شرح قصیدہ نور(قسط 1)
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:شرح قصیدۂ نور (قسط1)

قصیدۂ نور کا تعارف:

حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کے متعلق اہلِ سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور نور بھی ہیں اور بشر بھی،یعنی اپنی حقیقت کے اعتبار سے نور اور صورت کے لحاظ سے بےمثل بشر ہیں،کیونکہ قرآنِ کریم سے آپ کی نورانیت و بشریت دونوں ثابت ہیں،نیز بشر کا انکار کفر ہے اور نورانیت کا انکار صحیح حدیث کے انکار کے سبب گناہ ہے۔احادیثِ مبارکہ میں حضور کے نور ہونے پر بکثرت دلائل موجود ہیں،جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے حضور کی بارگاہ میں عرض کی:اللہ پاک نے سب سے پہلے کس چیز کو پیدا فرمایا؟ فرمایا:اے جابر!اللہ پاک نے تمام چیزوں سے پہلے اپنے نور سے تیرے نبی کے نور کو پیدا فرمایا۔پھر یہ نور قدرتِ الٰہی سے جہاں چاہا سیر کرتا رہا۔([1])

 مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:اس کا یہ معنی نہیں کہ حضور خدا کے نور کا ٹکڑا ہیں،نہ یہ کہ رب کا نور حضور کے نور کا مادہ ہے،نہ یہ کہ حضور خدا کی طرح ازلی ابدی ذاتی نور ہیں،نہ یہ کہ اللہ پاک حضور میں سرایت کر گیا ہے کہ ان معانی سے کفر و شرک لازم آئے گا،بلکہ معنی یہ ہے کہ حضور بلاواسطہ رب سے فیض حاصل کرنے والے ہیں اور تمام مخلوق حضور کے واسطے سے رب کا فیض لینے والی ہے۔([2])

حضور کو نورانی بشر ماننا حضور کے فضائل میں سے ہے،لہٰذا اعلیٰ حضرت نے اس قصیدے میں حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی نورانیت کو جس طرح بیان کیا ہے، اس نے اس قصیدۂ نورکو قصیدۂ معراجیہ کی طرح فنی شاہکار بنا دیا ہے۔بلاشبہ یہ قصیدہ عمدہ تشبیہات،نادر استعارات و محاورات،زورِ بیان،سلاستِ زبان،معنی آفرینی اور فنی و ادبی رموز و محاسن سے آراستہ ہے۔یہ قصیدہ 59 اشعار پر مشتمل ہے جس میں 47 مطالع ہیں۔ مطالع مطلع کی جمع ہے اور مطلع کسی قصیدے کے اس شعر کو کہتے ہیں جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ و ہم ردیف ہوں جیسے”صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا،صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا“ان دونوں مصرعوں میں”باڑا اور تارا“قافیہ ہیں جو کہ ہم وزن ہیں اور”نور کا“ردیف ہے۔اسی طرح بقیہ 46 اشعار بھی مطالع یعنی ہم قافیہ و ردیف ہیں۔اردو شاعری میں کسی شاعر کی نظم میں اتنے مطالع شاید ہی کہیں ملیں۔یہ اعلیٰ حضرت کا ہی کمال ہے۔آپ کے قصیدوں کو پڑھ کر لگتا ہے کہ آپ نے الفاظ جوڑ جوڑ کر ایسے عمدہ تشبیہات و استعارات اور تراکیب و محاورات خود نہیں تراشے بلکہ اشعار خود اپنے تمام تر ادبی محاسن کے ساتھ آپ کے ذہن پر نازل ہوئے ہیں۔آئندہ قسطوں میں اعلیٰ حضرت کے اس نورانی قصیدے کی شرح مختصراً ذکر کی جائے گی۔

1

صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا

صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا

مشکل الفاظ کے معانی:طیبہ:مدینہ منورہ۔بٹنا:تقسیم ہونا۔باڑا: خیرات۔تارا:ستارا۔

مفہومِ شعر:مدینہ طیبہ میں جب صبح ہوئی تو ہر طرف نور کی خیرات تقسیم ہونے لگی،روشن ستارہ بھی اس نور کا صدقہ لینے اور اپنی نورانیت بڑھانے کے لیے درِ مصطفیٰ پر پہنچا ہوا ہے۔

شرح:مدینہ منورہ میں جب صبح ہوتی ہے تو اس قدر نورانی منظر ہوتا ہے گویا کہ نور کی خیرات تقسیم ہو رہی ہو،چونکہ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نہ صرف نور بلکہ قاسمِ نور ہیں،لہٰذا نور کی خیرات کی یہ تقسیم آپ کے درِ اقدس سے ہی ہوتی ہے یہاں تک کہ صبح سویرے سورج بھی اپنی نورانیت کو چار چاند لگانے کے لیے حضور کی بارگاہِ نور میں حاضر ہو کر نور کی خیرات لیتا اور پھر اسے دنیا بھر میں بانٹتا ہے۔

