حضرت سلیمان  علیہ السلام کے معجزات و عجائبات (قسط1)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع: حضرت سلیمان  علیہ السلام کے معجزات و عجائبات (قسط1)

ذرا تصور کیجیے! ایک ایسی عظیم بادشاہت جس کے بادشاہ کے حکم سے انسانوں کے ساتھ جنات بھی کام کرتے ہوں، پرندوں کی بولیاں سمجھ میں آتی ہوں، ہوا بھی اللہ پاک کے حکم سے تابع ہو اور آنکھوں کے سامنے ایسے ایسے عجائبات ظاہر ہوں کہ دیکھنے والا اللہ پاک کی قدرت پر عش عش کر اٹھے!

یہ کسی خیالی داستان کا منظر نہیں، بلکہ اللہ پاک کے برگزیدہ نبی حضرت سلیمان علیہ السّلام کی وہ بے مثال سلطنت ہے جس کا ذکر قرآنِ کریم میں مختلف مقامات پر ملتا ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السّلام کو اللہ پاک نے نبوت کے ساتھ علم وحکمت اور ایسی عظیم الشان سلطنت عطا فرمائی جو آپ سے پہلے کسی کو ملی نہ آپ کے بعد کسی کو عطا ہوئی۔ آپ کو انسانوں کے ساتھ جنات پر بھی اللہ پاک کے حکم سے تصرف حاصل تھا، پرندوں کی بولیاں سمجھتے تھے اور ہوا بھی آپ کے تابع تھی۔ الغرض! آپ کی سلطنت میں ایسی ایسی نشانیاں جمع تھیں جو اللہ پاک کی قدرت اور اپنے نبی کی شان کو ظاہر کرتی تھیں۔

لیکن کیا آپ جانتی ہیں کہ اتنی عظیم سلطنت کے مالک بننے والے حضرت سلیمان علیہ السّلام کی غیر معمولی ذہانت اور حکمت کم سنی ہی میں ظاہر ہوگئی تھی؟

کم سنی میں حکمت و دانائی:

ایک مرتبہ کچھ بکریاں رات کے وقت ایک شخص کے کھیت میں گھس گئیں اور اس کی کھیتی کو نقصان پہنچا دیا۔ معاملہ حضرت داود علیہ السّلام کی بارگاہ میں پیش ہوا۔ آپ نے فیصلہ فرمایا کہ چونکہ بکریوں کی قیمت کھیتی کے نقصان کے برابر ہے، اس لیے بکریاں کھیتی کے مالک کو دے دی جائیں۔

حضرت سلیمان علیہ السّلام نے اس معاملے میں ایک اور مناسب صورت عرض کی کہ بکریوں کا مالک اس وقت تک کھیتی کی دیکھ بھال کرے جب تک وہ اپنی پہلی حالت پر نہ آجائے، جبکہ اس دوران کھیتی کا مالک بکریوں کے دودھ وغیرہ سے فائدہ اٹھاتا رہے۔جب کھیتی اپنی سابقہ حالت پر آجائے تو کھیتی اس کے مالک کو اور بکریاں ان کے مالک کو واپس کردی جائیں۔حضرت داود علیہ السّلام کو اپنے فرزند کا یہ مشورہ پسند آیا اور اسی کے مطابق فیصلہ فرمایا۔([1])

اللہ پاک نے اس واقعے کے بارے میں ارشاد فرمایا:

فَفَهَّمْنٰهَا سُلَیْمٰنَۚ-وَ كُلًّا اٰتَیْنَا حُكْمًا وَّ عِلْمًا٘- (پ17،الانبیاء:79)

ترجمہ:ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھا دیا اور دونوں کو حکومت اور علم عطا کیا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یاد رہے! اللہ پاک نے اپنے برگزیدہ انبیائے کرام علیہمُ السّلام کو نبوت کے عظیم منصب کے ساتھ علم، حکمت اور دانائی کی بے شمار نعمتیں بھی عطا فرمائیں۔ انبیائے کرام علیہمُ السّلام کی سیرتِ مبارکہ میں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جن سے ان کی بصیرت، معاملہ فہمی اور درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت نمایاں ہوتی ہے۔ یہ حکمت و دانائی بھی اللہ پاک کی عطا ہوتی ہے اور ان کے منصبِ نبوت کے شایانِ شان ہوتی ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السّلام کو بھی اللہ پاک نے علم وحکمت سے خصوصی حصہ عطا فرمایا تھا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السّلام کو اللہ پاک نے کم سنی ہی میں غیر معمولی فہم و فراست عطا فرمائی تھی۔ حضرت داود علیہ السّلام بھی آپ کی دانائی سے متاثر ہوئے اور آپ کو مختلف امورِ سلطنت میں شریک فرمانے لگے۔

حکمت بھری گفتگو:

