موضوع:شرح شجرۂ قادریہ،رضویہ،ضیائیہ،عطاریہ(قسط 13)
13
خانۂ دِل کو ضِیا دے رُوئے اِیماں کو جَمال
شَہ ضِیا مولیٰ جَمالُ الْاَولیا کے واسِطے
مشکل الفاظ کے معنی:ضیاء:روشنی،نور۔روئے ایماں:ایمان کا چہرہ۔ جمال:حسن،خوبصورتی۔
مفہومِ شعر:اے اللہ!حضرت قاضی ضیاءُ الدین رحمۃُ اللہ علیہ کے وسیلے سے میرے دل کو نور عطا فرما اور شیخ جمالُ الاولیاء رحمۃُ اللہ علیہ کے صدقے میرے ایمان کو جمال بخش دے۔
شرح:شعر کے پہلے مصرعے میں’’ضیا‘‘اور’’جمال‘‘بالترتیب حضرت قاضی ضیاءُ الدین اور حضرت جمالُ الاولیاء رحمۃ اللہ علیہما کی مناسبت سے لائے گئے ہیں جو سلسلۂ عالیہ قادریہ کے 28ویں اور 29ویں شیخِ طریقت ہیں،ان بزرگوں کے مختصر احوال پیشِ خدمت ہیں:
حضرت شیخ قاضی ضیاء الدین:
آپ کا نام قاضی ضیاء الدین اور لقب شیخ جیا تھا۔آپ کی ولادت 925ھ میں ضلع لکھنو،ہند میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد گجرات تشریف لے گئے اور حضرت مولانا وجیہ الدین علوی گجراتی رحمۃُ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوکر علومِ دینیہ حاصل کیے۔دورانِ تعلیم استادِ محترم نے اپنی صاحبزادی سے آپ کا نکاح کردیا۔اس کا سبب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کی صاحبزادی شدید مرض میں مبتلا تھیں اور طبیب علاج سے عاجز آچکے تھے۔حضرت قاضی ضیاء الدین رحمۃُ اللہ علیہنے ان کے لیے دعا فرمائی تو وہ صحت یاب ہوگئیں،جس پر استادِ محترم نے خوش ہوکر اپنی صاحبزادی کا نکاح آپ سے کردیا۔([1])
آپ حضرت شیخ نظام الدین بھکاری رحمۃُ اللہ علیہ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے اور انہی سے خلافت بھی حاصل کی۔ایک مرتبہ احمدآباد،گجرات کے جنگل میں راستہ بھٹک گئے تو حضرت خضر علیہ السّلام نے راہ نمائی فرمائی اور 40 دن تک اپنی خدمت میں رکھ کر علومِ ظاہری و باطنی سے نوازا۔([2]) روضۂ رسول پر حاضر ہوئے تو خواب میں مکینِ گنبدِ خضرا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے کرم فرمایا بڑی نوازشات سے نوازا۔([3]) آپ کا وصال 22 رجب 989 ھ کو ہوا۔آپ کا مزار ِ مبارک قصبہ نیوتنی انڈیا میں ہے۔
حضرت شیخ جمال الاولیاء:
آپ کا نام سید شاہ جمال اور لقب شیخ الاولیاء ہے۔آپ کی ولادت 973ھ میں کوڑا جہان آباد،ضلع فتح پور،ہند میں ہوئی۔آپ کے والدِ ماجد حضرت مخدوم جہانیاں ثانی رحمۃُ اللہ علیہ جلیل القدر بزرگ تھے۔ابتدائی تعلیم والدِ ماجد سے حاصل کی اور انہی کے دستِ حق پرست پر بیعت کر کے خلافت سے مشرف ہوئے۔ بعد ازاں والدِ ماجد نے آپ کو حضرت قاضی ضیاء الدین رحمۃُ اللہ علیہ کی خدمت میں بھیجا،جہاں آپ نے پانچ سال مزید تعلیم و تربیت حاصل کی اور حضرت قاضی صاحب سے بھی سلسلۂ عالیہ قادریہ میں خلافت پائی۔آپ مادرزاد ولی اور اعلیٰ نسبت والے تھے،آپ نے بلا واسطہ حضرت شیخ عبد القادر جیلانی،شاہ بدیع الدین قطب مدار اور خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی رحمۃ اللہ علیہم کی ارواحِ مبارکہ سے فیضِ اویسیہ حاصل کیا۔([4]) آپ اپنے وقت کے جید عالمِ دین اور عارف باللہ صوفی تھے۔آپ درس و تدریس میں مصروف رہتے،آپ کی بارگاہ سے کثیر علما و مشائخ نے فیض حاصل کیا۔آپ کی وفات شبِ عید الفطر 1040ھ میں ہوئی۔آپ کا مزار مبارک قصبہ کوڑا جہان آباد ہند میں ہے۔
اللہ پاک ان دونوں بزرگ ہستیوں کے صدقے ہمارے تاریک دلوں کو روشن فرمائے اور ہمارے چہرے کو ایمان کے حسن و جمال سے آراستہ فرمائے۔آمین
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* کراچی
[1] تذکرۂ مشائخ قادریہ رضویہ،ص 303
[2] تذکرۂ مشائخ قادریہ رضویہ،ص 304،303
[3] تذکرۂ مشائخ قادریہ رضویہ،ص 304
[4] تذکرۂ مشائخ قادریہ رضویہ،ص 310
Comments