موضوع:حضرت داود علیہ السلام کے معجزات و عجائبات (آخری قسط)
حضرت داود علیہ السلام اللہ پاک کے برگزیدہ نبی،عظیم بادشاہ اور نہایت عبادت گزار بندے تھے۔آپ کو اللہ پاک نے نبوت و سلطنت کے ساتھ بے شمار خصوصی فضائل اور ایسے حیرت انگیز معجزات عطا فرمائے جو اس کی قدرتِ کاملہ اور آپ کی نبوت کی روشن نشانیاں تھے۔گزشتہ دو قسطوں میں آپ کے کئی معجزات اور ایمان افروز واقعات کا ذکر ہو چکا ہے۔اس آخری قسط میں آپ کی مبارک زندگی کے مزید چند حیرت انگیز پہلوؤں کے ساتھ آپ کی محنت، عبادت، زہد اور چند ایمان افروز واقعات کا ذکر کیا جائے گا،تاکہ ہم آپ کی سیرتِ مبارکہ سے اپنے لیے عملی راہ نمائی حاصل کر سکیں۔
لوہا آپ کے ہاتھوں میں موم بن جاتا تھا:
حضرت داود علیہ السلام کا ایک عظیم معجزہ یہ بھی تھا کہ اللہ پاک نے لوہے کو آپ کے لیے نرم فرما دیا تھا۔سخت سے سخت لوہا آپ کے ہاتھوں میں موم یا گوندھے ہوئے آٹے کی طرح نرم ہو جاتا تھا۔اسے آگ میں گرم کرنے یا ہتھوڑے سے کوٹنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔
آپ جس طرح چاہتے،اپنے ہاتھوں سے اسے موڑ لیتے اور اس سے مضبوط زرہیں تیار کر کے انہیں فروخت کرتے تھے۔ یہی آپ کی آمدنی کا ذریعہ تھا۔ایک زرہ تیار کرکے اس کی قیمت سے اپنی ضروریات پوری کرتے،اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے اور اللہ پاک کی رضا کے لیے غریبوں اور مسکینوں کی بھی مدد فرماتے تھے۔([1])
آپ نے زرہ سازی کیوں شروع کی؟
حضرت داود علیہ السلام ایک عظیم بادشاہ تھے،لیکن اس کے باوجود آپ اپنی اصلاح کا ہمیشہ خیال رکھتے تھے۔روایت میں آتا ہے کہ آپ کبھی کبھی عام آدمی کا لباس پہن کر شہر میں نکلتے اور لوگوں سے پوچھتے:تمہارا بادشاہ داود کیسا ہے؟ایک مرتبہ آپ کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جو درحقیقت فرشتہ تھا اور انسانی شکل میں آیا تھا۔آپ نے اس سے بھی یہی سوال کیا تو اس نے عرض کی:داود بہت اچھے انسان ہیں،لیکن اگر ان میں ایک بات نہ ہوتی تو۔آپ نے پوچھا:وہ کون سی بات ہے؟ اس نے عرض کی:وہ بیت المال سے اپنا خرچ لیتے ہیں۔اگر وہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھائیں تو ان کے فضائل اور بڑھ جائیں گے۔
یہ سن کر حضرت داود علیہ السلام نے فوراً اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا کی کہ وہ آپ کو کوئی ہنر سکھادے اور اسے آپ کے لئے آسان کر دے۔اللہ پاک نے آپ کی دعا قبول فرمائی،آپ کو زرہ سازی کا فن سکھایا اور لوہے کو آپ کے لیے نرم فرما دیا۔یوں آپ اپنے ہاتھوں سے زرہیں تیار کرتے،انہیں فروخت کرتے اور اپنی کمائی سے زندگی گزارتے تھے۔مختلف روایات میں آتا ہے کہ آپ کے ہاتھ کی بنائی ہوئی ایک زرہ ایک ہزار کی ہوتی جو چھ ہزار درہم تک فروخت ہوتی تھی۔اس آمدنی کا ایک حصہ آپ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے،ایک حصہ اللہ پاک کی راہ میں دیتے اور ایک حصہ مسلمانوں کی بھلائی کے کاموں میں صرف کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ بیت المال سے بالکل بےنیاز ہوگئے۔([2])
حضور نے تعریف فرمائی:
حضرت داود علیہ السلام کی یہ عادت اللہ پاک کو بہت پسند تھی۔ اسی لیے حضور نے بھی اس کی تعریف فرمائی اور ارشاد فرمایا: کسی انسان نے اپنی محنت کی کمائی سے بہتر کبھی کوئی کھانا نہیں کھایا اور اللہ پاک کے نبی حضرت داود علیہ السلام بھی اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔([3])
