔شاہِ والا: بلند مرتبہ بادشاہ(مراد نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم)۔مُثمّن: 8 کونوں والی شکل(یہاں مراد جنت کا مخصوص محل یا برج ہے)۔ بُرج: گنبد، آسمانی دائرہ کا بارہواں حصہ۔مشکوئے اعلیٰ:شاہی محل کا بالاخانہ۔

مفہومِ شعر:عرشِ بریں اور فردوسِ اعلیٰ دونوں حضور سرورِ عالم  صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلمکے لیے ہیں؛ عرش گویا آپ کا آٹھ کونوں والا نورانی محل اور فردوس اس محل کا بلند وبالا بالاخانہ ہے۔

شرح:اس شعر میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نہایت نرالے انداز میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شان و عظمت بیان فرماتے ہیں کہ عرش اور فردوس بھی اس شاہِ والا نور کے مقابلے میں ایک مُثمّن بُرج اور اعلیٰ مشکوٰۃ کی طرح ہیں۔

اللہ پاک کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو عطا کردہ خصوصی اختیارات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ پاک نے دنیا و آخرت کی زمینوں کا حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو مالک فرمایا۔امامِ اہلِ سنّت فرماتے ہیں: اللہ پاک نے دنیا اور آخرت کی تمام زمینوں کا حضور کو مالک کر دیا ہے،حضور جنت کی زمین میں سے جتنی چاہیں جسے چاہیں جاگیر بخشیں۔(جب جنت کی زمین کا یہ معاملہ ہے) تو دنیا کی زمین کا کیا ذکر۔([1])اسی مفہوم کو حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کے اس شعر سے بھی سمجھا جاسکتا ہے:

عرش است کمیں پایہ ز ایوانِ محمد

یعنی عرش حضور کے شاہی محل کا صرف ایک پایہ ہے۔

6

آئی بدعت چھائی ظلمت رنگ بدلا نور کا

ماہِ سُنّت مِہْرِ طَلْعت لے لے بدلا نور کا

مشکل الفاظ کے معانی:بدعت:دین میں خرابی پیدا کرنے والی نئی چیز۔بدلا:تبدیل ہوا۔ماہِ سنت۔سنتِ ابراہیمی کے چاند۔ مہرِ  طلعت:طلوع ہونے والا سورج۔بدلا:انتقام۔

مفہومِ شعر:یا رسول اللہ!دین میں خرابی اور کفر و ظلمت چھا گئی، نورِ توحید و رسالت کا رنگ مدھم پڑنے لگا۔اے ماہِ سنت اور مہرِ طلعت!تشریف لا کر اس ظلمت کو دور فرمائیے اور نورِ دین کو پھر سے جلوہ گر فرمائیے۔

شرح:اس شعر سے آمدِ مصطفےٰ سے قبل اقوامِ عالم کی اخلاقی و مذہبی گراوٹ اور بعد کے زمانے میں امتِ مسلمہ کی زبوں حالی، دونوں باتوں کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے۔

پہلے مفہوم کے مطابق معنی یہ ہوگا کہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے عرب میں کفر و شرک،بت پرستی اور جاہلی رسوم عام تھیں۔خانۂ کعبہ میں بت رکھے ہوئے تھے،ملتِ ابراہیمی کے اصل پیغام میں تبدیلیاں آچکی تھیں،قبائلی دشمنی،جنگ و جدل،قتل وغارت،شراب نوشی اور جوا عام تھا اور انسانی جان و عزت کی قدر کم ہوگئی تھی۔اعلیٰ حضرت اسی تاریکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ اے ماہِ سنت اور آفتابِ ہدایت!باطل عقائد و رسوم کی تاریکی چھا گئی اور دینِ ابراہیمی کی اصل نورانیت مدھم پڑگئی،لہٰذا اپنی تشریف آوری سے اس ظلمت کو دور فرما کر نورِ ہدایت کو دوبارہ جلوہ گر فرما دیجیے۔

الحمدللہ!حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بعثتِ مبارکہ سے عرب میں عظیم انقلاب ظاہر ہوا۔توحید کا نور عام ہوا،جاہلیت کی بہت سی رسوم کا خاتمہ ہوا،ظلم وناانصافی کی جگہ عدل و انصاف کو فروغ ملا اور عورتوں سمیت معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق کی حفاظت کی تعلیم دی گئی۔