حضرت سلیمان علیہ السّلام کی حکمت ودانائی کا ایک اور واقعہ بھی منقول ہے۔ حضرت مکحول رحمۃُ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت داود علیہ السّلام نے اپنے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السّلام سے پوچھا: اے میرے بیٹے! سب سے زیادہ خوب صورت چیز کیا ہے؟  حضرت سلیمان علیہ السّلام نے عرض کی: اللہ پاک کی طرف سے عطا ہونے والا اطمینان اور ایمان۔

انہوں نے پھر پوچھا:سب سے زیادہ بری چیز کیا ہے؟  عرض کی:ایمان کے بعد کفر اختیار کرنا۔پھر پوچھا: سب سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے؟عرض کی: اللہ پاک کی طرف سے اس کے بندوں کے درمیان رحمت و راحت۔

پھر پوچھا: سب سے زیادہ ٹھنڈی چیز کیا ہے؟عرض کی: اللہ پاک کا لوگوں سے درگزر فرمانا اور لوگوں کا ایک دوسرے کو معاف کردینا۔حضرت سلیمان علیہ السّلام کے ان حکمت بھرے جوابات سے حضرت داود علیہ السّلام بہت متاثر ہوئے اور فرمایا: پس تم نبی ہو۔([2])

کم سنی میں ایسی حکمت ودانائی کوئی معمولی بات نہ تھی۔ یہ اللہ پاک کی خاص عطا تھی، جس نے آگے چل کر حضرت سلیمان علیہ السّلام کو ایسی عظیم الشان بادشاہت کا بادشاہ بنایا جس کی مثال دنیا نے کم ہی دیکھی۔

ایسی سلطنت جو کسی کو نہ ملی!

حضرت سلیمان علیہ السّلام نے ایک موقع پر بارگاہِ الٰہی میں دعا کی :

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْۚ- (پ 23، صٓ: 35)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ترجمہ: عرض کی: اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو۔

حضرت سلیمان علیہ السّلام نے پہلے مغفرت طلب کی، پھر سلطنت کی دعا کی۔ یہ انداز بھی ہمارے لیے سبق آموز ہے کہ اللہ پاک کے نیک بندے اپنی حاجات پیش کرتے ہوئے اس کی بارگاہ میں عاجزی اور استغفار کو مقدم رکھتے ہیں۔

یاد رہے! آپ کی یہ دعا فخر و تفاخر یا معاذ اللہ نمود و نمائش کے لیے نہیں بلکہ غلبۂ دینِ حق، ظلم کے رد اور عدل کے فروغ کے لیے تھی، کیونکہ آپ کا زمانہ ظالم و جابر اور اپنی مملکت پر فخر کرنے والے بادشاہوں کا زمانہ تھا اور ہر نبی کو اس کی قوم کے مطابق معجزے دیئے گئے جو ان کے فخر و تکبر کو مٹانے والے ہوں تو چونکہ حضرت سلیمان کا عہد ایسے ظالم و جابر اور مغرور و متکبر بادشاہوں کا تھا اس لیے آپ نے بطور معجزہ ایسی سلطنت طلب کی جو ان کے غرور و تکبر کو توڑ دے اور آپ کے زمانے میں آپ کے سوا کسی اور کے لیے ایسی سلطنت نہ ہو۔  ([3]) چنانچہ اللہ پاک نے حضرت سلیمان علیہ السّلام کی دعا قبول فرمائی اور آپ کو ایسی عظیم الشان سلطنت عطا فرمائی جو محض دنیاوی اقتدار نہ تھی، بلکہ اللہ پاک کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور آپ کی نبوت کی روشن نشانی تھی۔ قرآنِ کریم میں اس سلطنت کے مختلف پہلوؤں اور آپ کو عطا ہونے والی حیرت انگیز نعمتوں کا ذکر ملتا ہے۔ ان واقعات پر غور کرنے سے اللہ پاک کی قدرت، انبیائے کرام علیہمُ السّلام کے مقام اور حضرت سلیمان علیہ السّلام  کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے۔

اللہ پاک نے اپنے اس برگزیدہ نبی کو جو منفرد نعمتیں عطا فرمائیں، ان میں سے ہر ایک اپنے اندر قدرتِ الٰہی کی ایک حیرت انگیز نشانی رکھتی ہے۔

اس سلسلے کی اگلی قسط میں ان شاء الله یہ بیان کیا جائے گا کہ حضرت سلیمان علیہ السّلام کے تابع کیے گئے جنات کیا کام کرتے تھے؟  ہوا کس طرح آپ کے حکم پر چلتی تھی؟  اور پرندوں کی بولی سمجھنے کا عجیب و غریب واقعہ کیا تھا؟




[1]تفسیر نسفی، ص 723،722 مفہوماً

[2] تفسیر ابن ابی حاتم، 10/ 3240، رقم: 18349

[3] تفسیر روح المعانی، 12/ 266، جز: 23 ماخوذاً


Share