2

باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا

مست بو ہیں بلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا

مشکل الفاظ کے معانی:باغِ طیبہ:مدینہ کے گلشن۔سہانا: خوبصورت، انوکھا۔پھولا:کھلا۔مست:مدہوش،سرشار۔بو:خوشبو۔کلمۂ نور: نورانی ترانہ۔

مفہومِ شعر:طیبہ کے گلشن میں ایک ایسا خوبصورت اور نورانی پھول کھلا ہے جس کی خوشبو سے مست ہوکر بلبلوں نے نور کا ترانہ گنگنانا شروع کردیا۔

شرح:مدینہ منورہ کی پاکیزہ سرزمین کو باغ سے تشبیہ دی گئی ہے اور پھول سےمراد حضور کی ذاتِ بابرکات ہے جو سراپا نور بن کر مدینہ میں تشریف لائے۔یعنی جب طیبہ کے باغ میں آپ کے وجود مسعود کی برکتیں ظاہر ہوئیں تو گویا نورانی باغ میں ایک خوبصورت نورانی پھول کھل گیا ہو اور بلبلیں اس پھول کی خوشبو سے مست ہو کر نور کے نغمے گانے لگیں اور آج تک گارہی ہیں ۔ ان بلبلوں میں ایک بلبلِ باغِ رسالت اعلیٰ حضرت بھی ہیں جن کا نورانی نغمہ قصیدۂ نور کی صورت میں دنیا بھر میں مقبول و منظور ہے۔نیز آپ کے وہ تمام ثنا خوان عاشقانِ رسول بھی بلبلِ چمنستانِ رسالت ہیں جو حضور کے قصیدے پڑھتے ہیں اور قیامت تک پڑھتے رہیں گے۔

3

بارھویں کے چاند کا مجرا ہے سجدہ نور کا

بارہ برجوں سے جھکا ایک اِک ستارہ نور کا

مشکل الفاظ کےمعانی:مجرا:جھکنا،ادب سے جھک کر سلام پیش کرنا۔برج:سیاروں کا مقام۔

مفہومِ شعر:بارہویں تاریخ کو چاند نے جھک کر حضور کی پیدائش پر نورانی سجدہ پیش کیا اور بارہ برجوں میں سے ہر ایک نورانی ستارے نے آپ کی بارگاہ میں سلام پیش کیا۔

شرح:قصیدۂ نور کا یہ شعر ولادتِ مصطفےٰ کی رات یعنی چاند کی بارہویں رات کا منظر بیان کرتا ہے یعنی وقتِ ولادت 12 ربیع الاول کا چاند حضور کی آمد کی خوشی میں جھک رہا تھا اور صرف چاند ہی نہیں بلکہ بارہ برجوں میں سے ہر ایک نورانی ستارہ بھی آپ کی بارگاہ میں جھک کر عقیدت سے سلامی پیش کر رہا تھا۔

اعلیٰ حضرت نے اس شعر میں حضور کی ولادت کے وقت کے نورانی مناظر کو پیش کیا ہے کہ چاند اور تمام ستاروں نے اس نورانی ہستی کو سجدۂ تعظیمی کیا۔

4

ان کے قصرِ قدر سے خلد ایک کمرہ نور کا

سدرہ پائیں باغ میں ننھا سا پودا نور کا

مشکل الفاظ کے معانی:قصرِ قدر:قدرو منزلت کا محل۔ خلد: جنت۔ پائیں باغ:وہ باغ جو محل کے نیچے صحن میں لگا ہوتا ہے۔

مفہومِ شعر:حضور کی قدر و منزلت کے عالیشان محل کے سامنے جنت ایک چھوٹا سا نورانی کمرہ ہے اور سدرہ آپ کے پائیں باغ میں لگے ایک چھوٹے سے پودے کی مانند ہے۔

شرح:حضور کا مرتبہ اس قدر بلند ہے کہ آپ کی قدر ومنزلت کے محل کے سامنے جنت بھی نور کا ایک چھوٹا سا کمرہ محسوس ہوتی ہے اور سدرہ جو جنت میں بیری کا عظیم الشان درخت اور جبریلِ امین کا مقام ہے حضور کی عظمت کے باغ میں گویا کہ ایک ننھا سا پودا ہو۔سچ تو یہ ہے کہ آپ کی عزت وعظمت کا اندازہ کوئی لگا ہی نہیں سکتا،اسی لیے تو اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

زہے عزت و اعتلائے محمد                                   کہ ہے عرشِ حق زیرِ پائے محمد

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ڈبل ایم اے (اردو،مطالعہ پاکستان)

گوجرہ منڈی بہاؤ الدین



[1]مواہب لدنیہ،1/37

[2]رسالہ نور،ص 7ملخصاً


Share