دوسرے مفہوم کے مطابق اعلیٰ حضرت اپنے زمانے میں پھیلنے والے فتنوں،بدعقیدگی اور بے دینی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ!باطل نظریات و بدعات کی تاریکی بڑھتی جارہی ہے اور دینِ اسلام کی نورانیت مدھم پڑتی محسوس ہوتی ہے۔اسلامی شعائر کی بے حرمتی اور دینی اقدار سے دوری عام ہورہی ہے۔لہٰذا اے نورِ ہدایت کے پیکر!اپنی تعلیمات اور سنت کی روشنی سے ان تاریکیوں کو دور کرنے کا سامان فرما دیجیے اور نورِ حق کو پھر سے نمایاں فرما دیجیے۔

7

تیرے ہی ماتھے رہا اے جان سہرا نور کا

بخت جاگا نور کا چمکا ستارا نور کا

مشکل الفاظ کے معانی:ماتھا:پیشانی۔بخت:نصیب۔

مفہومِ شعر:اے جانِ عالم!نور کا سہرا آپ ہی کے ماتھے پر سجا، آپ ہی کی بدولت نور کا بخت جاگا اور آپ ہی کے صدقے نور کا ستارا چمک اٹھا۔

شرح:اللہ پاک نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو جہاں بے شمار  خوبیاں عطا فرمائیں،وہیں نورانیت سے بھی نوازا۔جیسا کہ مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بشر بھی ہیں اور نور بھی یعنی نوری بشر ہیں۔حقیقت حضور کی نور ہے اور لباس بشری ہے۔([2])

نورِ محمدی کی یہ مقدس امانت حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی پیشانیِ مبارک میں بھی جلوہ گر تھی۔منقول ہے کہ حضرت عبداللہ نے اپنے والدِ محترم حضرت عبدالمطلب کو اس نور کی عجیب وغریب کیفیات بیان فرمائیں تو انہوں نے اسے اُس نورِ مصطفےٰ کی علامت قرار دیا جس کے ظہور کا انہیں انتظار تھا اور حضرت عبداللہ کو اس عظیم سعادت کی مبارک باد دی۔([3])

گویا اعلیٰ حضرت نے ’’تیرے ہی ماتھے رہا اے جان!سہرا نور کا‘‘ کہہ کر حضرت عبداللہ کی پیشانیِ مبارک میں جلوہ گر اُس نورانی امانت کی طرف اشارہ کیا ہے،جبکہ ’’بخت جاگا،نور کا چمکا ستارا نور کا‘‘ میں اس سعادت کی طرف اشارہ ہے کہ یہی نورانی امانت بالآخر آمنہ کے لعل،رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذاتِ اقدس میں جلوہ گر ہوئی اور دنیا کو نورِ ہدایت سے منور فرما گئی۔

8

میں گدا تو بادشاہ بھر دے پیالہ نور کا

نور دن دُونا تِرا دے ڈال صدقہ نور کا

مشکل الفاظ کے معانی:گدا:بھکاری۔دن دونا:ہر روز دوگنا۔

مفہومِ شعر:یا رسول اللہ!میں گدا ہوں،حضور بادشاہ ہیں؛ میرے پیالے کو بھی نور کی خیرات سے بھر دیجیے اور اپنے نور کا صدقہ عطا فرما دیجیے۔

شرح:اعلیٰ حضرت بارگاہِ رسالت مآب میں انتہائی عاجزی سے عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ!میں ایک محتاج وبےنوا گدا ہوں اور حضور سراپا جود وعطا ہیں،لہٰذا میرے کاسۂ طلب کو نور کی خیرات سے بھر دیجیے اور اپنے کرم کے چھینٹوں سے نواز دیجیے۔گدا عموماً اپنے محسن کو دعائیں دے کر بھیک مانگتا ہے، اسی انداز میں اعلیٰ حضرت عرض کرتے ہیں کہ آقا!آپ کی نورانیت میں دن دُگنی رات چوگنی ترقی ہو اور اس گدا کو بھی اپنے نور کی خیرات عطا فرما دیجیے۔

یوں اعلیٰ حضرت’’نور کا پیالہ‘‘مانگ کر اپنے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم  کی بارگاہِ بے کس پناہ میں اپنے دامنِ طلب کو پھیلاتے ہیں کہ اے شاہِ نور و ضیا!میرے کاسۂ دل کو بھی اپنے نور کی خیرات سے بھر دیجیے،اپنی نگاہِ کرم سے نواز دیجیے اور اس گدا کو بھی اس نورکا وہ حصہ عطا فرما دیجیے جس سے اس کی دنیا و آخرت سنور جائے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ڈبل ایم اے (اردو،مطالعہ پاکستان)

گوجرہ منڈی بہاؤ الدین



[1] فتاویٰ رضویہ،14 / 667

[2] رسالہ نور،ص 37 

[3] تاريخ خمیس،1/182


Share