موضوع:ممتا کی تڑپ اور رب کی رحمت
آج اتوار کا دن تھا اور سورج کی سنہری کرنیں گھر کے آنگن میں موجود درخت کے پتوں سے چھن چھن کر زمین پر بکھر رہی تھیں۔درخت کی ایک نسبتاً نیچی شاخ پر چڑیا نے اپنا ننھا سا گھونسلا بنا رکھا تھا،جس میں اس کے چھوٹے چھوٹے بچے چہچہارہے تھے ۔ اُمِّ ہانی اپنی دادی بی بی زینب کے پاس بیٹھی انہی ننھے بچوں کو دیکھ رہی تھی کہ اتنے میں بی بی زینب کی نواسی اُمِّ سلمہ بھی وہاں آ گئی ۔ دونوں بچیاں ایک دوسرے کو دیکھ کر خوش ہوئیں اور پھر مل کر چڑیا کے گھونسلے کو دیکھنے لگیں۔
بی بی زینب اپنی پوتی اُمِّ ہانی اور نواسی اُمِّ سلمہ کو اکثر اچھی اچھی باتیں اور ایمان افروز واقعات سنایا کرتی تھیں۔آج بھی انہوں نے انہیں حضور نبیِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مبارک زندگی کا ایک ایسا انوکھا اور سبق آموز واقعہ سنانے کا وعدہ کر رکھا تھا۔
چنانچہ جب اُمِّ سلمہ نے گھونسلے کی طرف دیکھتے ہوئے یہ پوچھا کہ نانی جان!کیا چڑیا اپنے بچوں سے بہت محبت کرتی ہے؟ تو بی بی زینب مسکرائیں اور بولیں:ہاں بیٹی!ماں کی محبت اللہ پاک کی عطا کردہ ایسی نعمت ہے جو انسانوں ہی میں نہیں،پرندوں اور جانوروں میں بھی نظر آتی ہے۔آج میں تمہیں ایک ننھی سی چڑیا کا ایسا واقعہ سناتی ہوں جس سے تمہیں اللہ پاک کی رحمت کا بھی اندازہ ہو گا۔
چنانچہ بی بی زینب نے کہانی شروع کی:
پیاری بچیو!آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلے کی بات ہے،مدینہ منورہ میں ایک مرتبہ ایک صحابی کسی ضرورت سے کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک گھنی جھاڑی کے قریب سے گزرتے ہوئے انہیں ننھے ننھے پرندوں کی چہچہانے کی آواز سنائی دی۔
اُمِّ سلمہ نے فوراً پوچھا:نانی جان!کیا وہ چڑیا کے بچے تھے؟ بی بی زینب نے مسکرا کر کہا:جی ہاں بیٹی!وہ چڑیا کے بہت ننھے ننھے بچے تھے۔صحابی نے انہیں دیکھا تو ان پر شفقت فرمائی۔ انہوں نے ان بچوں کو احتیاط سے اٹھایا اور اپنی چادر کے ایک کونے میں لپیٹ لیا تاکہ انہیں محفوظ رکھ سکیں۔
ممتا کی بے چینی:
بی بی زینب نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا:ابھی وہ صحابی وہاں سے روانہ ہی ہوئے تھے کہ اچانک ان بچوں کی ماں،یعنی وہ چڑیا وہاں آ گئی۔جب اس نے دیکھا کہ اس کے بچے گھونسلے میں نہیں ہیں تو وہ سخت بے چین ہو گئی۔وہ اڑتی ہوئی آئی اور اس صحابی کے سر کے گرد چکر لگانے لگی،جیسے اپنی زبان میں فریاد کر رہی ہو کہ میرے بچے مجھے واپس دے دو۔
اُمِّ ہانی نے حیرانی سے پوچھا:نانی جان!کیا چڑیا کو پتہ چل گیا تھا کہ اس کے بچے چادر کے اندر ہیں؟
بی بی زینب نے کہا:ہاں بیٹی!ماں تو ماں ہوتی ہے،چاہے انسان ہو یا پرندہ۔ماں کی محبت اسے اپنے بچوں تک کھینچ ہی لاتی ہے۔ جب اس صحابی نے چڑیا کی یہ بے تابی دیکھی تو انہوں نے آہستہ سے اپنی چادر کھول دی۔جیسے ہی چادر کھلی،وہ چڑیا ڈر کر بھاگنے کے بجائے فوراً نیچے آئی اور اپنے بچوں کے ساتھ چادر کے اندر ہی بیٹھ گئی۔اس نے اپنے پروں کو بچوں پر پھیلا دیا،جیسے انہیں محبت اور تحفظ دے رہی ہو۔
اُمِّ سلمہ کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔وہ بولی:نانی جان!وہ اپنے بچوں کی محبت میں اپنی جان کا خوف بھی بھول گئی!
