حضور ﷺ کی مہاجرین سے محبت
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:حضور کی مجاہدین سے محبت

(نئی رائٹرز کی حوصلہ افزائی کے لئے یہ دو مضمون 52ویں تحریری مقابلے سے منتخب کر کے ضروری ترمیم و اضافے کے بعد پیش کئے جا رہے ہیں۔)

محترمہ بنت محمد خلیق عباسی عطاریہ (فرسٹ پوزیشن)

(فائیو ائیر، صدر  راولپنڈی)

اسلام کا مجاہد کسی بادشاہ کے مادی اور شخصی اقتدار کے لیے، عورت ودولت کے لیے،ملک گیری یا مالِ غنیمت کے لیے یا قومیت و وطنیت کے لیے نہیں لڑتا بلکہ وہ اللہ قادرِ مطلق کی زمین پر صرف خدا کے دین کی سربلندی اور آخرت کی فیروز مندی کے لیے لڑتا ہے،اس کی لڑائی دین کی حاکمیت،انسانوں کے ضمیر کو آزادی دلانے اور انہیں تخلیق کے اعلیٰ مقاصد سے ہمکنار کرنے کے لیے ہوتی ہے،اسی لیے وہ دشمن کو قتل کرے تب بھی اور خود قربان ہو جائے جب بھی سرفرازی اس کا مقدر ہے۔یہی وجہ ہے کہ آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم راہِ خدا میں لڑنے والے مجاہدین سے خاص محبت و شفقت فرماتے،کیونکہ اللہ کریم قرآنِ حکیم میں فرماتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(۴) (پ28،الصف:4)

ترجمہ:بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت فرماتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صفیں باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی دیوار ہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

جب مالکِ کائنات نے خود مجاہدین سے محبت فرمائی تو حضور نے بھی قولاً اور عملاً مجاہدین کو تیار کیا،آپ مجاہدین کی خیریت دریافت فرماتے،زخمیوں کی تیمارداری فرماتے اور ان کے اہل و عیال کی دیکھ بھال خود اپنے ذمے لیتے۔جو مجاہد شہید ہوجاتا آپ اس کے اہل و عیال کو حوصلہ دیتے اور ان شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں بھی فرماتے۔حضور کی مجاہدین سے محبت کی عملی مثالیں ملاحظہ کیجئے:

قبورِ شہدا کی زیارت:

حضور اقدس صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم شہدائے اُحد کی قبروں کی زیارت کے لیے تشریف لے جاتے۔ایک مرتبہ آپ ان کی قبروں پر تشریف لے گئے اور عرض کی: اے اللہ! تیرا رسول گواہ ہے کہ اس جماعت نے تیری رضا کی طلب میں جان دی ہے۔([1]) امامِ اہلسنت حضور کی کرم نوازیوں کے بارے میں کیا خوب فرماتے ہیں:

اسی سرکار سے دنیا و دیں ملتے ہیں سائل کو

یہ ہی دربار عالی کنزِ آمال و امانی ہے

مجاہدین کی دلجوئی:

حضور مجاہدین صحابہ کی دلجوئی اور حوصلہ افزائی بھی فرمایا کرتے تھے۔جیسا کہ غزوۂ اُحد میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے تیر چلانے کی مہارت کو دیکھتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی ان الفاظ سے فرمائی:(اے سعد!تیر)پھینکو! میرے ماں باپ تم پر قربان۔([2])یہ وہ مبارک کلمات ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:حضور نے حضرت سعد کے علاوہ کسی اور کے لیے اپنے والدین کو یوں جمع نہیں فرمایا۔([3])

اسی طرح جنگِ موتہ میں حضور نے تین ہزار مجاہدین کا لشکر خود تیار کر کے اس کا سپہ سالار حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا،اپنے دستِ مبارک سے جھنڈا باندھا اور اس لشکر کو رخصت کرنے خود ”ثنیۃ الوداع“ کے مقام تک تشریف لے گئے۔اس سے بھی حضور کی مجاہدین سے محبت کا اندازہ ہوتا ہے، نیز جب مسلمانوں اور کفار کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی تو حضور یہ سب اپنی چشمانِ مبارک سے مدینہ منورہ میں ملاحظہ فرما رہے تھے اور مجاہدین سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ان کی شہادت پر مبارک آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔یہی نہیں بلکہ لشکر کے لوٹنے پر حضور اپنے جانثار مجاہدین کےاستقبال کے لیے گھوڑے پر سوار ہو کر تشریف لے گئے۔مدینہ کےمسلمان اور چھوٹے بچے بھی دوڑتے ہوئے آپ کے ساتھ گئے۔([4])

