قرآنِ مجید مکمل ضابطۂ حیات ہے
ماہنامہ خواتین ویب ایڈیشن


موضوع:قرآنِ مجید مکمل ضابطۂ حیات ہے

قرآنِ حکیم کا گہرائی اور دلچسپی سے مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسی عالم گیر کتاب ہے جس میں انسانی زندگی کے تمام شعبہ جات میں راہنمائی کے لیے وسیع موضوعات، مسائل ان کا حل موجود ہے۔اللہ پاک نے قرآنِ مجید کو انسان کے لیے مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر نازل فرمایا ہے۔اس میں انسانی زندگی کے حقوق وفرائض،حق و باطل،حلال وحرام،جزا و سزا،ثواب و عذاب،اخلاقی تعلیمات،انفرادی و اجتماعی زندگی کے مسائل اور ان کا حل،معاشرتی حقوق و فرائض،معاشی و اقتصادی امور سمیت زندگی کے مختلف شعبہ جات میں ضروری راہ نمائی موجود ہے۔

قرآنِ مجید اللہ پاک کا عظیم معجزہ ہے، فصاحت وبلاغت میں اس کا کوئی ثانی نہ ہے اور نہ کبھی ہوسکتا ہے۔یہ صرف مسلمانوں ہی کے لیے نہیں بلکہ غیر مسلموں کے لیے بھی راہ نمائی کا ذریعہ ہے۔بہت سے غیر مسلم قرآنِ مجید پر تحقیق کرنے نکلے اور اسے سمجھنے کے بعد اللہ پاک کی وحدانیت اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رسالت پر ایمان لے آئے۔

قرآنِ مجید ہی وہ الہامی کتاب ہے جس میں ہمارے دینی و دنیاوی مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے راہ نمائی موجود ہے۔اللہ پاک خود اس کتاب کے جامع اور مفصل ہونے کا اعلان فرماتا ہے:

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(۵۲) (پ8،الاعراف:52)

ترجمہ:اور بیشک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے جسے ہم نےایک عظیم علم کی بنا پر بڑی تفصیل سے بیان کیا،ایمان لانے والوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

الغرض فرد کی پیدائش سے لے کر قبر تک،خاندان سے لے کر ریاست تک ہر مسئلے کا اصول قرآنِ کریم میں موجود ہے۔

عموماً قرآنِ مجید مسائل کی تفصیل بیان نہیں فرماتا،بلکہ ہر مسئلے کا اصول،قانون اور ضابطہ ارشاد فرماتا ہے جن کی مزید تفصیلات سنت اور آئمہ و فقہائےکرام کے اجتہاد سے ملتی ہے۔ زندگی کے 6 بڑے شعبے جن کا ضابطہ قرآنِ پاک بیان فرماتا ہے وہ درج ذیل ہیں:

(1)عقائد(2)عبادات(3)معاملات(4)اخلاقیات(5)  معاشیات (6)سیاسیات۔

(1)عقائد:

قرآنِ کریم میں اللہ پاک کی ذات وصفات اور توحید سے متعلق کئی بنیادی عقائد بیان ہوئے ہیں۔ان میں سے چند اہم عقائد یہ ہیں:اللہ پاک واحد ویکتا ہے۔(البقرۃ:163)وہ معبودِ حقیقی تمام جہانوں کا رب ہے۔(الفاتحۃ:2)وہی ہر چیز کا خالق اور ہر چیز پر نگہبان ہے۔(الزمر:62)اسے نہ اونگھ آتی ہے،نہ نیند اور وہ تمام مخلوق کی حفاظت فرمانے والا ہے۔(البقرۃ:255) اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں،وہ ظاہر و پوشیدہ ہر چیز کو جانتا ہے۔(الانعام:61) وہ ہر چیز پر قادر ہے۔(البقرۃ:20)وہی اول و آخر،ظاہر و باطن ہے۔ (الحدید:3)تمام امور کا فیصلہ و اختیار اسی کے پاس ہے۔(الانعام:57)

اسی طرح حضور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ذات وصفات اور مقام و مرتبے سے متعلق بیان کردہ اہم عقائد میں سے چند یہ ہیں:حضور اللہ پاک کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔(الاحزاب:40) آپ تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔(الانبیآء:107)آپ کی اطاعت درحقیقت اللہ پاک کی اطاعت ہے۔(النسآء:80) آپ کی تعظیم وتوقیر اہلِ ایمان پر لازم ہے۔(الفتح:9)آپ اپنی خواہشِ نفس سے کلام نہیں فرماتے بلکہ آپ کی تعلیمات وحیِ الٰہی پر مبنی ہوتی ہیں۔(النجم:3-4)آپ کی بارگاہ میں بلند آواز سے کلام کرنا اعمال کے ضائع ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔(الحجرات:2)

(2)عبادات:

قرآنِ کریم میں عبادات کے متعلق بھی واضح اور جامع راہ نمائی موجود ہے۔نماز قائم کرنے کا بار بار حکم دیا گیا ہے اور اسے مقررہ اوقات میں ادا کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ (النسآء: 103 )زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم نماز کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ (البقرۃ: 43 )روزے فرض کیے گئے تاکہ انسان میں تقویٰ پیدا ہو۔ (البقرۃ: 183)جبکہ حج کی فرضیت بھی واضح طور پر بیان ہوئی ہے کہ جو شخص اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو،اس پر اللہ پاک کے لیے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے۔(الِ عمران:97)نیز قرآنِ کریم نماز کے ذریعے اللہ پاک کے ذکر،زکوٰۃ کے ذریعے مال کی پاکیزگی،روزے کے ذریعے تقویٰ اور حج کے ذریعے اللہ پاک کی بندگی و اطاعت کا جذبہ پیدا کرنے کی راہ نمائی فرماتا ہے۔

(3)معاملات:

قرآنِ کریم نے نکاح،طلاق،خرید و فروخت، قرض،وراثت اور دیگر معاملات کے لیے انصاف،باہمی رضا مندی اور پاکیزگیِ معاملات کو بنیادی اصول قرار دیا ہے۔ چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ

(پ5،النسآء:29)

ترجمہ:اے ایمان والو!باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ البتہ یہ(ہو)کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس میں سود،چوری،جوا،رشوت،خیانت،غصب،دھوکا دہی اور دیگر ناجائز ذرائع سے مال حاصل کرنا شامل ہے۔اسی طرح قرآنِ کریم نے نکاح کے معاملات میں حلال و حرام کی حدود بیان فرمائیں اور خاندانی نظام میں مرد کو عورت کا نگہبان اور کفیل قرار دیا۔ (پ5،النسآء:34،24)یوں قرآنِ پاک انسانی معاملات میں حلال و  حرام کی پابندی،باہمی رضا مندی،عدل و انصاف اور ذمہ داری کا جامع اصول فراہم کرتا ہے۔

(4)اخلاقیات:

قرآنِ کریم نے انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی سنوارنے کے لیے اخلاقیات کے جامع اصول بیان فرمائے ہیں ۔ اس میں سچائی،تقویٰ،حسنِ گفتار،والدین سے حسنِ سلوک اور بری صحبت سے بچنے کی خصوصی تعلیم دی گئی ہے۔چنانچہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ(۷۰) (پ22،الاحزاب:70)

ترجمہ:اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہا کرو۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اسی طرح والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ (پ15، بنی اسرائیل:23)نیز ایسی صحبت سے بچنے کا حکم دیا جو انسان کے ایمان وکردار کو متاثر کرے۔(پ5،النسآء:140)یوں قرآنِ پاک ہمیں سچائی،تقویٰ،حسنِ سلوک اور نیک صحبت اختیار کرنے کی تعلیم دے کر ایک پاکیزہ کردار اور صالح معاشرے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

(5)معاشیات:

قرآنِ کریم نے معاشی زندگی کے لیے عدل، امانت،دیانت اور حلال کمائی پر مبنی جامع اصول بیان فرمائے ہیں۔قرآنِ پاک ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ رزق کا حقیقی مالک اللہ پاک ہے۔(پ12،ھود:6)ساتھ ہی حلال وپاکیزہ رزق اختیار کرنے کا حکم دیا۔(پ2،البقرۃ:168)تجارت میں جائز و ناجائز کی تمیز کرتے ہوئے سود کو حرام قرار دیا۔(پ3،البقرۃ:275)اور لین دین میں ناپ تول پورا کرنے کی تاکید فرمائی۔(پ19، الشعراء:  181)یوں قرآنِ پاک ایک پاکیزہ معاشی نظام کے لیے حلال کمائی،سود سے بچنے،دیانت داری اور انصاف کو بنیادی اصول قرار دیتا ہے۔

(6)سیاسیات:

قرآنِ کریم نے ایک عادلانہ سیاسی نظام کے قیام کے لیے حاکمیتِ الٰہی،عدل و انصاف اور قانون کی اطاعت جیسے بنیادی اصول بیان فرمائے ہیں۔ارشاد ہوتا ہے:

اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِؕ- (پ12،یوسف:40)

ترجمہ:حکم تو صرف اللہ کا ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اسی طرح عدل و احسان کا حکم فرمایا:

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ (پ14،النحل: 90)

ترجمہ:بیشک اللہ عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

نیز اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی اطاعت کے ساتھ اہلِ اقتدار کی اطاعت کا حکم دیا۔(پ5،النسآء:59)

یوں قرآنِ پاک حکمرانی میں اللہ پاک کی حاکمیت،عدل و انصاف کے قیام اور شرعی حدود میں رہتے ہوئے قانون و نظم کی پابندی کی تعلیم دیتا ہے۔اللہ پاک ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وسنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* لاہور


Share