دوسروں کے کام میں مداخلت مت کیجیے
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:دوسروں کے کام میں مداخلت مت کیجیے

(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 52ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کیے جا رہے ہیں۔)

محترمہ بنتِ عطاء اللہ عطاریہ (فرسٹ پوزیشن)

(طالبہ:فورتھ ائیر،فیضانِ عطاربھینس کالونی کراچی)

ہر انسان کی اپنی زندگی،اپنا کام اور اپنی حدود ہوتی ہیں،مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی دیگر خرابیوں کی طرح دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرنا بھی عام ہوتا جا رہا ہے۔لوگ اپنے معاملات سے زیادہ دوسروں کے معاملات میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔جہاں تک رائے اور مشورے کا تعلق ہے تو یہ اچھی بات ہے،ضرورت ہو تو ضرور دیجیے،لیکن خیال رہے کہ رائے مخلصانہ ہو کہ رائے اور مداخلت میں بڑا فرق ہے،جبکہ بےجا مداخلت نہایت ناپسندیدہ ہے،مگر کچھ لوگ اس عادت سے مجبور ہوتے ہیں۔حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا یہ ارشادِ مبارک آدابِ معاشرت کا ایک بہترین اصول ہے کہ آدمی کے اسلام کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ بیکار چیزوں کو چھوڑ دے۔([1])

دوسروں کے معاملات میں بےجا دخل دینے کی بیماری عورتوں میں نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہے۔بعض خواتین دوسروں کے ذاتی اور گھریلو معاملات کرید کرید کر پوچھتی،پوشیدہ باتوں کی ٹوہ میں رہتی اور دوسروں کے گھروں کے راز پتا کرتی ہیں۔ یاد رکھیے!گھریلو معاملات ذاتی نوعیت کے ہوتے ہیں اور لوگ عموماً ان کے بارے میں بات کرنا پسند نہیں کرتے۔خاص طور پر رشتہ داری میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے،کیونکہ چھوٹی چھوٹی باتیں بھی رشتوں میں دراڑ ڈال سکتی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کم کھانے میں صحت،کم بولنے میں حکمت اور لوگوں سے کم ملنے جلنے میں عافیت ہے۔بہت زیادہ میل جول سے گفتگو بھی بڑھتی ہے اور بسا اوقات اختلافات اور ناراضیاں بھی پیدا ہوجاتی ہیں۔ پل بھر میں اِدھر کی بات اُدھر پہنچ جاتی ہے اور پھر بات کا بتنگڑ بن کر خاندانوں اور معاشرے میں بگاڑ کا سبب بن جاتی ہے۔

بےجا مداخلت تو ہر جگہ ہی بری ہوتی ہے،لیکن بدترین مداخلت وہ ہے جو مائیں اپنی بیٹیوں کے سسرال کے معاملات میں کرتی ہیں۔بعض مائیں بیٹیوں کو سسرال کے خلاف بغاوت کا حوصلہ دیتی اور یہ باور کرواتی ہیں کہ ’’ہم نے تمہیں بیچا نہیں ہے،کچھ بھی ہو اِدھر چلی آنا،ہم تمہاری مدد کے لیے تیار ہیں۔ “نتیجتاً بعض لڑکیاں انہی جذبات کے زیرِ اثر اپنی من مانی کرتی ہیں اور ساس،سسر اور شوہر کسی کو خاطر میں نہیں لاتیں۔اس کے نتیجے میں سسرال والے بدظن ہوجاتے ہیں اور بسا اوقات شوہر بھی بدگمان ہوجاتا ہے،یوں والدین کی بےجا مداخلت بیٹی کا گھر بسانے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔

اسی طرح بعض گھروں میں پرانی کام والیاں بھی گھریلو معاملات میں دخل اندازی کرتی ہیں،اس لیے خاتونِ خانہ کو ان سے محتاط رہنا چاہیے۔چونکہ کام والی گھر کے مختلف حصوں میں آتی جاتی ہے،اس لیے وہ بہت سے معاملات سے واقف ہوجاتی ہے اور بعض اوقات ’’گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘‘ کے مصداق ایک گھر کی بات دوسرے تک پہنچا دیتی ہے۔اس سے بچنے کا بہتر طریقہ یہی ہے کہ اپنے نجی معاملات بلاوجہ دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کیے جائیں۔

بےجا مداخلت در اصل ایک بیکار مشغلہ ہے۔اس سے بچنے کے لیے خود کو مفید کاموں میں مصروف رکھیں اور گفتگو میں ایسے موضوعات اختیار کریں جن کا کوئی مثبت نتیجہ نکلے۔ اس طرح اپنا بھی بھلا ہوگا اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