الغرض احادیثِ مبارکہ سے پتا  چلتا ہے کہ حضور مجاہدین سے اس لیے محبت فرماتے تھے کیونکہ وہ اللہ پاک کے دین کو سربلند کرنے کے لیے اپنی جان قربان کرتے تھے۔

اللہ کریم ہمیں بھی اپنی خوشنودی کے لیے دین کی راہ میں قبول فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

محترمہ بنتِ غلام جیلانی عطاریہ

(فائیو ائیر، فیضانِ رضا سرجانی ٹاؤن کراچی)

حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم عمومی طور پر تو تمام ہی صحابہ کرام سے بےحد محبت فرماتے تھے مگر خصوصاً مجاہدین صحابہ سے حضور کی محبت بےمثال تھی۔حضور کبھی اپنے شفقت بھرے انداز سے ان کی حوصلہ افزائی فرماتے تو کبھی اپنی زبان اقدس سے ایسے دلکش القابات یا جملے ارشاد فرماتے جن سے مجاہدین صحابہ کرام کے حوصلے بلند ہو جاتے۔چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیے:

حضرت سعد سے اندازِ محبت:

غزوۂ اُحد کے موقع پر حضور نے اپنے ترکش کے تیر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو نکال کر دیئے اور فرمایا:(تیر)پھینکو!میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں ۔ ([5]) سبحٰن اللہ! کیا نرالہ انداز ہے محبت و حوصلہ افزائی کا اور کیا شان ہے حضرت سعد کی کہ محبوبِ خدا ان سے فرما رہے ہیں کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں!

حضرت ابوطلحہ کی تیراندازی پر خوشی کا اظہار:

غزوۂ اُحد میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ حضور کے ساتھ ایک ڈھال سے آڑ لیے ہوئے تھے اور ابوطلحہ اچھے تیرانداز تھے،وہ جب تیر پھینکتے تو حضور اُچک کر ان کے تیر گرنے کی جگہ کو ملاحظہ فرماتے تھے۔([6]) آپ کا یوں سر اٹھا نا یہ دیکھنے کے لیے تھا کہ اس تیر نے کتنے کفار مارے ہیں،کیونکہ حضرت ابوطلحہ کا تیر خالی نہ جاتا تھا۔([7]) یقیناً حضور کا یوں اچک اچک کر حضرت ابوطلحہ کے پھینکے ہوئے تیروں کو دیکھنا خوشی کی وجہ سے تھا کہ یہ تیر کفار کے سینوں پر مارے گئے تھے۔

میں تمہارے ساتھ ہوں:

مجاہدین سے حضور کی محبت کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ حضور ایک بار قبیلۂ اسلم کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو بازار میں تیر اندازی کر رہے تھے تو آپ نے فرمایا:اے اولاد اسماعیل!تیراندازی کرو کہ تمہارے باپ(حضرت اسماعیل)بھی تیرانداز تھے اور میں فلاں جماعت کے ساتھ ہوں۔یہ سن کر دوسری جماعت والوں نے ہاتھ روک لیے۔آپ نے وجہ پوچھی تو انہوں نے عرض کی:جب آپ فلاں جماعت کے ساتھ ہوگئے تو پھر ہم کیسے ان پر تیراندازی کریں؟فرمایا:تم تیر اندازی جاری رکھو!میں تم سب کے ساتھ ہوں۔([8])معلوم ہوا کہ حضور نہ صرف جنگ کے وقت بلکہ عام دنوں میں بھی مجاہدین سے محبت بھرا انداز اپناتے اور ان کی تربیت کے لیے خود ان کے ساتھ شامل ہو جاتے تھے۔

القاب نوازی:

یہ بھی حضور کی محبت ہی تھی کہ آپ نے صحابہ کرام کی شجاعت و بہادری کو سراہتے ہوئے کسی کو  اسد اللہ تو کسی کو سیف اللہ کے خوبصورت القابات سے نوازا۔

الغرض کتبِ احادیث اور تاریخ آقا کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مجاہدین کے ساتھ محبت اور شفقت کے واقعات سے بھری ہوئی ہیں۔اللہ پاک ہمیں بھی صحابہ کرام کی سچی محبت نصیب فرمائے اور اپنی راہ میں جان و مال قربان کرنے کا شوق اور جذبہ نصیب فرمائے۔آمین




[1] مدارج النبوت،2/135

[2] بخاری،3/37،حدیث 4055

[3] مسند امام احمد،2/357،حدیث 1147

[4] سیرت مصطفےٰ،ص 403 تا 408 ملتقطاً

[5] بخاری،3/37،حدیث:4055

[6] بخاری،2/282،حدیث:2902

[7] مراۃ المناجیح،5/468

[8] بخاری،2/476،حدیث:3507


Share