بارگاہِ نبوت کا منظر:
بی بی زینب نے کہا:بالکل بیٹی!پھر جو کچھ ہوا،وہ اس سے بھی زیادہ ایمان افروز تھا۔وہ صحابی یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ایک ننھی سی چڑیا کو اپنے بچوں سے اتنی شدید محبت ہے!وہ ان سب کو یعنی چڑیا اور اس کے بچوں کو چادر میں لپیٹ کر سیدھے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم کی مبارک بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔انہوں نے سارا واقعہ عرض کیا کہ کس طرح اس چڑیا نے اپنے بچوں کی خاطر اپنی آزادی اور جان کی پروا بھی نہیں کی۔رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے بڑے غور سے یہ ایمان افروز واقعہ سنا اور فرمایا:انہیں چھوڑ دیا جائے۔حکمِ نبوی پر چادر زمین پر رکھ کر کھولی گئی تو سب نے دیکھا کہ وہ چڑیا اڑ کر نہیں گئی!وہ اپنے بچوں کے ساتھ لپٹی رہی اور وہیں بیٹھی رہی۔
اللہ پاک کی رحمت کا عظیم نظارہ:
اُمِّ ہانی نے بڑی حیرت سے پوچھا:نانی جان!کیا وہ چڑیا اڑنا بھول گئی تھی یا وہ انسانوں سے ڈر نہیں رہی تھی؟
بی بی زینب نے بہت پیار سے سمجھاتے ہوئے کہا:نہیں بیٹی! اس چڑیا کو اپنے بچوں کی محبت میں اپنی جان کا بھی کوئی خوف نہیں تھا اور دوسرا یہ کہ اسے بخوبی معلوم تھا کہ وہ اللہ پاک کے پیارے و آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہے جو سب جہانوں کے لئے رحمت ہیں۔
پھر حضور نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا اور فرمایا:تم اس چڑیا کی اپنے بچوں پر شفقت اور محبت پر تعجب کر رہے ہو؟بے شک اللہ پاک اپنے بندوں پر اس چڑیا سے بھی کہیں زیادہ مہربان ہے۔([1])
بچیاں یہ سن کر گہری سوچ میں پڑ گئیں۔اُمِّ ہانی نے آہستہ سے کہا:سبحان اللہ!اس کا مطلب ہے کہ اللہ پاک ہم سے بہت زیادہ پیار کرتا ہے۔
بی بی زینب نے سر ہلا کر کہا:ہاں بیٹیو!اس چڑیا کی محبت تو صرف ایک چھوٹی سی مثال ہے۔اللہ پاک کی رحمت تو اتنی وسیع ہے کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتیں۔پھر اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے حکم دیا کہ انہیں واپس لے جاؤ اور وہیں رکھ آؤ جہاں سے پکڑا ہے۔چنانچہ وہ صحابی انہیں واپس لے گئے اور اسی جھاڑی میں بحفاظت چھوڑ آئے۔
بچیوں کے لیے تربیتی اور اخلاقی اسباق:
پھر بی بی زینب نے بچیوں کو سمجھایا:
مخلوقِ خدا پر رحم کرنا:
ہمیں کبھی بھی کسی پرندے کو ناحق تنگ نہیں کرنا چاہیے۔پرندے بھی اللہ پاک کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور انہیں بھی تکلیف ہوتی ہے۔
اللہ پاک کی محبت کا احساس:
جب ہمیں یہ یقین ہو جائے کہ اللہ پاک ہم سے ماں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے تو ہمیں ہر حال میں اسی پر بھروسا رکھنا چاہیے۔
ماں کی قدر کرنا:
ایک چھوٹی سی چڑیا نے ہمیں یہ سبق دیا کہ ماں کا دل کتنا بڑا ہوتا ہے۔لہٰذا ہمیں اپنی ماؤں کی خدمت کرنی چاہیے اور ان کا ادب کرنا چاہیے۔
رحمتِ عالم کی شفقت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلم نے ہمیں جانوروں کے بھی حقوق سکھائے۔اسلام ہمیں ہر مخلوق کے ساتھ رحمت اور نرمی کا سلوک سکھاتا ہے۔
کہانی ختم ہوئی تو اُمِّ سلمہ اور ام ہانی دونوں نے عہد کیا کہ ان شاء اللہ وہ آئندہ ہمیشہ پرندوں کا خیال رکھا کریں گی۔
بی بی زینب مسکرا دیں اور بولیں:یاد رکھو!بچیو!جو زمین والوں پر رحم کرتا ہے،اللہ پاک اس پر رحم فرماتا ہے۔
یوں اس ننھی سی چڑیا کے واقعے نے بچیوں کے دلوں میں یہ بات نقش کر دی کہ رحم،محبت اور شفقت ہی اصل ایمان کی پہچان ہیں۔اللہ پاک ہمیں بھی مخلوقِ خدا پر رحم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* نگرانِ عالمی مجلسِ مشاورت(دعوتِ اسلامی)
Comments