ہر انسان کو اپنی زندگی اپنے انداز سے گزارنے کا حق ہے۔ شادی،تعلیم،آمدنی یا اولاد میں تاخیر جیسے معاملات ذاتی نوعیت کے ہیں،اس لیے دوسروں کی زندگی میں مداخلت کرنے کے بجائے اپنی زندگی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے شادی کی،آپ نے اپنی زوجہ کے پاس رات گزاری ۔ صبح کے وقت دوستوں نے 3 بار پوچھا:آپ نے اپنی زوجہ کو کیسا پایا؟یہ سن کر آپ نے ناراضی سے فرمایا:اللہ پاک نے گھروں کے پردے اور دروازے اس لیے بنائے ہیں کہ اندر کی بات اندر ہی رہے،لہٰذا تمہیں صرف ظاہری معاملات کے متعلق پوچھنا ہی کافی ہے۔([2])الغرض زندگی بہت مختصر ہے،اسے دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرکے ضائع نہ کیجئے،اپنی حدود میں رہیے،اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دیجئے اور اپنے معاملات کو سنوارنے کی کوشش کیجئے۔

محترمہ بنتِ محمد امیر عطاریہ

(طالبہ:ففتھ ائیر، جوہرآباد خوشاب)

دوسروں کے ذاتی معاملات،نجی فیصلوں اور روزمرہ کے کاموں میں بلاوجہ دخل دینا اور اپنی رائے مسلط کرنا مداخلت کہلاتا ہے۔ یہ انتہائی ناپسندیدہ عادت ہے جو معاشرتی بگاڑ، رنجشوں اور ذہنی کوفت کا سبب بنتی ہے۔اس سے نہ صرف دوسروں کی نجی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ مداخلت کرنے والیوں کا اپنا وقار اور سکون بھی برباد ہوتا ہے۔جب کوئی کسی کے ذاتی دائرے میں قدم رکھتی ہے تو باہمی اعتماد کی فضا متاثر ہوتی ہے اور بےجا تجسس و ٹوہ کی عادت لوگوں کے درمیان دوریاں پیدا کرتی ہے۔دوسروں کے معاملات میں مداخلت اکثر بدگمانی کی بنیاد پر کی جاتی ہے،جبکہ بدگمانی کے متعلق فرمانِ الٰہی ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا (پ 26،الحجرات:12)

ترجمہ: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور (پوشیدہ باتوں  کی)  جستجو نہ کرو۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیتِ مبارکہ میں مسلمانوں کے پوشیدہ معاملات کی ٹوہ لگانے اور عیب تلاش کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ لہٰذا کسی کے ذاتی معاملات میں بلاوجہ دخل اندازی کرنا اور چھپ کر اس کی باتیں سننا بھی اس ممانعت کے دائرے میں آتا ہے۔

یہ آیت ہمیں اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کرتی ہے۔اگر ہر انسان اپنے دائرۂ کار میں رہے اور دوسروں کے نجی و ذاتی معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے بچے تو ایک پُرسکون، باوقار اور مثالی معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔حدیثِ مبارک میں ہے: آدمی کے اسلام کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ بیکار چیزوں کو چھوڑ دے۔([3])

معاشرتی اثرات:

دوسروں کی زندگی میں بلاوجہ دخل اندازی کے معاشرے پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس سے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے،احباب اور رشتہ دار ایک دوسرے سے بددل ہونے لگتے ہیں۔اکثر لڑائی جھگڑوں اور گھریلو فساد کی ابتدا بھی دوسروں کے معاملات میں بےجا بولنے اور مداخلت کرنے سے ہوتی ہے۔

بچنے کا طریقہ:

لوگوں سے زیادہ میل جول اور فضول گپیوں سے بچیے کہ جب ملاقات ہی نہیں ہوگی تو دخل اندازی، غیبت، چغلی وغیرہ کی نوبت بھی نہیں آئے گی۔اپنی اصلاح اور کاموں پر توجہ مرکوز کیجئے اور دوسروں کو ان کی نجی زندگی میں آزادی دیجئے۔ مشورہ طلب کرنے پر ہی دیجیے،جب تک کوئی آپ سے رائے نہ مانگے تب تک اپنی رائے دینے سے گریز کیجئے۔ اگر کوئی آپ کے مزاج کے خلاف کام کر رہی ہے تو برداشت کرنا سیکھیے کہ ہر بات پر تنقید کرنا ضروری نہیں۔



[1] ترمذی،4/142،حدیث:2325

[2] حلیۃ الاولیاء،1/243،رقم:599

[3] ابن ماجہ،4/344،حدیث:3976


Share