موضوع:شرح شجرۂ قادریہ،رضویہ،ضیائیہ،عطاریہ(قسط 12)
12
بہرِ ابراہیم مجھ پر نارِ غم گلزار کر
بھیک دے داتا بھکاری بادشا کے واسطے
مشکل الفاظ کے معنی:بہر:واسطے۔نارِ غم:غم کی آگ۔گلزار: باغ۔
مفہومِ شعر:یااللہ!حضرت ابراہیم ایرجی کے صدقے مجھ پر غم کی آگ کو گلِ گلزار کر دے اور حضرت نظام الدین بھکاری کے وسیلے سے مجھے اپنی رحمت کی بھیک عطا فرما!
شرح:اس شعر میں نامِ ابراہیم کی نارِ غم کے ساتھ ایک لطیف مناسبت ہے کہ جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نمرود کی لگائی ہوئی آگ گلزار بنادی گئی تھی اسی طرح بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا جارہا ہے کہ اے اللہ!خلیل اللہ حضرت ابراہیم کے ہم نام بزرگ حضرت ابراہیم ایرجی کے وسیلے سے ہمارے غموں کی آگ کو بھی گلزار بنا دے،نیز اگلے مصرعے میں موجود لفظ بھیک اور بھکاری میں بھی لفظی مناسبت واضح ہے۔
اس شعر میں سلسلہ قادریہ کے 26 ویں اور 27 ویں شیخِ طریقت کے وسیلے سے دعا مانگی گئی ہے،ان دونوں عظیم ہستیوں کا مختصر تعارف پیشِ خدمت ہے:
حضرت شیخ سید ابراہیم ایرجی رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانے کے جلیل القدر ولیِ کامل تھے۔آپ کی ولادت مقامِ ایرج میں ہوئی،اسی مناسبت سے آپ کو ایرجی کہا جاتا ہے۔آپ نے علمِ شریعت و طریقت جید علما ومشائخ سے حاصل کیا،جبکہ باطنی و روحانی علوم کی تکمیل اپنے مرشدِ کامل حضرت شیخ بہاؤ الدین جنیدی رحمۃ اللہ علیہ سے کی اور انہی سے خلافت کا شرف پایا۔آپ کو تصنیف و تالیف اور مطالعے سے بے حد شغف تھا۔علم کی قدردانی کا یہ عالم تھا کہ اپنی کتابیں بھی صرف ایسے لوگوں کو دیتے جنہیں مخلص اور علم کا سچا طلبگار سمجھتے۔آپ کے علمی فضل وکمال کا اعتراف کرتے ہوئے شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:آپ کے زمانے میں دہلی میں کوئی شخص علم و دانش میں آپ کے برابر نہ تھا۔ جس ہم عصر نے آپ سے استفادہ نہ کیا اور آپ کی علمی قابلیت کا اعتراف نہ کیا،وہ بڑا ناانصاف ہے۔([1]) لوگوں کی جہالت،علمی ناقدری اور ناانصافی کے باعث آپ گوشہ نشین رہتے تھے۔آپ کا وصال 5 ربیع الثانی 953 ھ کو ہوا۔آپ کا مزارِ شریف دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاء رحمۃ اللہ علیہ کے مزار کے احاطے میں واقع ہے۔
حضرت سید نظام الدین:
آپ كا لقب بھکاری ہے،اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ آپ اپنی ہر حاجت کے لیے اللہ پاک کی بارگاہ میں رجوع کرتے اور اللہ پاک سے مانگنے میں شرماتے نہیں تھے۔آپ کاکوری ضلع لکھنؤ ہند میں 890ھ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد سید سیف الدین رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے بڑے عالم اور قرأتِ سبعہ کے امام تھے۔والد ماجد کی نگرانی میں آپ نے بہت سے علومِ دینیہ حاصل کیے۔آپ کو بیعت کا شرف حضرت ابراہیم ایرجی سے حاصل ہوا اور انہی سے خلافت کی اجازت ملی۔آپ کی نمایاں خصوصیات میں یہ بات بھی لکھی گئی ہے کہ آپ نے کئی بار سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور حضور غوثِ پاک کی زیارت کا شرف حاصل کیا ہے۔ آپ کی وفات 91 سال کی عمر میں 8 ذیقعدہ 981 ھ کو ہوئی۔آپ کا مزارِ مبارک قصبہ کاکوری کے محلے جھنجھری میں واقع ہے۔([2])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* کراچی
Comments