حضرت داود علیہ السلام کا یہ معجزہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ محنت کی کمائی عزت کا باعث ہوتی ہے۔منصب کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو،اپنے ہاتھ سے کام کرنا انسان کی شان کو کم نہیں کرتا بلکہ اور زیادہ بڑھا دیتا ہے۔
عبادت میں بھی بے مثال:
حضرت داود علیہ السلام صرف عظیم نبی اور عادل بادشاہ ہی نہیں تھے،بلکہ اللہ پاک کے نہایت عبادت گزار بندے بھی تھے۔بے پناہ سلطنت اور بے شمار ذمہ داریوں کے باوجود آپ کا دل ہمیشہ اپنے رب کی یاد میں لگا رہتا تھا۔عبادت،ذکرِ الٰہی اور خشیتِ خدا آپ کی زندگی کا نمایاں وصف تھا۔حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور جب بھی حضرت داود کا ذکر کرتے تو ارشاد فرماتے:وہ بہت عبادت گزار انسان تھے۔([4])
حضرت داود علیہ السلام نے اپنی زندگی کو نہایت خوبصورتی سے ترتیب دیا تھا۔ایک دن حکومت کے معاملات نمٹاتے اور لوگوں کے درمیان فیصلے فرماتے،دوسرے دن اپنے ذاتی کام انجام دیتے اور تیسرا دن پوری طرح عبادت کے لیے مخصوص رکھتے تھے۔اس دن آپ اپنی عبادت گاہ پر پہرہ بھی مقرر کر دیتے تاکہ کوئی عبادت میں خلل نہ ڈالے۔([5])
آپ راتوں کو قیام فرماتے اور دن میں روزے رکھتے تھے۔ آپ کی عبادت اس قدر پسندیدہ تھی کہ حضور نے اسے امت کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا اور ارشاد فرمایا:اللہ پاک کو حضرت داود علیہ السلام کے نفلی روزے سب سے زیادہ پسند ہیں۔آپ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔اسی طرح اللہ پاک کو حضرت داود علیہ السلام کی نفلی نماز سب سے زیادہ پسند تھی۔ آپ آدھی رات تک آرام فرماتے،پھر ایک تہائی رات عبادت کرتے اور آخر میں کچھ دیر پھر آرام فرماتے تھے۔([6])
الغرض حضرت داود علیہ السلام کی سیرت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پاک کا مقرب بندہ وہی ہے جو عبادت اور دنیاوی ذمہ داریوں،دونوں کے حقوق ادا کرے۔آپ ایک عظیم بادشاہ بھی تھے،لوگوں کے مسائل بھی حل کرتے تھے،اپنے ہاتھ سے محنت بھی کرتے تھے اور اللہ پاک کی عبادت میں بھی کسی سے پیچھے نہ تھے۔یہی توازن ایک کامل مومن کی پہچان ہے۔
زندگی کے چند ایمان افروز واقعات:
حضرت داود علیہ السلام کی مبارک زندگی سے متعلق بعض ایسے واقعات بھی احادیثِ مبارکہ میں ملتے ہیں جو اللہ پاک کی قدرت،انبیا علیہمُ السّلام کے بلند مقام اور ان کی عظمت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔حضرت داود علیہ السلام کی مبارک عمر ایک سو سال تھی۔ان میں سے ساٹھ سال آپ کی اصل عمر تھی،جبکہ باقی چالیس سال حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی عمر میں سے عطا کیے تھے۔چنانچہ
مروی ہے:جب اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کی تمام اولاد کو ان پر ظاہر فرمایا۔حضرت آدم علیہ السلام نے ایک شخص کے چہرے پر خاص نور دیکھا اور عرض کی:اے میرے رب!یہ کون ہیں؟اللہ پاک نے فرمایا:یہ داود ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کی:ان کی عمر کتنی ہے؟ اللہ پاک نے فرمایا: ساٹھ سال۔تو عرض کی:اے میرے رب! میری عمر میں سے چالیس سال انہیں عطا فرما دے۔اللہ پاک نے ان کی دعا قبول فرما لی۔
جب حضرت آدم علیہ السلام کی عمر پوری ہوئی تو مَلَکُ الْمَوْت حاضر ہوئے۔آپ نے فرمایا:کیا میری عمر کے چالیس سال باقی نہیں؟ مَلَکُ الْمَوْت نے عرض کی:کیا آپ وہ چالیس سال اپنے بیٹے داود کو عطا نہیں کر چکے؟حضرت آدم علیہ السلام نے انکار کیا تو ان کی اولاد نے بھی انکار کیا۔حضرت آدم علیہ السلام بھول گئے، اسی لیے ان کی اولاد بھی بھول جاتی ہےاور حضرت آدم علیہ السلام سے اجتہادی خطا ہوئی،اسی لیے ان کی اولاد سے بھی خطا ہو جاتی ہے۔([7])
حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہفرماتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزارسال تھی،آپ نے عرض کیا کہ میری عمر نو سو ساٹھ سال کردے اور داود علیہ السلام کی عمر پورے سو 100 سال،یہ دعا رب نے قبول فرمالی۔([8])
حیرت انگیز وفات:
حضرت داود علیہ السلام کی وفات کا واقعہ بھی نہایت ایمان افروز ہے۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ حضرت داود نہایت غیرت مند تھے۔جب آپ گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو دروازے بند کر دیتے تاکہ آپ کی واپسی تک کوئی اندر داخل نہ ہو۔ایک دن آپ گھر سے باہر تشریف لے گئے۔کچھ دیر بعد آپ کی اہلیہ نے دیکھا کہ گھر کے اندر ایک اجنبی موجود ہے۔وہ حیران ہوئیں اور کہنے لگیں:یہ شخص گھر میں کیسے آگیا؟دروازہ تو بند تھا۔اللہ کی قسم! حضرت داود کو یہ بات ناگوار گزرے گی۔
اتنے میں حضرت داود تشریف لے آئے۔آپ نے اس اجنبی سے پوچھا:تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا:میں وہ ہوں جو بادشاہوں سے نہیں ڈرتا اور جسے کوئی پہرہ دار نہیں روک سکتا۔ آپ نے فرمایا:اللہ پاک کی قسم!تم مَلَکُ الْمَوْت ہو۔اللہ پاک کے حکم کو خوش آمدید۔
اس کے بعد مَلَکُ الْمَوْت نے اللہ پاک کے حکم سے آپ کی روح قبض کر لی۔جب غسل و کفن کا کام مکمل ہوا تو سورج کی دھوپ تیز ہوگئی۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ حضرت داود علیہ السلام کے جسدِ مبارک پر سایہ کریں۔
فوراً بے شمار پرندے اپنے پروں سے سایہ کرنے لگے، یہاں تک کہ پورا علاقہ تاریک سا ہوگیا۔جسے دور کرنے کے لئے حضرت سلیمان علیہ السلام کے حکم پر پرندوں نے پر سمیٹ لئے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نے ہمیں اپنے ہاتھ کے اشارے سے دکھایا کہ پرندوں نے کس طرح اپنے پروں سے سایہ کیا تھا۔([9])
حضرت داود علیہ السلام کی مبارک زندگی اللہ پاک کی بے شمار نعمتوں،عظیم معجزات اور اعلیٰ اخلاق کا حسین مجموعہ تھی۔اللہ پاک نے آپ کو نبوت کے ساتھ عظیم سلطنت،بے مثال حکمت، عدل و انصاف کی غیر معمولی صلاحیت اور ایسے معجزات عطا فرمائے جو آپ کی نبوت کی روشن دلیل تھے۔آپ کے فیصلوں میں انصاف جھلکتا تھا،آپ کی آواز سے پہاڑ اور پرندے اللہ پاک کی تسبیح میں شریک ہوجاتے تھے،سخت لوہا آپ کے ہاتھوں میں نرم ہوجاتا تھا اور آپ اپنی محنت کی کمائی کو عزت وشرف سمجھتے تھے۔اتنی عظیم بادشاہت کے باوجود آپ کا دل اللہ پاک کی یاد سے غافل نہ ہوتا تھا۔آپ عبادت،روزے،نماز،توبہ،عاجزی اور خشیتِ الٰہی میں بھی بلند مقام رکھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے آپ کی عبادت،روزوں،نماز اور حلال روزی کی تعریف فرما کر انہیں اُمّت کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا۔
حضرت داود علیہ السلام کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی کامیابی صرف اقتدار،دولت یا قوت میں نہیں،بلکہ عدل و انصاف، محنت،عبادت،عاجزی اور ہر حال میں اللہ پاک کی اطاعت اختیار کرنے میں ہے۔جو شخص اپنی زندگی میں ان صفات کو اپنانے کی کوشش کرے،وہ دنیا میں عزت اور آخرت میں اللہ پاک کی رضا کا مستحق بن سکتا ہے۔اللہ پاک ہمیں بھی انبیا علیہمُ السّلام کی پاکیزہ سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم
[1] تفسیر خازن،3/517ملتقطاً
[2] تفسیر روح المعانی،جز:22، ص397،396
[3] بخاری،2/11،حدیث:2072
[4] ترمذی،5/296،حدیث:3501
[5] تذکرۃ الانبیاء،ص 361
[6] بخاری،2/448،حدیث:3420
[7] ترمذی،5/53،حدیث:3087
[8] مراۃ المناجیح،1/118
[9] مسند امام احمد،15/254،حدیث:9432
Comments